Abd Add
 

بھارت کی تازہ عسکریت بھارتی اخبارات کی نظر میں!

اخبارات کی نظر میں

1۔The Tribune کی رپورٹ:

چندی گڑھ سے شائع ہونے والے ’’دی ٹریبیون‘‘ میں ۲۹ جون ۲۰۰۵ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق (GRSE) گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز کی تیار کردہ Fast Attack Craft کو نیوی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس کا وزن ۲۶۰ ٹن ہے اس کی لمبائی ۴۶ میٹر ہے اور اس کی رفتار 28 KNOTS سے متجاوز ہے۔ اس میں جدید ترین CRN-91 گن بھی نصب ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس فاسٹ اٹیک کرافٹ سے ’’امن‘‘ کی کوششوں کو جِلا ملے گی۔

۲۔ Times of India کی رپورٹ:

’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی ۲۲ جون کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے چندی پوری کی (Integrated Test Range) ITR سے صرف پانچ دنوں میں آکاش (زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا تیسرا تجربہ کیا۔ اس کا Launch Weight ۷۰۰ کلو گرام ہے اور ۶۰ کلو گرام کا Pay Load لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

۳۔ The Tribune کی رپورٹ:

بھارت کا عسکری بجٹ اس وقت پاکستان کے مجموعی بجٹ سے بھی تین گنا ہے اور بھارت بین الاقوامی سطح پر اسلحہ کی خریداری میں تیسرے نمبر کے ممالک کی فہرست میں ہے مگر ٹریبیون کے مطابق اسلحہ کی خریداری کے لیے یہ رقم ناکافی ہے اور مزید رقم کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

۴۔ The Hindu کی رپورٹ:

دہلی سے شائع ہونے والے “The Hindu” کی رپورٹ میں کہا گیا ہے (مورخہ ۲۴ جون ۲۰۰۵ء) کہ یونین کینٹ نے (HAL) ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ اور فرانس کی SNECMA MOTEURS کے درمیان اسلحہ سازی کے مشترکہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ پہلے مرحلے میں بھارت ۵۰ کروڑ روپے لگائے گا اور یہ سارا منصوبہ ۵۰ فیصد کی پارٹنر شپ کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔ پہلے مرحلے کے طور پر High Altitude Operation کے لیے ہیلی کاپٹرز کے انجن تیار کیے جائیں گے۔

۵۔ The Times of India کی رپورٹ:

’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی ۱۲ جولائی ۲۰۰۵ء کی رپورٹ کی مطابق وار شپ IN5 Beas جو کہ ایک ایڈوانسڈ گائیڈڈ میزائل فریگیٹ ہے۔ بحریہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ GRSE کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ایڈ مرل ٹی ایس گنیشن کے مطابق شپ کی سپیڈ 30 Knots یعنی قریباً ۵۵ کلو میٹر فی گھنٹہ اور یہ Replenishment کے بغیر ۴۵۰۰ ناٹیکل مائلز کا سفر طے کر سکتی ہے۔

۶۔ The Tribune کی رپورٹ:

۱۱ جولائی کی رپورٹ کے مطابق فرانس اور بھارت کے درمیان Air Independent Propulsion (AIP) سسٹم کی فروخت کا معاہدہ اس شرط پر ہو گیا ہے کہ فرانس بھارت سے افراطِ زر کی وجہ سے وقوع پذیر ہونے والا اضافہ بھی وصول نہیں کرے گا اور پرانی رقم پر ہی یہ سسٹم بھارت کو فروخت کر دے گا۔

۷۔ The Hindu کی رپورٹ:

The Hindu کی ۲ جولائی ۲۰۰۵ء کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں تعینات سوئس سفیر Dominique (Dreyer) نے The Hindu سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ Swiss Federal Council نے (جو سوئیزر لینڈ کی کابینہ ہے) بھارت کو ایک ہزار کروڑ روپے کی مالیت کے اسلحہ کی فروخت کی منظوری دی ہے۔

۸۔ Deepika کی رپورٹ:

کیرالا سے شائع ہونے والے “Deepika” میں ۷ جولائی کو رپورٹ شائع ہوئی کہ بھارت اور فرانس میں ایٹمی آبدوز کی فروخت کا معاہدہ طے پا گیا ہے اور جلد ہی یہ ایٹمی آبدوز بھارت کے حوالے کر دی جائے گی۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’کشمیر الیوم‘‘۔ مظفر آباد۔ شمارہ۔ ستمبر ۲۰۰۵ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*