Abd Add
 

جنوبی افریقہ میں اسلام کا فروغ

جنوبی افریقہ کے کالے باشندے افریقی مہاجر آبادیوں کے مذہب اسلام سے متاثر ہو کر بڑی تعداد میں مسلمان ہو رہے ہیں اور اس عیسائی اکثریت والے ملک میں لوگ اپنی مذہبی وابستگی کو آہستہ آہستہ تبدیل کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ نظر آئے گا‘ اگر آپ مردم شماری کے اعداد و شمار کو دیکھیں گے۔ ڈاکٹر شامل جیپی جو یونیورسٹی آف کیپ ٹائون میں ماہرِ تاریخ اسلامی ہیں‘ کا کہنا ہے کہ ’’اسلام بہت تیزی سے فروغ پارہا ہے بالخصوص کالوں کی آبادی میں‘‘۔ وسطی اور مغربی ایشیا سے آنے والے مہاجرین جنہیں اپنے ملک میں غربت کا سامنا تھا‘ اس براعظم کے اقتصادی پاور ہائوس سے استفادہ کے ساتھ ہی ایک نئے افریقی اسلام کا تعارف بھی کرایا جو جنوبی ایشیا کے کالے لوگوں سے زیادہ ہم آہنگ تھا‘ بہ نسبت اس اسلام کے جس پر ایشیا سے تعلق رکھنے والے لوگ عمل پیرا تھے۔ جیپی کا کہنا ہے کہ کالوں کی آبادیوں میں وہ اعتماد نظر آئے گا جو وہ اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں یعنی افریقی مسلم کا اعتماد‘‘۔ بقول جیپی ’’رنگ اب مختلف ہونے جارہا ہے۔ اسلام کے پیروئوں کا نسلی توازن حتمی طور سے تبدیل ہونے جارہا ہے۔

اس وقت کل آبادی ۰۰۰,۴۵۰ یا ۲ فیصد سے کم مسلمان ہیں‘ ان میں زیادہ تر ہندوستانی یا مخلوط رنگ والی برادریاں ہیں جو ان غلاموں یا سستی اجرت لینے والے مزدوروں کی نسل ہیں‘ جنہیں سابق برطانوی اورڈج استعماری حکومتیں جنوبی افریقہ میں لے کر آئی تھیں۔ عیسائی جنوبی افریقہ کی کل آبادی یعنی ساڑھے چار کروڑ کا ۸۰ فیصد ہیں۔ عیسائیت ابھی بھی جنوبی افریقہ کے کالوں کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ لیکن اس وقت ۷۵۰۰۰ افریقی مسلمان ہیں جبکہ اپارتھیڈ حکومت کے دور ۱۹۹۱ء تک یہ تعداد ۱۲۰۰۰ سے بھی کم تھی۔ یہ رپورٹ ہیومن رائٹس ریسرچ کونسل کی ہے جو کہ حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والا ایک ادارہ ہے۔

ابھی کالے افریقی مسلمان جنوبی افریقہ کے مسلمانوں کی کل آبادی کا صرف گیارہ فیصد ہیں اور آئندہ دو دہائیوں میں کالے مسلمانوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافے کی توقع ہے۔ کیپ ٹائون اسلامی کونسل آف سائوتھ افریقہ کے شیخ سفیر نجار نے رائٹر نیوز ایجنسی کو بتایا کہ کالے اور غیرکالے مسلمانوں کے مابین تفریق مٹ رہی ہے اور ہم ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ ۱۹۹۴ء میں جب اپارتھیڈ کا خاتمہ ہوا تو ہمارے درمیان قربت و مفاہمت کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ اپارتھیڈ حکومت میں ہمیں یہ اجازت نہیں تھی کہ ہم ایک دوسرے کی ثقافت سے مستفید ہو سکیں۔ لیکن اپارتھیڈ اختتام پر مسلمانوں اور افریقیوں کے درمیان بہت سی ثقافتی مماثلت پائی گئی۔ نجار کا کہنا ہے کہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگی مہم جس کا قائد امریکا ہے‘ نے افریقیوں کے مابین اسلام سے متعلق تجسس کا جذبہ پیدا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی پالیسی سے جو کام ہوا ہے وہ یہ کہ کالے عوام یہاں کے بہت ہوشیار ہو گئے ہیں اور اسلام میں غیرمعمولی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ باوجود اپنی بڑی تعداد کے جنوبی افریقہ کے مسلمان اپنے کو زیادہ ظاہر کرنا پسند نہیں کرتے اور عام سیاسی دھارا میں رہتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ نوے کی دہائی میں ایک لائق توجہ استثنیٰ اسلامی گروہ کی صورت میں بعنوان “People against gangsterism & drugs” سامنے آیا۔ یہ گروہ ایک ایسی مہم جوئی پر اتر آیا‘ جس میں کیپ ٹائون میں بم دھماکوں کے واقعات شامل تھے۔ یہ مہم اس وقت ختم ہوئی جب ۲۰۰۰ء میں پولیس کے ذریعہ اس گروہ کے متعدد سرغنوں کی گرفتاری عمل میں آئی اور ان میں سے بہتوں کو عدالت نے سزا دی۔

(بشکریہ: ’’محجوبہ‘‘۔ تہران)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.