Abd Add
 

مغربی دانش اسلامی دانش کی بنیاد پر پروان چڑھی!

معروف اسلامی دانشور اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر سید حسین نصر کا رومر ٹیلر کو انٹرویو

پروفیسر سید حسین نصر کا شمار سائنس‘ عرفان اور فلسفۂ اسلامی کے صف اول کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ آپ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ آپ ۱۹۳۳ء میں علماے دین کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے مراحل ایران اور امریکا میں طے کیے۔ اس کے بعد آپ نے ماساچوسٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں فزکس اور ہارورڈ یونیورسٹی میں جیالوجی اور جیوفزکس کے مضامین میں اپنی تعلیم جاری رکھی اور بالآخر موخرالذکر دانشگاہ سے History of Science & Philosphy میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سائنس اور اسلامک کاسمالوجی اس سلسلے میں آپ کی تحقیق کے خصوصی موضوع تھے۔

ڈاکٹر حسین نصر ۱۹۵۸ء سے ۱۹۷۹ء تک تہران یونیورسٹی میں تاریخِ علم و فلسفہ کے استاد رہے۔ اس اثنا میں امریکن یونیورسٹی بیروت میں قائم آغا خان چیئر فار اسلامک اسٹڈیز کے لیے جس شخص کا سب سے پہلے انتخاب عمل میں آیا وہ آپ ہی تھے۔ آپ سابقہ آریا مہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ اس کے علاوہ آپ کو ایران کی انجمن فلسفہ کے بانی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

۱۹۷۹ء میں اسلامی انقلاب کی جدوجہد کے زمانے میں پروفیسر سید حسین نصر ایران سے امریکا منتقل ہو گئے جہاں ابتدا میں آپ ٹمپل یونیورسٹی فلاڈلفیا میں پڑھاتے رہے اور پھر آپ نے اپنی موجودہ حیثیت میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں تدریس کا آغاز کیا۔ آپ کو دنیا بھر میں جگہ جگہ لیکچر دینے کا اعزاز حاصل ہے اور آپ وہ پہلے مسلمان دانشور ہیں جنہیں ۱۹۸۱ء میں ایڈنبرا یونیورسٹی کی جانب سے Gifford’s Seminars کے سلسلے میں مہمان مقرر کے طور پر شرکت کی دعوت دی گئی۔ آپ کی یہ تقاریر بعد میں ’’دانش اور قدامت‘‘ کے نام سے شائع ہوئیں۔

دینی امور میں بحث و تمحیص کے شوق نے آپ کو مشہور عیسائی‘ یہودی‘ ہندو اور بدھ مذاہب کے دانشوروں اور متکلمین سے مذاکروں اور مباحثوں کی طرف راغب کیا۔ نصر سائنس‘ فلسفہ‘ عرفانِ اسلامی‘ نیز روایت و جدیدیت کے موضوعات پر متعدد کتابوں اور مقالات کے مولف ہیں۔ ’’قلبِ اسلام‘‘ ان کی تازہ ترین کتاب ہے۔ آپ ادارۂ مطالعات روایت پرستی‘ جس کا کہ امریکا میں مرکز ہے‘ کے سربراہ ہیں۔ مختلف ادیان کی روایات کے بارے میں ایک مجلہ بنام ’’سوفیا‘‘ بھی اسی مرکز سے شائع ہوتا ہے۔ آپ بیسویں صدی کے ایک الجزائری صوفی (شیخ احمد العلوی) سے بیعت ہیں۔

س: غالباً یہودیت کی طرح دین اسلام کی جڑیں بھی ایک متحارب اور متشدد ثقافت سے ابھری ہیں۔ لیکن اسلام کی ابتدائی ترقی کے بعد صلح و آشتی‘ علمی و تہذیبی رشد و ترقی اور حسن سلوک کے طویل دورانیے واقع ہوئے۔ کیا یہ تاریخی حقائق ایک دوسرے سے مکمل طور پر جدا ہیں؟ آپ سے درخواست ہے کہ جہاں تک ہو سکے دینِ اسلام کے ایک دین کے طور پر ابھرنے میں اس کی جڑوں کی تاریخی تکوین اور طریقہ اثر کی توضیح دیں؟

نصر: اجازت ہو تو آپ کی بات کی تصحیح کروں۔ اسلام کی جڑیں جنگ وجدل کی ثقافت میں نہیں بلکہ اس کی بعثت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اسلام عرب کے باہم متحارب قبائل کے درمیان ظہور پذیر ہوا۔ خدا نے اسے جنگ و جدل اور خشونت زدہ قبائلی ماحول کے خاتمے کے لیے نازل کیا۔

تمام انسانی معاشروں کی تاریخ جنگ و جدل سے عبارت ہے اور اس سلسلے میں اسلام مستثنیٰ نہیں۔ اسلام کی تاریخ یہودیت یا عیسائیت سے زیادہ جنگوں سے عبارت نہیں۔ جب پیغمبرِ اکرمؐ سے مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تو آپ کی زندگی مبارک کو خطرات لاحق تھے چنانچہ ناگزیر طور پر آپؐ کو مدینہ میں کئی دفاعی جنگیں لڑنا پڑیں‘ لیکن جس وقت آپ مکہ تشریف لائے تو آپ نے ایک بھی قطرہ خون بہائے بغیر مکہ میں امن قائم کر دیا۔ اسی طرح آپؐ کی وفات کے بعد پہلے چار خلفا کے زمانے میں فرقہ ورانہ اور گروہی جنگیں لڑی گئیں اور اس کے بعد ایک طویل پُرامن دور شروع ہوا جس کے نتیجے میں مذہب و ثقافت کے تمام میدانوں میں ترقی ہوئی۔

بہت سے دیگر ادیان‘ یہاں تک کہ ہندومت جو نرم روی میں شہرت رکھتا ہے‘ کے مقابلے میں اسلام زیادہ حسنِ سلوک اور نرمی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ درحقیقت پیغمبر گرامیؐ یہود و نصاریٰ کا بہت احترام کرتے تھے اور انہیں اہلِ کتاب کہتے تھے۔ مدینہ میں یہودیوں کے خلاف آپؐ کی جنگیں ان کی یہودیت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے (اسلام کے) مکی دشمنوں کے ساتھ ساز باز اور غداری کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ اسی غداری کے جرم کی پاداش میں بعض یہودیوں کو قتل بھی کیا گیا۔ تمام یہودیوں اور عیسائیوں کو مسلمانوں کی حمایت حاصل تھی اور وہ مسلمانوں کے درمیان پُرامن زندگی گزارتے تھے۔

س: مسلمانوں میں جو یہودی اور اسرائیلی مخالف جذبات پائے جاتے ہیں اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

نصر: یہ جذبات جدید دور کی پیداوار میں اور عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان ایک لادین اور سیکولر نظریے کے طور پر علاقے میں صیہونیت کی ترویج اور فلسطینی سرزمین کے تاراج کیے جانے کے ردِعمل کے طور پر پیدا ہوئے ہیں۔ جب بھی عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان عدل کی بنیاد پر اختلاف حل ہو گئے۔ یہودیوں کے خلاف بہت سے نفرت آمیز جذبات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ تاریخی لحاظ سے زیادہ تر اسلامی ممالک میں عیسائی اور یہودی آرام سے زندگی بسر کرتے تھے۔ مصر میں عیسائی برادری آج تک باقی ہے۔ اسلامی معاشروں میں رہنے والے یہودیوں کا چال چلن بہت سے یورپی ممالک کی نسبت بہتر تھا۔ پندرھویں صدی میں جب مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہودیوں کو بھی ہسپانیہ سے نکال دیا گیا تو وہ شمالی افریقہ اور ترکی میں بس گئے۔ ان کے نئے معاشروں نے بہت ترقی کی۔ مثلاً آج بھی ایران میں بعض یہودی اور عیسائی پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ یہاں تک کہ ۱۹۹۱ء میں جب امریکا نے بغداد پر بمباری کی تب بھی عراقی مسلمانوں نے کسی عیسائی کو نقصان نہیں پہنچایا۔

س: یہودیوں اور عیسائیوں کی مقدس کتابوں کی طرح قرآن مجید میں بھی مختلف صلح آمیز اور جنگ جویانہ اعمال کی بارے میں آیات موجود ہیں۔ کیا آپ قرآن مجید کی مختلف تفاسیر کے آئینے میں جنگجویانہ روش کے بارے میں کچھ بتائیں گے؟ قرآن کی نظر میں جنگ سے مراد کیا ہے؟

نصر: جنگ کے بارے میں قرآنی آیات انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مغرب میں بعض افراد ہمیشہ انہی آیات کو نکالتے اور ان پر تنقید کرتے رہتے ہیں اور اس حقیقت کو بھلا بیٹھتے ہیں کہ تورات میں جنگ کے بارے میں نسبتاً زیادہ آیات موجود ہیں۔ قرآن مجید میں جنگ کو صرف ایک دفاعی عمل کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور اسلام غیرمسلح و بے گناہ سویلین افراد کو جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں‘ قتل کرنا جائز قرار نہیں دیتا۔ ’’جہاد‘‘ کی اصطلاح سے مراد خدا کی راہ میں کوشش کرنا ہے جبکہ مغرب میں یہ لفظ غلط معنی میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کا عمیق ترین مفہوم کسی فرد کا عارفانہ منازل طے کرنا ہے نہ کہ ایک مقدس جنگ لڑنا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا ایک معنی ضرورت کے وقت مسلمانوں پر معاشرے کی حفاظت کے لیے خود کو دفاع کے لیے آمادہ رکھنا بھی ہے۔

س: یہی وہ فرق ہے جو جہادِ اکبر اور جہادِ اصغر میں ہے۔ کیا آپ اس کی مزید وضاحت کریں گے؟

نصر: جی ہاں! جہادِ اکبر کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی شہوانی اور مادی خواہشات پر قابو پانے کے لیے باطنی طور پر کوشش کرے جبکہ جہادِ اصغر سے مراد اپنے وجود سے خارج دفاعی جنگ ہے۔ اہلِ مکہ کے خلف ابتدائی جنگوں میں سے ایک کے اختتام پر‘ پیامبر اکرمؐ نے اپنے جانثاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’تم بیرونی جہاد سے فارغ ہو گئے تو اب باطنی جہاد کی طرف اپنی توجہ مرکوز کر دو‘‘۔ آپؐ نے انہیں خبردار کیا کہ نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد بیرونی دشمن کے خلاف جہاد کی نسبت زیادہ اہم اور بڑا ہے۔

س: جنگ کے لیے عربی زبان میں ’’حرب‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اس اصطلاح اور ’’جہاد‘‘ کے مفہوم میں کیا فرق ہے؟ نیز آج کل کی اسلامی گفتگو میں لفظِ ’’جہاد‘‘ کا استعمال اتنا زیادہ کیوں ہو گیا ہے؟

نصر: حرب جنگ کے اُس متعارف مفہوم میں مستعمل ہے جس کے بارے اسلام نے قواعد و ضوابط مقرر کیے ہیں۔ جس طرح کلمۂ جہاد کے لیے مخصوص دینی معانی و مفاہیم موجود ہیں یعنی خدا کے لیے خدا کے وصال کی راہ میں کوشش کرنا لیکن یہ لفظ تمام مقاصد کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائی اصطلاح “Crusade” یعنی ’’صلیبی جنگ‘‘ پر غور کیجیے۔ پوپ اور بن (Urban) اس اصطلاح سے مراد گیارھویں صدی میں اسلام کے خلاف لڑی جانے والی ’’مقدس جنگیں‘‘ لیتے ہیں۔ اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ بیسویں صدی میں صدر جمہوریۂ امریکا جانسن اسی اصطلاح کو غربت و افلاس کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ لفظِ ’’جہاد‘‘ اپنے حقیقی اور مجازی دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا اور ہر دوسرے معاشرے کی طرح‘ بعض اوقات جنگیں ظاہری طور پر جھوٹے ناموں سے بھی لڑی جاتی ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسا بھی ہوا کہ بعض سلاطین اعلانِ جہاد کرتے تھے لیکن اس سے دل میں مراد ایسی جنگ لیتے تھے جو کسی سرزمین پر قبضہ یا دشمن کو مغلوب کرنے کے لیے لڑی جائے اور اس جنگ کو جہاد فقط اس لیے کہتے تھے تاکہ وہ اپنے اقدامات اور پالیسیوں کو شرعی ور پر درست قرار دے سکیں۔ اپنی سیاست اور پالیسیوں کو اس طرح نافذ کرنا قانونی اور شرعی لحاظ سے جہاد نہ تھا۔ جہاد کا اعلان فقط ایک اسلامی حکومت کا سربراہ علماے دین کے مشورے ہی سے کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر مصر کا صدر جہاد کا اعلان نہیں کر سکتا کیونکہ وہ ایک حکومت کا سیکولر سربراہ ہے۔

س: اسلام میں سیاسی موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی ہے اور تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو بعض دینی و سیاسی مصلحین نے اپنے اہداف کے حصول کے لیے خشونت آمیز اور متشدد رویہ بھی اختیار کیا۔

نصر: مسیحیت کے برعکس‘ جس کے مطابق حضرت عیسیٰؑ اپنے پیروکاروں سے کہتے ہیں کہ جو چیز خدا سے متعلق ہے اسے خدا کو سونپ دیں اور جو شاہ (سیزر) سے متعلق ہے وہ اس پر چھوڑ دیں۔ اسلامی عقیدے کے مطابق سب کچھ خدا سے مربوط ہے۔

اسلامی قانون اور شریعت دو بنیادوں پر استوار ہے۔ ایک پیغمبر اکرمؐ پر اترنے والی وحی جو قرآن کی صورت میں موجود ہے اور دوسری پیغمبرِ اسلامؐ کی احادیث‘ سنت اور سیرت۔ یہی دو چیزیں اسلام کے مقدس قانون‘ جسے اصطلاح میں شریعت کہا جاتا ہے‘ کے اصل مآخذ ہیں اور اسی طرح دو دوسرے مآخذ یعنی اجماع اور قیاس پر یہ قانون استوار ہے۔ عیسائیت کے پاس انجیل میں معاشرے کے لیے کوئی واضح قوانین موجود نہیں ہیں۔ حضرت موسیٰؑ اور پیغمبرِ اسلامؐ کے برعکس حضرت عیسیٰؑ نے معاشرتی زندگی کے لیے واضح قوانین کی بنیاد نہیں رکھی۔ چنانچہ مختلف عیسائی معاشرے مجبور ہیں کہ وہ مختلف علاقائی ثقافتوں پر مبنی قوانین پر عمل کریں۔ اس کے برعکس اسلام میں قانون یا شریعت اور دین کے درمیان چولی دامن کا تعلق ہے۔ ظہورِ اسلام کے دو سو سال بعد سے اسلامی معاشرے میں تحقیق اور تلاش و جسجو کا رواج زیادہ تر موجود رہا۔ چنانچہ اسی وجہ سے فقہ یا اسلامی قانون نے تیزی سے ترقی کی۔ ابتدائی مسلمان فقہا واضح قانونی راہ و روش کو محکم اور قائم کرنے میں لگے رہے تاکہ قرآنی احکام کے مطابق ایک صالح‘ مساوی اور انصاف پسند معاشرہ تشکیل پاسکے۔ سلاطین اور خلفا کو چاہیے تھا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے شریعت کی بنیاد پر حکومت کرتے لیکن دیگر تمام انسانی معاشروں کی طرح بعض حکمران تو دوسروں سے بہتر تھے جبکہ بعض حکمرانوں نے ظلم و ستم اور قتل و غارتگری کی جس سے بچنے کی خاطر مظلوم طبقات عموماً علما یا مذہبی لیڈروں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ مختلف مواقع پر بعض گروہوں نے یہ محسوس کیا کہ ظالم حکمران نے شریعت اور حقیقی اسلام سے جو عدالت اور مساوات پر مبنی ہے‘ شدید انحراف کیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے حکمرانوں کی مخالفت میں سیاسی اور اصلاحی تحریکیں بھی شروع کیں اور شاید اسی قسم کی کارروائیوں کی بدولت فضا خشونت آمیز اور پُرتشدد ہو گئی۔

انسانی معاشرے میں خشونت اور نفرت کا مسئلہ بہرحال ایک حقیقت ہے۔ اسلام نے اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ چاہا ہے کہ حتی المقدور جنگ اور خشونت کو کم سے کم کرے اور غیرمسلح‘ بے گناہ افراد خصوصاً بوڑھوں‘ خواتین اور بچوں پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے۔ بہرحال تاریخِ عیسائیت کے مقابلے میں اسلام کی تاریخ میں تشدد کم ہی ہے۔

س: مغرب کے متعلق ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ عالم اسلام ہی کا پروان چڑھایا ہوا علمی‘ تہذیبی اور فلسفی سلسلہ تھا جس نے بالآخر قرونِ وسطیٰ میں یورپ کی تحریکِ احیاے علوم اور روشنی کی منزل کی طرف رہنمائی کی۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی ہی میں یورپ کی ترقی پذیر اقتصادیات نے طاقت کے توازن کو بگاڑ دیا اور مشرقِ وسطیٰ‘ افریقہ اور ایشیا کے زیادہ تر زرعی معاشروں کو اپنی نوآبادیوں میں تبدیل کر دیا۔ کیا آپ طاقت کے توازن میں اس تبدیلی کے عالم اسلام پر اثرات پر روشنی ڈالنا پسند فرمائیں گے؟

نصر: یورپ کی ترقی سولوہیں صدی کے اوائل میں شروع ہوئی۔ اسلام شاید اس زمانے کی اہم ترین تہذیب تھی اور مغرب اس تہذیب کا بہت زیادہ حد تک مقروض ہے۔ مغربی دانش اسلامی دانش کی بنیاد پر پروان چڑھی ہے۔ گلیلیو کا ظہور بو علی سینا اور اس جیسے دیگر مسلمان منجمین ہی کے مطالعے کا مرہونِ منت تھا۔ ہر چند کہ گلیلیو اور دیگر جدید سائنسدانوں کی ترقی یافتہ سوچ اسلامی تصورِ کائنات سے متفاوت فکر پر مبنی ہے لیکن تاریخی اعتبار سے عالمِ اسلام ایک اہم غلطی کا مرتکب ہوا۔ وہ سولہویں اور سترہویں صدی کی ایک فعال اور ترقی یافتہ تہذیب کی حیثیت سے داخلی امور اور الجھنوں میں پھنسا رہا اور اس نے یورپ کی مسلسل ترقی اور ایک غالب طاقت کی حیثیت سے ابھرنے کی طرف توجہ نہ کی اور غفلت برتی۔ مسلمان اہلِ یورپ کو ایک تندخو جنگجو ٹولے سے زیادہ‘ جو طاقتور بھی ہو‘ اہمیت نہ دیتے تھے۔ اس زمانے تک تبادلات عملاً یک طرفہ تھے۔ اکثر یورپی عالمِ اسلام کے مقروض تھے۔ اس زمانے میں مسلمانوں کی طاقت کا محور ہندوستان میں مغل‘ ایران میں صفوی اور اسلامی سلطنتیں تھیں۔ جب اہلِ یورپ نے ایشیا کے چند دور دراز علاقوں پر قبضہ جما لیا تو بظاہر یہ ایک چھوٹا سا حادثہ نظر آتا تھا۔ ۱۷۹۸ء میں جب نپولین نے مصر پر قبضہ کیا تو تب عالمِ اسلام کو ہوش آیا۔ مصر عالمِ اسلام کے قلب میں واقع تھا اور ہرچند کہ اسے عثمانی یورش کا سامنا تھا تاہم وہ مملوک خاندان کے زیرِ نگیں تھا۔ مسلمان سلاطین میں صرف مملوک ہی ایک حکمران سلسلہ تھا جس نے مصر کو منگولوں کی یلغار اور تباہ کاری سے بچائے رکھا اور آخر کار منگول فوج کو شکست دے دی۔ اس بنا پر مصر پر نپولین کا قبضہ ان کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا تھا۔

یورپ ایک غالب طاقت میں تبدیل ہو گیا‘ چونکہ وہ سیکولر تھا۔ ممکن ہے بعض لوگ یہ کہیں کہ قرونِ وسطیٰ کے بعد کے یورپ نے اپنی معنویت اور روح کو دنیوی طاقت کے بدلے فروخت کر ڈالا۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ اگر عالمِ اسلام بھی اپنی تمام تر قوت کو کشف اور فلسفی‘ دینی اور عرفانی تحقیق کی بجائے دنیاوی طاقت کے حصول میں صرف کر دیتا تو دنیا کی تسخیر کے وسائل و آلات اس کے ہاتھ میں ہوتے۔

س: آج کل مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد مغرب میں زندگی گزار رہی ہے اور اسی طرح اہلِ مغرب کی ایک بڑی تعداد (زیادہ آسان حالات میں نہ سہی) بہت سے اسلامی معاشروں میں موجود ہیں۔ اس امر نے شاید روایتی دارالسلام (جاے امن)‘ جہاں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہوتی ہے‘ اور دوسری سرزمینوں کے درمیان حد فاصل کو ختم کر دیا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ دارالسلام میں آباد مسلمانوں کے مغرب سے متعلق بعض ردعملوں کی توضیح فرمائیں؟

نصر: ہمیں نپولین کے زمانے کی طرف لوٹنا ہو گا۔ جب اس نے عالمِ اسلام کے عین قلب میں واقع مصر پر قبضہ کر لیا تو مسلمان مبہوت اور متوحش ہو گئے۔ یہودیوں کی تاریخ کے برعکس تاریخِ اسلام فتوحات سے بھری ہوئی ہے۔ قرآن کریم کی ایک آیت کے مطابق فرمانِ خدا ہے کہ اگر خدا مدد کرے تو کوئی بھی تم (لوگوں) پر غلبہ نہیں پاسکتا ہے (۳:۱۶)۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ جب تک وہ خدا کے دین کی پیروی کریں گے‘ فتح یاب ہوتے رہیں گے لیکن اب جبکہ وہ شدید معنوی‘ دینی اور سیاسی بحرانوں سے دوچار تھے تو وہ اپنے آپ سے سوال کرتے کہ کمزوری اور عیب کس جگہ پر موجود تھا؟ اس سوال کے جواب میں تین نکتہ نظر اور تین جواب ان کے سامنے آئے:

۱۔ یہ عظیم شکست دنیا کے اختتام اور امام مہدی یا نجات دہندہ کے ظہور کی علامت ہے۔

۲۔ مسلمان احکامِ اسلام کی پیروی‘ ویسی نہیں کر رہے جیسی انہیں کرنی چاہیے۔ انہیں حقیقی دین کی پیروی کی طرف پلٹ جانا چاہیے۔

۳۔ اسلام کے پیغام کی جدید دنیا سے تطبیق ضروری ہے تاکہ مغرب کی کامیابی پر غلبہ پایا جاسکے۔

ان تینوں جوابات کے اپنے اپنے پیروکار موجود تھے۔ انیسویں صدی میں جدید مغرب کے مقابلے میں تین فکری دھاروں نے جنم لیا۔ ان تینوں امور میں امام مہدی کی متوالی یا Messianic تحریکیں‘ بنیاد پرست جیسے سعودی عرب کے وہابی‘ اور تجدد پسند جیسے نوجوان ترک اور عرب لیبرلزم کے حامی شامل ہیں۔ یہ تحریکیں دو مرحلوں میں سامنے آئیں۔ پہلے انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل اور اس کے بعد دوسری عالمی جنگ میں۔ دوسرا مرحلہ پہلے سے متفاوت تھا ہرچند کہ اس میں متعدد امور مثلاً مہدی پرستی‘ جدت پرستی اور بنیاد پرستی اور وہ چیزیں جنہیں مغرب میں روایتی اسلام کہا جاتا ہے‘ شامل ہو گئیں۔

خود مغرب میں بھی ایک نئی حالت پیدا ہو گئی جس سے اسلام اور مغرب کے درمیان ایک معاندانہ تعلق کا ہیولیٰ سامنے آتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلمان مغربی جدیدیت سے اہلِ مغرب کے مایوس ہو جانے کے متعلق آگاہ ہو گئے۔ اس زمانے میں یہ کیفیت ٹی ایس ایلیٹ کے اشعار یا رینی گنون کی کتاب ’’ماڈرن دنیا کا بحران‘‘ اور اسی طرح کی بہت ساری دوسری کتابوں میں جو عالمِ اسلام میں ترجمہ ہو کر اشاعت پذیر ہوئیں‘ ہویدا تھی۔

اسی طرح سے وہ دولت و ثروت جو عالمِ اسلام میں در آئی اس نے صنعتی اور ماڈرنائزیشن (جدیدیت) کے عمل میں تیزی پیدا کی جس سے ان ممالک کے اندر اسلام اور مغرب کے اثر و رسوخ کے مابین کشیدگی کو تقویت ملی۔

عالمِ اسلام کے زیادہ تر ممالک سیاسی استقلال و آزاری سے ہمکنار ہوئے جبکہ مسلمان ثقافتی اور معاشرتی استقلال و آزادی کے لیے اب بھی چشم براہ ہیں۔ اسلامی معاشروں میں دین اب بھی ایک بالادست طاقت ہے۔ اس بنا پر بہت سے مسلمانوں کو یہ توقع تھی کہ وہ اسلامی معاشروں کو زندہ کریں گے اور استعماری طاقتوں نے جن ثقافتی اور اسلامی آداب و رسوم کا خاتمہ کر دیا تھا انہیں وہ دوبارہ وہاں نافذ کر دیں گے۔

مسلمان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود خود کو مغربی اقتصاد اور ٹیکنالوجی کے چنگل سے آزاد نہ کر سکے اور سیاسی لحاظ سے انہوں نے اپنے آپ کو ایک ایسے طبقے کے تسلط میں پایا جس نے مغرب میں تعلیم پائی تھی اور مغرب زدہ تھا اور اب اہلِ مغرب ہی کی حمایت سے اُن پر حکمرانی کر رہا تھا۔ جو کوئی بھی عالمِ اسلام کی شناخت رکھتا تھا وہ یہ بات درک کر لیتا تھا کہ یہ کشیدگیاں آخرکار بعض ردِعملوں کی صورت اختیار کر لیں گے۔ میں ان پہلے مسلمانوں میں سے تھا جنہوں نے پچاس کی دہائی میں اس صورتحال پر بات کی۔

س: آپ نے بنیاد پرست اور روایت پرست کی اصطلاحات استعمال کی ہیں۔ اسلام کے اندر ان دو گروہوں کے مابین جو فرق ہے اسے واضح کیجیے۔

نصر: ان دونوں کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔ البتہ بنیاد پرستی ایک مغربی مفہوم ہے جس کی جڑیں امریکن پروٹسٹینزم میں ہیں اور ۱۹۷۹ء میں پہلی بار ایران میں انقلابِ اسلامی بپا ہو جانے کے بعد اس سے استفادہ کیا گیا۔ یہ ایک مغالطہ آمیز کلمہ ہے اور اس کے پرتو میں بہت سارے غیرمتجانس عناصر موجود رہے ہیں اور اس کا مشہور ترین نمونہ سعودی عرب میں وہابیت ہے۔ جس چیز پر تمام بنیاد پرستوں کا ایکا ہے وہ مغرب‘ مغربی ثقافت سے نفرت اور مغربی سائنس اور ٹیکنالوجی سے عشق ہے۔ اسی طرح وہ ایک فعال عمل کی جانب رجحان رکھتے ہیں اور عام طور سے اسلام کے داخلی ابعاد مثلاً عرفان‘ فلسفہ اور فن کے مخالف ہیں اور ان کا زیادہ تر رجحان قرآن کے بعض ظاہری اور متشابہ علمی مفاہیم کی طرف ہے۔ ازروے حقیقت یہ عوامی رجحان جسے سلفی رجحان کہا جاسکتا ہے کسی طرح بھی اصولی اور رسمی نقطۂ نظر کے زمرے میں شامل نہیں بلکہ اسلامی ارتھوڈکسی کے حاشیے میں قرار پاتا ہے۔

بنیاد پرستی جدیدیت کے سکے کا دوسرا رخ ہے۔ بنیاد پرستی اپنی معاصر صورتوں میں جدیدیت کے بغیر جامۂ وجود نہیں پہن سکتی کہ وہ بیک وقت ماڈرن ٹیکنالوجی کی بھی طلبگار ہو اور ماڈرن ثقافت کو بھی مسترد کر دے۔ بنیاد پرستوں کی توجہ اور ان کی دعوت کی کشش نہایت ہی قوی ہے کیونکہ دوسری عظیم جنگ کے بعد اسلام کا تشخص اور اس کی روح سخت خطرے میں قرار پاچکی ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت بنیاد پرست نہیں‘ بلکہ روایت پرست ہے۔ وہ اسلامی روایات پر مبنی اصولوں کی بنیاد پر قائم زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ وہ اسلام کی غنی علمی‘ فنی‘ ثقافتی اور روحانی میراث کے حامل رہیں‘ جبکہ بنیاد پرست (اس کو) مسترد کرنے والے ہیں۔ روایت پسندوں کا رجحان عوامی ہے۔ بنیاد پرست بیرونی اور سطحی نہ کہ فلسفی جلووں کے دلدادہ ہیں جبکہ روایت پسند دین کے داخلی پہلوئوں فلسفہ‘ کیفیت دین اور روحانیت کی جانب مائل ہیں۔

روایت پرست ہمیشہ ہی موجود رہے ہیں لیکن مغرب ان کی طرف دیکھنے اور توجہ دینے کی طرف مائل نہیں رہا۔ مغربی دانشور تغیر کے شیفتہ ہیں۔ وہ اصلاحات اور تغیرات کو دیکھتے ہیں لیکن پائیدار اور ہمیشہ ثابت قدم رہنے والے عناصر کی طرف اُن کی کوئی توجہ نہیں۔

اگر آپ کو کوہِ ہمالیہ جانا ہو اور آپ سارا وقت پہاڑ میں لینڈ سلائیڈنگ یا چٹانوں کے گرنے کو دیکھتے رہیں تو اپنے سامنے موجود عظیم پہاڑ کے وجود کا احساس نہیں کر سکیں گے۔

س: اسامہ بن لادن جیسی شخصیت اس تصویر کے فریم ورک میں کیونکر فٹ بیٹھتی ہے اور خودکش حملے کرنے والے فلسطینیوں کے بارے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟

نصر: اس جگہ دو مختلف مسائل موجود ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے الگ الگ کر دینا چاہیے۔ اسامہ بن لادن خالص سعودی وہابیت اور مغربی مادہ پرستی کا ماحصل ہے۔ جب ریاستہاے متحدہ روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو امریکیوں نے ابتدا میں تیزی سے ردِعمل نہیں دکھایا۔ افغانستان میں امریکا کا اس زمانے کا سفیر میرا دوست تھا۔ وہ امریکی حکومت کو اس صورتحال سے متعلق خطرے پر مبنی پے در پے پیغامات بھیجتا رہا۔ آخرکار جب امریکیوں نے اس کی بات پر کان دھرے تو انہوں نے سعودی عرب میں اپنے اتحادیوں کی طرف توجہ کی تاکہ فوجی اقدامات کو مالی لحاظ سے تحفظ فراہم کریں۔

اسی وقت اسامہ بن لادن کو افغانستان بھیجا گیا۔ وہ ایک عامل و مامور تھا۔ اس نے ایک مالدار سعودی گھرانے میں پرورش پائی تھی۔ اس کے والد کے حکومتی حلقوں سے روابط تھے۔ وہ اپنے گھرانے کا زاہد ترین فرد سمجھا جاتا تھا جس کا مستقبل نہایت شاندار تھا۔ امریکیوں نے سعودی دولت سے اس کی تربیت کی لیکن اسامہ بن لادن اس نفرت کے ساتھ جو اسے اسلامی معاشروں کے بڑھتے ہوئے انحطاط اور زوال پذیری سے تھی اور جو اس کے خیال میں مغربی سیکولرزم کا نتیجہ تھا‘ بڑھا پلا تھا۔ اُسے سعودی عرب کی مقدس سرزمین میں امریکا خصوصاً امریکی سپاہیوں کی موجودگی سے نفرت تھی اور افسوس کہ اس نفرت نے اسے افسوسناک اقدامات پر آمادہ کیا۔ وہ ایک انتہا پسند بن گیا اور حتیٰ کہ وہابیوں کی طاقت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ اگر امریکی بیس سال پہلے سعودی عرب کی مدد کے بغیر افغانستان چلے جاتے تو ۱۱ ستمبر کا واقعہ پیش نہ آتا۔

س: بن لادن آپ کی تعریف کے مطابق جدت پسند بنیاد پرست ہے اور افسوسناک اور مضحکہ خیز طریقے سے ماڈرن سیکولرزم کے مقابلے کے لیے ایڈوانس ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتا ہے۔

نصر: جی ہاں! یہ درست ہے۔ وہ مغرب کو بلا سمجھے مسترد کرتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ جسے مسترد کرتا ہے وہ آخر ہے کیا؟ لیکن خودکش حملوں کی کہانی اور ہے۔ بہت سے مسلمان اسے ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں اور اس قسم کے اعمال ان کے نزدیک اغماض برتنے کے قابل نہیں ہیں‘ کیونکہ خودکشی عام لوگوں کے قتلِ عام ہی کی طرح قانونِ اسلام کے مطابق ممنوع ہے۔ علما کی صرف مختصر سی تعداد اسے آخری دفاعی حربے کے طور پر قابلِ قبول سمجھتی ہے۔ خودکشی اسلام میں ممنوع ہے اور اعداد و شمار کی رو سے مغرب کے مقابلے میں اسلامی معاشروں میں اس کی شرح نہایت کم ہے۔ اگر فلسطینیوں کے پاس بھی M-16 اور آپاچی ہیلی کوپٹر ہوتے تو وہ اپنے بدنوں سے ہتھیاروں کا کام نہ لیتے۔ بحالاتِ موجودہ یہ واحد چیز ہے جو ان کے لیے رہ گئی ہے۔ بے شک ان کے اعمال ایک حد تک اس ظلم کا جواب ہیں جو ان پر دوسروں نے کیے ہیں۔ اگر آپ مثال کے طور پر ۱۹۶۷ء کی سرحدوں کی طرف لوٹ جائیں اور مشرقی بیت المقدس کو دارالخلافہ کے طور پر انہیں دے دیں اور ان کے بعض مالی نقصانات کی تلافی کر دیں‘ جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہودیوں کے ساتھ ہوا‘ جبکہ ظاہری طور پر یہ ممکن نظر نہیں آتا ہے کہ ایسے تمام فلسطینی جو لوٹ آئیں‘ ان سب کے لیے ایسی سہولتیں فراہم کر دی جائیں‘ تو میرا یہ خیال ہے کہ جذبات ٹھنڈے پڑ جائیں گے اور مشتعل گروہ کمزور ہو جائیں گے اور آسانی سے جوانوں کو مزید ابھارا نہیں جاسکے گا۔ بے شک تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں کہ ہم نے ایسے واقعات کا مشاہدہ کیا ہو۔ خودکش آپریشن دوسرے مقامات پر شنتو جاپانیوں اور ہندوئوں میں بھی موجود رہے ہیں۔ سیمسن نے جب داگون کے معبد کے ستونوں کو گرایا تو اس نے بم کے بغیر ہی خودکش حملہ کیا اور فلسطین کی عورتوں اور بچوں کو قتل کیا۔ ذاتی طور پر میں ہر ایسی خودکشی کا مخالف ہوں جو بے گناہ لوگوں کو زد میں لے۔ چاہے یہ معاملہ جنگ کے دوران ہی کیوں نہ پیش آئے۔

س: آپ سے متعلق یہ عقیدہ مشہور ہے کہ اسلام اور دوسری دینی روایات کے درمیان اصولی طور پر کوئی جدائی اور تفاوت نہیں بلکہ یہ اختلاف اسلام اور سیکولرزم کے مابین ہے۔

نصر: جی ہاں! سب سے بڑی کشیدگی اسلام اور مغرب کے درمیان نہیں بلکہ دین اور سیکولرزم کے درمیان ہے۔ سیکولرزم بلاتردید موجودہ دور کی ڈوگ میٹک ترین اور مسترد کنندہ آئیڈیالوجی ہے اور اپنی راہ میں موجود ہر چیز کو نیست و نابود کر دیتی ہے۔ اسلام کے لیے سیکولرزم کو تحمل کرنا اور اس کا مقابلہ کرنا دونوں عظیم چیلنج ہیں۔ اسلام نے ہمیشہ دوسرے ادیان کے ساتھ صلح و آشتی کے ساتھ وقت گزارا ہے لیکن سیکولرزم کسی بھی دینی روایت کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ اس کا یہ چیلنج حتیٰ کہ مغرب کو بھی درپیش ہے۔

دنیا کے متعلق آپ کے دو نظریے ہیں ایک مادی دنیا سے ماورا معنویت اور دوسرا مادیت سے متعلق ہے۔ ان دونوں کے درمیان رابطہ پیچیدہ اور مبہم ہے اور ان دونوں نظریوں کے درمیان مفاہمت وہ عظیم ترین چیلنج ہے جس کا آج کی دنیا کو سامنا ہے۔

(بشکریہ: سہ ماہی مجلہ ’’پیغام آشنا‘‘۔ اسلام آباد)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.