انٹرویوز

سلامتی کی تنہا روش۔۔۔ پاکستان ہے اور بس۔۔۔

August 1, 2017 // 0 Comments

الائیڈ نیوز پیپرز کے مشہور نامہ نگار بیورلی نکولز نے ۱۹۴۴ء میں اپنے قیام ہندوستان کے تاثرات Verdict on India کے عنوان سے پیش کیے تھے، اس میں قائداعظم سے ایک تاریخی انٹرویو ہے، جس میں پاکستان کا کیس اس کے بہترین ایڈوکیٹ نے پیش کیا ہے، کتاب کے متعلقہ حصہ کا ترجمہ پیش جارہا ہے۔ ادارہ[مزید پڑھیے]

امریکا تباہی کے راستے پر

June 16, 2017 // 0 Comments

جوہری پھیلاؤ اور ماحول کی تبدیلی موجودہ دور کے انتہائی تشویش ناک مسائل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی اب تک کی کارکردگی نے اسے ناگہانی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ ان دونوں مسائل کی سنگینی بڑھتی جارہی ہے۔ ’’ٹروتھ آؤٹ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ مفکر نوم چومسکی نے حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے چند اہم واقعات (مثلاً شام کی ایئر بیس پر امریکی بمباری اور روس، ایران اور شمالی کوریا سے امریکا کے تناؤ) پر بات کی ہے۔ یہ انٹرویو ڈینیل فالکن نے لیا۔ اس انٹرویو کے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔[مزید پڑھیے]

ترکی: صدارتی ترجمان، ابراہیم قالن کا خصوصی انٹرویو

August 1, 2016 // 0 Comments

رپورٹر: جناب ابراھیم قالن ٹی آرٹی ورلڈ کے ون آن ون پروگرام میں خوش آمدید۔ صدر ایردوان ایک طویل عرصے سے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والی اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ تشکیل دینے والی ’’متوازی حکومتی ڈھانچے‘‘ کی موجودگی کا کہتے چلے آئے تھے۔ ان معلومات سے آگاہی ہونے کے باوجود یہ کیسے ہوا کہ ملک میں بغاوت کی کوشش کی گئی؟ کیا اس میں خفیہ معلومات کی کمزوری بھی شامل ہے؟ ابراھیم قالن: یہ گروہ ایک طویل عرصے سے ملک میں کارروائیوں میں مصروف تھا۔ خاص کر ۱۷ تا ۲۵ دسمبر کی کارروائی کے بعد انہوں نے قومی خطرے کی ماہیت اختیار کر لی۔ ہم نے اس تاریخ کے بعد سے کئی ایک تدابیر اختیار کیں۔ ان لوگوں [مزید پڑھیے]

مولانا مطیع الرحمن نظامی کا انٹرویو

May 16, 2016 // 0 Comments

مولانا مطیع الرحمن نظامی، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے مشرقی پاکستان سے پہلے اور آخری ناظمِ اعلیٰ تھے۔ آپ اکتوبر ۱۹۷۱ء میں اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہوئے۔ ذیل میں پیش کیا جانے والا انٹرویو پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد، جناب سلیم منصور خالد نے لیا۔ جس کے کچھ اجزاء قارئین کے استفادے کے لیے پیش کیے جارہے ہیں۔
[مزید پڑھیے]

ممتاز قادری کیس: قانونی پہلو

March 1, 2016 // 1 Comment

جسٹس (ر) میاں نذیر اختر ایک عشرے سے زیادہ تک لاہور ہائی کورٹ کے جج رہے ہیں۔ اس سے پہلے پچیس سال تک وکالت سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ سولہ سال تک قانون کے استاد کے طور پر یونیورسٹی لا کالج میں پڑھاتے رہے۔ ملک کے بڑے نامور وکلاء اور جج حضرات ان کے شاگرد رہ چکے ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ میاں نذیر اختر دو سال پنجاب بیت المال کے امین رہنے کے علاوہ تین سال تک اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے ہیں۔ ممتاز قادری کیس میں پہلے دن سے بطور وکیل منسلک ہیں۔ ممتاز قادری کیس کے حوالے سے ان سے کی گئی گفتگو نذرِ قارئین ہے۔ س: جسٹس صاحب! ممتاز قادری کیس کے حوالے سے عمومی تاثر یہ بنا ہے کہ [مزید پڑھیے]

افغانستان کا استحکام، امریکی افواج کے انخلا سے مشروط ہے!

November 16, 2014 // 0 Comments

ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ خود کش حملے خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹوں کا کام ہے، طالبان اِس قبیح فعل میں کبھی ملوث نہیں ہوسکتے۔ اس خیال کا اظہار انہوں نے حال ہی میں جنوبی افریقا میں ’’کیج افریقا‘‘ کی لانچنگ کے موقع پر کیا۔ اُن کی باتوں سے طالبان کے بارے میں پایا جانے والا اچھا خاصا اشکال دور ہوا ہے۔

1 2