Abd Add
 

کم جونگ نام ’’وی ایکس‘‘ کا نشانہ کیسے بنے؟

ملائیشیا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کو اعصاب شکن زہریلے مادے ’’وی ایکس‘‘ سے ہلاک کیا گیا۔ اس مادے کو اقوامِ متحدہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے زمرے میں شمار کرتی ہے۔ رینڈ کارپوریشن کے ساتھ کام کرنے والے دفاعی ماہر بروس بینیٹ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ وی ایکس مادہ کیسے کام کرتا ہے؟

وی ایکس ایک غیر معمولی تباہ کن کیمیائی ہتھیار ہے اور اس کا ایک قطرہ بھی انسانی جلد پر گرنے سے انسان مر سکتا ہے۔ یہ کیمیکل جلد کے راستے انسانی جسم میں داخل ہو کر نظامِ اعصاب کو تباہ کر دیتا ہے۔ وی ایکس تیل کی طرح کا مادّہ ہے اور عام طور پر پانی میں اچھی طرح حل نہیں ہوتا، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسے حملہ آوروں نے خود کو بچاتے ہوئے کیسے کم جونگ نام کے جسم میں داخل کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ وی ایکس کو اس طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کے بیانات حملے کے منظر کو واضح طور پر بیان نہیں کرتے۔ دو خواتین ان پر حملہ کرتی دکھائی دیتی ہیں اور ان میں سے کم از کم ایک کپڑے سے کم کا چہرہ بھی پونچھتی ہے۔

ملائیشیا کے تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ دو خواتین نے اپنے ہاتھوں پر زہریلا مادہ ملا اور پھر ان ہاتھوں سے کم کا چہرہ پونچھ دیا لیکن اگر ایسا ہوتا تو وہ دونوں بھی اسی وقت مر چکی ہوتیں۔ اس لیے اگر کم پر کوئی مائع چھڑکا گیا یا ان کے منہ پر ملا گیا تو غالب امکان یہی ہے کہ کم از کم اس میں وی ایکس نہیں تھا۔ اس سے یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ جن خواتین نے کم پر حملہ کیا، وہ ہاتھوں پر مائع لگنے کے باوجود ہلاک نہیں ہوئیں۔ تاہم ہم یہ جانتے ہیں کہ اس حملے کے بعد سے دونوں حملہ آور خواتین میں سے ایک مسلسل الٹیاں کر رہی ہے۔

اس صورتحال میں بظاہر لگتا یہی ہے کہ جس کپڑے سے کم کا چہرہ صاف کیا گیا، اُس پر وی ایکس کی بہت کم مقدار، جو ممکنہ طور پر صرف ایک قطرہ بھی ہو سکتی ہے، موجود تھی۔

لیکن یہ کام کسی بھی طرح آسان نہیں تھا۔ مجرموں نے اس کی مشق کی ہو گی کہ قطرہ کم کو چھوئے لیکن وہ خود اس سے محفوظ رہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ مجرموں نے ۱۳؍فروری سے پہلے شاپنگ مالز میں اس کام کی مشق کی ہوگی۔

جیسے ہی اس قطرے نے کم جونگ نام کی جلد کو چھوا ہوگا، وہ ان کے نظامِ اعصاب پر اثرانداز ہونا شروع ہوا ہوگا۔ اس سے ایسے ہی اثرات سامنے آتے جو کہ رپورٹ کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہے ہوں گے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کی حکومت کا خیال ہوگا کہ وہ کم جونگ نام کے جسدِ خاکی پر دعویٰ کر کے پوسٹ مارٹم سے بچ جائیں گے اور بیرونی دنیا کو پتا نہیں چل سکے گا کہ کیا ہوا۔ تاہم ملائیشیا نے پوسٹ مارٹم پر شدید اصرار کیا اور شمالی کوریا اسے روکنے میں ناکام رہا۔ اس تنازع کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ خیال رہے کہ ملائیشیا دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے، جس کے شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔

تو آخر وی ایکس ملائیشیا کیسے لے جایا گیا ہوگا؟

کسی کو ہلاک کرنے کے لیے اس مادے کی درکار مقدار اس قدر کم ہے کہ اسے کسی قلم یا ایسی چھوٹی سی چیز میں ڈال کر ملک میں لے جایا جا سکتا ہے۔ سکیورٹی حکام کو تب تک اس کے بارے میں پتا نہیں چلا ہوگا، جب تک انھیں اس حوالے سے کوئی مخبری موصول ہوتی اور ظاہر ہے اس معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔ اس بات کا امکان کم ہے کہ وی ایکس کو ملائیشیا میں ہی بنایا گیا ہو۔ یہ ایسی چیز نہیں جو گھر پر بنائی جا سکتی ہو۔ یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ شمالی کوریا نے وی ایکس بنائی تھی یا کسی دیگر ملک سے خریدی تھی۔ وی ایکس کا ایک امریکی اور ایک روسی ورژن ہے اور یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کون سا ورژن استعمال کیا گیا۔ دونوں ورژن میں فرق کرنے کے لیے ایک پیچیدہ لیبارٹری تجزیہ درکار ہے، اور ممکن ہے کہ یہ اب تک کر بھی لیا گیا ہو۔

وی ایکس ایک انتہائی مستحکم مائع ہے اور تیل کی طرح یہ جلد بخارات میں تبدیل نہیں ہوتا۔ اسی لیے یہ کپڑے پر محفوظ تھا۔

مگر وی ایکس کا اس طرح استعمال عالمی روایات اور قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے اور چونکہ اسے ایک غیر ملک میں استعمال کیا گیا، اسی لیے ملائیشیا اور دیگر ممالک اس پر انتہائی نالاں ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اس سارے معاملے پر چین کا ردعمل کیا ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق کم جونگ نام کو چین تحفظ فراہم کر رہا تھا۔

اگر شمالی کوریا نے بین الاقوامی قوانین کی شدید خلاف ورزی کی ہے تو چین کو شمالی کوریا کو کوئلے کی برآمد روکنے سے زیادہ بڑے اقدامات کرنے ہوں گے۔

چین کے پاس موقع ہے کہ وہ شمالی کوریا کو سزا دے کر آئندہ ایسے اقدامات سے روکے کیونکہ چین کے ساتھ تجارتی پابندیاں شمالی کوریا کو شدید مشکلات میں ڈال سکتی ہیں۔

(بحوالہ: ’’بی بی سی اردو ڈاٹ کام‘‘۔ ۲۴ فروری ۲۰۱۷ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*