اسرائیل کا ۶۰واں یوم ِپیدائش

واقعتاً وہ کیا کام تھا جو ۸۰ سالہ سابق امریکی صدر گزشتہ ماہ مشرقِ وسطیٰ کے گرد و پیش چکّر کاٹتے ہوئے انجام دے رہے تھے؟ جہاں تک اسرائیلی حکام کا تعلق ہے تو وہ انہیں سیدھی سادی زبان میں وبالِ جان ہی سمجھ رہے تھے۔

اشتعال انگیز عنوان کی حامل اپنی کتاب Palestine: Peace Not Apartheid تصنیف کرنے سے بہت پہلے جمی کارٹر اسرائیلی مقتدر حلقے کے اُن لوگوں کے درمیان ایک ناپسندیدہ شخصیت بن چکے تھے جو گفتگو کے ذریعہ تمام متعلقہ فریقین کے مابین منصفانہ حل تک پہنچنے کی طاقتور منطق پر اعتراض اٹھانے کا سلسلہ باقی رکھے ہوئے ہیں۔ کارٹر نے نیپال میں انتخابات کی نگرانی کے بعد جہاں انہوں نے فاتح مائو نوازوں کو دہشت گرد قرار دینے کی اپنے ملک کی حکمت عملی کو چیلنج کیا، اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں کا دورہ کیا۔ حماس سے متعلق ان کا رویہ کچھ زیادہ ہی محتاط تھا جس کی قیادت سے انہوں نے غزہ اور دمشق میں بات کی تھی۔ قیاس ہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں موردِ الزام ٹھہرایا ہے کہ وہ حماس کی تنہائی کو ختم کرنے کے درپے ہیں جو ان کے لیے قابل نفرت ہے۔ یہ ایک زاویہ ہے اس مسئلے کو دیکھنے کا بہرحال کارٹر کے دورے سے متعلق اس سے ذرا کم سطحی نقطۂ نظر یہ ہے کہ جناب کارٹر اس ماہ اسرائیل کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر اسے کوئی مناسب تحفہ پیش کرنا چاہتے تھے۔ ۱۴مئی ۱۹۴۱ء کو ڈیوڈ بن گورین نے آزادی کا اعلان کیا اور اس وقت سے لیکر اب تک یعنی ۶۰ سال کے پورے عرصے میں یہ یہودی ریاست گویا مستقل برسر جنگ ہے۔ اس صورت حال میں جو سب سے آئیڈیل تحفہ ہو گا وہ ایک پائیدار امن ہی ہو گا۔ اس امن کا امکان سالوں پر مشتمل مدت میں کم اور زیادہ ہوتا رہا ہے۔ لیکن کبھی بالکل معدوم نہیں ہوا ہے۔ لیکن اس کا حصول ہمیشہ مشکل ضرور رہا ہے جس کی کچھ وجہ تو اسرائیل کی اپنی عدم دلچسپی ہے کہ اس نے کبھی دل سے اسے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ آج اُس امن کا حصول آج سے بیس تیس سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے۔ اسرائیل کی بدقسمتی ہے، اس کے ہمسایوں کے لیے وجہ پریشانی ہے اور فلسطینیوں کے لیے وہ المیہ ہے جس کی شدت کبھی کم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ آج کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو معمولی مزاحمت کا راستہ بھی فلسطینی عربوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کو عظیم ترین فوائد سے ہمکنار کر سکتا تھا اگر یہ لوگ اپنے وطن کی تقسیم قبول کر لیتے جب اقوامِ متحدہ نے ۱۹۴۷ء میں اس کا اعلان کیا تھا۔ نظری طور سے یہ اعلان ایک ایسی فلسطینی ریاست کے ظہور پر منتج ہوتا جو اسرائیل سے بڑا ہوتا اور خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں ایک مہذب پڑوسی کی حیثیت سے باہم نشوونما اور ترقی کر سکتے تھے اگرچہ بہترین دوست اور جڑواں بھائی کی طرح یہ نہ بھی ہوتے۔ لیکن اُس وقت اسے بالکل مختلف انداز میں دیکھا گیا جیسا کہ بعد کے اسرائیلی کوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈتے دکھائی دیے کیونکہ یورپی اجنبی اُس نصف کو بھی ہتھیانے کی سازش کر رہے تھے جو پہلے مرحلے میں اُن کا نہیں تھا۔ اس خطِ استدلال کا صہیونیوں کی طرف سے جو معیاری جواب رہا ہے وہ اس دعوے پر مبنی ہے کہ یہودی آسمانی کتابوں کے مطابق وہ سرزمین جسے وہ ارضِ اسرائیل کے نام سے جانتے ہیں اسرائیلیوں کو خدا وند قادر متعال کی طرف سے ہمیشہ کے لیے دے دی گئی ہے اور یہ کہ ۱۹۴۸ء میں یہودیوں کے وطن کا ظہور ہزار سال قبل یہودی قبائل کی بے دخلی کے نتیجے میں ہے۔ نہ تو تمام یہودی اور نہ ہی تمام صہیونی اس تعبیر پر اصرار کرتے ہیں۔ بلکہ ڈھکے چھپے لفظوں میں اور کبھی واضح طور پر بھی بادی النظر میں اس دعوے کی نامعقولیت کا اعتراف کرتے ہیں۔حتیٰ کہ بہت سارے اسرائیلی مورخین بھی اسے کوئی سنجیدہ بات نہیں سمجھتے کہ ان کے موجودہ ہم وطن واقعتاً اُن لوگوں کی نسلیں ہیں جنہیں بائبل میں مذکورہ خروج (Exodus) کے دوران اس مقدس سرزمین سے نکال دیا گیا تھا۔ ان میں سے بہت سارے لوگ پھر بھی یہودیوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے حق کی وکالت کرتے ہیں محض اس بناء پر کہ وہ دنیا کے مختلف حصوں میں بالخصوص یورپ میں منظم انداز کے ظلم و ستم اور رسوائیوں سے دوچار رہے ہیں۔ آخری حل جسے اڈولف ہٹلر اور نازیوں نے تیار کیا تھا وہ غیرمتوقع نہیں تھا۔ اسے ناپسندیدہ رجحان کی ناخوشگوار انتہا کہا جا سکتا تھا۔ جنگ کے بعد قدرے تاخیر سے ہی سہی ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہونے والا مغرب اسرائیلی قومیت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے حوالے سے باز رہا۔ اس عمل میں وہ فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کر دینے پر آمادہ تھا جو یورپ کی جانب سے یہودیوں کی نسل کشی میں کسی بھی طرح سے شریک نہیں تھے۔ جب ۱۹۱۷ء میں بالفور اعلامیہ سامنے آیا تو فلسطین میں جو اس وقت برطانوی انتداب کے تحت تھا ایک یہودی ریاست کی تشکیل کے امکان کو اس اعلامیہ کے مطابق ایسی صورت میں حقیقت کا روپ دھارنا تھا کہ جس میں اس سرزمین میں موجود عرب باشندوں کے حقوق پر کوئی آنچ نہ آئے۔ ۳۰ سالوں بعد ان حقوق کی پاسداری اہم خیال نہیں کی جانے لگی۔ مزید یہ کہ ۶۰ سالوں میں اس زمینی تناسب کا جو اقوام متحدہ کا مقرر کردہ تھا کبھی خیال نہیں آیا۔ حتیٰ کہ زیادہ تر فلسطینیوں نے ان تازہ دہائیوں میں صرف اُن علاقوں پر خود مختاری کا علاوہ کچھ نہیں چاہا جن کو اسرائیل نے ۱۹۶۷ء میں پیشگی حملے کے نتیجے میں ۲۰ سال قبل اپنے قبضے میں لے لیا تھا یعنی مغربی کنارہ اور غزہ پٹّی جنہیں اردن اور مصر نے باالترتیب اپنے سے ملحق کر لیا تھا۔ جزوی طور سے پروپیگنڈہ محاذ پر اسرائیل کی کامیابیوں کا نتیجہ تھاکیونکہ ۱۹۴۷ء کی اسرائیل فتوحات اب متنازعہ نہیں رہ گئی تھیں جبکہ بیشتر اسرائیلی مورخین کھلے عام یہ اعتراف کرتے ہیں کہ صہیونی قیادت کی کبھی یہ نیت نہیں رہی کہ وہ قومی سرحدوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی تجاویز پر عمل کرے۔ اس کی دشواری عرب ہمسایوں کے فوجی اقدامات کی وجہ سے آسان ہو گئی اس معنی میں کہ اس وقت جو فتوحات اسرائیل کو حاصل ہوئیں اُس پر شاید ہی کبھی سوال اٹھایا گیا۔ اسرائیل اس کے بعد سے روایتی جنگ میں اپنی فوجی برتری کے اظہار میں کامیاب رہا۔ دوسری طرف چھاپہ مار اور بے ضابطہ جنگیں اس کے لیے نقصان کا باعث بنتی رہیں لیکن تزویراتی اعتبار سے یہ اس کے فائدے اس طرح رہیں کہ اس صورت میں یہ اپنے آپ کو مظلوم ثابت کر سکا۔ غزہ جسے چند سال قبل خود مختاری دے دی گئی ہے پر اسرائیل کے تازہ حملوں کی وجہ یہاں سے اسرائیلی شہروں مثلاً صیدوت وغیرہ میں راکٹ حملے بیان کی جاتی ہے۔ اس ابتدائی قسم کے اسلحے سے کوئی جانی نقصان وغیرہ تو نہیں ہوتا مگر اس کے جواب میں کثرت سے اسرائیل کی فوجی کارروائیاں ہلاکتوں کا سبب بنتی ہیں اور اسرائیل کی جانب سے برسائے جانے والے جدید ترین میزائل بھی جنگجوؤں اور بچوں میں تمیز نہیں کر پاتے۔ فلسطینی بم اور اس سے بھی زیادہ خطرناک خود کش بمبار بھی جارح اور معصوم لوگوں کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ بہرحال یہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ دہشت گردی صہیونیوں کے اسلحہ خانوں میں ۱۹۴۸ء کے بعد سے ہی ایک اہم اسلحہ کے طور پر رہی ہے اور اس کے کئی دہشت گرد رہنما بعد میں ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر بھی فائز ہوئے۔ اسی طرح یاسر عرفات کے تئیں اسرائیل کی طرف سے نفرت کا اظہار بھی ایک طرح کی منافقت ہی تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ عرفات اُن لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ۱۹۷۳ء کی جنگ یوم کِپّور کے اثرات کے نتیجے میں ایک فلسطینی قیام کی تمام تر آرزوؤں کو ترک کر دیا تھا جنہیں ان کے عرب ساتھیوں نے جلا بخشی تھی۔ ابومازن جو حالیہ صدر محمود عباس کا عرفی نام ہے اور ابوجہاد کے ساتھ وہ بھی اس کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے پر تیار تھے بشرطیکہ اسرائیل انہیں غزہ پٹی اور مغربی کنارہ پر مشتمل ایک خود مختار ریاست قائم کرنے کی اجازت دے۔ اسرائیلی حکام اس سے اچھی طرح باخبر تھے کم از کم ان مستقل رابطوں کے نتیجے میں جو فلسطینیوں اور صہیونی امن پسندوں (ضروری نہیں ہے کہ صہیونیت کے ساتھ امن پسندی بالکل ہی متصادم ہو) مثلاً سیاستدان اور سیاسی کارکن Uri Avnery اور سابق جنرل Matti Peled وغیرہ کے مابین رہے ہیں۔ ان روابط کی دلچسپ روداد Avnery نے اپنی کتاب MyEnemy, My Friend میں بیان کی ہے جس کی یاسر عرفات سے براہِ راست ملاقات ۱۹۸۲ء میں ہوئی تھی جب پی ایل او کا محاصرہ اسرائیلی فوج اور مغربی بیروت میں اس کے اتحادیوں نے کر رکھا تھا۔ اس روداد کے مطابق مصالحت کی کوششیں بارہا ناکام ہونے کی اصل وجہ امریکی و اسرائیلی قیادت کی ہٹ دھرمی تھی۔ اسی دوران اس کے جن لوگوں سے ابتدائی روابط تھے یعنی سعید حمامی اور عصام سرخاوی ابوندال گروپ کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے۔ خاص طور سے حمامی اس بات پر مطمئن تھا کہ ابوندال موساد کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ ۸۰ سالہ Avnery جو اسرائیل میں ایک شریفانہ آواز ہے گو کہ اس پہلو سے شک میں مبتلا ہے لیکن بہرحال یہ بات ضرور مانتا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی انتہا پسند ایک دوسرے کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ۸۰ کی دہائی کو یاد کرتے ہوئے وہ امید کے بعض پہلو کو اجاگر کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ لبنان کے صابرہ اور شتیلا پناہ گزین کیمپوں میں قتل عام پر مشرق وسطیٰ میں جو عظیم ترین مظاہرے ہوئے وہ اسرائیل میں ہوئے۔ اب وہ ناامیدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ حماس رہنما محمود ظہار جو فلسطین کے وزیر خارجہ تھے یہاں تک کہ مغربی کنارے سے حماس کی منتخب حکومت بے دخل کر دی گئی اور جس کا ایک بیٹا ابھی حال ہی میں اسرائیلی گولیوں سے شہید ہوا ہے، چند سال پہلے تک ایک پرامن کارکن تھا اور جسے اسرائیلی اور فلسطینی پرچم ساتھ ساتھ لہرائے جانے میں کوئی اعتراض نہ تھا۔

Avnery بجا طور سے موجودہ پیش رفت کا الزام اسرائیلی حکومت پر رکھتا ہے جس نے فلسطینیوں کی چھوٹی دہشت گردیوں کے جواب میں بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنائے رکھا ہے۔ گزشتہ ماہ ایونری نے یہ لکھا کہ ’’اگر اس طرح کا شخص ایک انتہائی انتہا پسند رہنما ہو رہا ہے تو یہ بلا شبہ غاصبانہ قبضے کا نتیجہ ہے۔ اس سے یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو جاتی ہے۔۔۔ کہ ظلم جو حماس کو تباہ کرنے کے لیے اپنایا گیا تھاٹھیک اس کے برعکس نتیجے کا حامل ہوا۔ یہ ایک طرح سے اسرائیلی تاریخ کا خلاصۂ بیان ہے۔ حماس کا ظہور جسے فراموش کرنا آسان نہیں پی ایل او سے اسرائیلی معاملات کا نتیجہ ہے۔ اس لیے کہ یاسر عرفات اور اس کے ساتھیوں کی مصالحانہ روش جن فوائد کی جانب متوجہ کر رہی تھی وہ فلسطینیوں کے لیے بہت معقول متبادل نہیں تھے۔ ۷۰ کی دہائی کے اواخر میں جو انور سادات کا اقدام تھا اس کا نتیجہ صفر نکلا اس لیے کہ وہ اپنے عرب ساتھیوں کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہے۔ دوسری کیمپ ڈیوڈ کانفرنس جو ۲۰۰۰ء میں منعقد ہوئی ناکام ہو گئی کیونکہ یاسر عرفات نے ایک ’’فضولستان‘‘ کی صدارت قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے متعلق بجا طور سے خیال کیا گیا تھا کہ یہ اسرائیل کے ہم پلہ ایک فلسطینی ریاست نہیں ہو گی۔ سب سے بڑی پیشکش ایہود بارک کی تھی جس میں مغربی کنارہ کے ۹۰ فیصد سے زائد حصے شامل تھے۔ لیکن بقیہ حصے زندگی کی نالیوں کے مانند تھے کہ جن پر اسرائیلی کنٹرول سے فلسطین کی آزادی بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتی۔ اگر یاسر عرفات اس غیرمنصفانہ حل کو تسلیم کر لیتے جس کی ثالثی بل کلنٹن کر رہے تھے تو اس بات کا بہت امکان تھا کہ یاسر عرفات کی شخصیت جو حق خود ارادیت کی جدوجہد کی علامت تھی کے دن گنے جا چکے ہوتے۔ اور ایسا بلا وجہ نہیں ہوتا۔ اس سے بھی بڑا ایک اور مذاق یہ ہے کہ اس کے بعد کی اسرائیلی انتظامیہ جس کا سربراہ ’’کوما زدہ‘‘ ایریل شیرون تھا، نے عرفات کے ساتھ گفتگو سے انکار کر دیا اور جارج ڈبلیو بش نے بھی اسی روش کی تقلید کی، اس بات کے پیش نظر کہ عرفات کے ساتھ مصالحت دو ریاستی حل کے لیے آخری موقع ہے جو شاید فلسطینیوں کی اکثریت کے لیے قابل قبول ہو۔

عباس کچھ زیادہ لچکدار ثابت ہو سکتا تھا لیکن فلسطینیوں میں اس کی عزت عرفات جیسی نہیں تھی اور بعض حماس رہنما گزشتہ ماہ بش اور اس کے معاونین کے ساتھ عباس کی ملاقات سے پہلے ہی اسے غدار قرار دے چکے تھے۔ عباس نے کہا کہ ’’میں نہیں کہہ سکتا کہ امن کا راستہ پھولوں سے سجا ہے‘‘ یہ ایک بہت ہی کمزور بیان تھا اس ملاقات کے بعد۔ اس دوران بش نے ایک قابلِ عمل ریاست کی بات کی: ’’ایک ایسی ریاست جو سوئٹزرلینڈ کے پنیر کی مانند نہ ہو بلکہ ایک ایسی ریاست ہو جس سے امید پھوٹتی ہو‘‘۔ (’’اب تو وہ لوگ بھی کہہ رہے ہیں جو بہت زیادہ ذہین نہیں ہیں کہ قبضے کا سلسلہ رکنا چاہیے‘‘ یہ تبصرہ پیانسٹ اور کنڈکٹر Daniel Barenboim کا ہے جو دنیا کا پہلا شخص ہے جس کے پاس بیک وقت اسرائیل اور فلسطین دونوں کے پاسپورٹس ہیں)۔ عراق اور افغانستان میں بش کی پالیسی تباہ کن ثابت ہونے کے بعد اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ میں مصالحانہ روش سے کام لینا چاہ رہے ہوں جو بعد میں ان کی ایک روایت کے طور پر متعارف ہو سکے۔ لیکن اگر وہ اس معاملے میں واقعتاً سنجیدہ ہوتے تو اپنی انتظامیہ کو ریگن اور کلنٹن حکومتوں سے بڑھ کر انتہا پسند صہیونیوں سے مربوط ہونے کی اجازت نہ دیتے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کا حلقہ انتخاب جو مسیحی ایوانجلسٹوں پر مشتمل ہے اس نقطۂ نظر کا حامل ہے کہ مشرق وسطیٰ میں یہودی قوم کی بالادستی آرما جیڈون کے لیے ایک پیشگی شرط ہے۔ جیسا کہ John Mearsheimet اور Stephen Walt نے اپنی مابہ الامتیاز کتاب The Israel Lobby میں یہ نشاندہی کی ہے کہ صہیونی منصوبے کے خود ساختہ محافظین کیپیٹل ہل پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔ (نتیجتاً اسرائیل کے جوہری بم کی ٹیکنالوجی سے متعلق کبھی کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا اس کے باوجود کہ متعلقہ علم اور عین ممکن ہے کہ ضروری مواد بھی اپارتھیڈ کے دور کے جنوبی افریقہ کو اس نے فراہم کیا۔ یہ دریافت خالی از دلچسپی نہ ہو گی کہ آیا ٹیکنالوجی کی یہ منتقلی جو مکمل طور سے غیرقانونی تھی واشنگٹن کی باضابطہ منظوری سے عمل میں آئی تھی؟) ناگزیر طور سے ان کی اس علمی مساعی کو ’’یہودی مخالف‘‘ مساعی سے معنون کیا گیا ہے۔ متعدد عوامل میں سے ایک عامل جو ان کی تحقیق کی تصدیق کرتا ہے یہ ہے کہ ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار بارک اوباما اپنے آپ کو Mearsheimer سے دور رکھنے پر مجبور پاتے ہیں اس کے باوجود کہ ان دونوں کی ماضی میں بہت اچھی شناسائی رہی ہے۔ اوباما نے فلسطینی ڈائسپورا سے بھی دوری اختیار کر لی ہے جن کی تقریبات میں شرکت کو بطور ریاستی قانون ساز وہ فوراً قبول کر لیا کرتے تھے۔

لیکن مذکورہ بالا لابی کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے جو اوباما سے شدت سے تقاضا کرتی رہی ہے کہ اسے خارجہ پالیسی مشیر Zbigniew Brzezinski جیسا غیرضروری کام کرنا چاہیے۔ بریزنیسکی اتفاق سے کارٹر انتظامیہ میں ردعمل دکھانے والے عناصر میں سے ایک تھا جس نے ایسے ہی بنیادوں پر یہ ضروری خیال کیا کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر Andrew Young جو مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے سابق شریک کار رہے ہیں کو فلسطینیوں کے ساتھ غیرقانونی روابط کی وجہ سے برطرف کر دیا جائے۔ بہرحال ہیلری کلنٹن کے برعکس اوباما نے ایران کو اسرائیل کے خلاف اس کے غیرامکانی جوہری حملے کے جواب میں مکمل طور سے تباہ کر دینے کی قسم نہیں کھائی ہے۔ اپنے حریفوں کے برعکس اوباما نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ عراق اور شام کی قیادت سے گفتگو کریں گے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ اپنی اس گفتگو کا دائرہ حماس تک وسیع کر دینے کی خواہش کریں اور اس کے ذریعہ وہ اسرائیل کو ایک عجیب و غریب صورت حال سے دوچار کر دیں گے۔ کارٹر کے دورے کے بعد حماس نے عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی تھی اس شرط پر کہ اسرائیل اس کے جواب میں غزہ پر سے مہلک اور نسل کش اپنے محاصرہ کو اٹھا لے۔ حماس کو اس کے لیے بھی تیار کیا کہ وہ اسرائیل کو عملاً نہ کہ باضابطہ تسلیم کر لے۔ یقیناً ان اقدامات کو بے وقعت، بے معنی اور معمولی رعایتیں خیال کرنا آسان ہے۔ ایسی کسی پیشکش کے لیے مزید ہمت اور پیش بینی کی ضرورت ہے کہ جسے حماس کے لیے انکار کرنا مشکل ہو جائے۔ اسرائیل ایک پائیدار امن معاہدے میں جو کچھ مدد کر سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ وہ تمام نو آباد بستیاں جو گزشتہ ۳۰ سال سے زائد کے عرصے میں مغربی کنارہ میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی جاتی رہی ہیں کو کلیتاً منہدم کر دے۔ لیکن وہ اس حد تک جانے کو تیار نہیں ہے لیکن فلسطینیوں سے یہ توقع ضرور رکھتا ہے کہ ۱۹۶۷ء میں جو کچھ اس نے قبضہ کیا تھا اس کی مسخ شدہ شکل کو وہ قبول کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ یہی وہ رویہ ہے جو دو ریاستی حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ خیالی منصوبہ کی رو سے تو واحد سیکولر ریاست کا حل قدرے بہتر ہے جس میں یہودی، مسلمان، عیسائی بغیر کسی تفریق کے ایک ساتھ رہ سکیں۔ لیکن کثرتِ معقولیت پر اعتماد جس کے دونوں جانب غالب رہنے کا امکان ہے ایک عمومی سی کوشش ہو گی۔

اگرچہ اسرائیلیوں کی اکثریت یہودی مذہب سے خصوصی وابستگی نہیں رکھتی ہے لیکن ان میں سے بیشتر لوگ یہودیوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے خیال سے اب بھی وابستہ ہیں اس کے باوجود کہ بہتیرے لوگ ’’سرزمین تعبیر مردم برائے مردم بغیر سرزمین‘‘ کے واہمہ کو دوام بخشنا نہیں چاہتے ہیں۔ گولڈامیئر کے وقت سے ہی شاید ہی کسی نے یہ بیہودہ دعویٰ کرنے کی جرات کی ہو کہ فلسطینی قوم نامی کوئی چیز اپنا وجود نہیں رکھتی۔ حتیٰ کہ وزیراعظم ایہود اولمرٹ کو بھی اس سچائی کا سامنا کرنا پڑا کہ اسرائیل کی بقاء دو ریاستی حل سے مشروط ہے۔ بہرحال اس کے باوجود اس میں اتنا تپّڑ نہیں ہے کہ فلسطینی سرزمین پر مزید ہونے والی تجاوزات پر تعمیرات کو روک دے۔ اس دوران اسرائیل کے نائب وزیر دفاع Mactan Vinai حماس کے مزاحمت کاروں کو غزہ پٹی میں ایک عظیم ترین شعاح (Shoah) کی دھمکی دی ہے۔ غور کیجیے! شعاح ایک عبرانی لفظ ہے جو عام طور سے ہالوکاسٹ کے مفہوم کے لیے مخصوص ہے۔ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ وینائی کا اس طرح کا ارادہ ہو لیکن دوسرے اسرائیلیوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ان کی قوم کا فلسطینیوں کے تئیں رویہ یہودیوں کے ساتھ نازیوں کے رویہ سے مشابہ ہے۔ یہ دعویٰ جارحانہ ہو گا مگر غیرحقیقت پسندانہ نہیں ہو گا کہ اسرائیلی برتھ ڈے کیک پر ۶۰ موم بتیاں سواستیکا کی شکل کی تھیں۔ متعدد وجوہات ہیں حماس کی پریشانی کی۔ مثلاً یہ کہ دہائیوں پر محیط اس عرصے میں فلسطینیوں کے سیاسی و عسکری نمائندوں نے بہتیری غلطیاں کی ہیں۔ ان کی غلطیوں کی شدت اسرائیلی مظالم کی وجہ سے ماند پڑ گئیں۔ اپنے وجود کے ۶۰ سالوں بعد اسرائیل بظاہر ختم تو نہیں ہو سکتا۔ اس کے شہریوں کے لیے سب سے عمدہ برتھ ڈے تحفہ واضح طور سے امن پیکیج ہی ہو گا۔ لیکن یہ آسمان سے ازخود تو نہیں ٹپکے گا اس کے لیے اسرائیل کو اپنے بازو پھیلانے ہوں گے اور اس کا پرتپاک استقبال کرنا ہو گا۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’نیوز لائن‘‘ کراچی۔ شمارہ: مئی ۲۰۰۸ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*