عراق امریکا کا دوسرا ویتنام

امریکا کے صدر جارج بش نے بالاخر تسلیم کرلیا ہے کہ عراق اور ویت نام میں مماثلت ہے۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے اعتراف کیا کہ ہمیں عراق میں ویتنام جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں شکست کا سامنا ہے۔ جارج بش نے کہا کہ تشدد بہت بڑھ گیا ہے مگر ہم فوج واپس نہیں بلائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری حکمت عملی فتح کے لیے ہے۔ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ عراق کا مزاحمتی عمل امریکا میں وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عراق میں القاعدہ کی موجودگی کشیدگی کی اہم وجہ ہے۔ آج سے ایک ماہ قبل بھی جارج بش عراق اور ویتنام کے موازنے کو برا مانتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویت نام کچھ اور تھا عراق کچھ اور ہے۔ ویتنام میں ہمیں شکست ہوگئی تھی عراق میں ہم فتح مند ہورہے ہیں۔ لیکن اب انھوں نے مان لیا ہے کہ عراق میں امریکا کو ویت نام جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ جارج بش کے اس اعتراف کے ساتھ ہی عراق میں امریکا کے ایک ٹواسٹار جنرل نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صاف کہا ہے کہ امریکا اور عراق کی مقامی فوج مزاحمت کو کچلنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ امریکا‘ برطانیہ اور ان کے اتحادیوں نے جب عراق کے خلاف کسی جواز کے بغیر ننگی جارحیت کا ارتکاب کیا تھا تو بے شمار لوگوں نے عراق پر فاتحہ پڑھ لی تھی۔ عام خیال ہے کہ اب عراق کا کوئی والی وارث نہیں ہوگا۔ امریکا جو چاہے گا کرے گا اور صرف عراق ہی نہیں مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی امریکا کے لیے ترنوالہ بن جائیں گے‘ لیکن مٹھی بھر انسان سر پر کفن باندھ کر میدان میں آگئے۔ انھوں نے تاریخ کے دھارے کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ یہ صورتحال اس کے باوجود ہے کہ مقتدیٰ الصدر کی مخصوص مزاحمت کے سوا عراق کی شیعہ آبادی نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی مزاحمت نہیں کی بلکہ علامہ سیستانی کی قیادت میں امریکیوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا راستہ اختیار کیا۔ عراق کی کرد آبادی بھی مزاحمت سے بے نیاز رہی وہ ابھی تک امریکا کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔ عراق کے یہ تمام طبقات بھی مزاحمت کے عمل میں شریک ہوتے یا اب بھی شریک ہوجائیں تو جارج بش دو ماہ میں ویتنام کو بھول جائیں گے اور کہیں گے کہ عراق ویتنام سے آگے کا تجربہ ہے۔ تاہم جیسا کہ جارج بش کے بیان سے ظاہر ہے اگرچہ امریکا کو عراق میں شکست فاش ہوگئی ہے‘ مگر جارج بش اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور یہ صرف عراق کا معاملہ نہیں افغانستان میں بھی امریکا اور یورپ کی مشترکہ طاقت کو بدترین شکست کا سامنا ہے اور اس سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ مسلمانوں کے جذبۂ جہاد اور شوق شہادت سے بڑی طاقت دنیا میں کوئی نہیں۔ مسلم دنیا میں جو لوگ مسلمانوں کو امریکا اور مغرب کی فوجی اور تکنیکی طاقت سے خوفزدہ کرتے رہے ہیں وہ شعوری یا لاشعوری طور پر مغرب کے ایجنٹ کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ بش کے مذکورہ انٹرویو کا ایک دلچسپ اور اہم نکتہ یہ ہے کہ انھوں نے عراق کے پورے منظر نامے میں صرف القاعدہ کی نشاندہی کی ہے اور صرف اسی کو درد سر قرار دیا ہے۔ کسی مسلمان نے اگر یہ بات کہی ہوتی تو امریکا اب تک اسے دہشت گرد اور القاعدہ کا رکن قرار دے چکا ہوتا۔ تو کیا جارج بش نے بھی عراق میں امریکا کی ناکامی کا سہرا القاعدہ کے سر باندھ کر القاعدہ جوائن کرلی؟

(بشکریہ :سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی۔ شمارہ: ۱۶ نومبر ۲۰۰۶ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*