لبنان: مرد م شماری اور سمجھداری

کچھ لبنانی سیاستدانوں نے لبنان کے سیاسی طوفان کا مائیکل عون سے بہتر طور پر سامنا کیا ہے۔ ۸۱ سالہ مائیکل عون کا سفر طویل خانہ جنگی کے اختتام پرجنگی سردار سے شروع ہوتا ہوا وزیراعظم کی کرسی تک گیا۔ ۱۹۹۰ء میں شام میں جنگ سے پہلے انہیں جلاوطن کر دیا گیا تھا۔ کافی سالوں بعد وہ لبنان کی عیسائی سیاسی طاقتور تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے لوٹے اور ۳۱ اکتوبرکو لبنان کے تیرہویں صدربنے۔

لبنان کا صدر منتخب ہونے کے لیے انہیں دو سال سے زیادہ کا عرصہ لگا اور ۴۵ مرتبہ صدر بننے کی ناکام کوشش کے بعدکامیابی حاصل ہوئی۔ سیاسی نظام تعطل کا شکار ہوکر مفلوج ہوگیا تھا۔ شامی پناہ گزینوں کی آمدکی وجہ سے لبنان پہلے ہی بنیادی سہولیات میں کمی اور فیصلہ سازی میں توڑ پھوڑ کا شکار تھا۔شامی مہاجرین کی آمد نے لبنان کی سیاسی نظام کی خامیوں اور کوتاہیوں کو کھول کر رکھ دیا۔

سلطنت عثمانیہ سے علیحدگی کے بعد مشرق وسطیٰ میں لبنان عیسائیوں کی پناہ گاہ کے طور پر تصور کیا جاتا تھا۔ کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ،کم شرح پیدائش اور مسلسل ہجرت کی وجہ سے لبنان میں عیسائیوں کی تعداد میں واضح کمی آئی۔ لیکن ان کا سیاسی اثر و رسوخ باقی رہا۔

۱۹۷۵ء سے ۱۹۹۰ء تک کی خانہ جنگی سے پہلے مسلمانوں کی طرف سے دی جانے والی پارلیمان کی چھ مخصوص نشستوں پرعیسائی موجود تھے اور یہ نشستیں انہیں ۱۹۳۲ء کی مردم شماری کی بنیاد پر دی گئیں تھیں۔تعلیمی جائزوں کے مطابق اس وقت لبنان میں کل آبادی کا نصف عیسائی آبادی ہے، لیکن عیسائیوں کی بڑی تعداد میں ہجرت اس اعداد و شمار پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

طائف معاہدے کے تحت جنگ کے اختتام پر نشستیں برابری کے ساتھ طے کر لی گئی تھیں۔ مسلمانوں کی ہر پانچ نشستوں پر عیسائیوں کو پانچ نشستیں دی گئی تھیں، اس وقت یہی سمجھا گیا کہ ابھی تک عیسائیوں کی نمائندگی زیادہ ہے حالانکہ ۱۹۳۲ء کے بعد مردم شماری نہیں کی گئی۔ ’’دی اکنامسٹ‘‘ سے حاصل کیے گئے حکومتی اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یکطرفہ طور پر حاصل کیے گئے ان اعدادوشمار کو کس طرح موجودہ صورتحال سے جوڑاجارہا ہے۔ حاصل معلومات کے مطابق یہ اعداد وشمار درج شدہ ووٹوں سے حاصل کیے گئے ہیں، جن کے مطابق لبنان میں ۳۷ فیصد عیسائی آبادی ہے۔ حیرت انگیز طور پر لبنان میں نئے سرے سے مردم شماری کی مخالفت کی جارہی ہے اور اس سے خوف محسوس کیا جارہا ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ خوف ملک میں موجود کشیدگی کو ہوا د ے اور فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکا دے۔

پروگریسو سوشل پارٹی کے چیئرمین کے مطابق مردم شماری بہت سی چیزوں کے لیے واضح تبدیلی کا سبب بنے گی۔ یہ بہت حساس موضوع ہے اور یہ بہت سارے مسائل بھی پیدا کرے گی۔ مردم شماری لبنان میں رہنے والے بہت سے طبقات میں بے چینی کا سبب بنے گی اور یہاں پہلے ہی شیعہ برادری کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے اور حالیہ پس منظر مردم شماری کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

دی اکنامسٹ نے درج شدہ ووٹوں کی فہرست حاصل کی ہے، جس میں ۶ء۳ ملین ووٹر اور ان کے مذہبی رجحان سے متعلق معلومات درج ہیں۔ درج شدہ ووٹر کی فہرست کو وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے کے بعد سے عیسائیوں کی لبنان میں تیزی سے کم ہوتی ہوئی آبادی کو موضوع بحث بناکر مردم شماری پر زور دیا جارہا ہے۔

اعدادو شمار کے مطابق میرونیٹ کیتھولک جو کہ ماضی میں آبادی کا ایک بڑا حصہ تھا، اب اس کے صرف ۲۱فیصد ووٹ درج ہیں۔ زیادہ ووٹروں کا سہرا ۲۹ فیصد کے ساتھ اب شیعہ آبادی کے سر ہے جب کہ سنی ووٹر ۲۸ فیصد ہیں۔ عیسائی آبادی کل آبادی کا سب سے کم ہے، تاہم ۱۲۸ سیٹوں میں ۳۴ یعنی سب سے زیادہ سیٹ انہی کے پاس ہیں، جبکہ سنی نمائندے ۲۷ اور شیعہ آبادی کے نمائندے بھی ۲۷ ہیں۔

لبنان میں جب بھی تشدد کی آگ بھڑکتی ہے تو اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے گرچہ کے اس عدم توازن کو مکمل طور پرامن میں تبدیل نہیں کیا جاسکا ہے۔ طائف معاہدے نے میرونیٹ آبادی سے صدارت، پارلیمان کے اسپیکر اور وزیراعظم کی مضبوط سیٹیں چھین لیں اور ان کی اصل طاقت کا پول کھول کر رکھ دیا ہے ۔پہلے یہ سیٹیں بالترتیب سنی اور شیعہ آبادی کے پاس ہوتی تھیں۔ ۲۰۰۸ میں تشدد کی لہر کے بعد دوحہ میں ہونے والے سمجھوتے کے بعد حزب اللہ نے شیعہ آبادی کی نمائندگی کرتے ہوئے حزب اختلاف کا کردار اداکرتے ہوئے فیصلہ سازی کے لیے ویٹو کا حق حاصل کیا پارلیمان کا غیر فعال ہونا، صدر کی دو سالہ مدت اور اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور یہی وجہ ہے کہ صورتحال اب طاقت کی تقسیم کے سمجھوتوں اور معاہدوں کے لیے سازگار ہے۔

ارکان پارلیمان کے انتخابات میں تاخیر لبنان کے ٹوٹے پھوٹے سیاسی نظام کو مزید مشکلات سے دوچار کردے گی۔ ووٹروں کی فہرست میں معلومات کے ساتھ ووٹروں کی عمر بھی درج ہے جس سے یہ بات ظاہر ہے کہ اب آبادی کی اکثریت مسلم نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ عیسائی آبادی کے لیے ابھی یا آنے والے سالوں میں پارلیمان پر اپنا کنٹرول قائم رکھنا بہت مشکل ہے۔ آنے والے انتخابات میں مسٹر عون طائف کے معاہدے میں کھو جانے والی صدارتی کرسی پر اگردوبارہ اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لیے کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اگرچہ تبدیلی بہت مشکل ہے۔کوئی بھی نیا فارمولا پارلیمانی جماعتوں میں کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے، جسے پورے لبنان میں کوئی بھی پسند نہیں کرے گا۔واشنگٹن تھنک ٹینک سے تعلق رکھنے والے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے رکن کے مطابق ’’پارلیمان میں عیسائیوں کی تعداد پچاس فیصد ہے، وزیراعظم آفس سنیوں کے پاس ہے اور حزب اللہ اس وقت شام میں مصروف ہے اور جو شخص اس وقت لبنان کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے، اسے لبنان میں یا اس کے حالات کو سنوارنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور یہی صورتحال مزید تصادم کی طرف لے جائے گی۔

جب سے پڑوسی ملک شام میں جنگ شروع ہوئی ہے، لبنان میں ایک ملین پناہ گزین آباد ہوچکے ہیں، یہ لبنان کی کل آبادی کا ایک چوتھائی ہیں۔ ان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد سُنّی ہے۔ پناہ گزینوں کے اس طوفان کو روکے بغیر انہیں تمام تر شہری حقوق دینا لبنانی حکومت کے لیے ناممکن ہے، جبکہ اس وقت ایک متوازن حکومت کا قیام بھی مشکل کام ہے۔اسی طرز کا ایک اور مسئلہ ۱۹۴۸ء سے لبنان کو درپیش ہے، جب فلسطینیوں نے لبنان میں پناہ لینی شروع کی تو لبنان کی حکومت نے انہیں روزگار حاصل کرنے کے لیے سخت شرائط عائد کردیں، جس نے لبنان میں انتہا پسندی کو فروغ دیا ۔

لبنان میں عیسائی اپنے ہی وطن میں بدلتی اقلیت اور اقتدار میں دوسری جماعتوں کی اکثریتی شراکت سے پریشان ہیں۔ پارلیمان میں عیسائیوں کی زیادہ نمائندگی ہوسکتا ہے کہ اگلے ایک یا دو عشروں کے لیے قابل قبول ہو اور ہوسکتا ہے کہ اسے بالکل بھی برداشت نہ کیا جائے ۔لبنان کے حکومتی حلقوں میں ایک چیختی ہوئی خاموشی گونج رہی ہے اور سر پر گھمبیر مسئلوں کی تلوار لٹک رہی ہے اور یہ صورتحال ہی مشرق وسطی کو خونریزی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

(ترجمہ: سمیہ اختر)

“Lebanon: Census and sensibility” (“The Economist”. Nov.5, 2016)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*