شمارہ یکم اکتوبر 2017

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی
جلد نمبر:10، شمارہ نمبر:19

’’سیاسی اسلام‘‘ کو چیلنج کرنا، بھیانک غلطی!

October 1, 2017 // 0 Comments

اسلام پسندوں کا اقتدار میں آنا پریشان کن رہا ہے، لیکن یہ عملی سیاست میں کار آمد ہوسکتے ہیں، انہیں کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ ایک دہائی پہلے مشرق وسطیٰ میں اسلامی تحریکیں ایک غیر معمولی طاقت تھیں،جب مشرق وسطیٰ کے آمروں نے عرب بغاوتوں کو دبانے کی کوشش کی اس وقت اخوان المسلمون اور اس کے زیر اثر جماعتوں نے ریاست اور اقتدار کو اپنے قبضے میں کرلیا ایسا لگتا تھا کہ اقتدار،محل،فوجی چھاؤنیوں اور خفیہ پولیس کے ہاتھوں سے نکل کر مسجدوں اور بیلٹ بکس میں تبدیل ہوگیا تھا۔ اس وقت عرب دنیا پریشان کن صورتحال سے گزر رہی ہے، جو اسلام پسند تحریکیں جمہوری رجحان رکھتی تھیں اور جمہوری اسلام کو لے کر آگے آناچاہتی تھیں وہ اب اس جمہوریت [مزید پڑھیے]

ایران کے توسیع پسندانہ عزائم اور اسرائیل

October 1, 2017 // 0 Comments

ستمبر کے آغاز میں مغربی شام کے قصبے مسیاف پر میزائل حملہ کیا گیا، شام میں سرگرم حکومتوں یا عسکری تنظیموں میں سے کسی نے بھی اس فضائی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، شاید اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ کیونکہ حملے کا ہدف شامی حکومت اور حزب اللہ تھی۔ یہ کافی تھا اس بات کا یقین کرنے کے لیے کہ حملہ اسرائیل کی جانب سے کیاگیا ہے۔ یہودی ریاست طویل عرصے سے شام میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہی ہے، لیکن اس میں زیادہ تر حملے دمشق کے اطراف میں یا شام لبنان سرحد پر کیے گئے۔ اس بار حملہ کا ہدف اسرائیلی سرحد سے ۳۰۰ کلومیٹر دور اور روسی اینٹی ایئر میزائل بیس کے قریب تھا۔ اس حملے [مزید پڑھیے]

چین میں قیادت کی تبدیلی

October 1, 2017 // 0 Comments

چین میں جب موسم گرما اپنے جوبن پر آتا ہے، یعنی اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو یہاں کی سیاسی اشرافیہ ساحل سمندر کا رخ کرتی ہے۔ جہاں وہ اپنے پسندیدہ موضوع حکومتی جماعت ’’کمیونسٹ پارٹی‘‘ کے مستقبل پر بحث و مباحثہ کرتی ہے۔ ماؤزے تنگ کے دور سے سالانہ بنیادوں پر ہونے والا یہ انتہائی خفیہ اجلاس اس سال بیجنگ سے تقریبا۱۷۵ میل کے فاصلے پرساحلی شہر Beidaihe میں منعقد کیا جا رہا ہے۔یہ سال پچھلے سالوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔کیوں کہ اس سال ملک کی طاقتور ترین سات رکنی’’پولٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی‘‘ کے پانچ ارکان ریٹائر ہونے جا رہے ہیں۔ اس بڑے پیمانے کی تبدیلیاں دس سال میں دو دفعہ ہوتی ہیں۔ صدر شی جن پنگ کے لیے یہ [مزید پڑھیے]