اِخوان المسلمون کے لیے بڑھتی مشکلات

خلیجی مجلسِ تعاون کے ارکان نے ۹ دسمبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اجلاس کیا تو تمام رہنماؤں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔ سب کے خوش ہونے کا ٹھوس جواز بھی موجود تھا۔ قطر اور اُس کے پڑوسیوں کے تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں تھے۔ اِس بار جی سی سی کے سربراہ اجلاس میں تعلقات بہتر بنانے کی راہ ہموار ہوئی۔ عام طور پر یہ اجلاس کشیدہ سے ماحول میں ہوتا رہا ہے مگر اب کے کچھ مختلف تھا۔ اِس سے بھی بڑھ کر یہ ہوا کہ قطر کی حکومت نے بیشتر پڑوسیوں کا یہ مطالبہ تسلیم کرلیا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو تھوڑی غیر جارحانہ کرلے اور خطے کا سردار بننے کی کوشش نہ کرے۔

قطر نے ایک عشرے تک اِخوان المسلمون کی حمایت اور مدد کی ہے۔ اخوان المسلمون اور اس کے ہم خیال دیگر گروپوں کو قطری حکومت نے اپنے ارادوں کی تکمیل کے لیے درکار قوت کے طور پر دیکھا ہے۔ یہی سبب تھا کہ انہوں نے دس سال تک اِخوان اور اُس سے وابستہ تمام گروپوں کی کُھل کر حمایت بھی کی اور انہیں میڈیا پلیٹ فارم بھی فراہم کیا۔ مقصود صرف یہ تھا کہ پڑوسیوں کو ذرا دباؤ میں رکھا جائے۔ متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین نے قطر کی طرف سے اخوان المسلمون کی حمایت کو ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا ہے۔ ایک مرحلے پر قطری حکومت یہ بھی سمجھنے لگی کہ عرب دنیا کا مستقبل تبدیل کرنے کے لیے اخوان المسلمون اور اِس سے جڑے ہوئے دیگر گروپوں کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ اخوان المسلمون جس نوعیت کے سیاسی نظام کو شریعت کی روشنی میں درست سمجھتی ہے، اُسی کو قطری حکومت نے بھی درست سمجھنا شروع کردیا۔

جنوری ۲۰۱۱ء سے عرب دنیا میں عوامی سطح پر بیداری کی جو لہر پیدا ہوئی، اُس میں بھرپور طور پر بہتے ہوئے اخوان المسلمون نے تیونس اور مصر میں انتخابات جیت لیے۔ تیونس میں اخوان کو دوسری بار الیکشن جیتنے میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی اور مصر میں اُس کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ اخوان سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کو فوج نے ہٹاکر اقتدار پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ شام، لیبیا اور یمن میں بھی اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے گروپوں کی حمایت بڑھی۔ فلسطین میں اخوان سے نظریاتی ہم آہنگی رکھنے والے گروپ حماس نے ۱۹۹۰ء کے عشرے میں اسرائیل کے خلاف ہتھیار اُٹھائے اور پھر غزہ کی پَٹی میں اپنی حکومت بھی قائم کی۔ اِس عرصے میں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کے بینر تلے ترکی نے ترقی کی نئی منزلیں طے کیں۔ رجب طیب اردوان نے ایک نئے ترکی کی بنیاد رکھی۔ ترک سیاست اور ریاستی امور میں فوج کا عمل دخل غیر معمولی حد تک کم کردیا گیا اور یوں ایک ایسا ترکی سامنے آیا جو پورے خطے کے لیے ایک ماڈل اور بڑے بھائی کا درجہ رکھتا ہے۔ ترکی نے اسلامی دنیا کے بیشتر ممالک پر یہ بات واضح کردی کہ جدید دور میں بھی اسلام کے بنیادی اصولوں کو گلے لگاکر زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ اور یہ کہ طرزِ فکر و عمل میں لچک پیدا کرکے بہتر مقام تک پہنچا جاسکتا ہے۔

اِخوان نے عرب دنیا میں بیداری کی لہر سے جو سفر بہت تیزی سے شروع کیا تھا، وہ اب اُتنی ہی تیزی سے خاتمے کے نزدیک دکھائی دے رہا ہے۔ مصر میں اخوان کی حکومت کو فوج نے ختم کردیا اور اِس کے بعد سے اُس کے لیے حمایت میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ دوسری اہم تبدیلی یہ ہے کہ اخوان المسلمون کے پلیٹ فارم سے سیاست میں جس نوع کے ماڈل کو پوری قوت سے پیش کیا جاتا رہا ہے، اُس کی حمایت کرنے والی بیرونی قوتیں کم ہوتی جارہی ہیں۔ قطر کی طرف سے پسپائی اختیار کیے جانے کے بعد اب خطے میں اِخوان کی حمایت کرنے والا صرف ترکی رہ گیا ہے۔ ترکی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ خطے میں اُس کے کم ہی دوست رہ گئے ہیں اور اِس کا سبب یہ ہے کہ ترکی میں پایا جانے والا حکمرانی کا ماڈل بھی بہت حد تک سخت گیر اور مطلق العنان ہے۔

اِخوان کے لیے مشکلات کیوں بڑھیں؟ اس معاملے میں بہت حد تک الزام خود اِخوان کو بھی دیا جانا چاہیے۔ جب عرب دنیا سے استعماری اور نوآبادیاتی قوتوں کو نکالنے کی تحریک چلی تو اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے بہت سے گروپوں نے تشدد کی راہ پر گامزن ہونے کو ترجیح دی۔ اخوان کی قیادت نے اسلام کو اپنے لیے ماڈل بناکر چلنا گوارا کیا۔ اخوان کی مرکزی قیادت کے نظریات اور آئیڈیلز بہت حد تک اعتدال پسندانہ تھے۔ انہوں نے زندگی کے تقریباً تمام ہی مسائل کا حل اسلام کو قرار دیا۔ اخوان کے قائدین چاہتے تھے کہ کوئی بھی بڑی تبدیلی اندرونی طور پر یعنی اندر سے آئے، نظام مرحلہ وار تبدیل ہو اور ہتھیار اٹھانے سے بہت حد تک یا ممکنہ حد تک گریز کیا جائے۔

اخوان نے عرب دنیا میں عوامی سطح پر بیداری کی لہر کے سہارے اقتدار کے ایوان تک پہنچنے میں کامیابی تو حاصل کرلی مگر وہ بعض معاملات میں حقیقت کا اِدراک کرنے سے قاصر رہی۔ تیونس اور مصر میں انتخابات ہوئے تو لوگوں نے اخوان المسلمون کے حمایت یافتہ امیدواروں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ دونوں ممالک میں اخوان نے حکومت بنائی۔ یہ بہت اچھا موقع تھا۔ اخوان کی قیادت چاہتی تو بہت کچھ حاصل کرسکتی تھی۔ معاملات کو بہتر طور پر سمجھ کر اُنہیں درست کرنا اخوان کے لیے چنداں دشوار نہ تھا مگر قائدین فتح کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ مصر اور تیونس میں اخوان کو کامیابی اس لیے ملی کہ دیگر سیاسی جماعتیں کمزور بھی ہوچکی تھیں اور ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر لوگ اُن سے متنفر بھی تھے۔ ایسے میں ناگزیر تھا کہ نئی سوچ اپنائی جاتی۔ مصر اور تیونس میں اخوان کو بہترین متبادل سے زیادہ نئی سوچ کے طور پر اپنایا گیا تاکہ کچھ نیا سامنے آئے اور معاملات کو بہتر بنانے کی راہ ہموار ہو۔ اخوان کی قیادت میں اعتدال پسند عناصر پیچھے رہ گئے۔ انقلابی عناصر چاہتے تھے کہ سب کچھ راتوں رات ہوجائے۔ جو تبدیلی مرحلہ وار لائی جانی ہے، وہ تیزی سے لائی جائے اور یوں معاملات کو اِس طور نمٹایا جائے کہ کہیں کسی بہتری کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ عراق اور شام میں جو کچھ اکثریت رکھنے والے سُنّیوں پر بیت گئی تھی، اُس کی روشنی میں بہتر یہی دکھائی دیا کہ ہتھیار اُٹھائے جائیں۔ یہ سوچ مصر اور تیونس میں بھی کارفرما دکھائی دی۔ اِخوان اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں نے اقتدار ملنے پر انقلابی انداز اپنانے کی کوشش کی اور ناکامی سے دوچار ہوئے۔ شام میں جب خانہ جنگی شروع ہوئی، تب اخوان المسلمون اپوزیشن کے اہم گروپ کی حیثیت سے اجاگر ہوئی مگر اب اُس کے اثرات کا دائرہ بہت محدود ہے۔

اخوان کا مخمصہ بھی عجیب ہے۔ مغرب کی بیشتر قوتوں نے اخوان کے اعتدال پسند رویّے کو انقلابیوں کے مقابلے میں زیادہ قابلِ قبول پایا ہے مگر دوسری طرف عرب دنیا کی بیشتر حکومتیں اِس تنظیم کو خطرہ سمجھتی ہیں، کیونکہ اُنہیں یہ ڈر ہے کہ لوگ متبادل کے طور پر اِس کی طرف دیکھنے لگیں گے۔ مصر میں جو طبقہ چار عشروں سے اقتدار پر قابض رہا ہے، اُس نے اِخوان کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کیا۔ صدر محمد مرسی کو برطرف کرنے کے بعد اِخوان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ ہزاروں اب جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ تفتیش کے نام پر بھی بہت سے لوگوں کو پریشان کیا گیا ہے۔ مصر میں اخوان کی پوری قیادت کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ اخوان کے خلاف کارروائی کا اثر حماس پر بھی مرتب ہوا ہے۔

خلیجی ریاستوں نے بہت خاموشی سے اِخوان کے اثرات کم کرنے کی طرف توجہ دی ہے۔ انہوں نے اخوان کی حمایت کرنے والوں کی بھی کڑی نگرانی شروع کردی ہے۔ کوشش یہ ہے کہ خلیج کے پورے خطے میں اخوان کے اثرات کا دائرہ انتہائی محدود کردیا جائے۔ مصر کے بعد اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ مصر میں اخوان کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں نے مصر کی فوجی حکومت کی بھرپور حمایت اور مدد کی تاکہ اخوان کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ کم کیا جاسکے۔ دوسری طرف قطر اور دیگر ریاستوں پر بھی دباؤ بڑھایا گیا ہے کہ وہ اخوان کی حمایت اور مدد ترک کردیں۔ اِس پالیسی کو کامیاب بنانے میں خلیجی ریاستوں کو بہت حد تک مدد ملی ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں نے شام اور لیبیا میں اخوان کے مخالف گروپوں کی بھرپور مدد کی ہے۔ اخوان کو کمزور رکھنے کا یہ بھی ایک مؤثر طریقہ ہے۔

اخوان کے اثرات کا دائرہ محدود رکھنے سے متعلق اقدامات کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ قطر اور کئی دوسرے ممالک نے اخوان سے کنارا کش ہونے میں عافیت محسوس کی ہے۔ یمن اور دیگر ممالک میں شیعہ گروپوں کی پوزیشن مضبوط ہونے سے بھی اخوان کے اثرات محدود کرنے میں مدد ملی ہے۔ یمن میں شیعہ گروپوں نے اخوان کی حمایت یافتہ اصلاح پارٹی کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔

حمایت میں غیر معمولی کمی واقع ہونے سے اب اخوان کے لیے آپشن محدود رہ گئے ہیں۔ اب اس کے بہت سے کارکنوں اور رہنماؤں نے ترکی میں پناہ لی ہوئی ہے۔ بہت سوں نے بھیس بدل کر عراق اور شام میں ’’داعش‘‘ کو سہارا بنایا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ خلیجی حکمران اِس نتیجے کی خواہش نہ رکھتے ہوں۔

“The Muslim Brotherhood: Islamism is no longer the answer”.
(“The Economist”. Dec. 20, 2014)

Leave a Reply to Anonymous Cancel reply

Your email address will not be published.


*