ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی حقیقت

ہندوستان ایک عظیم معاشی قوت کے روپ میں دیکھا تو جارہا ہے لیکن ہمیں اس سلسلے میں سوچنا چاہیے کہ دیکھ کون رہا ہے۔ کیا ہماری طرف دیکھنے والے وہی نہیں ہیں جو اعلیٰ درجے کے استحصال پسند واقع ہوئے ہیں، لوٹ کھسوٹ جن کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے اور جو کسی کو نوازتے ہی اس لیے ہیں کہ بعد میں نوچ سکیں؟ بالفاظ دیگر یہ وہ طاقتیں ہیں جن کی نوازش بھی دراصل سازش ہوتی ہے۔ انہیں ہندوستان کی ایک ارب سے زائد کی آبادی ایک بہت بڑے کنزیومر مارکیٹ کی شکل میں للچا رہی ہے۔ یہاں کی صلاحیتیں اور ذہانتیں باآسانی حاصل ہونے والی اس مشین کی طرح دکھائی دے رہی ہیں جسے مستعار لیا جا سکتا ہو اور استعمال کے بعد لوٹایا جا سکتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان طاقتوں نے ہندوستان کو خوش کرنے اور اسے نوازنے کا حربہ آزمایا جس کے لیے ضروری تھا کہ اسے ایک اہم عالمی قوت قرار دیا جائے۔ ہم کتنی بڑی عالمی قوت ہیں یہ ہم سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ ہمیں اپنی خوبیوں کا بھی علم ہے اور خامیوں کا بھی۔ اس کے باوجود ہم نے خود کو اتنا بڑا کبھی نہیں سمجھا جتنا ہمیں سمجھایا جا رہا ہے۔ بلاشبہ ہماری گنگا جمنی تہذیب بے مثال ہے۔ ہمارے قدرتی وسائل بے بدل ہیں لیکن آزادی کے ۶۰ برسوں میں ہم اتنی بڑی معاشی قوت نہیں بنے ہیں کہ اس کا شور دن رات سنائی دے۔ ہم نے چند ایک فلک بوس عمارتیں ضرور بنا لی ہیں لیکن ان عمارتوں کی سب سے اونچی منزل کے روزن سے جھانکا جائے تو دور تک پھیلی ہوئی وہ بستیاں منہ چڑاتی ہیں جن میں رہنے والے اب بھی پیر پھیلا کر سو نہیں سکتے۔ ہمارے کئی نوجوان ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں یا سرزمینِ ہند پر قائم ہونے والی بعض غیرملکی کمپنیوں میں ملازمت پا کر پہلی ہی جست میں اتنی تنخواہیں اٹھانے لگے ہیں جتنی سابقہ نسل کے لوگوں کو ملازمت کی آخری منزلوں میں بھی نہیں ملی۔ لیکن ان ہی نوجوانوں کے قریب و دور کے رشتہ داروں میں کئی افراد ایسے ہیں جو روز کنواں کھودتے اور روز پانی پیتے ہیں۔ بے شک ہم میں ایک عظیم معاشی طاقت بننے کے تمام تر امکانات موجود ہیں اور اگر ہم نے اپنی بعض کوتاہیوں اور خامیوں کو دور کر دیا تو بہت جلد وہ دن آئے گا جب ہمیں تسلیم کیے بغیر بڑی طاقتوں کی فہرست مکمل نہیں ہو سکے گی لیکن وہ دن آگیا ہے، ایسا نہیں ہے۔

اس کی وجہ ہے۔ ملک کے ۱۲ (غیر سرکاری اندازے کے مطابق ۲۰) کروڑ مسلمان ملک کی ترقی کا حصہ نہیں بن سکے ہیں۔ کم و بیش ۲۴ کروڑ دلتوں نے ترقی کی شکل بھی نہیں دیکھی ہے۔ اس کے علاوہ دیہی اور قبائلی آبادی ہے جو ترقی کی جھلک تک سے محروم ہے۔ وہ چاہے لکھنو ٔ کے ’’انسانی رکشا‘‘ ہوں یا دہلی اور دیگر شہروں کے سائیکل رکشا چلانے والے، مالیگائوں اور بھیونڈی کے پاور لوم مزدور ہوں یا مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں کے کسان۔ غربت ایک ایسی لعنت ہے جس نے ہندوستان کی آبادی کے بڑے حصے کو اَب بھی راحت کا سانس لینے کا موقع نہیں دیا ہے۔

کَل کا ہندوستان تو پھر بھی غنیمت تھا کہ آبادی، غریب، نچلا متوسط طبقہ، متوسط طبقہ اور خوشحال طبقہ جیسی فطری تقسیم سے دوچار تھی۔ اَب جو تقسیم ہونے جا رہی ہے وہ تو قطعاً غیرفطری ہے۔ کل تک کی آبادی کے چار حصے اب صرف دو حصوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ اگر یہ خلیج بڑھی تو ہندوستان میں بہت امیر اور بہت غریب لوگ ہی رہ جائیں گے۔ لہٰذا ایک طبقہ محل تعمیر کرے گا تو دوسرا بھوکا سوئے گا۔ ایک اے سی کاروں میں سفر کرے گا تو دوسرا ٹرینوں میں دھکے کھائے گا۔ یہ صورت حال ہمیں جس نام نہاد ترقی کی طرف لے جا رہی ہے، اسے با آسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ترقی کو دوربین سے دیکھ کر اسے اپنے بہت قریب نہ سمجھیں بلکہ زمینی حقائق پر توجہ دیں۔ زمینی حقائق کا تقاضا یہ ہے کہ آبادی کے ہر طبقے کو یکساں مواقع میسر آنے چاہئیں۔ اگر کسی امیر خاندان کا بچہ معیاری تعلیم حاصل کرتا ہے تو غریبوں کے بچوں کو بھی معیاری تعلیم کے حصول کا بھرپور موقع ملنا چاہیے۔ اگر یہ نہ ہوا اور مواقع ان ہی کو ملتے رہے جنہیں ہمیشہ سے ملتے آئے ہیں تو غریب امیر کا جو فرق اس وقت ہے اور تیزی سے ایک گہری خلیج کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، وہ باقی ہی رہے گا اور حقیقی ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’انقلاب‘‘ ممبئی۔ شمارہ: ۳۰ مئی ۲۰۰۸ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*