Abd Add
 

انٹرویوز

بھٹو صحیح کہتا تھا!

July 16, 2011 // 0 Comments

ایئر مارشل (ر) اصغر خان پاک فضائیہ کے سربراہ رہے ہیں۔ انہوں نے سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیا اور ۱۹۷۰ء کے عشرے کے اواخر میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مظاہروں کی قیادت کی۔ وہ تحریک استقلال کے بانی اور سربراہ تھے۔ آئی ایس آئی سے مبینہ طور پر فنڈ لینے والے اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف ان کی ایک درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ نیوز ویک کے قاسم نعمان نے اسلام آباد میں ۹۰ سالہ اصغر خان سے انٹرویو کیا جس کے اقتباسات ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ نیوز ویک: آپ کے خیال میں پاکستان کے بحرانوں میں فوج کا حصہ کتنا ہے اور اسے کس حد تک ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ اصغر خان: بات یہ [مزید پڑھیے]

امریکا کو چین سے ڈرنا نہیں چاہیے!

June 1, 2011 // 0 Comments

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کہتے ہیں کہ طویل سیاسی کیریئر میں انہوں نے بہت سے دوست اور ان سے کہیں زیادہ دشمن بنائے ہیں۔ زیر نظر دس سالوں میں ہنری کسنجر چین، عراق اور دیگر امور پر اپنی آراء پیش کر رہے ہیں۔ ٭ کیا امریکا کو چین سے ڈرنا چاہیے؟ ہنری کسنجر: چین کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ڈرنا لازم نہیں۔ ٭ چین سے کیوں نہیں ڈرنا چاہیے؟ ہنری کسنجر: چین اور امریکا دونوں ایک دوسرے سے بعض امور میں اور بعض رجحانات کے باعث ڈرتے ہیں۔ چین کو یہ خوف ہے کہ امریکا اسے عسکری طور پر حصار میں لینا چاہتا ہے۔ امریکیوں کو یہ خوف ہے کہ چین پورے ایشیا پر متصرف ہونا چاہتا ہے اور یقیناً اِس [مزید پڑھیے]

حماس کو عوام کا اعتماد حاصل ہے!

February 1, 2011 // 0 Comments

پروفیسر محمد شمعہ المعروف ابو الحسن اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے بانی ارکان میں سے ہیں۔ آجکل وہ غزہ میں دارِارقم اسکول سسٹم کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر ہیں۔ حماس کے قیام کے بعد اس کے تیئس سالہ تنظیمی سفر اور تنظیم کی کامیابیوں اور اہداف پر ان کی گہری نظر رہی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین نے حماس کے تیئسویں یوم تاسیس کے موقع پر ان سے تنظیم کے اوائل دور کے بارے میں خصوصی گفتگو کی۔ الشیخ محمد الشمعہ نے کہا کہ حماس کے یوم تاسیس کے موقع پر غزہ کی پٹی میں عوام کے جم غفیر نے ثابت کیا ہے کہ تنظیم تمام تر مشکلات کے باوجود عوام کے دلوں میں اپنا مقام پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ یہ اس امر کی [مزید پڑھیے]

اُمید کا دامن تھام رکھا ہے!

January 16, 2011 // 0 Comments

سابق اسرائیلی وزیر اعظم بن گوریان نے ۱۹۴۸ء میں ملک کے قیام کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اب فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم سلام فیاض وہی کردار کر رہے ہیں۔ وہ فلسطینی ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹام سیگیو: آپ آج بھی فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اب ڈیڈ لائن کے مطابق صرف نو ماہ رہ گئے ہیں۔ کیا تب تک ریاست معرض وجود میں آ جائے گی؟ سلام فیاض: میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ ریاست کے لیے مستحکم ادارے معرضِ وجود میں آ جائیں۔ ایک مضبوط ریاست کے لیے بہتر انفرا اسٹرکچر اور اعلیٰ درجے کی خدمات درکار ہوتی ہیں۔ ٹام سیگیو: کوئی خاص تاریخ بھی مقرر [مزید پڑھیے]

اسرائیلی سرحدوںمیں تبدیلی کی خواہش

January 16, 2011 // 0 Comments

اسرائیل کے وزیر خارجہ اَیوِگ دَور لِی بَرمَین اس وقت ملک کے مقبول ترین سیاست دان ہیں۔ انہوں نے ملک کی سرحدوں میں تبدیلی کی خواہش ظاہر کی ہے کہ تاکہ ملک کی عرب آبادی میں سے نصف سے گلوخلاصی ممکن ہو۔ زیر نظر انٹرویو سے اندازہ ہوگا کہ لی بَرمَین کیا سوچ رہے ہیں۔ ڈین ایفرون: آپ ’’زمین کے بدلے امن‘‘ کے فلسفے پر زیادہ یقین نہیں رکھتے۔ اَیوِگ دَور لی بَرمَین: ہم نے ۱۹۹۳ء میں اوسلو مذاکرات کے ذریعے امن عمل شروع کیا تھا۔ اور اب تک تعطل برقرار ہے ہم اس کی زَد میں ہیں۔ زمین کے بدلے امن کا نظریہ درست نہیں۔ بہتر ہے کہ علاقوں اور آبادیوں کا تبادلہ کیا جائے۔ ڈین ایفرون: کیا آپ کے تصورات کو وزیر اعظم [مزید پڑھیے]

دہشت گردی کو سامنے آکر قابو کرنا ہوگا: کیمرون منٹر

January 1, 2011 // 0 Comments

پاکستان میں امریکا کے نئے سفیر کیمرون منٹر کیریئر ڈپلومیٹ ہیں۔ سربیا میں سفیر رہ چکے ہیں۔ عراق، چیک جمہوریہ اور پولینڈ میں بھی اہم سفارتی مناصب پر فائز رہے ہیں۔ کیمرون منٹر سے نیوز ویک پاکستان کے فرحان بخاری اور فصیح احمد نے جو گفتگو کی اس کے اقتباسات ہم قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ٭ کچھ عرصہ قبل پاکستان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک مذاکرات ہوئے تھے۔ ان مذاکرات سے بہت سی توقعات بھی تھیں اور خیال کیا جارہا تھا کہ ان سے بہت کچھ حاصل ہوگا۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں کسی بہتری کی توقع رکھنے والوں کی تعداد خاصی کم ہے۔ آپ اس معاملے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا یہ امر آپ [مزید پڑھیے]

بین الاقوامی تعلقات اور ہم آہنگ مفادات

January 1, 2011 // 0 Comments

سابق وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خان کا پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم مقام ہے۔ آپ رام پور کے شاہی خاندان کے چشم و چراغ اور دوسری جنگ عظیم کے ویٹرن ہیں ’’نیوز ویک‘‘ پاکستان کی نیلوفر بختیار نے اسلام آباد میں صاحبزادہ یعقوب علی خان سے بات چیت کی جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں: نیوز ویک: پاکستان کے سیاسی عدم استحکام میں کن عوامل نے مرکزی کردار ادا کیا ہے؟ صاحبزادہ یعقوب علی خان: بھارت میں جواہر لعل نہرو نے آزادی کے فوراً بعد جاگیرداری نظام ختم کردیا۔ اس دور میں مسلمانوں کے پاس زرعی زمینیں اچھی خاصی تھی۔ نہرو نے ایک تیر سے دو نشانے لگائے۔ ایک طرف تو مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر زرعی اراضی رکھنے [مزید پڑھیے]

ارضِ مقدس کی تقسیم

January 1, 2011 // 0 Comments

اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کے حکام کے درمیان بات چیت تھم گئی ہے۔ ایسے میں اسرائیل میں نئے انتخابات کی باتیں ہو رہی ہیں جو ۲۰۱۱ء میں ہونے ہیں۔ ان انتخابات کا بنیادی نکتہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کا قیام ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بظاہر اپنی پارٹی پر غیر معمولی گرفت کے حامل دکھائی دیتے ہیں۔ ایہود بارک ۹ برسوں میں لیبر پارٹی کے پانچویں لیڈر ہیں۔ اور ان کی پوزیشن بھی بہت نازک ہے کیونکہ ۱۲۰ رکنی ایوان میں لیبر پارٹی کی نشستیں صرف ۱۳ رہ گئی ہیں۔ ایوشے بریورمین ممکنہ طور پر لیبر پارٹی کے لیڈر بن سکتے ہیں۔ وہ ماہر معاشیات ہیں اور بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ میں اقلیتی امور کے وزیر کی حیثیت سے خدمات [مزید پڑھیے]

اب امریکا کے بڑے بینکوں کی باری؟

January 1, 2011 // 0 Comments

وکی لیکس وہ ویب سائٹ ہے جس نے قیامت ہی ڈھا دی ہے۔ پہلے عراق سے متعلق ۳ لاکھ ۹۲ ہزار اور اس کے بعد افغانستان کے بارے میں امریکا کی ۷۶ ہزار خفیہ دستاویزات جاری کیں اور امریکا اور اس کے اتحادی ممالک میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ اب وکی لیکس نے ڈھائی لاکھ سے زائد خفیہ امریکی دستاویزات جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تو پھر بحرانوں کے آثار ہیں۔ وکی لیکس کے بانی جولین اسانچ کے بارے میں دنیا جانتی ہے کہ وہ امریکا کی خفیہ دستاویزات جاری کرنے کے مشن پر نکلے ہوئے ہیں۔ اب تک ماہرین یہ طے نہیں کرسکے کہ وکی لیکس کے بانی اس میدان میں تنہا کھڑے ہیں یا ان کے ساتھ کوئی اور نادیدہ قوت بھی [مزید پڑھیے]

مغرب نے دہرا معیار اپنا رکھا ہے!

September 16, 2010 // 0 Comments

پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی اور مرکزی کردار ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ۲۰۰۴ء میں ٹیلی وژن پر اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی۔ اعتراف کے بعد انہوں نے خاصی خاموش زندگی بسر کی ہے۔ وہ تقاریب میں شرکت سے گریز کرتے ہیں۔ میڈیا پر انہیں کم ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ اپنے ملک میں ہیرو اور بیرون ملک عالمی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے فصیح احمد نے ای میل کے ذریعے انٹرویو کیا ہے۔ o پاکستان کے جوہری اثاثوں کو اسلامی بم قرار دیا جاتا ہے۔ کسی بھی دوسرے اسلامی ملک کے پاس جوہری بم نہیں، تو کیا پاکستانی جوہری اثاثوں کو اسلامی بم قرار دینا درست ہے؟ عبدالقدیر [مزید پڑھیے]

غزہ ناکہ بندی: حماس کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا!

August 16, 2010 // 0 Comments

فلسطینی تنظیم ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے اردن کے ایک کثیر الاشاعت روزنامہ ’السبیل‘ کو دیے گئے اپنے ایک خاص انٹرویو میں غزہ کی معاشی ناکہ بندی سمیت مسئلہ فلسطین اور اس سے متعلق ملکی و بین الاقوامی پالیسی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس کی تلخیص یہاں پیش کی جارہی ہے۔ س: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے ختم ہونے میں مزید کتنے دن لگیں گے؟ اور معاشی ناکہ بندی کو ختم کرنے سے متعلق فلسطین کی سطح پر ہونے والی کوششیں کیا کافی ہیں؟ ج: یہ بات میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، تاہم ناکہ بندی کو [مزید پڑھیے]

گوریلا جنگ لڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں !

February 1, 2007 // 0 Comments

صومالی اسلامک کورٹ کونسل کے چیئرمین شیخ حسن طاہراویس کا کہنا ہے کہ ہماری کونسل تمام صومالی تنظیموں اوربین الاقوامی اداروں جس میں امریکی انتظامیہ سبھی شامل ہے کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے‘ میں نے محض صومالیہ میں امن و امان کی بحالی کی وجہ سے اپنی اس آمادگی کااظہارکیاہے

روپرٹ مردوک سے دس سوالات

February 1, 2007 // 0 Comments

سالہ Rupert Murdoch جو فاکس نیوز کے بانی نیوز کارپوریشن کے چیئرمین اور منتظم اعلیٰ ہیں نیز میڈیا کی چند عالمی دماغ عفریت پیکر شخصیات میں سے ایک ہیں۔ٹائم کے منیجنگ ایڈیٹر Richard Stangel سے گفتگو کی ہے گفتگو جانبد اری اور تعصب سے متعلق تھی اور اس حوالے سے تھی کہ ان کے مستقبل کے بزنس میں My Space کیا مفہوم رکھتا ہے جو کہ ان کے رو زمرہ کے انفارمیشن کے لیے بہت ہی قابل اعتماد ذریعہ ہے۔

1 2 3 4 5 6