اسرائیلی عرب بھی غربِ اردن کے فلسطینیوں کی طرف دیکھنے لگے!

اسرائیل میں آباد مسلمان اور بالخصوص عرب باشندوں نے بھی اب محسوس کرنا شروع کردیا ہے کہ وہ اکیلے رہ گئے ہیں۔ اس احساس سے چھٹکارا پانے کے لیے انہوں نے غرب اردن کی طرف دیکھنا شروع کیا ہے۔ اسرائیل میں عرب باشندوں کی اکثریت والے شہر نزارتھ نے حال ہی میں غربِ اردن میں حکومت کے مرکز رام اللہ سے معاہدہ کیا جس کے تحت دونوں شہروں کو جڑواں قرار دیا گیا ہے۔ رام اللہ نے کئی ممالک کے شہروں کے ساتھ دوستی اور مفاہمت کے معاہدے کیے ہیں مگر نزارتھ کا معاملہ بہت مختلف ہے کیونکہ یہ اسرائیل کا شہر ہے۔ رام اللہ اور نزارتھ کو جڑواں قرار دینے سے متعلق منصوبے کے روح رواں ماہا شہادۃ کہتی ہیں کہ رام اللہ اور نزارتھ کے درمیان دوستی اور تعاون کے معاہدے کا ایک اہم نتیجہ یہ برآمد ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا شرف پانے والا شہر محض زیارت گاہ کے درجے سے بلند ہوکر سیاحتی مرکز میں تبدیل ہوگا۔ اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر، حکام کو یقین ہے کہ یہ معاہدہ فلسطین کو دوبارہ جوڑنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ ماہا شہادۃ کہتی ہیں ’’ہم دوبارہ ایک دوسرے سے جڑنا چاہتے ہیں۔ فلسطینیوں کو ایک دوسرے کے قریب آنا ہے تاکہ قربت کا احساس ہو اور ہم متحد ہوکر رہیں‘‘۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے معرض وجود میں آنے سے قبل یہ پورا علاقہ ایک تھا اور فلسطینی کہیں بھی بلا روک ٹوک جاسکتے تھے۔ نزارتھ کے میئر رامیز جیریسی کہتے ہیں ’’رام اللہ اور نزارتھ فلسطینی شہر ہیں۔ انہیں سیاسی و جغرافیائی تبدیلی نے الگ کردیا ہے۔ ہم اسرائیل کے شہری ضرور ہیں مگر ہماری شناخت عرب و فلسطینی ہے‘‘۔

فلسطینی باشندے ماضی میں اپنے ان بھائیوں کو سازشی سمجھتے رہے ہیں جو اسرائیل کی حدود میں آباد ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی عربوں کو تل ابیب حکومت بھی غیر وفادار سمجھتی رہی ہے جس کے باعث وہ مستقل خوف کے سائے میں رہے ہیں۔ ۱۹۴۸ء کے بعد سے اب تک اسرائیل میں آباد عرب باشندوں کی تعداد دس گنا یعنی پندرہ لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔ اور دوسری طرف ان میں اعتماد بھی غیر معمولی حد تک بڑھا ہے۔

اسرائیل میں آباد عرب باشندے سیاسی طور پر خود کو تنہا اور الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔ ان کا شکوہ ہے کہ اسرائیلی حکومت انہیں اپنا نہیں سمجھتی اور مکمل طور پر نہیں اپناتی۔ کابینہ میں عربوں کی نمائندگی صفر ہے۔ اسرائیل میں آباد عرب باشندوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اسرائیل کو خالص یہودی ریاست دیکھنا چاہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اسرائیل میں حقیقی جمہوریت پنپ نہیں سکی اور وزیر خارجہ ایوگڈور لیبرمین اسرائیل سے وفاداری کا ایک ایسا معیار اپنے ذہن میں رکھتے ہیں جس کی روشنی میں بیشتر عرب باشندے اسرائیل کی شہریت ہی سے محروم قرار دیے جاسکتے ہیں۔ اسرائیل کی سپریم کورٹ کو لبرل ازم کی علمبردار قرار دیا جاتا ہے مگر اسرائیل کے عرب باشندوں کو اس پر بھی زیادہ اعتبار نہیں کیونکہ اس نے حال ہی میں عرب باشندوں اور غزہ و غرب اردن سے تعلق رکھنے والی ان کی بیویوں کے ساتھ رہنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

ماضی میں جو لوگ اپنے آپ کو اسرائیلی عرب کہتے تھے ان میں بیشتر اب خود کو اسرائیلی شہریت والے فلسطینی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اسرائیلی عرب لیکچرر اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد خود کو غرب اردن کے تعلیمی اداروں میں رجسٹر کرا رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے عرب باشندوں کو جب سے غرب اردن جانے کی اجازت دی ہے وہ خریداری اور کھانے پینے کے لیے باقاعدگی سے وہاں جانے لگے ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسیٹ کے عرب ارکان اور فلسطینی مجلس قانون ساز کے ارکان نے حال ہی میں ایک اجلاس کیا جس میں اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ مستقبل میں کس طور وہ اپنی مشترکہ قومی شناخت کی مدد سے ایک سیاسی اکائی تشکیل دے سکتے ہیں۔

اسرائیل کے اسٹریٹجک آپشنز کے تازہ ترین جائزے ’’اسرائیلی اسٹیٹ کرافٹ۔ نیشنل سیکورٹی چیلینجز اینڈ ریسپانسز‘‘ میں اسرائیلی حکومت کے سابق مشیر یزکل درور نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف صہیونی ریاست کے گن گانے والے اسرائیلی قومی ترانے میں فلسطین سے متعلق ایک مصرع کا اضافہ کرے اور قومی پرچم میں ستارہ داؤدی کے پہلو بہ پہلو ہلال بھی شامل کیا جائے۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘ لندن۔ ۲۵ فروری ۲۰۱۲ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*