Abd Add
 

انٹرویوز

افغانستان کا استحکام، امریکی افواج کے انخلا سے مشروط ہے!

November 16, 2014 // 0 Comments

ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ خود کش حملے خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹوں کا کام ہے، طالبان اِس قبیح فعل میں کبھی ملوث نہیں ہوسکتے۔ اس خیال کا اظہار انہوں نے حال ہی میں جنوبی افریقا میں ’’کیج افریقا‘‘ کی لانچنگ کے موقع پر کیا۔ اُن کی باتوں سے طالبان کے بارے میں پایا جانے والا اچھا خاصا اشکال دور ہوا ہے۔

اسلام اور تہذیبِ یورپ

June 1, 2014 // 3 Comments

ڈاکٹر سباعی: اسلام دینِ آزادی ہے، وہ نہ یہ پسند کرتا ہے کہ مسلمان کسی بھی سامراجی طاقت کے آگے جھکیں اور نہ یہ کہ وہ کاروبارِ زندگی میں پیچھے رہ جائیں۔ اسلام ہی کی تعلیمات نے عربوں کو ۱۴ سو برس سے ہر قسم کے بے ہودہ رسم و رواج سے محفوظ رکھا ہے۔ یہ اسلام ہی تھا، جس نے عربوں کو امن و انصاف اور آزادی کا پیغامبر بنا کر اقوام عالم کی طرف بھیجا

ملکوں کے مابین معاہدانہ تعلقات اور عسکری اقدام

March 16, 2014 // 0 Comments

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد جہادِ کشمیر کے حوالے سے ایک اہم سوال پیدا ہوا تھا۔ اس وقت ممتاز دینی اسکالر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ایک خاص مؤقف تھا، جس پر بعض حلقوں نے خاصا شور مچایا۔ ان پر شدید تنقید کی گئی۔ مگر وہ اپنے علمی مؤقف پر اپنے دلائل کے ساتھ قائم رہے۔ اسی بحث کے تناظر میں ۱۷؍اگست ۱۹۴۸ء کو مولانا مودودی نے سہ روزہ ’’کوثر‘‘ کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا، جس میں اس موقف کو پوری صراحت اور وضاحت سے بیان کیا۔ ہم اس تاریخی انٹرویو کو قارئین کے لیے دوبارہ پیش کر رہے ہیں۔ آج کل بھی ہمارے ہاں اِسی طرح کی بحث جاری ہے۔ اِن علمی نکات سے معاملے کی تفہیم میں مدد مل سکتی ہے۔

’’عالم عرب کو ہندوستان کے حالات سے باخبر رہنا چاہیے!‘‘

April 1, 2013 // 0 Comments

ماہ نومبر ۲۰۱۲ء میں جامعۃ الفلاح کے جشن طلائی کے موقع پر المجتمع کے مدیر ڈاکٹر شعبان عبدالرحمن بلریا گنج آئے تھے۔ اس دوران انہوں نے مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند سے انٹرویو کیا تھا، جو المجتمع کی ۹۔۱۵؍فروری ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں شائع ہوا۔ اس کا اردو ترجمہ جناب خالد سیف اللہ اثری نے کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی ہند کے ساتھ یہ بات چیت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس بات چیت سے ہندوستان کی مسلم اقلیت کے حالات و کوائف پر روشنی پڑتی ہے۔ یہ دنیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی اقلیت سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس کی تعداد عالم عرب کی مجموعی آبادی کے برابر یا اس سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود یہ ایک واقعہ [مزید پڑھیے]

ــــہندوستانی مسلمانوں کی مظلومیت۔۔۔ بے سبب نہیں!

December 1, 2012 // 0 Comments

مسٹر این سی استھانا (NC Asthana) سینٹرل ریزرو پولیس فورس، کوبرا (ایک ایلیٹ کمانڈوفورس) کے انسپکٹر جنرل ہیں ۔ ان کی اہلیہ مسز انجلی نرمل پولیس انتظام کاری (Police Administration) میں پی -ایچ -ڈی ڈگری کی حامل ہیں ۔ مسٹر این سی استھانا ا ور مسز انجلی نرمل نے اگست ۲۰۱۲ء کے آخر میں شائع شدہ اپنی مشترکہ تصنیف “India’s Internal Security: The Actual Concerns” میں مختلف بھارتی پالیسیوں ،بشمول انٹیلی جنس ناکامی، دہشت گردانہ حملوں میں ذرائع ابلاغ کا کردار، داخلی سلامتی اور مسلمانوں پر ظلم و ستم اور انتقامی کارروائیوں کا محاکمہ و تجزیہ کیا ہے۔ کنل مجمدار نے مصنفین سے ان میں سے کچھ امور پر بات چیت کی، جو حسبِ ذیل ہے: o کیا ہندوستانی سلامتی ادارے حقیقی خطرات سے صرفِ [مزید پڑھیے]

شام کے بحران سے اسرائیل فائدہ اٹھائے گا!

October 1, 2012 // 0 Comments

لبنان کے دروز لیڈر ولید جنبلاط (Walid Jumblatt) کا شمار ان با اثر سیاست دانوں میں ہوتا ہے جن کے بیانات بحث کا موضوع بنتے ہیں۔ انہوں نے ۱۹۸۰ء کے عشرے میں لبنانی سیاست میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ولید جنبلاط نے خبردار کیا ہے کہ شام کی صورت حال لبنان پر اچھی خاصی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ انہوں نے لبنان کے علاقے ٹریپولی کے واقعات کو بھی شام کی صورت حال کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ پروگریسیو سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ ولید جنبلاط کا کہنا ہے کہ شام کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال خطے میں بہت سی تبدیلیوں کی نقیب ثابت ہوسکتی ہے۔ شام کی تقسیم کا امکان تو خیر نہیں ہے مگر اِس بحران کے بطن سے کئی خرابیاں نکل [مزید پڑھیے]

مصر کو نظرانداز کر کے خطے میں حقیقی امن و استحکام ممکن نہیں!

October 1, 2012 // 0 Comments

کسی بھی مملکت کے سربراہ سے انٹرویو آسان نہیں ہوتا اور خاص طور پر ایسے سربراہِ مملکت سے جسے منصب سنبھالے ہوئے زیادہ مدت نہ گزری ہو۔ مصر کے صدر محمد مرسی کا معاملہ تھوڑا سا مختلف تھا۔ وہ انگریزی اچھی جانتے اور بولتے ہیں۔ کسی سوال کو سمجھنا ان کے لیے مشکل نہ تھا۔ بعض مواقع پر ان کے ترجمان نے جواب دیے جیسا کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں عام بات ہے۔ تھوڑا سا انتظار کرنا پڑا مگر خیر، صدر مرسی نے ہمیں ۹۰ منٹ دیے جو کھل کر گفتگو کے لیے اچھا خاصا وقت تھا۔ پہلا سرکاری مترجم خاصا محتاط تھا اور بہت سے معاملات میں ہچکچاہٹ کے ساتھ بات کرتا تھا۔ بعد میں صدر نے ایک اور مترجم بلایا جو [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 6