1 Comment on انٹرویو: ڈاکٹر ولی رضا نصر

  1. جناب ولی نصر کا تجزیہ کئی پہلووں سے قابل تعریف ہے۔ لیکن مسلمانوں میں موجودہ فرقہ واریت کے فروغ اور عدم برداشت کا سبب بیان کرنے میں اسی دقیانوسی استدلال کا شکار ہوگئے ہیں جو عام طور سے مسلم دانشوروں کے بیانیئے میں کافی دنوں سے رائج ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا انسانی سماج میں فکری اختلافات کا سر چشمہ صرف مذہب ہی رہا ہے یا اس کے پیچھے دوسرے بڑے محرکات پائے جاتے ہیں۔ تاریخی لحاظ سے یہ دعوی درست نہیں۔ قدیم یونان سے جدید دور تک مذہب کے علاوہ بھی خالص انسانی سیکولر افکار نے باہم دست و گریباں ہونے والی فرقہ واریت کو جنم دیا ہے۔ لہذا مذہب ہو یا لامذہب انسانی سماج سے کامل ہم آہنگی کی توقع ایک خیالی بات ہے۔ اب اگر لا مذہبی اختلافات کے باوجود، بلکہ اس کی بنیاد پر لڑی جانے والی گرم اور سرد جنگوں کے باوجود، سیکور قرارداد مقاصد کی بنیاد پر ریاست کی تشکیل میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی تو مذہبی قرارداد مقاصد کو مذموم گردان نے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔ اسلامی تاریخ سے بھی یہ دلیل میل نہیں کھاتی کیونکہ نصر صاحب بھی تسلیم کریں گے کہ اسلام کی ابتدائی صدی سے ہی مذہبی اختلاف کی بنیاد پر مسلمانوں کے درمیان گوہوں کی تشکیل ہوتی رہی اور مسلم ریاستوں نے اسلامی قوانین، اداروں اور اسلامی معاشرتی قدروں کی پاسداری کرتے ہوئے فرقہ واریت کے مسائل کو کامیابی کے ساتھ قابو میں رکھا۔ اور اس حقیقت کو بھی سامنے رہنا چاہئے کہ ابتداءً سے آج تک مسلم سماج میں اختلاف فکر و فرقہ کے سلسلے میں صرف دو ہی رویہ اقرار اور انکار کا نہیں بلکہ قابل قبول انکار و اقرار کا بھی رہا ہے جسے سواد اعظم کی اصطلاح میں بیان کیا جاتا ہے اور اسی سواد اعظم کے تئیں مسلم حکومتیں اپنا رجحان رکھتی تھیں اور مسلم معاشرہ اسے طاقت بخشتا تھا۔ مسلم اقتدار اور مسلم معاشرہ کی ہم آہنگی سے وہ امن و سکون میسر آتا تھا جہاں فرقہ وارانہ اختلافات عام طور سے اپنی حد میں رہتے تھے اور اگر کبھی فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرتے تو ریاست اور معاشرہ دونوں ہی اس پر قابو پانے کے لئے متحرک ہو جاتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ جناب ولی نصر نے اختلاف اور فکری تنوع کے بارے میں جماعت اسلامی کے کس فکری یا عملی رویے سے وہ نتیجہ نکالا ہے یا قادیانی مسئلہ پر علماء کے اصل موقف کے بارے میں کن ماخذ پر اپنی رائے پیش کی ہے۔ جماعت اسلامی ہی نہیں بلکہ علماء کا عمومی موقف قدامت کے ساتھ ساتھ تجدید و اجتہاد کے اقرار اور تجدد پسندی اور مغربیت کے استرداد کی طرفف ہمیشہ سے ہی مائل رہا ہے۔ سے

Leave a comment

Your email address will not be published.


*