Abd Add
 

ایران مسائل کی جَڑ، یا اُن کا حل!!

پچھلے دس سال سے جاری خانہ جنگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشرتی تغیرات نے خطے میں جنگ عظیم اول سے قائم سیاسی نظام کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔جیسے جیسے آمرانہ نظام اپنے انجام کو پہنچے تو ان کے ساتھ ہی قومی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے اور ان ممالک کی عالمی سرحدیں بھی متاثر ہوئیں۔ شام اور یمن خونی خانہ جنگی کا شکار ہو چکے ہیں اور اس خانہ جنگی کو غیر ملکی فوجی مداخلتوں نے مزید سلگایا ہے۔دوسری طرف امریکا اور اس کی اتحادی فوج کے آپریشن سے قبل ایک دہشت گرد تنظیم داعش، عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر چکی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ ،واشنگٹن اور خطے کے دیگر ممالک کے سرکاری حکام اور دیگر ماہرین کی نظر میں اس بدترین صورتحال کا ذمہ دار ’’ایران ‘‘ ہے۔ان کا خیال ہے کے ایران نے دہشت گرد گروہوں کی مالی مدد کی ہے،بشار الا سد جیسے آمر کی حمایت کی ہے اور یمن میں حوثی باغیوں کی بھی مکمل معاونت کی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دنیا بھر میں ریاستی سطح پر’’ دہشت گردوں کی معاونت کرنے والا مرکزی ملک ‘‘قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے ایران کے ساتھ ۲۰۱۵ء میں ہونے والے ایٹمی معاہدے کو بھی ’’اب تک کا بدترین معاہدہ‘‘قرار دے کر اسے مسترد کر دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دیتے کے ایران معاہدے کی شرائط پر عمل کرے گا۔امریکا کے سیکریٹری دفاع جیمس میٹس کا کہنا ہے کہ ’’مشرق وسطیٰ کی امن و سلامتی کے لیے واحد خطرہ ایران ہے ‘‘۔سعودی وزیر خارجہ عادل الاجبیر کا کہنا ہے کہ ’’ایران تباہی کے راستے پر ہے‘‘۔

واشنگٹن کا خیال ہے کہ ایرانی اثرورسوخ کو کم کرنے سے مشرق وسطیٰ میں امن لو ٹ آئے گا۔لیکن یہ اندازے غلط بنیادوں پر لگائے جارہے ہیں،جس کی وجہ سے یہ پہلے ہی مرحلے میں غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔ایران اس تباہی کا ذمہ دار نہیں اور نہ ہی ایران کو گھیرے میں لیناخطے میں استحکام کا باعث بنے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کے ایران کے رویے کی وجہ سے امریکا کو سخت چیلنج کا سامنا ہے ،اور نہ ہی اس حقیقت کو رد کیا جا سکتا ہے کہ عرب دنیا میں قائم سیاسی نظام کی تباہی سے ایران کو فائدہ ہو گا(کیوں کہ یہ نظام ایران کو آگے بڑھنے سے روکے ہوئے تھا)۔لیکن اس سب کے باوجود ایران کی خارجہ پالیسی مغربی تجزیہ نگاروں کے برعکس حقیقت پسندی پر مبنی ہے۔اپنے ایٹمی پروگرام پر امریکا سے مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران ’’اسلامی انقلاب‘‘ کو دنیا بھر میں پھیلانے کے بجائے اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتا ہے۔مشرق وسطیٰ میں استحکام صرف اسی صورت میں آسکتا ہے جب امریکا یہاں کے تنازعات کے حل اور خطے میں توازن قائم کرنے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرے۔اس کام کے لیے ایک ’’متوازن اپرووچ‘‘ کی ضرورت ہے ،جس کے تحت ایران کے ساتھ جھگڑنے کے بجائے کام کرنے کی کوشش کی جائے۔

اکثر مغربی سیاستدان اور تجزیہ کار ایرانی مفادات اور اس کے ارادوں کو انقلاب کی حد تک محدود کر دیتے ہیں۔اس وقت ایران نظریے کے بجائے ملک کے طور پر اپنی حیثیت منوانے میں زیادہ دلچسپی رکھتاہے۔ دراصل تہران میں جس طرح قدامت پسند اور انقلابی موجود ہیں بالکل اسی طرح بہت سے اعتدال پسند اور حقیقت پسند سیاستدان بھی موجود ہیں، جو کے مغرب سے معاملات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ داخلی سیاست میں تو ان دو دھڑوں کے درمیان مخصوص رقابت پائی جاتی ہے۔لیکن جب بات خارجہ پالیسی کی ہو تو قوم پرستی اور قومی سلامتی کے معاملات پر ان کے درمیان اتفاق رائے بڑھتا ہوا نظرآتا ہے۔ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہونے والے معاہدے پردستخط اسی اتفاق رائے کا نتیجہ تھا۔

کچھ تبصرہ نگار، مزاحمت کاروں اور ملیشیا کے بیرون ملک استعمال کرتے ہوئے ایران کو بالکل اسی طرح دیکھتے ہیں جیسا کہ امریکا چین اور سوویت یونین کو انقلاب کے دورِ عروج پر دیکھا کرتا تھا(امریکا سمجھتا تھا کہ یہ دونوں طاقتیں غیرمعمولی وسائل کو بروئے کار لا کر قائم سیاسی نظام کو عدم استحکام کا شکار کرکے خطے میں افراتفری پھیلانا چاہتی ہیں)۔ جیمز میٹس نے ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’ایران اپنے منفی اثرورسوخ کو وسعت دینا چاہتا ہے‘‘۔ درحقیقت ایران سوویت یونین دور کے روس اور چین کے انقلابی کردار کی تقلید کرنے کے بجائے جدید دور کے روس اور چین سے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے۔ وہ خطے میں اپنے کردار کو محدود کرنے کی منصوبہ بندی کی مخالفت کرتا ہے۔ ایران کا طریقہ کار اکثر عالمی روایات کے خلاف ہوتا ہے، لیکن قومی مفادات کے عین مطابق ہوتا ہے۔ایران دنیا کو ’’ماؤ‘‘ اور’’ لینن ‘‘کی نظر سے دیکھنے کے بجائے ’’ژی جن پنگ‘‘ اور’’ ولادی میر پوٹن‘‘ کی نظر سے دیکھتا ہے۔یعنی کے اس کی پالیسیوں میں انقلابیت کے بجائے قوم پرستی کا عنصر غالب نظر آتا ہے۔

ایران کے موجودہ نقطہ نظر کے پیچھے صرف ۱۹۷۹ء کا انقلاب ہی نہیں ہے ،بلکہ’’ پہلوی خاندان ‘‘کا بھی کردار ہے، جس نے انقلاب سے قبل تقریبا پچاس سال حکومت کی۔محمد رضا پہلوی،جو کہ پہلوی خاندان کے آخری بادشاہ تھے، انھوں نے ان خواہشات کا اظہار کیا تھا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں غالب طاقت ہو،اس کی فوجی برتری بھی ہو اور خلیج فارس پر مکمل کنٹرول اسی کا ہو۔کچھ عرصہ تو اسلامی ریاست نے ان خیالات کو قومیت کا رنگ دینے کے بجائے اسے نظریاتی رنگ دے کر آگے بڑھایا۔لیکن پچھے پندرہ سالوں میں قومیت تیزی سے پروان چڑھی ہے۔اب ایران کے راہنما مذہب کے ساتھ اپنے لگاؤ اوراپنے مذہبی نظریا ت کو قومیت کے ساتھ ملا جلا کر پیش کرتے ہیں۔روس اور چین کی طرح ایران کے ساتھ بھی تابناک ماضی کی یادیں جڑیں ہیں اور وہ اپنی اس مرکزی حیثیت کو کبھی نہیں بھولتے جو انہیں اس سامراجی کے دور میں حاصل تھی اور وہ اسی حیثیت کو حاصل کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔اسی لیے چین اور روس کی طرح ایران کو بھی خطے میں امریکی سربراہی میں کسی قسم کا نظام اپنے ارادوں کے درمیان ایک دیوارکی طرح محسوس ہوتا ہے۔

لیکن اس طرح کی قوم پرستی سے جڑی خواہشات نے قومی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی اور امریکی فوج ایران کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی ہے۔افغانستان اور عراق پر امریکی قبضے اور ہزاروں امریکی فوجیوں کی ایرانی سرحد پر موجودگی نے تہران کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ ’’ایرانی فوج کے لیے امریکی فوج کی پیش قدمی کو میدان جنگ میں روکنے کا سوچنا بھی بے وقوفی کی علامت ثابت ہو گا‘‘۔لیکن عراق پر امریکی قبضے نے ایک اور بات بھی ثابت کی کہ ’’ابتدائی قبضے کے بعد شیعہ اور سنی ملیشیا کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ امریکا کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیں۔‘‘عراق جنگ کے دوران ایران نے امریکی فوجیوں کو مارنے کے لیے نجی ملیشیاؤں کو نہ صرف ہتھیار فراہم کیے بلکہ ان کی تربیت بھی کی ۔اور ایران کے اسی قسم کے اقدامات ٹرمپ انتظامیہ کی نفرت انگیزی کی بڑی وجہ ہیں۔

ایران کو عرب دنیا سے بھی خطرہ لاحق ہے۔عرب دنیا۱۹۵۸ء کے عراقی انقلاب کے بعد سے لے کر ۲۰۰۳ء تک ایران کے لیے ایک مستقل خطرہ رہی ہے۔عرب دنیا کے حوالے سے موجودہ ایرانی پالیسیوں میں ۱۹۸۰ء میں لڑی جانے والی ایران عراق جنگ کے اثرات نظر آتے ہیں۔ ایران کے بہت سے سینئرسیاستدان اس جنگ میں شریک رہ چکے ہیں،اس جنگ کے دوران عراق نے نہ صرف ایرانی زمین پر قبضہ کیا تھا، بلکہ ایرانیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کیے تھے اور ایران کے شہری علاقوں کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا ۔ ۲۰۰۳ء کے بعد سے عراق اور شام میں کردوں کی ابھرتی ہوئی علیحدگی پسند تحریکیں اور خطے میں شیعہ سنی کشیدگی میں ہونے والے اضافے نے ایران کی اس سوچ کو مزید پختہ کیا ہے کہ عرب دنیا سے اسے شدید خطرات لاحق ہیں۔

ایران اس بات پر بھی پریشان ہے کہ اس کے روایتی حریفوں نے اسے اسلحہ کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔عالمی تحقیقی ادارہ برائے امن ،سٹاک ہوم کے ۲۰۱۶ء کے اعدادوشمار کے مطابق ایران نے اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا ۳ فیصد اپنے دفاع پر خرچ کیا۔اور یہ خطے کے باقی ممالک کے تناسب کے لحاظ سے کم ہے۔سعودی عرب نے اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا دس فیصد،اسرائیل چھ فیصد،عراق پانچ فیصداور اردن چار فیصد خرچ کرتا ہے۔مشرق وسطیٰ میں ایران مجموعی ملکی پیداوارکے لحاظ سے دفاعی اخراجات میں آٹھویں نمبر پرہے۔ایران کے دفاعی اخراجات، رقم کے لحاظ سے بھی ان ممالک سے کم ہے۔مثال کے طور پر ۲۰۱۶ء میں سعودی عرب نے ۷ء۶۳؍ ارب ڈالر اپنے دفاعی اخراجات پر خرچ کیے، جو کہ ایرانی بجٹ(۷ء۱۲؍ارب ڈالر) سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

اس کمی کے ازالے کے لیے ایران نے ’’آگے بڑھ کردفاع ‘‘کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔اس حکمت عملی کے تحت وہ مشرق وسطیٰ میں مزاحمتی گروہوں اور نجی ملیشیاؤں کی معاونت کرتا ہے، جن میں حزب اللہ اور حماس شامل ہیں۔اور یہ دونوں گروہ اسرائیلی سرحد کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔ایران کا سب سے خطر ناک فوجی یونٹ ’’قدس فورس ‘‘ہے ،جو کہ پاسداران انقلاب کا حصہ ہے۔اس یونٹ کو ’’پراکسی جنگوں ‘‘میں حصہ لینے کی مخصوص تربیت دی جاتی ہے۔ اور حزب اللہ نے عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کوواحد فوجی شکست دے کر اپنے آپ کو موثر اتحادی ثابت کیا ہے۔حزب اللہ نے۲۰۰۰ء میں اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے پر مجبور کیا اور ۲۰۰۶ء میں اسرائیلی جارحیت کا بہترین دفاع کیا۔

کم و بیش اسی طرح کی دلیل ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل(اور ۲۰۱۵ء کے معاہدے سے پہلے ایٹمی) پروگرام کی بھی ہے۔ایران نے اس طرح کے پروگرام اپنے دفاع اور اپنی’’ پراکسیز‘‘ کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے شروع کیا تھا ۔ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو منجمد کرچکا ہے،اب حکمت عملی یہ بنائی گئی ہے کہ میزائل پروگرام کو اتنی ترقی دی جائے گی کہ کوئی طاقتور ملک بھی اس پر یا اس کے اتحادی پر کوئی حملہ نہ کر سکے،اور حملے کی صورت میں اسے زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔

اگر ایران کا موجودہ رویہ پہلے سے زیادہ جارحیت پر مبنی یا خطرناک محسوس ہوتا ہے،تو اس کی وجہ ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے حریفوں سے ٹکراؤ چاہتا ہے یا خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے،بلکہ اس کا اس جارحانہ رویہ کی وجہ پچھلے پندرہ برسوں میں مشروق وسطیٰ میں آنے والی زبردست تبدیلی ہے۔وہ دن گئے جب واشنگٹن خطے کے معاملات کو کنٹرول کرنے اور ایران کے کردار کو محدود کرنے کے لیے عرب حکومتوں کا سہارا لیا کرتا تھا۔۲۰۰۳ء کے عراق میں ہونے والے امریکی حملے کے بعد ہونے والے واقعات اس رخ پر چلے گئے کہ وہ عرب دنیا میں سماجی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوئے، جس کے نتیجے میں وہاں کے حکمرانوں کو گھر جانا پڑا،وہاں کے حکومتی ادارے تباہ ہو گئے ،اور کچھ جگہوں پر فرقہ وارانہ اور لسانی فسادات خانہ جنگی کی صورت اختیار کرگئے۔

عرب دنیا میں آنے والے عدم استحکام نے وہاں کے طاقت کے مراکز کو کمزور کر دیا اور اس عمل سے ایران نے بھر پور فائدہ اٹھایااور خطے میں اپنے اثرورسوخ میں بھی اضافہ کیا۔ایران نے عراق میں ’’کردوں‘‘ اور ’’شیعہ سیاسی قوتوں‘‘ کو استعمال کر کے وہاں کے تنازعات حل کروائے،سیاسی اتحاد تشکیل دیے اور وہاں کی پالیسی سازی کے عمل میں مداخلت کی ۔جس کے نتیجے میں عراق، امریکاسمیت کسی بھی ملک کے مقابلے میں ایرانی اثرورسوخ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔شام میں ایران نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ پورے مشرق وسطیٰ سے نوجوانوں کو جمع کر کے ایک مؤثر فوج تشکیل دی، جس کو شامی حزب اختلاف کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔اور جیسے جیسے بشار اس خانہ جنگی میں غالب آتا گیا ویسے ہی دمشق پر ایران کا اثرورسوخ بڑھتا چلا گیا۔اور یمن میں ایران نے بہت معمولی سی سرمایہ کاری کرکے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو ایک مہنگی جنگ کی دلدل میں پھنسا دیا،جس کے نتیجے میں سعودی وسائل شام اور عراق کے بجائے یمن میں استعمال ہونے لگے۔

لیکن اس عدم استحکام نے نئے خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔ عرب ممالک کے عوام میں ایران کی شامی حکومت کی مدد کے خلاف شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والے Zogbyکے سروے کے مطابق جیسے ہی ایران نے شامی جنگ میں مداخلت کی تو عرب دنیا میں ایرانی حمایت ۷۵ فیصد(۲۰۰۶ء میں) سے کم ہوکر ۲۵فیصد رہ گئی۔ لیکن داعش (جو کہ بنیادی طور پر اہل تشیع اور ایران کے خلاف وجود میں آئی)کے ڈرامائی عروج سے ایرانی اثرورسوخ کے خلاف جاری سنی مزاحمت کو کافی ریلیف ملا۔داعش جس طرح کے حالات سے دوچار ہوئی ،اس نے تہران کی نظر میں ’’آگے بڑھ کر دفاع‘‘ کرنے کی پالیسی کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا ۔اگر ایرانی فوج کی عراق اور شام میں موجود اپنے اتحادیوں تک پہنچ نہ ہوتی،تو داعش بہت تیزی کے ساتھ دمشق ،بغداد اور اریبل کو فتح کرتی ہوئی ایران کی سرحدوں تک پہنچ جاتی۔ اگرچہ ایران کے حریف ایران کی مزاحمتی و مسلح گروہوں کی حمایت کی پالیسی کو انقلاب اور شیعہ ازم کو پھیلانے کے مقاصد کی نظر سے دیکھتے ہیں، لیکن حقیقت میں ایران کی اس پالیسی کے درپردہ مقاصد خالصتاً پیشہ وارانہ ہیں ۔عرب میں جتنا زیادہ عدم استحکا م ہوگا ایران کا وہاں کے معاملات میں مداخلت کا ارادہ اتنا ہی مضبوط ہو گا۔

خطے میں پیدا ہونے والے نئے حالات نے ایران اور امریکا اور اس کے اتحادی عربوں کے درمیان براہ راست تصادم کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔لیکن یہاں بھی ایران کے رہنماؤں کو معلوم ہے کہ ان کو ان حالات کا فائدہ ہی ہو گا۔داعش کے خلاف لڑی جانے والی جنگ نے ایران کی لڑنے کی صلاحیت کو مزید نکھارا ہے۔پاسدارانِ انقلاب نے داعش کے خلاف لڑنے والے عراقی شیعوں کو تربیت دی، اس کے علاوہ شام اور یمن میں لڑنے کے لیے مشرق وسطیٰ سے آئے ہوئے رضاکاروں کو بھی تربیت فراہم کی ۔حزب اللہ کے ساتھ مل کر یہ سارے گروہ ایک بڑی قوت میں تبدیل ہو چکے ہیں۔جب یہ جنگ ختم ہوگی تو یہ اپنے ممالک کے سیاسی نظام میں موثر گروہ کی حیثیت سے کام کریں گے،جس سے عرب دنیا پر ایران کے اثرورسوخ میں نمایاں اضافہ ہو گا۔اور اس طرح سعودی عرب کے لیے تنہا اس خطے کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔

گزشتہ ایک برس کے دوران سعودی عرب سے بڑھتی ہوئی کشیدگی ،ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے سخت بیانات،اور مسلمان ممالک پر سفری پابندیاں ،جن میں ایران بھی شامل ہے،ایرانی قوم میں قوم پرستی کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوئیں۔اور امریکا کے ساتھ بگڑتے تعلقات کی ایک وجہ سعودی عرب اور امریکاکے مابین ازسر نو بہتر ہوتے تعلقات بھی ہیں۔ویسے تو ایٹمی معاہدہ ہونے کے بعد سے ہی ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی تھی، لیکن ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے کے بعد اس میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔مئی ۲۰۱۷ء میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک بیان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’’مشرق وسطیٰ میں اثرورسوخ کی جنگ دراصل ایران کی حدود میں لڑی جائے گی‘‘۔

عرب ممالک اور مغربی دارالحکومتوں میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں سے اب ایران بھی محفوظ نہیں رہا۔ گزشتہ برس جون میں خودکش حملہ آوروں نے ایرانی پارلیمان کی عمارت پر حملہ کیا اور ایران کے پہلے سپریم لیڈر روح اللہ خمینی کے مزار پر بھی حملہ کیا گیا ،ان کاروائیوں میں ۱۸ لوگ جاں بحق ہوئے۔ ایرانی سرزمین کے اردگرد منڈلانے والے خطرات نے ایرانی عوام کو ’’آگے بڑھ کر دفاع کرنے ‘‘کی پالیسی کو قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔شامی جنگ کے آغازمیں تو ایرانی رہنما وہاں اپنی مداخلت کو چھپانے کی بھر پور کوششیں کیا کرتے تھے،لیکن اب شام میں مرنے والوں کو ’’شہید‘‘ قرار دے کر عوام میں کافی پذیرائی دی جاتی ہے۔

دسمبر کے اختتام میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں ایسے نعرے بھی لگائے گئے جن میں لبنان، شام اور فلسطین میں ایرانی مداخلت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھاکہ’’آگے بڑھ کر دفاع کرنے کی پالیسی کے تحت ان ملکی وسائل کو غیر ممالک میں جھونک دیا گیا، جن کی اپنے ملک میں اشد ضرورت تھی‘‘۔ لیکن عوام کی تنقید کے باوجود حکومت اپنی سامراجی سوچ سے پیچھے ہٹتی دکھائی نہیں دیتی۔ایرانی اپنی حکومت کے علاقائی عزائم پر ضرور تنقید کرتے ہیں، لیکن دفاعی ضروریات کے بارے میں ان کے ذہنوں میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے۔وہ سنی انتہا پسندوں کی جانب سے عراق ،شام اور خود ایران میں واقع اپنے مقدس شہروں پر حملوں کے خطرے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ایرانی رہنما خود پر ہونے والی تنقید سے نہیں گھبراتے۔ ان میں سے بہت سے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان احتجاجی مظاہروں میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے۔ وہ اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ ایران کو پیچھے ہٹنے کے بجائے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔

اوباما انتظامیہ نے خطے کی خراب ہوتی صورتحال کا جواب خطے سے فاصلہ اختیار کر جانے کی صورت میں دیا۔مداخلت کی امریکی حکمت عملی کے برعکس اوباما نے شام کی خانہ جنگی میں کردار ادا کرنے سے انکا رکر دیا اور اس کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات بھی جاری رکھے۔اس معاہدے نے عرب دنیا کو نہ صرف ناراض کردیا بلکہ خطے میں کشیدگی میں بھی اضافہ ہو گیا۔لیکن اس سے وہ خطرات بھی کم ہو گئے جن کی وجہ سے امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور تھا۔ اس وجہ سے امریکا کو خطے میں عدم دلچسپی دکھانے میں مزید مدد ملی۔

ایٹمی معاہدے کی کامیابی نے امریکا ایران تعلقات میں گرم جوشی کے امکانات میں بھی اضافہ کیا۔اور عرب اتحادیوں کو یہ خدشہ لاحق ہونے لگا کہ واشنگٹن اب ان کے مفادات کی حفاظت نہیں کرے گا اور شاید ان کی طرف سے منہ بھی موڑ لے۔

لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔امریکا نے خطے کے حوالے سے اپنی حکمت عملی زیادہ تبدیل نہیں کی۔اوباما انتظامیہ نے عربوں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بحرین، کویت، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے اسلحے کی فروخت کے بڑے بڑے معاہدے کیے۔تہران میں ایٹمی معاہدے کی حمایت کرنے والوں کو اس عمل سے شدید مایوسی ہوئی۔ایران نے تو ایٹم بم بنانے کی صلاحیتوں پر سمجھوتہ اس لیے کیا تھا کہ خطے میں روایتی ہتھیاروں کے معاملے میں اس کے حریفوں کو حاصل سبقت کم کی جا سکے۔۲۰۱۵ء میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے ہتھیاروں کے معاملے میں حاصل سبقت کا یمن میں پہلی دفعہ عملی مظاہرہ کیا۔اس حملے کے بارے میں ایران کو پہلے سے ہی اندازہ تھا۔تہران نے اس اقدام کا جواب اپنے میزائل پروگرام کو دوگنا کر کے دیا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایٹمی معاہدے پر یکسر مختلف راستہ اختیار کیا اور اس معاہدے سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا،اسی کے ساتھ ساتھ عربوں کے ساتھ اتحاد کے پرانے نظام کی طرف پلٹنا شروع کر دیا۔جس میں سعودی عرب کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ شاید چلتا رہے لیکن ان بنیادوں پر نہیں جن پر دونوں ممالک نے دستخط کیے تھے۔لیکن اسی کے ساتھ اب ایران کا پہلے کی طرح گھیراؤ کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔عراق اور شام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں اور وہاں وہ لوگ حکمرانی کر رہے ہیں جو عربوں کے بجائے ایران سے قریب ترہیں۔’’لیونت‘‘کا بہت سا علاقہ ان دو ممالک کا حصہ ہے اور اس خطے نے ہمیشہ اپنے حریف فرقوں ،قبائل اور قوموں کو مغلوب بنا کر رکھا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے’’ لیونت‘‘کا علاقہ(یعنی عراق اور شام)، جس میں مصر اور سعودی عرب بھی شامل تھا ،عرب دنیا کا اہم ستون تھا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد عراق نے خاص طور پر ایرانی اثرورسوخ کے سامنے ڈھال کا کردار ادا کیا نہ صرف یہ بلکہ ایران کو ’’ٹف ٹائم ‘‘ بھی دے کر رکھا۔

مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکی حکمت عملی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ امریکا دنیا کی حکمرانی سے دستبردار ہو رہا ہے۔ امریکا اس بات کی اہلیت نہیں رکھتا کہ وہ ایرانی پیش قدمی کو روک سکے اور نہ ہی ایسا کرنے کے بعد پیداہونے والے خلا کو پر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔گزشتہ برس عراقی کردستان کی آزادی کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں امریکا کی ناقص حکمت عملی کا عملی مظاہرہ سامنے آیا۔اگرچہ امریکا نے کردوں سے کہا تھا کہ وہ ووٹنگ نہ کروائیں ،لیکن وہ انھیں روک نہ سکااور آزادی کے لیے ہونے والی اس ووٹنگ کے بعد کے حالات کو کنٹرول کرنے میں بھی امریکا نے کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔بلکہ اس کے برعکس ایران نے اس تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ،اگر یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کر جاتا تو بغداد اور اریبل کے درمیان ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوجاتی۔تہران نے کرد رہنماؤں پر زور ڈالا کہ وہ آزادی کے مطالبے سے پیچھے ہٹ جائیں ،کرکوک کا قبضہ چھوڑ دیں اور خطے کی کرد حکومت میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی قبول کریں۔

امریکا کی طرح اس کا عرب اتحادی سعودی عرب بھی موقع سے کوئی فائدہ نہ اٹھاسکا۔لیکن سعودی عرب سنی عوام میں شام اور دیگر عرب ممالک میں ایرانی مداخلت کے خلاف شدید پروپیگنڈا کرنے میں کامیاب رہا۔ ۲۰۱۳ء سے ۲۰۱۶ء کے درمیان سعودی عرب نے قطر اور ترکی کے ساتھ مل کر شامی حزب اختلاف کے گروہوں کی معاونت کر کے ایران اور اس کے اتحادیوں کے لیے شام میں بہت مشکلات پیدا کردیں تھیں۔ لیکن پھر سعودی عرب نے اپنے ارادوں سے منہ پھیر لیا۔سعودی عرب نے قطر اورترکی سے اختلافات شروع کر دیے، جس کے نتیجے میں بشار سنی حزب اختلاف پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا۔ ادھر یمن میں حوثی باغی، سعودی سربراہی میں لڑنے والی اتحادی فوج کے سامنے ڈٹ گئے۔

ایران ابھی بھی سعودی عرب کے جارحانہ عزائم سے پریشان ہے۔شہزادہ سلمان نے یمن میں جنگ چھیڑ رکھی ہے، قطر کو تنہا کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں اور اس کے ساتھ نومبر میں لبنان کے طاقتور وزیراعظم سعد حریری کو بھی استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ سابق بادشاہ کی پالیسی کے برعکس شہزادہ سلمان نے عراق میں کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ عراق میں وہ وہاں کے اہل تشیع سیاستدانوں سے رابطے کر رہے ہیں، ان سیاستدانوں میں معروف شیعہ رہنما مقتدالصدر بھی شامل ہیں۔سعودی عرب اگر اس جارحانہ پالیسی کو جاری رکھتا ہے تو اسے مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ولی عہد کو اپنے والد سے بادشاہت لینے کا ایک مشکل کام بہت محتاط طریقے سے کرنا ہو گا۔اس کے علاوہ ایران کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے اپنے ملک میں سماجی اور معاشی اصلاحات کے پروگرام کو بھی آگے بڑھانا ہو گا۔ لیکن ایران اتنا تنہا نہیں ہے جتنا کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ برس جون میں سعودی عرب کی سربراہی میں عرب ممالک کے اتحاد نے قطر کے ایران کے ساتھ تعلقات ،سنی انتہا پسند تنظیموں کی حمایت اور اخوان المسلمون کی حمایت کے جرم میں اس کا سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کرنے کی مہم چلائی ۔لیکن قطر کو تنہا کرنے کو شش کا فائدہ یہ ہو ا کہ وہ ایران کے زیادہ قریب ہو گیا۔اس کے علاوہ تہران کو خلیج فارس کے جنوبی ساحل تک رسائی بھی مل گئی۔

سعودی عرب کے اس اقدام سے اس کے ترکی کے ساتھ تعلقات بھی کشیدہ ہو گئے۔انقرہ کی حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے اخوان المسلمون سے مضبوط تعلقات ہیں، اس کے ساتھ سنی دنیا کی سربراہی کا اس کا اپنا ایک ’’ویژن‘‘ ہے۔ اور خطے کے حوالے سے سعودی اور امریکی پالیسی ترکی کے مفادات کو نقصان پہنچاتی ہے ۔ان سب حالات کی وجہ سے ترکی، روس اور ایران کی طرف پلٹنے پر مجبور ہوا۔ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے ایران اور روس کے ساتھ اختلافات کے باوجود ایسی راہیں نکالیں کے ان ممالک کے ساتھ مل کر شام میں اہم کردار ادا کیا جاسکے۔ اور اس مضبوط شراکت داری کا مظاہرہ گزشتہ برس نومبر میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب سوچی میں ایردوان، روسی صدر ولادی میر پوٹن اور ایرانی صدر روحانی، شام کی قسمت کے فیصلے کرتے ہوئے ایک ساتھ دکھائی دیے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا ایک تناظر شام میں روسی مداخلت کا بھی ہے۔ ۲۰۱۵ء میں روس نے شام کی خانہ جنگی میں بشار کی حمایت میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی حکام نے اس امکان کو مسترد کر دیا کہ روس شام میں مداخلت کر کے خطے میں اپنے اثرورسوخ میں اضافہ کرسکے گا۔ لیکن روس شام کے معاملے میں ایک اہم کردار کے طور پر سامنے آیا ،نہ صرف شام بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں اگر کوئی مذاکرات یا معاملات کی بہتری کے لیے بات کرنا چاہتا ہے تو وہ روس ہی کی طرف دیکھتا ہے۔

روس یہ سب اہداف ایران کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ زمین پر ایران کی موجودگی نے روس کی فتح کو ممکن بنایا۔ اور افغانستان، وسطی ایشیا، قفقاز میں ان دونوں ممالک نے مل کر امریکی اثرورسوخ کا مقابلہ کیا۔ دونوں ممالک اپنے آپ کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے سامنے ڈٹ جانے والی بڑی طاقتوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ روس اپنے ’’گریٹر‘‘ مفادات کی تکمیل کے لیے ایران کی اہمیت سے باخبر ہے۔ ایران جغرافیائی اعتبار سے ایک اہم مقام پر واقع،توانائی کے ذخائر سے مالا مال آٹھ کروڑ کی آبادی والا ملک ہے،جس کے اتحادیوں کا نیٹ ورک پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلا ہوا ہے اور تقریباً سب اتحادی ہی امریکا کے دائرہ اثرورسوخ سے باہر ہیں۔یہ سب خصوصیات پوٹن کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں، جو امریکا کو پیچھے دھکیلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

ایرانی اور روسی افواج و انٹیلی جنس نے شام کی خانہ جنگی میں مل کر کام کرنے کی وجہ سے آپس میں گہرے تعلقات قائم کر لیے ہیں، یہ تعلقات مستقبل میں امریکا کے ساتھ جنگ کی صورت میں ایران کی معاونت کریں گے۔گزشتہ برس امریکا جس طرح ایٹمی معاہدے سے پیچھے ہٹا ہے اور ایران پر دباؤ بڑھایا ہے اس سے تہران میں اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ اسے روس سے تعلقات مزید مضبوط کرنا ہوں گے۔اب ایران روس سے تجارت بڑھانے پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی دفاعی اخراجات کا مقابلہ کرنے کے لیے روس سے جدید ہتھیاروں کی خریدار ی پر بھی غور کر رہا ہے۔اور شاید روس کے ساتھ ایک معاہدے پر بھی دستخط کرے، جس کے تحت فوج و خفیہ ایجنسیوں کے درمیان روابط بڑھائے جائیں گے۔ اور روسی فوج و خفیہ ایجنسیوں کو ایرانی فوجی تنصیبات تک رسائی دی جائے گی،یاد رہے کہ ایران آج تک ایسے کسی اقدام سے گریز کرتا آیا ہے۔اور امریکا کی روسی بالا دستی ختم کرنے کی پالیسی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک کے ایران کے اثرورسوخ کا خاتمہ نہ کر دیا جائے۔

مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی وجوہات کو سمجھنے کے بعد اگر ٹرمپ انظامیہ کی موجودہ ایران پالیسی کو دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکمت عملی نہ صرف امریکا کو الجھا رہی ہیں بلکہ اسے مشکلات کی طرف بھی دھکیل رہی ہے۔یہ سمجھ لینا کہ امریکا اور اس کے عرب اتحادی بہت آسانی سے ایران کا گھیراؤ کر لیں گے اور یہ قدم خطے میں استحکام کا باعث بنے گا،تو ایسی سوچ بہت ہی خطرناک قسم کی غلطی ثابت ہو گی۔فی الحال عراق اور شام میں اتنی امریکی فوج موجود نہیں کہ وہ حالات کو کنٹرول کر سکیں ،حالات تو کنٹرول کرنا دور کی بات ایران کو بھی کنٹرول نہیں کرسکتی۔اگر وہ کسی فوجی ایڈونچر میں نہ پڑنے کے سیاسی منشور سے پیچھے ہٹتے ہوئے ایسا کوئی کام کرتے بھی ہیں تو ان کو بہت سے وسائل کی ضرورت پڑے گی۔اور ان کو یہ وسائل مہیا کرنے کے لیے بہت سے دوسری معاملات پر کمپرومائز کرنا پڑے گا ،جیسا کہ شمالی کوریا کو سنبھالنا اور چین و روس کی پیش قدمی کو روکنا۔ نہ ہی واشنگٹن اس کام کے لیے (یعنی ایران سے نمٹنا) اپنے عرب اتحادیوں پر بھروسا کر سکتا ہے۔ وہ ایران کو عرب دنیا سے نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور نہ ہی ماضی کی طرح وہ ایرانی اثر و رسوخ کی جگہ لے سکتے ہیں۔اور خطے میں کسی بھی قسم کے تنازعے کی صورت میں امریکا کو مجبوراً مداخلت کرنی پڑے گی۔

اگر امریکا ایران کو قابو کرنے کے لیے درکار وسائل مہیا بھی کر دیتا ہے، تو ایسا کرنے سے خطے میں استحکام نہیں آئے گا۔ ایران مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا لازمی جز ہے۔فوجی ٹکراؤ ایران کو اس بات پر مجبور کرے گا کہ وہ ’’آگے بڑھ کر دفاع‘‘ کرنے کی پالیسی کو جاری رکھے، جس کے نتیجے میں نہ صرف مداخلت بڑھے گی بلکہ خطے میں عدم استحکام بھی بڑھے گا۔ بحرین، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسی مستحکم ریاستیں عدم استحکام کا شکار ہو جائیں گی ،اور عراق اور لبنان جیسے کمزور ممالک خانہ جنگی کا شکار ہو جائیں گے جیسا کہ حالیہ سالوں میں لیبیا اور یمن ہوئے ہیں۔اور سب سے اہم یہ کہ امریکا کو انسانی بحران ،اورداعش جیسے دیگر دہشت گرد گروہوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خطے میں ایران کو تنہا کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے امریکا کو ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں ایران کا بھی کردار ہو ۔ایران کو یہ یقین دلانا ہو گا کہ خطے میں روسی حمایت یافتہ کسی منصوبہ بندی میں شامل ہونے کے بجائے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کام کرنا اس کے حق میں بہتر ہوگا۔اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے امریکا کو طاقت کے بجائے سفارت کاری پر انحصار کرنا ہو گا۔ واشنگٹن کو چاہیے کہ ایٹمی معاہدے کو جاری رکھے اور ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے اس سے براہ راست تعلقات قائم کرے۔اس کے علاوہ سعودی عرب اور ایران دونوں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کرے کہ وہ مل جل کر خطے کے مسائل حل کریں، جن میں سب سے اہم یمن اور شام کا مسئلہ ہے۔

سعودی عرب کے امریکا پر حالیہ اعتماد سے امریکا کو وہ کام لینے چاہئیں جو اوباما انتظامیہ لینے میں ناکام رہی۔ امریکا کو عالمی سفارت کاری کا استعمال کرتے ہوئے ان تنازعات کا حل تلاش کرنا چاہیے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے جامع منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔اور یہ کام روس کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔اگرچہ یہ کام مشکل ہے خا ص کر ایسے حالات میں جب امریکا نے ایٹمی معاہدے سے حاصل ہونے والے سفارتی فوائد کو بھی لات مار دی ہے ۔لیکن اس کے متبادل جتنے بھی’’ آپشنز‘‘ہیں وہ تصادم بڑھائیں گے اور مشرق وسطیٰ کو مزید جنگوں میں دھکیل دیں گے۔

(ترجمہ: حافظ محمد نوید نون)

“Iran among the ruins”.(“Foreign Affairs”. March/April 2018)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*