Abd Add
 

انٹرویوز

صرف اقدامات ہی موثر ہیں!

June 16, 2005 // 0 Comments

اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کی ٹائم کے یروشلم بیورو چیف Matt Rees اور ورلڈ ایڈیٹر Romesh Ratnesar سے ملاقات ہوئی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں انخلاء کے منصوبے کی منظوری کے بعد شیرون کا کسی میگزین کے ساتھ پہلا انٹرویو ہے‘ جس کا اقتباس درج ذیل ہے: ٹائم: یہ بہت ہی خوبصورت گھر ہے۔ شیرون: میری رہائش کا یہاں پانچواں سال ہے۔ ٹائم: ابھی کتنے سال اور آپ یہاں رہیں گے؟ شیرون: مجھے جلدی نہیں ہے۔ میں اس جگہ کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں کر رہا ہوں۔ ٹائم: اگر آپ ماضی کے اس مقام پر جا کر سوچیں جبکہ آپ ایک نوجوان فوجی افسر تھے تو ۲۰۰۵ء کا اسرائیل آپ کے خیال میں کس طرح کا ہونا چاہیے؟ شیرون: میں نے اس وقت یہی سوچا تھا کہ [مزید پڑھیے]

دنیا تیل کے ایک نئے دور میں!

May 1, 2005 // 0 Comments

تیل کی قیمت ۵۰ ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو چکی ہے اور اس کا بہت زیادہ خوف پایا جاتا ہے کہ آئندہ برسوں میں تیل کی قیمت روز افزوں ہو گی۔ آئندہ تیل کا کیا ہو گا؟ اور عالمی معیشت پر تیل کی اس بڑھتی ہوئی قیمت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ان کا جواب تلاش کرنے کے لیے ’’ٹائم‘‘ کے کالم نگار ایمی فیلڈمین (Amy Feldman) نے ڈینئیل یرجین (Daniel Yergin) سے سوال کیا جو تیل کے حوالے سے دنیا کے صفِ اول کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں۔ ۵۸ سالہ یرجین کیمبرج انرجی ریسرچ ایسوسی ایٹس کے چیئرمین ہیں اور سیکرٹری آف ایڈوائزری بورڈ کے ایک رکن ہیں نیز پُلیزر انعام یافتہ کتاب “The Prize: The Epic Quest for Oil, Money [مزید پڑھیے]

میں ’’عالمی یک طرفہ پن‘‘ کا حامی نہیں ہوں!

April 16, 2005 // 0 Comments

گذشتہ ہفتے عالمی بینک کے سربراہ کے لیے اپنی نامزدگی کے ساتھ ہی Paul Wolfowitz (امریکی نائب وزیرِ دفاع) نے بیرونی تشویش و عدم اعتماد کو اپنے واضح بیان کے ذریعہ دور کرنے کی کوشش کی۔ نیوز ویک کے نمائندے لیلی ویمائوتھ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں انہوں نے امکانات سے بھرپور اپنی نئی ذمہ داری کے سلسلے میں اظہارِ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکا کی عراق پالیسی تشکیل دینے کے حوالے سے اپنے ماضی اور حال کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انٹرویو کا اقتباس درج ذیل ہے: س: عالمی بینک کے ایک اچھے سربراہ ثابت ہونے سے متعلق آپ یورپی ممالک کو کس طرح مطمئن کریں گے؟ ج: میں یورپی ممالک کو یہ بتائوں گا کہ میں کیوں ایک [مزید پڑھیے]

ایران کے پاس جوہری فنی مہارت موجود ہے!

March 16, 2005 // 0 Comments

واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے خبر ہے کہ ’’نیوز ویک‘‘ کے نامہ نگار لالی ویموت (Lally Weymouth) نے البرادی سے مصاحبہ (Interview) کیا جس کے سوال و جواب کی تفصیل درج ذیل ہے: س: کیا آپ ایجنسی کی سربراہی کے تیسرے دور کی سربراہی کے لیے بھی امیدوار ہوں گے؟ ج: میں اکیلا کینڈیڈیٹ ہوں۔ س: امریکا آپ سے کیوں نجات چاہتا ہے؟ ج: ان کا خیال ہے کہ میں دو بار انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کا سربراہ رہا ہوں اس لیے مجھے نہیں رہنا چاہیے۔ جبکہ بہت سارے ممالک مجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس منصب پر باقی رہوں۔ اس لیے ہمارے درمیان تنازعہ ہے اور بہت سارے اہم مسائل ہیں‘ ایران بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے‘ اسی طرح شمالی کوریا۔ چنانچہ [مزید پڑھیے]

زمین‘ کرۂ انسانی اور ان کے نشوونما کی تاریخ

December 1, 2004 // 0 Comments

تکافومی مٹسوئی نے زمین کی ابتدا اور اس کی نشوونما کی تاریخ سے متعلق اپنے فلسفے کی بنیاد پر لوگوں کی توجہات اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ان کا یہ فلسفہ ۱۹۸۶ء میں معاصر “Nature” میں شائع ہوا تھا۔ ان کی حالیہ کوششیں سائنس اور فلسفہ کے شعبوں کو متحد کرنے کے حوالے سے ہے۔ یہ ٹوکیو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور ان کا خاص مضمون Comparative Planetology ہے۔ Interview from Takafumi Matsui by Hisashi Kondo ہساشی: زمین کئی ارب سال پرانی ہے‘ Planetology جس میں آپ کی اسپیشلائزیشن ہے‘ کے تقابل و تناظر میں ہم آج کس قسم کے دور میں زندہ ہیں؟ تکافومی: جدید دور کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انسانی وجود خلا سے اب قابلِ دید ہے۔ ہم خود اس [مزید پڑھیے]

مغربی دانش اسلامی دانش کی بنیاد پر پروان چڑھی!

November 1, 2004 // 0 Comments

پروفیسر سید حسین نصر کا شمار سائنس‘ عرفان اور فلسفۂ اسلامی کے صف اول کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ آپ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ آپ ۱۹۳۳ء میں علماے دین کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے مراحل ایران اور امریکا میں طے کیے۔ اس کے بعد آپ نے ماساچوسٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں فزکس اور ہارورڈ یونیورسٹی میں جیالوجی اور جیوفزکس کے مضامین میں اپنی تعلیم جاری رکھی اور بالآخر موخرالذکر دانشگاہ سے History of Science & Philosphy میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سائنس اور اسلامک کاسمالوجی اس سلسلے میں آپ کی تحقیق کے خصوصی موضوع تھے۔ ڈاکٹر حسین نصر ۱۹۵۸ء سے ۱۹۷۹ء تک تہران یونیورسٹی میں تاریخِ علم و فلسفہ کے استاد رہے۔ [مزید پڑھیے]

ہم چین سے خودمختاری کے طالب ہیں‘ نہ کہ علیحدگی کے!

November 1, 2004 // 0 Comments

جب چین نے ۱۹۵۰ء میں تبت میں جارحیت کی تو اس نے اس الگ تھلگ جاگیردارانہ ریاست میں جدیدیت کو متعارف کرانے کا وعدہ کیا لیکن اس کے بجائے اس نے وہاں مذہب و ثقافت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے تبتی حکومت کو بشمول اس کے اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی رہنما کے جلاوطن ہونا پڑا۔ ۲ سال کی عمر میں تبتی بدھوں کے اعلیٰ مذہبی رہنما کی حیثیت سے ۱۴ویں دلائی لامہ کا تقرر ہوا اور چار سال کی عمر میں پھر ان کی تاج پوشی بھی ہو گئی۔ ۱۹۵۹ء میں دلائی لامہ کو بھارت فرار ہونا پڑا جس کے بعد وہ تبت کبھی نہیں لوٹے۔ ۴۵ سالوں تک ایک قوم کو بغیر سرزمین کے محفوظ رکھنے کی کوشش [مزید پڑھیے]

پاکستان میں کوئی غیرملکی جنگجو موجود نہیں!

October 16, 2004 // 0 Comments

جب انٹیلی جینس ایجنسیز نے ایک دہشت گردانہ سازش کے انکشاف کا دعوی کیا جس کا مقصد اسلام آباد اور اس کی اطراف میں واقع متعدد حکومتی تنصیبات کو تباہ کرنا تھا تو پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے کوہاٹ سے رکن قومی اسمبلی جاوید احمد پراچہ کا نام اس موقع پر اہم کردار کے طور پر سامنے آیا۔ پراچہ کوہاٹ میں اسی وقت سے گرفتار ہیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ ۲۰۰۱ء میں جب امریکا نے تورا بورا پہاڑی کا محاصرہ کیا تو وہاں سے فرار ہو کر سرحد آنے والے متعدد عرب و دیگر جنگجوئوں کا پراچہ نے دفاع کیا تھا۔ پراچہ نے ۱۹۷۷ء میں سیاست میں قدم رکھا تھا۔ ان کی سیاسی زندگی کا بیشتر دورانیہ غیرنمایاں رہا ہے۔ ان کے غیرمعروف [مزید پڑھیے]

1 4 5 6