Abd Add
 

کسی بھی قیمت پر!

Lt. Gen. Asif Yasin Malik

پاک آرمی کی گیارہویں کور (پشاور) کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک سے ’’نیوز ویک‘‘ کے نذر الاسلام نے راولپنڈی میں انٹرویو کیا جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔


٭ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی سربراہی میں لڑی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کا کیا کردار ہے؟

آصف یاسین ملک: پاکستانی فوج اور نیم فوجی ادارے دہشت گردی کے خلاف طویل مدت سے لڑ رہے ہیں۔ یہ لڑائی ۱۱ ستمبر ۲۰۱۱ء سے بھی پہلے سے جاری ہے۔ نائن الیون کے بعد تو ہمیں بس حالات کے مطابق خود کو بدلنا تھا۔ پہلے ہم جنگ کے روایتی طریقوں کو اپنائے ہوئے تھے۔ اب ہم کہیں بھی قانون نافذ کرنے سے متعلق کارروائی کی اہلیت رکھتے ہیں۔

٭ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں باضابطہ شریک ہونا پاکستان کے لیے کوئی دانش مندانہ فیصلہ تھا؟

آصف یاسین ملک: نائن الیون کے بعد کی صورتحال میں اس وقت کی قومی قیادت نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہونا قومی مفاد میں ہے۔ لوگ یہ سوچ سکتے ہیں کہ شاید ہماری قیادت کچھ اور بھی مختلف انداز سے کرسکتی تھی مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کا فیصلہ درست تھا۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ہم عالمی برادری کے ساتھ ہوگئے۔ اب کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اگر پاکستان اس جنگ میں شریک نہ ہوتا تو کن عواقب کا سامنا کرنا پڑتا۔

٭ حقانی گروپ سے پاکستان کے تعلقات کس نوعیت کے ہیں؟

آصف یاسین ملک: حقانی گروپ سے ہمارے کوئی تعلقات نہیں۔ جو بھی ریاست کی عملداری کو چیلنج کرتا ہو اور قومی پرچم کا احترام نہ کرتا ہو وہ ہمارے لیے اثاثے کا درجہ نہیں رکھ سکتا۔ کچھ لوگ اور ریاستیں ایسا کرتی ہوں گی مگر ہم اچھے اور برے دہشت گرد میں فرق نہیں کرتے۔

٭ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی میں ڈرون زیادہ کارگر ثابت ہوتے ہیں؟

آصف یاسین ملک: ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کے منافی ہیں اور ہمارے لیے ان حملوں میں فائدے کا کوئی پہلو نہیں۔ ڈرون حملوں کے بہت سے متاثرین عام طور پر یہ باور کرتے ہیں کہ پاکستانی فورسز اس میں ملوث ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔

٭ پاکستانی فوج نے ڈرون حملوں کو روکنے کی کوشش کی ہے؟

آصف یاسین ملک: ڈرون حملوں کو روکنا بہت مشکل کام ہے۔ عام طور پر یہ ڈرون سرحد کے نزدیک حملے کرتے ہیں اس لیے پانچ منٹ کے اندر واپس بھی چلے جاتے ہیں۔ جتنی دیر میں ڈرون حملے کرکے چلے جاتے ہیں اُتنا وقت تو ہمارے ایئر کرافٹس کو متحرک ہونے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں راڈار زیادہ کارگر نہیں ہوتا اس لیے ڈرون کا سراغ لگانا خاصا دشوار ہوتا ہے۔ ڈرون کا مقابلہ کس طور کرنا ہے یہ طے کرنا حکومت کا کام ہے، یہ میری ذمہ داری نہیں۔

٭ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا پاکستان پر کس طور اثر انداز ہوگا؟

آصف یاسین ملک: سوال یہ نہیں کہ امریکی افغانستان سے کب جائیں گے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح جائیں گے۔ اگر امریکیوں نے عین خانہ جنگی کے دوران ملک کو چھوڑا تو پاکستان کے لیے لازم ہو جائے گا کہ افغانستان کی صورت حال سے اپنے آپ کو بچانے کا اہتمام کرے۔

٭ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے مطالبے پر اس قدر مزاحمت کیوں کی ہے؟

آصف یاسین ملک: تکلف برطرف، ہم میں اتنی سکت نہیں کہ سوات، مالا کنڈ اور شمالی وزیرستان میں بیک وقت فوجی کارروائی کرسکیں۔ ہمیں ماحول کو اپنے لیے موزوں بنانا پڑتا ہے۔ اگر ہم آج حملہ کریں تو خدشہ اس بات کا ہے کہ عسکریت پسند افغانستان میں جا چھپیں گے اور جب ہم ہٹ جائیں گے تو وہ واپس آکر عام شہریوں کو نشانہ بنائیں گے۔ یہ کوئی ایسی صورت حال نہیں جس کی خواہش کی جائے۔

٭ ہماری عسکری فکر کا محور بھارت ہے۔ کیا اس فکر کو بدلنے کی ضرورت ہے؟

آصف یاسین ملک: پالیسیاں کبھی مستقل نہیں ہوتیں۔ ہمیں دو محاذوں سے خطرہ ہے مگر بڑا خطرہ تو بھارت ہی سے ہے۔ مغربی سرحد تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محفوظ ہوتی جائے گی مگر بھارت نے سرحدی علاقوں سے فوج کم نہ کرنے کا متعدد مواقع پر عندیہ دیا ہے۔ پاکستان ہماری ماںکا درجہ رکھتا ہے اور ہمیں ہر قیمت پر اس کا دفاع کرنا ہے۔

(بشکریہ: ’’نیوز ویک پاکستان‘‘۔ ۷؍اکتوبر ۲۰۱۱ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*