Abd Add
 

’’بھارتی تسلط سے آزادی کا یقین دلاتا ہوں!‘‘

سید علی گیلانی اپنی ذات میں خود ایک تحریک ہیں۔ بھارتی ظلم و ستم کے سامنے عظمت و استقامت کے اس پہاڑ کی زندگی کا بیشتر حصہ جیل میں گزرا۔ اپنے مقصد سے سچے لگائو اور اس کے لیے مثالی جدوجہد کے اعتراف میں بھارتی فوج نے انہیں ’’ضمیر کا قیدی‘‘ کا خطاب دیا۔ سید علی گیلانی ۲۹ ستمبر ۱۹۲۹ء کو زورمنگ‘ بانڈی پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور میں حاصل کی‘ گریجویشن اورینٹل کالج لاہور سے کی۔ لاہور کی گلیوں سے ان کو آج بھی خصوصی لگائو ہے۔ ان کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ آپ مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ علم و ادب سے شغف رکھنے والی شخصیت بھی ہیں۔ آپ کی ۳۰ سے زائد تصانیف ہیں‘ آپ آج کل کُل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین ہیں۔ اپنے مؤقف پر آج بھی مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے اور کشمیر کے مسئلہ کا واحد حل یہی ہے۔ ۸۰ سالہ سید علی گیلانی گردے کے کینسر کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں میں بھی مبتلا ہیں لیکن ان کے روزمرہ کے معاملات اور جدوجہد میں ٹھیرائو نہیں آیا ہے۔ خواجہ محمد شہباز نے ’’یومِ کشمیر‘‘ ۵ فروری کے موقع پر ماہنامہ ’’کشمیر الیوم‘‘ کیلئے بزرگ رہنما سید علی گیلانی سے انٹرویو لیا جو قارئین کے لیے پیشِ خدمت ہے:


س: محترم گیلانی صاحب! آپ نے کشمیر پر خفیہ مذاکرات کا حصہ بننے سے انکار کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بھارت پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرے۔ اگر بھارت ایسا کر لے تو کیا آپ مذاکرات کا حصہ بننے پر تیار ہو جائیں گے؟ اس حوالے سے وجاہت حبیب اﷲ سے اپنی ملاقات کا بھی کچھ احوال بتائیے۔

ج: جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے‘ وہ یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام سے رائے پوچھی جائے اور جو رائے سامنے آئے‘ وہ سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ اس میں آزاد کشمیر‘ لداخ‘ گلگت‘ بلتستان یعنی ۱۴ ؍اگست ۱۹۴۷ء میں جموں و کشمیر کی جو بھی جغرافیائی ہیئت تھی‘ اس حوالے سے سارے باشندوں سے پوچھا جائے‘ وہ اپنے مستقبل میں کیا چاہتے ہیں۔ قراردادوں کی عمل داری جس پر ہندوستان نے بھی دستخط کیے ہیں اور عالمی برداری اس کی گواہ ہے‘ اُن قراردادوں کی عمل آوری ہمارے لیے پہلی ترجیح ہے اور پہلا مطالبہ ہے۔ اس کے بعد ہمارے Constitution میں یہ بھی گنجائش رکھی گئی ہے کہ جو بھی حکومت ہو‘ وہ کشمیری عوام کے جذبات اور جموں و کشمیر کے عوام کی ۴۷ء سے لے کر آج تک کی قربانیوں کو پیشِ نظر رکھ کر ایک ایسا حل تلاش کرے جو بھارت کے آئین کے دائرے میں نہ آتا ہو۔ وجاہت حبیب اﷲ میری عیادت کے لیے آئے تھے کیونکہ میری بائیں آنکھ کا حال ہی میں آپریشن ہوا ہے۔ لیکن بہرحال انہوں نے خود ہی مسئلہ چھیڑا تھا‘ میں نے اس میں کوئی پہل نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا اگر آپ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو میں بھارت کے وزیر داخلہ چدم برم سے بات چیت Arrange کروں گا تو میں نے انہیں یاد دلایا کہ ۹۸ء میں جب میں حریت کانفرنس کا چیئرمین تھا تو وہاں طے ہو چکا تھا کہ اگر بھارت بات کرنا چاہے تو سب سے پہلے چیئرمین سے بات کرے تو سب سے پہلے آپ میرے پاس آئے اور آپ کے ساتھ دو رائونڈ بات چیت کے ہوئے اور پھر تیسری بار آپ نہیں آئے اور اس وقت بھی مطالبات وہی تھے جو ہمارے Constitution کے مطابق ہیں جس پر بھارتی حکومت نے آپ سے اتفاق نہیں کیا اور ہمارے مطالبات نہیں مانے۔ اس لیے آپ تیسری بار نہیں آئے۔ تیسرا رائونڈ جو آر کے مشرا صاحب اور ایڈ مرل نائر کے ساتھ ہوا۔ ان کے ساتھ بعد میں دو رائونڈ ہوئے اور تیسری بار وہ بھی تشریف نہیں لائے۔ ہمارا مطالبہ وہی ہے جو اُس وقت تھا۔ آج بھی ہم کسی خفیہ مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں نہ کسی اور طرح کے مذاکرات میں جب تک بھارت کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم نہیں کرتا ہے‘ کالے قوانین ختم نہ کرے‘ مکمل فوجی انخلاء نہ کرے اور جب تک تمام نظربندوں کو رہا نہ کرے اور ایسا ماحول نہ پیدا کرے جس ماحول میں لوگ محسوس کریں کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے تیار ہے اور مذاکرات جب بھی ہوں وہ سہ فریقی ہوں۔ مذاکرات کا سلسلہ ۲۳ مارچ ۱۹۵۲ء سے چل رہا ہے اور اب تک ۱۳۰ بار بات چیت ہوئی ہے لیکن نتیجہ کوئی بھی برآمد نہیں ہوا۔

س: امریکا افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے اور اسے پاکستان کی مستقل مدد کی ضرورت ہے۔ آپ کے خیال میں کیا یہ مناسب وقت نہیں کہ پاکستان امریکا سے مسئلہ کشمیر کے حل میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے کہے؟

ج: امریکا کسی کا دوست نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سب میرے دوست بنیں اور گزشتہ ۶۲ سال میں پاکستانی حکومت اور عوام کو اس کا تجربہ ہو چکا ہے کہ امریکا کبھی بھی تنائو کے وقت اور ضرورت کے وقت مدد کے لیے آگے نہیں بڑھا۔ اس کا طرزِ عمل جو رہا ہے اس کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کی جو مداخلت ہو گی‘ وہ کبھی بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو گی اور نہ جموں و کشمیر کی آزادی کے حق میں ہو گی۔ اس کا پلڑا بہرحال بھارت کے حق میں ہی ہو گا۔ اس لحاظ سے پاکستان کے جو پالیسی ساز ہیں‘ انہیں چاہیے کہ اپنی پالیسیوں میں جوہری تبدیلی لائیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکا کے بجائے اپنے بنیادی مؤقف پر ڈٹ جائے کہ حق خودارادیت ایک کروڑ ۲۰ لاکھ عوام کا مسئلہ ہے۔ جناب صدر پاکستان نے پنجاب کا دورہ پر کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ پانی کا مسئلہ ہے اور ہم اپنی نئی نسل کو مشکلات میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ گویا اُن کے نزدیک ایک کروڑ ۳۰ لاکھ افراد کے بنیادی حق حقِ خودارادیت جو اُن کا پیدائشی کا حق ہے‘ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ان کو جاننا چاہیے کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ بھارت نے اس کو اپنی طاقت کے بل بوتے پر دبائے رکھا ہے۔ امریکا ان شاء اﷲ بہت جلد افغانستان سے نکل جائے گا دُم دبا کر۔ بھارت کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان و افغانستان کے لیے گولہ بارود دینے کے لیے تیار ہیں‘ یہ دیکھے بغیر کہ امریکا کو وہاں سے جانا ہو گا اور ہم وہاں کے عوام کو ہمیشہ کے لیے دشمن نہیں بنا سکتے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ افغانستان کو اپنی غلط پالیسیوں سے ناراض نہ کریں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مستقبل میں حالات کی بہتری کی کوئی امید نہیں۔ ہماری طرف سے حکمرانوں‘ عوام اور قیات سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اﷲ پر بھروسہ کر کی اپنے مبنی برصداقت مؤقف پر چٹان کی طرح جمے رہیں اور صرف اور صرف حق خودارادیت کی بنیاد پر جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کریں۔ امریکا اور برطانیہ پر نظریں جمائے رکھنے سے نہ پہلے آپ کو کوئی فائدہ پہنچا ہے نہ آئندہ پہنچے گا۔

س: پاکستان کی قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا کے ساتھ آپ کی ملاقات کیسی رہی اور آپ نے اس ملاقات سے کیا اخذ کیا؟

ج: محترمہ فہمیدہ مرزا سے ہماری بات ہوئی۔ اُن سے ہم نے کہا کہ آپ کی حکومت موجودہ صورتحال میں بہتری پیدا کرنے کے لیے کیا کر رہی ہے کیونکہ پاکستان میں خانہ جنگی کی کیفیت ہے جہاں لوگ مارے جارہے ہیں۔ اہم تنصیبات پر حملے ہو رہے ہیں۔ خون بہہ رہا ہے اور مدرسوں پر حملے کیے جارہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو پاکستان کے رہنے والے ہیں جنہیں طالبان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اُن کی حرکتیں بہرحال کسی بھی دائرے میں انسانی اور اخلاقی اَقدار کے مطابق نہیں ہیں اور جو حکومت کا رویہ ہے اسے بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بہرحال ان کو چاہیے کہ بات چیت کے ذریعے ہی مسئلے کو حل کریں۔ یہ میں نے مشرف سے بھی کہا تھا کہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کریں لیکن جو امریکا کی ڈکٹیشن پر چل رہے ہوں اور اندرونی مسائل پر امریکا کی گرفت ہو‘ وہ ہمارے مشورے کی کیا شنوائی کر سکتے ہیں۔ اب بھی امریکا پاکستان کو کہہ رہا ہے کہ “Do more, do more till you will be no more” پاکستان میں امریکا ایکشن کر رہا ہے۔ متعدد حملے ہوئے ہیں صوبہ سرحد میں جہاں طالبان اور القاعدہ کے علاوہ عام لوگ بھی نشانہ بنائے جارہے ہیں۔ پاکستان ان ڈرون حملوں کو روکنے میں اب تک ناکام رہا ہے اور ان پر امریکا کا اتنا دبائو ہے کہ وہ امریکا سے احتجاج بھی نہیں کر پا رہے ہیں۔ میں نے اسپیکر صاحبہ سے کہا کہ ان حالات میں حکومت کیا کر رہی ہے‘ تو انہوں نے اسمبلی کی قرارداد کا حوالہ دیا تو میں نے کہا کہ قرارداد تو پاس ہو چکی ہے لیکن وہاں اس پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔ قرارداد پر عمل ہوتا تو دوسری پارٹیاں بھی مددگار ثابت ہوتیں۔ میں نے ان پر واضح کیا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے لوگ تھک چکے ہیں تو یہ غلط ہے۔ جموں و کشمیر کی غالب اکثریت خاص کر یہاں کا پڑھا لکھا طبقہ ذہنی طور پر بھارت کے قبضے سے مکمل طور پر آزادی چاہتا ہے۔ جلسے جلوس بھی ہوتے ہیں۔ ہم نے عوام تک یہ بات پہنچا دی کہ جموں و کشمیر سے بھارتی فوج کا مکمل انخلاء ہو۔ ہڑتال سو فیصد رہی۔ ہمارے احتجاج کامیاب رہے۔ ۲۸ لاکھ کنال زمین پر بھارتی فوج نے قبضہ کیا ہے۔ عصمتیں لٹ رہی ہیں‘ بستیاں راکھ ہو رہی ہیں‘ نوجوانوں کو جیلوں میں سڑایا جارہا ہے۔ حال ہی میں CBI نے رپورٹ جاری کی ہے کہ شوپیاں واقعہ کے حوالے سے جہاں نیلوفر اور آسیہ کی پہلے عصمت دری ہوئی اور بعد میں انہیں قتل کیا گیا۔ CBI رپورٹ میں لکھا گیا کہ وہ ڈوب کر ہلاک ہوئی ہیں حالانکہ اس نالے میں ایک دو انچ بھی پانی کی سطح نہیں ہے۔ تحریک حریت پر بھی دبائو ہے ہمارے کارکنوں کو زد و کوب کیا جارہا ہے اور انہیں جیلوں کی زینت بنایا جارہا ہے۔ یہی حال ہمارے صحرائی صاحب‘ مسرت صاحب اور امیر حمزہ صاحب کا ہے۔ ان سب لوگوں کو گزشتہ کئی مہینوں سے جیلوں میں سڑایا جارہا ہے۔ ہماری جدوجہد ان شاء اﷲ جاری رہے گی جب تک ہمیں بھارت کے فوجی قبضے سے نجات نہیں ملتی ہے۔ پاکستان نے بار بار اپنے مؤقف میں تبدیلی لائی ہے۔ کبھی چار نکاتی فارمولہ‘ کبھی قراردادوں کو سائڈ لائن کیا گیا اور وہاں ان ہی لوگوں کا ساتھ دے رہے ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں آپ کی پالیسی کی تائید کرتے ہیں‘ چاہے وہ صحیح ہوں یا غلط۔

س: آج کی پاکستانی کشمیر پالیسی اور مشرف کی کشمیر پالیسی میں آپ کو کتنی مماثلت نظر آتی ہے؟

ج: کوئی فرق نظر نہیں آتا ہے سوائے اس کے کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہم کشمیریوں کی سفارتی‘ اخلاقی‘ سیاسی مدد جاری رکھیں گے۔ ان بیانات کے علاوہ جہاں تک پالیسی کا تعلق ہے ہم محسوس کر رہے ہیں‘ ہمارے جوان محسوس کر رہے ہیں کہ پالیسی وہی چل رہی ہے جس پر مشرف صاحب کام کر رہے تھے۔ لکیر کھینچی گئی ہے اور ان ہی لکیروں پر وہ کام کر رہے ہیں اور یہ افسوس ناک صورتحال ہے کہ پاکستان امریکا اور بھارت سے زیادہ مرعوب ہے۔ بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھانے کے لیے بار بار جھکائو کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ پاکستان بھارت کے دروازوں پر کشکول لے کر دستک دے رہا ہے کہ ہمارے ساتھ مذاکرات کرو۔ ہماری نظر میں پالیسی میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آرہی ہے۔

س: جنرل دیپک کپور کے بیان پر چین سے مسلسل ردعمل سامنے آرہا ہے۔ یہ معاملہ آپ کی رائے میں کہاں تک جاسکتا ہے؟ کیا جنرل دیپک کپور کی پاکستان اور چین کو دھمکی محض گیدڑ بھبکی تھی یا بھارت واقعی کوئی ایڈونچر کر سکتا ہے؟

ج: بھارت کے بارے میں پاکستانی عوام کو اور سیاسی قیادت کو باخبر رہنا چاہیے کہ بھارت طاقت حاصل کر رہا ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بہت کچھ کر رہا ہے۔ وہ امریکا‘ روس‘ اسرائیل‘ فرانس سے اسلحہ لے رہا ہے یہ تمام اس کے دوست ہیں‘ خاص کر آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے بھارت اسرائیل کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے اور تمام حربے زیادہ تر موساد کے رنگ میں رنگے حربے ہیں جو بھارت استعمال میں لارہا ہے۔ اس لیے بھارت کے جنرل نے جو دھمکی دی کہ ہم چین سے بھی اور پاکستان سے بھی لڑیں گے اس کو تو طاقت کے نشے سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن چین کی پالیسی واضح ہے۔ انہوں نے ۶۲ء کی جنگ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ بھارت کے خلاف کیا ہے اور اپنا لوہا منوایا ہے لیکن پاکستان کی پالیسی پاکستان کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے‘ نظریاتی‘ جغرافیائی اور معاشی حیثیت سے بھی۔ بلوچستان میں اب آزادی کی آواز کھل کر سامنے آرہی ہے۔ ۱۱/۹ کے بعد جو پالیسی پاکستانی حکمرانوں نے بنائی اسی پالیسی کا کڑوا کسیلا پھل آج پاکستان کو کھانا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنے استحکام کی طرف توجہ دے۔ بلوچستان کا مسئلہ حل کرے اور وہاں جو طالبان کے نام پر اس وقت لوگ کام کر رہے ہیں ان سے مذاکرات کیے جانے چاہئیں‘ چاہے امریکا ناراض ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستان کی کمزوری کا فائدہ بھارت زیادہ سے زیادہ اٹھانے کی کوششیں کر رہا ہے اور اسی کمزوری کا فائدہ وہ کشمیر میں بھی اٹھا رہا ہے‘ زیادہ سے زیادہ طاقت کا استعمال کر کے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی پالیسی پر کاربند ہے۔

س: امن کی آشا کے پیچھے درحقیقت کون سی قوت ہے اور اس معاملے کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

ج: امن کی کوششیں ہوا میں تیر مارنے کے مترادف ہیں۔ اب تک ایسی بہت سی کوششیں ہوئی ہیں۔ پاکستان کے صحافی حضرات بھی آئے‘ ناچنے والیاں بھی آگئیں‘ ناچنے والے بھی آگئے یہ بھی اُسی نوعیت کی ایک ناکام کوشش ہے۔ جب تک امن کی راہ میں جو رکاوٹیں ہیں‘ انہیں دور نہیں کیا جاتا۔ اس وقت تک امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو گا۔ جب تک مسئلہ کشمیر کو اپنے تاریخی پس منظر میں حل نہ کیا جائے جموں و کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت کا موقع نہیں دیا جائے۔ جب تک بھارت بین الاقوامی سطح پر کیے گئے وعدوں کا ایفا نہ کرے اور جب تک وہ اپنی فوجی طاقت سے ہمارے سینوں پہ مونگ دل رہا ہے اس وقت تک کوئی امن کی آشا پوری نہیں ہو گی۔

س: متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین اور حزب المجاہدین کے امیر سید صلاح الدین کی اپیلوں کے باوجود حریت کے اتحاد کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ اس میں بڑی رکاوٹ کیا ہے؟ کیا یہ رکاوٹ دور کرنے کی کوئی صورت نہیں نکل سکتی ہے؟

ج: حریت کے اتحاد کی باتیں بے معنی سی لگ رہی ہیں‘ اس لیے کہ اتحاد وہیں ہو سکتا ہے جہاں فکری اتحاد ہو۔ نہ یہاں فکری اتحاد ہے‘ نہ عملی اتحاد ہے۔ اس حوالے سے مجھے بہت سے تلخ تجربے ہیں۔ یہاں موجود پاکستان کے سفیر شاہد صاحب نے بھی اس کا تذکرہ کیا اور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو کاغذ پر لکھ کر یہ بات بھیجی گئی کہ اتحاد پر بات کی جائے۔ اس پر میں نے کہا کہ اتحاد فکری و عملی یگانگت اور یکسوئی کی بنیاد پر ہوسکتا ہے اور اس کے بغیر کوئی اتحاد پائیدار نہیں ہو سکتا۔ میر واعظ کے ساتھ اس حوالے سے میری ملاقات ۱۹ جون ۲۰۰۸ء کو ہوئی جو تقریباً ۶ گھنٹے جاری رہی۔ اس میں یہ معاملہ طے پایا کہ حق خود ارادیت ہمارا بنیادی مطالبہ ہے اور اگر بات چیت کے لیے بھارت نے بنیادی شرائط تسلیم کیں تو پھر سہ فریقی سطح کی بات چیت ہو لیکن اس کے بعد جب ۱۳ جولائی کو یوم شہداء کا جلسہ ہو رہا تھا‘ اس وقت انہوں نے بھارت سے کہا کہ آپ ایک قدم بڑھیں ہم دس قدم بڑھیں گے۔ گویا جو معاہدہ ہمارے ساتھ ہوا تھا‘ اس کی خلاف ورزی ہوئی۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں حالانکہ بھارت اپنی ضد پر کھڑا ہے اور اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے۔

س: دہلی میں میر واعظ کی مختلف ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کو کیا عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت کے احساس کا عنوان دیا جاسکتا ہے؟

ج: ملاقاتیں تو ہوتی رہتی ہیں‘ ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ملکوں کی پالیسیاں ہوتی ہیں کسی کو اگر خوش فہمی ہو تو ہو کہ ملکوں کی پالیسیاں عدل و انصاف اور انسانی اَقدار کے احترام اور اس کی بالادستی پر ہیں لیکن ان ملکوں کی پالیسیاں اپنے مفادات کے پیشِ نظر ہوتی ہیں اور یہ سارے ممالک اس ریجن میں بھارت کو بالادستی کا مقام دینا چاہ رہے ہیں اور جتنے بھی چھوٹے چھوٹے ممالک ہیں ان پر بھارت کو غالب کرنا چاہتے ہیں اور بھارت کو ہر حیثیت سے‘ اسلحہ کے لحاظ سے بھی‘ مادی لحاظ سے‘ معاشی لحاظ سے بھی مضبوط بنانا چاہ رہے ہیں۔ اصل میں ہمیں اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے اپنے مؤقف پر جمے رہنا چاہیے اور اس کے لیے اپنے لوگوں کو تیار کرنا چاہیے‘ ان میں یکسوئی پیدا کرنی چاہیے۔ ان میں Character Building کی ضرورت ہے تاکہ وہ اسلامی سانچے میں ڈھل جائیں۔ جب تک وہ اسلامی سانچے میں ڈھل نہ جائیں تب تک بھارت سے نجات حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ ہمارے یہاں کی قیادت اس بارے میں سیکولر نظریے کی حامل ہے اور اسلام کو بحیثیت نظام ماننے کے لیے تیار نہیں اور یہی ہمارا ان کے ساتھ فکری اختلاف ہے۔

س: دنیا کو مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت کا احساس دلانے کے لیے آج خودکشمیری قوم کو کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے؟

ج: بس ان کو یکسو ہونا ہے اسلام اور آزادی کے مؤقف کے لیے اور ظاہری سہاروں پر نظر رکھنے کے بجائے اﷲ تعالیٰ کی قدرت اور بے بہا طاقت پر اعتماد کرنا ہے‘ اپنے اندر خودی پیدا کرنی ہے‘ ہمت حوصلہ اور یقین پیدا کرنا ہے اور ایسی حرکت نہیں کرنی ہے جس سے بھارت کی بالادستی کو تقویت ملے اور بقول اقبالؒ جنہوں نے عرب ممالک سے بجا طور پر کہا تھا:

اصل خود را بہ نِگر اے صاحبِ نظر
در بدن باز آفرین روحِ امم

اپنے اندر عزم پیدا کریں‘ خلوص پیدا کریں‘ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اﷲ پر بھروسہ کر کے اپنی جدوجہد کو جاری و ساری رکھیں۔ عجلت کی ضرورت نہیں‘ قوموں کی آزادی کے لیے وقت لگتا ہے۔ یہ ۶۲ سال کا عرصہ کوئی زیادہ عرصہ نہیں اور پھر جو اپنی کمزوریاں اور کوتاہیاں ہیں ان سے دست کش ہو کر ہمیں اصولوں کی بنیاد پر جنگ کو جاری رکھنا ہے‘ قومی نظریے کی حقیقت کو تسلیم کرانا ہے۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ان شاء اﷲ ہم بھارت کے فوجی تسلط سے آزاد ہو جائیں گے۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’کشمیر الیوم‘‘ راولپنڈی۔ فروری ۲۰۱۰ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.