امریکا اور اسرائیل تنہا کھڑے ہیں!

جمی کارٹر سے انٹرویو

امریکا کے سابق صدر جمی کارٹر نے صدر بش کے ذریعہ امریکی قدروں کو درپیش خطرات کے موضوع پر جرمنی اخبار Der spiegel سے گفتگو کی ہے۔ انہوں نے اس انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال اور فیدل کاسترو کی بیماری کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔


س: جناب کارٹر آپ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ صرف امریکی عوام ہی امریکا کی اس کے دیرینہ اخلاقی اصولوں کی جانب واپسی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ موجودہ صدر بش کی انتظامیہ کی کارکردگی غیراخلاقی اصولوں پر مبنی ہے؟

ج: اس میں شک نہیں کہ اس انتظامیہ نے اپنے پہلے کی تمام انتظامیہ کی بنیادی پالیسیوں سے بغیر کسی دباؤ کے بنیادی انحراف کیا ہے‘ خواہ ریپبلک کی انتظامیہ ہو یا ڈیمو کریٹ کی۔

س: مثلاً؟

ج: گذشتہ تمام انتظامیہ کی کمٹمنٹ امن کے ساتھ تھی نہ کہ پیشگی جنگ (Pre-emptive War) کے ساتھ۔ ہمارے ملک کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ یہ کبھی جنگ کی طرف نہیں جائے گا تاآنکہ براہِ راست ہماری سلامتی خطرے کی زد میں نہ ہو لیکن اب ہماری نئی پالیسی پیشگی حملے کو بنیاد بنا کر جنگ میں کود پڑنے کی ہے۔ ماضی کی پالیسیوں سے جو دوسرا سنگین انحراف ہے وہ کلیسا اور ریاست کی علیحدگی کا ہے۔ یہ Thomas Jefferson کے وقت سے ہماری پالیسی رہی ہے اور میرے اپنے مذہبی عقائد بھی اس سے ہم آہنگ ہیں۔ جس دوسرے بنیادی اصول کا میں نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے‘ وہ ہے بنیادی انصاف کا۔ اس سے پہلے کسی انتظامیہ نے علانیہ اور واضح طریقے سے نیز تسلسل کے ساتھ ایسے ٹیکس ریفارم بلز پاس نہیں کیے جن کا مقصد ملکی مفاد کی قیمت پر یا امریکا کے ورکنگ کلاس کے مفادات کی قیمت پر امیر لوگوں کو فائدہ پہنچانا رہا ہو۔

س: آپ نے اس نفرت کی بھی نشاندہی کی ہے جو امریکا کے خلاف پوری عرب دنیا میں پائی جاتی ہے اور یہ عراق پر حملے کا نتیجہ ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر کیا یہ کوئی حیرت انگیز بات ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت کے قیام کی امریکی مہم کو اچھی نظروں سے نہ دیکھا گیا ہو؟

ج: نہیں! بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے جن خدشات کا اظہار کیا ہے وہ لبنان پر اسرائیل کے ناروا حملے کی امریکا کی جانب سے حمایت اور حوصلہ افزائی کیے جانے کے بعد اور بھی سنگین ہو گئے ہیں۔

س: لیکن اسرائیل نے تو پہلے حملہ نہیں کیا تھا؟

ج: میں نہیں سمجھتا ہوں کہ پورے لبنان پر اس قدر مسلسل اور وسیع بمباری کا اسرائیل کے پاس کوئی قانونی اور اخلاقی جواز تھا۔ تنازعہ تو اس بات پر ہوا کہ اسرائیل نے تقریباً دس ہزار (فلسطینیوں) کو قیدی بنا رکھا تھا۔ لہٰذا جب لبنان اور غزہ کے جنگجوؤں نے ایک یا دو فوجیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا تو اسرائیل نے اس واقعے کو لبنان اور غزہ کی شہری آبادی پر بھاری بمباری کا جواز بنایا۔ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ اقدام جائز تھا۔ ہرگز نہیں!

س: کیا آپ کے خیال میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا پُرامن حل تلاش کیے جانے میں امریکا اب بھی ایک اہم عامل ہے؟

ج: ہاں! اس حقیقت سے آپ واقف ہیں کہ جب سے اسرائیل ایک ملک بنا ہے‘ امریکا نے رہنمائی فراہم کی ہے۔ ہر امریکی صدر اور قریبی زمانوں کے امریکی صدور جس میں جارج بش سینئر‘ جیرالڈ فورڈ اور دوسرے صدور بشمول میرے اور بل کلنٹن کے بہت ہی متوازن اور شفاف انداز میں معاملات کی رہنمائی کی ہے۔ اس انتظامیہ نے تو گذشتہ چھ برسوں سے اسرائیل اور اس کے پڑوسیوں یا فلسطین کے مابین نہ گفتگو کا اہتمام کرایا ہے اور نہ اہتمام کرنے کی کوشش کی ہے۔

س: آپ کس بنا پر ذاتی طور سے سفارت کاری کے موثر ہونے کے حوالے سے اس قدر پُرامید ہیں؟ آپ‘ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ‘ کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کے جنم داتا ہیں؟

ج: جب میں صدر ہوا تو ہم سے پہلے عرب اور اسرائیل کے مابین چار بھیانک جنگیں ہو چکی تھیں۔ میں نے بہت ہی مشکلات کے زیرِ سایہ خاص طور سے اس لیے کہ میناخیم بیگن کا انتخاب عمل میں آچکا تھا‘ مذاکرات کرانے کی کوشش کی اور یہ کوشش کامیاب ہوئی اور اس وقت اسرائیل اور مصر کے درمیان ۲۷ سالوں سے امن قائم ہے اور اس کی کبھی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ مشکل صورت حال میں آپ پہلے سے کبھی تعین نہیں کر سکتے ہیں کہ گفتگو کامیاب ہو گی لیکن آپ اس کا پیشگی یقین کر سکتے ہیں کہ گفتگو نہ ہونے کی صورت میں مسئلہ طول پکڑ لے گا اور مزید خراب ہو جائے گا۔

س: لیکن مذاکرات بیروت کو جلنے سے بچانے اور حیفا پر بمباری رکوانے میں ناکام رہے؟

ج: مجھے دکھ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں چند دنوں قبل لبنانی وزیراعظم فواد سینورا کی طرف سے جو تجاویز آئی تھیں‘ وہ بالکل معقول تھیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں کو دونوں جانب فوراً جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیے۔ حزب اﷲ نے کہا ہے کہ ہم تسلیم کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ اسرائیل بھی اسے تسلیم کرے گا۔ اس کے بعد ایک طویل سست رفتار اور مشکل گفتگو کا آغاز ہونا چاہیے جو کہ اسرائیل کی شمالی سرحدوں کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ پھر قیدیوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہیے۔ ماضی میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین قیدیوں کا کامیاب تبادلہ ہوتا رہا ہے اور یہ وہ چیز ہے جسے اب بھی ہونا چاہیے۔

س: کیا لبنان اسرائیل سرحد پر بین الاقوامی امن فوج تعینات ہونی چاہیے؟

ج: ہاں!

س: اور کیا آپ کے خیال میں جرمن فوج اس میں حصہ لے گی؟

ج: ہاں! میں سمجھتا ہوں کہ جرمن فوج اس میں حصہ لے گی۔

س: حتیٰ کہ اپنی تاریخ کے ساتھ؟ (یعنی ہالوکاسٹ کے تناظر میں)

ج: ہاں! ذاتی طور سے میرے لیے یہ بات باعثِ اطمینان ہوتی اور میرے خیال میں تو بہتوں کا یہ خیال ہے کہ چونکہ بہت وقت گزر چکا ہے لہٰذا تاریخی حقائق کو نظرانداز کر دینا چاہیے۔

س: آپ کی کتاب کا ایک اہم نکتہ عیسائی بنیاد پرستوں اور ریپبلکن پارٹی کے مابین حیرت انگیز اتحاد کا ہے۔ کس طرح یہ مقدس لوگوں کا اتحاد اخلاقی تباہ کاریوں پر منتج ہوا مثلاً ابو غریب اور گوانتاناموبے کے اذیت خانوں کی صورت میں؟

ج: بنیاد پرستوں کا خیال ہے کہ ان کا خدا کے ساتھ ایک منفرد تعلق ہے اور یہ کہ مخصوص مسئلے پر وہ اور ان کے خیالات خدائی افکار سے قریب ہیں لہٰذا جب وہ خدا کی بات کر رہے ہوتے ہیں تو خود بخود اس کا مطلب نکلتا ہے کہ جو ان باتوں سے اتفاق نہیں کرے گا‘ وہ غلطی پر ہو گا۔ اس کا اگلا قدم یہ ہے کہ جو ان سے اتفاق نہیں کرتا ہے‘ وہ فطری طور سے کمتر ہیں اور بعض انتہائی صورتوں میں جیسا کہ دنیا کے ارد گرد بعض بنیاد پرستوں کا معاملہ ہے کہ یہ بات آپ کے مخالفین کو خود بخود انسان سے ایک کمتر مخلوق میں تبدیل کر دیتی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کی زندگی زیادہ قدر و قیمت کی حامل نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ بنیاد پرست خواہ وہ مرد ہو یا عورت کبھی بھی ایسے لوگوں سے گفتگو پر راضی نہیں ہوں گے جو ان سے اتفاق نہیں کرتے ہیں‘ اس لیے کہ گفتگو کا عمل اپنے اندر خود برابری کا احساس رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انتظامیہ کسی ایسے ملک سے گفتگو کے انکار کی پالیسی پر کاربند ہے جو اس کے ساتھ اتفاق نہیں رکھتا ہے۔ یہ بھی گذشتہ تاریخ سے انحراف ہے۔ لہٰذا یہی باتیں میری پریشانیوں کا سبب ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ بنیاد پرستوں کا اس پر یقین نہیں ہے کہ ان سے غلطی بھی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ جب ہم گوانتاناموبے یا ابوغریب کے قیدیوں کو اذیت دینے کی اجازت دیتے ہیں تو یہ بات ناممکن ہے کہ بنیاد پرست یہ اعتراف کریں کہ انہوں نے غلط کیا ہے۔

س: تو عیسائی انتہا پسندی کے ساتھ یہ قربت سیاسی طور پر اپنے آپ کو کس طرح نمایاں کرتی ہے۔

ج: بدقسمتی سے ستمبر کے بعد امریکا میں تخریب کاری کی وجہ سے شدید غم و غصے کا ماحول تھا اور حب الوطنی کا احساس بھی زوروں پر تھا۔ چنانچہ بش انتظامیہ نے بڑی ہوشیاری سے ان لوگوں کو جو اس کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے تھے‘ غیرمحبِ وطن حتیٰ کہ غدار ظاہر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مجھے کہہ لینے دیجیے کہ ۳ برسوں سے ہمارے ملک کے اہم ذرائع ابلاغ بش انتظامیہ کے آگے سرنگونی میں دیگر لوگوں کے ساتھ اس خوف سے شریک تھے کہ کہیں ان پر عدم وفاداری کا الزام نہ لگ جائے۔ میرا خیال ہے کہ گذشتہ چھ مہینوں یا ایسے ہی کچھ عرصوں سے بعض ذرائع ابلاغ معترض ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ صورتحال کافی عرصہ بعد سامنے آئی ہے۔

س: آپ اپنی ساتھی ڈیموکریٹ سینیٹر ہیلری کلنٹن کو لے لیجیے۔ ان دنوں یہ وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہیں لیکن دوسروں کی مانند انہوں نے صدر بش کی ایک جھوٹے بہانے سے عراق پر جارحیت کے اقدام کی تائید کی۔

ج: یہ ٹھیک ہے۔

س: کیا پورا ملک محوری قدروں سے محروم ہو جانے کے خطرے سے دوچار ہے؟

ج: اس وقت اس کا جواب ہاں ہے۔ ممکن ہے یہ بات آپ کے علم میں ہو کہ تاریخی طور سے ہمارا ملک اس قابل رہا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا خود ازالہ کر لے۔ اس کا اطلاق ۱۸۶۵ء کی غلامی پر ہوتا ہے‘ پھر سو سال یا ایسی ہی کسی مدت کے بعد ہونے والی قانونی نسلی تفریق پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے‘ اس کا اطلاق Joe McCarthy کے زمانے پر بھی ہوتا ہے جبکہ کمیونزم دشمنی ایک خوفناک مرحلے سے ملک میں دوچار تھی جس طرح کے اس وقت دہشت گردی ہے۔ چنانچہ ہمارے اندر یہ صلاحیت موجود تھی جس کی بنا پر ہم نے اپنی اصلاح آپ کر لی اور میرا خیال ہے کہ اب پھر اپنی اصلاح آپ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ میرے خیال میں Connecticut میں انتخابی نتائج (جنگ کے حامی سینیٹر جوزف لیبرمین کی ابتدائی شکست) اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی بہت اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ ہم نے عراق میں گھس کر اور وہاں طویل عرصہ تک براجمان رہ کر غلطی کی ہے۔

س: اب صدر بش بھی عراق میں تباہی سے کچھ سبق سیکھتے معلوم ہوتے ہیں۔ اپنے دوسرے دور میں انہوں نے قدرے کثیرالجانبہ ایپروچ اختیار کی ہے اور بین الاقوامی تعاون کی جانب رجوع ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

ج: میرے خیال میں انتظامیہ نے ایک سبق تو سیکھا ہے لیکن مجھے کوئی ایسی علامت نظر نہیں آتی ہے کہ انتظامیہ کبھی اپنی غلطی کا اعتراف کرے گی اور سبق حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کرے گی۔ مجھے بہت زیادہ علامت نظر نہیں آئی اس بات کے حق میں مثلاً آپ کا یہ خیال کہ یہ انتظامیہ اب دوسرے ممالک کے ساتھ صلح آمیز روش پر گامزن ہے۔ میرے خیال میں اس وقت امریکا اور اسرائیل شاید کہیں زیادہ تنہائی کے شکار ہیں جتنا کہ گذشتہ زمانوں میں کبھی رہے ہیں۔

س: آپ نے فیدل کاسترو سے اپنی ملاقات کے بارے میں لکھا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ بہت زیادہ بیمار ہیں کیوبا کے جلاوطن حضرات میامی کی گلیوں میں پارٹیاں کر رہے ہیں۔ آپ شاید اس موڈ میں نہیں ہیں کہ ان پارٹیوں میں شریک ہوں؟

ج: نہیں! یہ سچ ہے۔ محض اس وجہ سے کہ ایک آدمی بیمار ہے‘ اس کی ممکنہ موت پر خوشیاں منانی چاہییں‘ یہ بات میرے خیال میں صحیح نہیں ہے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ فیدل کاسترو صحت یاب ہو جائیں گے۔ وہ مجھ سے دو سال چھوٹے ہیں لہٰذا ان کی صحت یابی بعید از توقع نہیں ہے۔

س: آپ نے کاسترو کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہا لیکن یہ کبھی نہیں ہوا۔ کیا کیوبا کی تنہائی سے کچھ حاصل ہوا؟

ج: میرے خیال میں پابندیوں نے کاسترو کو مضبوط کیا اور کیوبا میں کمیونزم کو دوام بخشا۔ سیاحت‘ کاروبار اور کیوبا اور ہمارے ملک کے درمیان لوگوں کی کثرتِ تجارت‘ نیز آمدورفت کاسترو حکومت کے خاتمے کا بہت پہلے سبب بن گئی ہوتی۔

س: آپ اپنے ملک کے اخلاقی ضمیر کہے جاتے ہیں۔ آپ خود اپنے آپ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ کیا آپ امریکی سیاست میں ان دنوں باہر کے تماشائی کی حیثیت رکھتے ہیں؟ یا پھر آپ ایک سیاسی گروہ کی نمائندگی کرتے ہیں جو امریکا کے آئندہ صدر کا انتخاب کر سکتا ہے؟

ج: میرا خیال ہے کہ میں اس ملک کے ڈیموکریٹس کی بہت بڑی اکثریت کی نمائندگی کرتا ہوں۔ میرے خیال میں امریکی عوام کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو مجھ سے مکمل طور پر اتفاق رکھتی ہے۔ میں اکثریت کی بات نہیں کر سکتا کیونکہ ہم نے اپنے ملک میں لوگوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے اور یہ تقسیم بندوق کے زور پر کنٹرول‘ موت کی سزا‘ اسقاطِ حمل اور ہم جنسیت کی شادی کے حوالے سے ہے۔

س: صدر کی حیثیت سے آپ کی کارکردگی کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ لیکن صدارت چھوڑنے کے بعد آپ نے حقوقِ انسانی کے فروغ کے حوالے سے جو کام کیے ہیں‘ اس کی وسیع حلقے میں پذیرائی ہوئی ہے۔ کیا زندگی نے آپ کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے؟

ج: میں اپنی زندگی میں بہت ہی خوش قسمت رہا ہوں۔ جو کچھ میں نے کیا‘ اس کے نتیجے میں مجھے اور میری بیوی کو بے شمار مسرت و شادمانی میسر آئی۔ میں چار سال وائٹ ہاؤس میں رہا‘ یہ میری ناکامی نہیں تھی۔ کسی کے لیے امریکا کے صدر کی حیثیت سے کام کرنا کوئی سیاسی ناکامی تو نہیں۔ جب میں نے کاخِ سفید چھوڑا تو ہم نے اپنی زندگی کے بہترین دن گزارے۔ ہم نے بھرپور زندگی گزاری۔

س: کیا آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ صدر رہ کر جتنا کچھ آپ نے حاصل کیا تھا‘ اس سے زیادہ صدارت کے بعد آپ نے حاصل کیا۔

ج: ہاں! امریکی صدر ہونے کی بنا پر جو مجھے عزت و توقیر حاصل ہوئی اور اس کے نتیجے میں مجھے جو اثر و رسوخ حاصل ہوا‘ صدارت کے بعد میں نے اس اثاثہ کو بہت ہی موثر طور پر استعمال کیا‘ جس قدر کہ ممکن تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ امن‘ حقوقِ انسانی‘ ماحولیات کی بہتری‘ آزادی و جمہوریت سے جو ہماری کمٹمنٹ تھی‘ اس کے لیے ہمارا مشن اب بھی جاری ہے۔

س: کیا امریکا کو حکومت کی تبدیلی کی ضرورت ہے؟

ج: جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ اپنی اصلاح آپ کا پہلو ہمارے ملک کو درکار ہے اور میرے خیال میں اس سمت میں پہلا قدم اس سال نومبر کے انتخاب میں اٹھنے جارہا ہے۔ اس سال ڈیموکریٹس کو کانگریس کے ایک ایوان میں نشستیں حاصل کرنے کا ایک اچھا موقع ملے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ سینیٹ میں عوام کا فیصلہ میری رائے سے قریب تر ہو گا۔ میرا سب سے بڑا بیٹا امریکی سینیٹ کے لیے Nevada کی ریاست سے انتخاب لڑ رہا ہے۔ اگر وہ اور اس طرح کے کچھ دوسرے لوگ سینیٹ میں کامیاب ہوتے ہیں تو امریکی سینیٹ ڈیمو کریٹس کے ہاتھوں میں ہو گا اور اس سے بہت اہم اور فوری تبدیلی رونما ہو گی۔

نمائندہ Der spiegel: آپ کا انٹرویو کے لیے بہت بہت شکریہ!

(نوٹ: زیرِ نظر انٹرویو میں کارٹر کی جس تحریر کا بار بار ذکر آیا ہے‘ اُس سے مراد ان کی کتاب “Our Endangered carter_endangeredValues” ہے)۔ (بشکریہ: ڈیلی ٹائمز۔ ۱۷ اگست ۲۰۰۶)

(جناب کارٹر کا ایک تازہ ترین انٹرویو حال ہی میں معاصر لندن ٹیلی گراف نے لیا ہے جس کا خلاصہ بھی تہران ٹائمز کے حوالے سے یہاں دیا جارہا ہے۔۔۔ ادارہ)

لندن (اے پی) ۲۷ اگست ۲۰۰۶ء کو سنڈے ٹیلی گراف کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی سابق صدر جمی کارٹر نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر وائٹ ہاؤس کے مطیع اور تابعدار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ امریکا کو عراق پر حملے سے نہ روک سکے۔ مجھے ٹونی بلیئر کے رویے پر بہت حیرانی ہے اور میں ان سے بہت مایوس ہوں۔ واضح رہے کہ کارٹر نے عراق پر حملے کی بہت ہی شدت سے مخالفت کی تھی۔ جمی کارٹر نے کہا کہ ’’میرے خیال میں دنیا کے کسی آدمی سے زیادہ ٹونی بلیئر واشنگٹن پر اثرانداز ہو سکتے تھے‘ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ میں واقعی یہ سمجھتا تھا کہ ٹونی بلیئر صدر بش کے لیے عراق میں رکاوٹ ثابت ہوں گے‘‘۔

بلیئر عراق کے معاملے میں صدر بش کے سب سے قریبی عالمی حلیف رہے ہیں اور امریکا کے بعد عراق میں سب سے بڑی فوجی موجودگی برطانیہ کی رہی ہے۔ بلیئر نے برطانیہ کو جنگ میں شریک کرنے کا فیصلہ کر لیا اگرچہ برطانوی رائے عامہ اس کے سخت خلاف تھی اور یوں برطانیہ کو اس کی بھاری سیاسی قیمت چکانی پڑی۔ وہ گذشتہ سال منتخب تو ہو گئے لیکن پارلیمنٹ میں ان کی پارٹی کے ارکان میں بھاری کمی واقع ہو گئی اور عراق جنگ سے برطانوی عوام میں بلیئر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ بعض لوگوں کا قیاس ہے کہ جب جنگ شروع ہوئی‘ بلیئر نے بش کی علانیہ حمایت کا فیصلہ کیا تاکہ واشنگٹن پر جو ان کا خفیہ اثر و رسوخ تھا‘ اسے برقرار رکھا جاسکے۔ لیکن بلیئر نے ہمیشہ اس بات کا انکار کیا ہے کہ کسی اور وجہ سے انہوں نے عراق جنگ کی حمایت کی بلکہ انہوں نے یہ حمایت صرف اس وجہ سے کی کہ وہ اس کی حمایت کو حق بجانب سمجھتے تھے۔ کارٹر نے کہا کہ وہ جس جس ملک میں گئے وہاں لوگوں نے امریکا اور برطانیہ کی پالیسی کو یکساں قرار دیا۔ امریکا کی مقبولیت ان عرب ممالک میں بھی جو کہ امریکا کے قریبی اتحادی ہیں مثلاً اردن اور مصر‘ تباہ کن طور پر کم ہو گئی ہے۔ کارٹر نے کہا کہ ’’یہ بہت شرمناک اور المناک صورتحال ہے اور میں اس کے لیے آپ کے (سنڈے ٹیلی گراف کے انٹرویور کے) وزیراعظم کو بنیادی طور پر ذمہ دار سمجھتا ہوں کیونکہ یہ صورتحال ان کے امریکا کے آگے جھکنے اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

(بشکریہ: تہران ٹائمز)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*