اسلام اور تہذیبِ یورپ

ایک مغربی دانشور کا عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت سے مکالمہ

مرحوم ڈاکٹر مصطفی سبّاعی شام میں اخوان المسلمون کے بے مثل قائد تھے۔ کئی برس تک دمشق یونیورسٹی کی شریعہ فیکلٹی کے سربراہ اور علمی مجلہ ’’حضارۃ الاسلام‘‘ کے مدیر رہے۔ انتقال سے ایک سال قبل ۱۹۶۳ء میں موصوف علاج کی غرض سے مغربی جرمنی گئے، تو واپسی پر ایک جرمن دانشور صحافی نے آپ سے یہ انٹرویو لیا، جو ’’حضارۃ الاسلام‘‘ (دسمبر ۱۹۶۴ء) میں شائع ہوا تھا۔ پانچ عشرے گزر جانے کے باوجود اس مکالمہ کی ضرورت و افادیت برقرار ہے۔ اسی لیے یہ پرانا انٹرویو نذرِ قارئین کیا جارہا ہے۔ (ادارہ)


صحافی: استعمار اور معاشرتی پسماندگی کے خلاف مسلمانوں میں جو تحریکات چل رہی ہیں، ان کے بارے میں اسلام کا موقف کیا ہے؟

ڈاکٹر سباعی: اسلام دینِ آزادی ہے، وہ نہ یہ پسند کرتا ہے کہ مسلمان کسی بھی سامراجی طاقت کے آگے جھکیں اور نہ یہ کہ وہ کاروبارِ زندگی میں پیچھے رہ جائیں۔ اسلام ہی کی تعلیمات نے عربوں کو ۱۴ سو برس سے ہر قسم کے بے ہودہ رسم و رواج سے محفوظ رکھا ہے۔ یہ اسلام ہی تھا، جس نے عربوں کو امن و انصاف اور آزادی کا پیغامبر بنا کر اقوام عالم کی طرف بھیجا، انہیں تہذیب سکھائی، ان کی آنکھوں سے جہالت کے پردے ہٹائے، انہیں تمام بندگیوں سے آزاد کرکے ایک خدا کا بندہ بنایا اور ان کے اندر انسانی بھائی چارے کی وہ روح پھونکی، جو کوئی دوسرا قدیم و جدید دین یا فلسفہ پھونکنے پر قادر نہ تھا۔

صحافی: پھر کیا وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمان متمدن اقوام سے پیچھے رہ گئے ہیں؟

ڈاکٹر سباعی: اس کے بہت سے اسباب ہیں اور ان میں سب سے زیادہ اہم سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ سامراج سے متاثر ہے۔ جب سے مسلمان ممالک اس سامراجی نظام میں گرفتار ہوئے ہیں، سامراج اپنے تمام وسائل و ذرائع کے ساتھ پیہم اسلام کی بیخ کنی کرنے، اس کی تعلیمات کا حلیہ بگاڑنے اور نئی نسلوں کو اس کی روح سے بیگانہ کرنے میں مصروف رہا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی اسلام کی طرف بازگشت میں دراصل اقوامِ مغرب ہی سنگ گراں بنی ہوئی ہیں۔

صحافی: میں یہ باور نہیں کرسکتا کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس اسلام سے متحارب ہیں؟

ڈاکٹر سباعی: اسلام کے ساتھ اس عداوت میں شرق و غرب کی شرکت میں ہمیں کوئی شبہ نہیں ہے۔ میں ابھی چند روز قبل مغربی جرمنی سے واپس آیا ہوں، جو کچھ میں نے وہاں دیکھا، اسے میں آپ کے سامنے مغرب کی اسلام دشمنی کے ثبوت میں بطور مثال کے عرض کرتا ہوں۔ مجھے اس چیز نے پریشان کر دیا کہ وہاں ہر میدان میں خواہ وہ فکر ونظر کا میدان ہو یا پروپیگنڈے کا، یونیورسٹی ہو یا گرجا یا نجی مجالس، ریڈیو ہو یا ٹیلی ویژن، غرض ہر جگہ اسلام کے حقائق کو مسخ کرنے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے ایک منظم منصوبہ موجود ہے۔ کیا آپ اس سے انکار کرسکتے ہیں؟

صحافی: یہ درست ہے، ہو سکتا ہے اس کا سبب یہ ہو کہ آپ تہذیب کا ساتھ دینے کے بجائے پیچھے رہ گئے۔

ڈاکٹر سباعی: ہم کس میدان میں آپ کو اپنی تہذیب سے پسماندہ نظر آتے ہیں؟

صحافی: عورت ہی کے مرتبے کو لے لیجیے۔ آپ یہ گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ مجالس و محافل اور رقص و سرود میں شرکت کرے۔ آپ مُصر ہیں کہ وہ کارخانے میں کام نہ کرے؟

ڈاکٹر سباعی: کیا آپ کے ہاں عورت کا مقام، گھر سے نکلنے کے بعد، معاشرتی نقطہ نظر سے محفوظ و مامون ہو گیا ہے؟ کیا اس چیز نے آپ کو گھریلو نظام کی تباہی تک نہیں پہنچایا؟ اور کیا سال بہ سال آپ کے ہاں اخلاقی جرائم اور ناجائز اولاد میں اضافہ نہیں ہورہا ہے؟

صحافی: میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ ہمارا گھریلو نظام بُری طرح تباہ ہو چکا ہے اور اس تباہی کے ہاتھوں ہم نے بڑے دکھ اٹھائے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسا تاوان ہے، جس سے ہم علمی ترقی کے ذریعہ عہدہ برآ ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹر سباعی: جب آپ پر عورت کے عام محفلوں میں جانے کے نقائص اور مضمرات واضح ہو چکے ہیں، تو پھر آپ ہم پر اپنا فلسفہ کیوں ٹھونسنا چاہتے ہیں، حالانکہ آپ خود اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرچکے ہیں؟ اور ہم سے ہمارا فلسفہ کیوں چھڑوانا چاہتے ہیں، جس نے ہمارے گھریلو نظام کی مسلسل ایک ٹھوس ستون کی طرح حفاظت کی ہے؟

صحافی: میں چاہتا ہوں کہ اس نکتہ کی وضاحت کر دوں، آپ ہماری علمی ترقی کے حاجت مند ہیں اور ہم آپ کو یہ ترقی دے بھی سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ اگر آپ یہ چاہیں کہ ہماری تہذیب کا کوئی ایک پہلو لے لیں، تو ایسا نہیں ہوسکتا۔ بلکہ آپ کو یہ کُل کی کُل، اپنے تمام محاسن و معائب کے ساتھ لینی پڑے گی اور آپ کو اس کی وہی قیمت ادا کرنی پڑے گی، جو ہم کرچکے ہیں۔

ڈاکٹر سباعی: میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کے ہاں عورت کا گھر سے باہر نکلنا اور اس کا کارخانوں میں کام کرنا، ایک تہذیبی اساس کی حیثیت رکھتا تھا اور کیا آپ کی تہذیب اس کے بغیر نہیں چل سکتی تھی؟

صحافی: جب ہماری صنعتی ترقی کی ابتدا ہوئی، اس وقت ہمارے ہاں مردوں کی تعداد اتنی نہیں تھی کہ وہ صنعتی پیداوار کے لیے کافی ہوسکتی، اس لیے ہم اس بات پر مجبور ہوگئے کہ عورتیں بھی کارخانوں میں جاکر کام کریں۔

ڈاکٹر سباعی: تو پھر آپ ہم سے اس چیز کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں، جسے آپ نے تو مجبوراً اختیار کیا، لیکن ہم اسے اختیار کرنے پر مجبور نہیں ہیں۔ میری رائے میں تو دراصل آپ کو دو اُمور نے عورت کو اس کے گھر سے نکال کر عمومی زندگی میں لانے پر مجبور کیا ہے: اولاً یہ کہ آپ لوگ ہر وقت اور ہر جگہ عورت کو اپنے پہلو میں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ثانیاً آپ لوگ اس کے اخراجات بحیثیت بیوی یا بیٹی اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے آپ نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ کارخانوں میں جائے اور اپنے اخراجات خود اٹھائے۔ ان دونوں وجوہات کا ہمارے ہاں کوئی وجود نہیں ہے۔ اسلام اس قسم کے اختلاط کی اجازت نہیں دیتا۔ چنانچہ ہمارے ہاں مرد، عورت کو ہر جگہ دیکھنے کا خواہش مند نہیں ہے۔ اسلام کا نظامِ نفقات ایک مرد کے لیے یہ لازم کرتا ہے کہ وہ اپنی ماں، بیوی اور بیٹی کے اخراجات برداشت کرے، یہاں تک کہ وہ شادی کرلے۔ یہی چیز عورت کو ان فرائض کی ادائیگی کے لیے فارغ کر دیتی ہے، جو اس پر گھر اور بچوں کی طرف سے عائد ہوتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنے گھریلو نظام کے استحکام اور اپنے معیار اخلاق کی بلندی کو باقی رکھتے ہوئے بھی آپ کی علمی ترقی حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ کے مشہور رسالے ’’سیٹرن‘‘ نے اپنی گزشتہ ستمبر کی اشاعت میں جرمنی میں مزدور عورتوں کے بارے میں ایک تحقیقی فیچر شائع کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان عورتوں کی اکثریت اس لیے کام کرتی ہے کہ کوئی ان کے اخراجات برداشت کرنے والا نہیں ہے۔ نیز یہ کہ اس طرح اپنے ہم کاروں ہی میں سے انہیں شوہر کے حصول کی بھی امید ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں عورت یہ دو وجوہات نہیں پاتی کہ ان کی بنا پر وہ کام کرنے پر مجبور ہو۔

صحافی: مجھے شبہ ہے کہ آپ ہماری تہذیب کی مضرتوں سے بچ نہیں سکیں گے!

ڈاکٹر سباعی: مجھے یقین ہے کہ ایسا ممکن ہے، بشرطیکہ ہمارے ہاں ایسی حکومتیں ہوں، جو ہماری ترقی کو صحیح سمت میں، عزتِ نفس کے جذبے سے سرشار ہو کر، اور کورانہ تقلید سے پاک رہ کر ڈال سکیں۔

صحافی: ہم ایک اور موضوع لیتے ہیں، یورپ میں کیتھولک کلیسا اپنی لچک اور ارتقا کے ذریعے سے لوگوں کے دلوں میں اپنے مقام کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ کیا اسلام میں بھی اتنی لچک ہے کہ وہ زندگی کے ارتقا کا ساتھ دے سکے؟

ڈاکٹر سباعی: اس کے لیے ہمیں مفاہیم کو متعین کرلینا چاہیے۔ آخر لچک اور ارتقا سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آیا لچک اور ارتقا وہی ہے، جس کا نظارہ ہم نے یورپ میں کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے ہاں کلیسا کی لچک نوجوان مردوں اور عورتوں کے کلب کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، جس میں رقص و شراب کی محفلیں پادری کی نگرانی میں جمتی ہیں، بلکہ وہی ان کا افتتاح رقص و شراب کے ساتھ کرتا ہے۔ اس کلب میں لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط پکنک پارٹیاں ہوتی ہیں، جن میں ان اخلاقی جرائم کا عدم وقوع محال ہوتا ہے، جن کی نفی میں تمام ادیان و مذاہب متفق ہیں۔ سو اگر آپ اسلام سے بھی یہ چاہتے ہیں کہ اس میں بھی ایسی ہی لچک پیدا ہو جائے تو یہ تو ہونے سے رہا۔ دراصل اسلام کے کچھ آداب اور اس کا ایک خاص نظام ہے، جس سے اگر بغاوت کی جائے تو وہ کوئی نیا دین تو ہوسکتا ہے، اسلام نہیں ہوسکتا۔ اور پھر آخر اس دین کا فائدہ ہی کیا، جو طبیعت کی طغیانی پر بند نہ باندھے اور گناہ و نافرمانی پر حد نہ لگائے۔

صحافی: پھر تو آپ کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ کیتھولک کلیسا نے عوام کے دلوں میں اپنے اثر کی حفاظت کی طرف سے غفلت برتی ہے اور اسی چیز کا خطرہ مجھے اسلام کے بارے میں ہے کہ اس میں بھی لچک نہیں ہے۔

ڈاکٹر سباعی: میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کی نظر میں زنا اور شراب نوشی مضر ہیں یا نہیں؟

صحافی: مضر ہی نہیں، بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ یہ دونوں چیزیں حرام ہیں۔

ڈاکٹر سباعی: لیکن کلیسا تو اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، خود جرمنی میں ’’صوم کبیر‘‘ سے پہلے کارنیوال کے مہینوں میں جو جشن مسلسل تین دن تک کلیسا کے علم اور اس کی نگرانی میں منایا جاتا ہے، اس میں لوگوں کو ہر قسم کی اخلاقی اور دینی چھوٹ دے دی جاتی ہے۔ اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر سال کارنیوال کے بعد کنواری حاملائوں کی تعداد پچھلے سال کی بہ نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد کلیسا کا اور کون سا اثر ہے، جو لوگوں کے دلوں میں باقی رہ جاتا ہے؟ یہ کس قسم کی لچک ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ اسلام میں بھی پیدا ہو جائے؟ شاید آپ کو یہ بات معلوم ہوگی کہ آپ کے ہاں لوگوں کا کلیسا کے ساتھ اتنا تعلق نہیں ہے، جتنا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ہو۔ بلکہ حکومت کی پشت پناہی اور لوگوں پر کلیسائی ٹیکس لگانے کے باوجود کلیسا سے بے زاری دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے، یہاں تک کہ بعض جرمنوں نے تو بدھ مت اختیار کرکے فرینکفرٹ میں باقاعدہ مندر تک بنالیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ بدھ مت، بت پرستی ہے۔ انسانی عقل نے بعض اقوام میں اسے اس زمانے میں قبول کیا تھا، جب کہ جہالت اور تاریکی کا دور دورہ تھا۔ کیا یہ بات تعجب خیز نہیں ہے کہ اس بیسویں صدی میں یورپی عقل اس بت پرستی کو قبول کر رہی ہے اور اس کے لیے مندر تعمیر کر رہی ہے؟ لوگوں کے دلوں میں کلیسا کا وہ اثر ہے کہاں، جس کے متعلق آپ ارشاد فرماتے ہیں؟

اگر آپ اسلام سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ بھی لچکدار ہو جائے اور لوگوں کو ہوا و ہوس میں کھیل کھیلنے کی چھٹی دے دے، تو میں آپ پر واضح کر دیتا ہوں کہ اس قسم کی لچک تو اسلام میں موجود نہیں ہے۔ البتہ جو لچک اسلام میں موجود ہے، وہ یہ ہے کہ ہر اچھی چیز سے استفادہ کیا جائے، علم و ہنر اور فکری ارتقا کے وسائل اختیار کیے جائیں۔ اس لچک کا اظہار خود آپ کے ہاں اور یورپ و امریکا میں ہمارے وہ سیکڑوں اسلام پسند نوجوان کرتے ہیں، جو آپ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں اور آپ کی تہذیب کے عین قلب میں رہتے ہوئے بھی اپنے اخلاق و کردار کی حفاظت کرتے ہیں، جیسا کہ اسلام ان سے مطالبہ کرتا ہے۔ وہ نہ شراب پیتے ہیں، نہ بے راہ روی اختیار کرتے ہیں، نہ ان کے طرزِ عمل میں کوئی منفی تبدیلی آتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے ان کے اساتذہ اور ان کے ہمسایوں کے نزدیک ان کا مقام بلند ہو جاتا ہے۔ میں خود سن چکا ہوں کہ جرمن اور دوسرے یورپین ان کے شریفانہ کردار پر کس قدر حیرت زدہ ہوتے ہیں۔ مجھ سے ایک جرمن نے جو ایسے ہی ایک نوجوان اور اس کی استقامت سے واقف تھا، کہا کہ یہ نوجوان تو راہب معلوم ہوتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ آج ساری دنیا میں ان کے سے اخلاق اور استقامت کا اور بھی کوئی ہوگا۔ اسلام میں اگر کوئی لچک ہے تو بس یہی اس کی مثال ہے۔ اسلام علم کا خیرمقدم کرتا ہے، تہذیب و تمدن سے استفادہ کرتا ہے، لیکن ان کے معائب اور نقائص سے دامن بچاتا ہے۔ اور یہی دلیل ہے اس بات کی کہ ہم آپ کی تہذیب اور علمی ترقی سے استفادہ کرسکتے ہیں، بغیر اس کے کہ آپ کی تہذیب کے کانٹوں سے دامن دریدہ ہوں۔

صحافی: یہ صحیح ہے، مجھے جرمنی میں اسی طرح کے چند نوجوانوں کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تہذیب کی ترغیبات و تحریصات سے جس طرح ان لوگوں نے اعراض کیا ہے، میں خود اس پر دنگ رہ گیا، حتیٰ کہ میں نے جب اپنی ایک نشری گفتگو میں کہا کہ جرمنی اور یورپ کے مختلف ممالک میں چوبیس چوبیس اور پچیس پچیس برس کے ایسے نوجوان رہتے ہیں، جو لذتِ وصال سے ناآشنا ہیں، تو کسی نے میری بات پر اعتبار نہ کیا۔ البتہ جہاں تک کارنیوال کا تعلق ہے تو شاید اس کا سبب کیتھولک مذہب کا اعتراف (Confession) ہے جو اسلام میں موجود نہیں ہے اور یہی چیز آپ کے نوجوانوں کو عیاشیوں میں غرق ہونے سے روکتی ہے۔

ڈاکٹر سباعی: اسی سے آپ دیکھیے کہ ہم آپ کے ہاں اس وجہ سے نہیں جاتے ہیں کہ آپ کی اجتماعی زندگی کے انداز اور اس کی اخلاقی قدریں ہمیں بھاگئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آپ کی لغزشوں میں حصہ دار بنے بغیر آپ کی علمی ترقی سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

صحافی: میں آپ کا ازحد شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے ایک ایسی حقیقت سے روشناس کرایا ہے، جس سے ہم اب تک غافل تھے اور وہ یہ کہ ہم اپنی اجتماعی زندگی کے مظاہر سے آپ کو مرعوب نہیں کرسکتے۔ آپ اس کے معائب سے پوری طرح باخبر ہیں اور اس سے دور رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح میں اس بات کے لیے بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اسلام کے بارے میں میری غلط فہمیاں رفع کردیں۔ آج تک مجھے اپنے متعلق یہ خیال رہا کہ میں سب سے زیادہ اسلام اور مسلمانوں اور ان کے تہذیبی مسائل کو جانتا ہوں۔ لیکن آپ نے مجھے بتایا کہ میں بہت کچھ نہیں جانتا۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’بیداری‘‘ حیدرآباد۔ مئی ۲۰۱۴ء)

3 Comments on اسلام اور تہذیبِ یورپ

  1. ڈاکٹر سباعی مرحوم بے شک ایک بڑے آدمی تھے ہمیں پوری طرح ان کے مقام کا اعتراف ہے مگر اس انٹرویو میں مرحوم جو رائے قائم فرما رہے ہیں اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہمارے ہاں بھی یہی مسئلہ ہے کہ بہت بڑے بڑے مخلص اہل علم جنہوں نے مغربی تہذیب کی مابعدالطبیعات کو مفصل نہیں پڑھا ہوتا وہ مدت العمر اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں جبکہ حقیقت یہی ہے کہ مغرب کی مادی ترقی اور اخلاقی تباہی لازم و ملزوم ہیں یا تو دونوں چھوڑ دیں یا پھر دونوں قبول کر لیں
    • ڈاکٹر سباعی مرحوم کے بارے میں تو میں نہیں جانتا کہ وہ مغرب کو کتنا جانتے تھے البتہ ایسے لوگوں سے بارہا ملا ہوں اور ملتا رہتا ہوں جن کو اتفاقاً مغرب میں آنے جانے کا موقع مل گیا ہے یا کچھ عرصہ مغرب میں قیام کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ وہ مغرب کے متعلق اظہارِ خیال اس طرح کرتے ہیں جیسے صحیفۂ آسمانی بیان کر رہے ہیں۔ لیکن اگر ان سے ذرا تفصیلی گفتگو کا موقع مل جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کسی معاشرے کے بارے میں رائے دینے کے لیے کن چیزوں کا جاننا یا کن چیزوں کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ ایشیاء سے مغرب جانے والوں کی غالب اکثریت مخصوص معاشی سرکل میں وقت گزارتی ہے ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ جس گھر میں وہ رہتے ہیں اس کے سامنے جو درخت لگا ہوا ہے اس کا نام کیا ہے۔ تفصیل کا موقع نہیں ورنہ کسی تیاری کے بغیر آپ کو پانچ دس صفحات میں تو ایسے لطیفے سنا سکتا ہوں جو مغرب میں رہنے والے بعض لوگوں سے میں نے سنے ہیں۔ جن سے محسوس ہوتا ہے مغرب کا مفکر تو بیوقوف ہے اس کو ہمارے مغرب پلٹ افراد کے سامنے بیٹھ کر ابتدائی دروس لینے چاہیے۔
      معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ آپ کی تحریر کا آخری فقرہ کسی کامیڈین کا لگتا ہے۔
      کسی قوم کی ترقی کے لیے کیا چیزیں ضروری ہیں اور کیا غیر ضروری ہے یہ جاننے کے لیے ایک تفصیلی مطالعہ کی ضرورت ہے۔ یونان، مصر، رومن ایمپائر اور مسلم دنیا کے دور عروج اور دورِ زوال کا جائزہ لیجیے کہاں سے عروج ہوا اور کب زوال کا آغاز ہوا۔ اگر یہ نہیں کرسکتے تو قرآن سے اقوام سابقہ کے حالات پڑھ لیجیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کا قیام اور مطالعہ کس نوعیت کا ہے۔ اگر آپ کا قیام مطالعہ و مشاہدہ امریکہ سے ہے تو آپ مغرب کے متعلق کوئی رائے دینے کے اہل نہیں امریکی تاریخ مختصر اور فلسفہ اتنا سطحی ہے کہ آپ کوئی مستند رائے نہیں دےس سکتے۔ ہاں اگر آپ نے برطانیہ، فرانس کے مفکرین کو پڑھا ہے تو شاید کوئی مستند بات کہہ سکیں۔ اگر ممکن ہو تو نیٹ پر 16ویں صدی کے کچھ امیجز تلاش کرلیں آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ آغازِ سفر میں معاشرت کیا تھی اور اب کیا ہے۔
      مادی ترقی کے لیے اخلاقی تباہی لازم و ملزوم نہیں۔ یہ بات عقلی اور نقلی طور پر غلط ہے۔
      ایک دعا ہمیں سکھائی گئی ہے
      رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
      کیا رائے ہے آپ کی حسنہ فی الدنیا کے لیے اخلاقی تباہی ہی لازم و ملزوم ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ ہمیں اسی کا حکم دے رہا ہے۔
      ارشد بیگ
  2. Zohurul Ehsan Siddiqi // July 19, 2014 at 6:37 am // Reply
    لاجواب بحث ہے۱۱۱۱

Leave a comment

Your email address will not be published.


*