Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

ایران مسائل کی جَڑ، یا اُن کا حل!!

June 1, 2018 // 0 Comments

پچھلے دس سال سے جاری خانہ جنگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشرتی تغیرات نے خطے میں جنگ عظیم اول سے قائم سیاسی نظام کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔جیسے جیسے آمرانہ نظام اپنے انجام کو پہنچے تو ان کے ساتھ ہی قومی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے اور ان ممالک کی عالمی سرحدیں بھی متاثر ہوئیں۔ شام اور یمن خونی خانہ جنگی کا شکار ہو چکے ہیں اور اس خانہ جنگی کو غیر ملکی فوجی مداخلتوں نے مزید سلگایا ہے۔دوسری طرف امریکا اور اس کی اتحادی فوج کے آپریشن سے قبل ایک دہشت گرد تنظیم داعش، عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر چکی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ ،واشنگٹن اور خطے کے دیگر ممالک کے سرکاری حکام [مزید پڑھیے]

اسلحہ کی عالمی تجارت میں چین کا نمایاں کردار

June 1, 2018 // 0 Comments

دہائیوں کی معاشی ترقی اور فوج کو جدید ہتھیاروں سے آراستہ کرنے کے بعد اب چین ہتھیاروں کی عالمی تجارت میں ایک اہم کردار بن چکا ہے۔گزشتہ کئی سالوں تک چین اپنے برآمد شدہ ہتھیاروں سے کئی گنا زیادہ روایتی ہتھیار درآمد کرتا رہا، لیکن ۲۰۱۳ء کے بعد سے چین کی ہتھیاروں کی برآمدات اس کی درآمدات سے بڑھ چکی ہیں۔۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۷ء کے درمیان چین نے دنیا بھر میں۴ء۱۴ ؍ارب ڈالر کے روایتی ہتھیار برآمد کیے۔جس کی وجہ سے یہ امریکا،روس،فرانس اور جرمنی کے بعداسلحہ برآمد کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑاملک بن چکا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق چین کی روایتی ہتھیاروں کی فروخت ۲۰۰۸ء میں ۶۵۰ ملین ڈالر سے بڑھ کر ۲۰۱۷ء میں ۱۳ء۱ ؍ارب ڈالر تک پہنچ [مزید پڑھیے]

1 2 3 159