شمارہ 16 دسمبر 2014

پندرہ روزہ معارف فیچر۔۔۔۔۔
جلد نمبر:7، شمارہ نمبر:24

چین میں مذہب کا بڑھتا رجحان

December 16, 2014 // 0 Comments

چین میں عیسائیت کا فروغ اس قدر تیز ہے کہ حکومت اسے کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ کل تک عیسائی خوفزدہ تھے مگر اب نہیں۔ اب وہ اپنی مذہبی وابستگی کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ سرکاری گرجا گھروں کے مقابلے میں گھروں میں قائم گرجا گھروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ عیسائی اب معاشرے میں اپنی شناخت کھل کر ظاہر کرتے ہیں اور زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چین میں عیسائیت کا معاملہ اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ مرکزی کمیونسٹ پارٹی کی صفیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

ترکی اور یورپ کے بگڑتے تعلقات!

December 16, 2014 // 0 Comments

ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی امیدیں اس وقت ہی کافی کمزور پڑ گئی تھیں جب پچھلے سال غازی پارک میں احتجاج کے دوران حکومتی ردِ عمل کے نتیجے میں کم از کم ۹؍افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
ترکی کی امریکا کے ساتھ دوستی میں بھی تلخی آئی ہے۔ کیونکہ ترکی نے اتحادی جنگی جہازوں کو داعش پر بمباری کرنے کے لیے ’انسرلیک‘ (Incirlik) کا ہوائی اڈا فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

’’ عبدالقادر ملا کو حکومت نے جلد بازی میں پھانسی دی! ‘‘

December 16, 2014 // 0 Comments

میرے والد یہ تک نہ جان سکے کہ ان کی نظرثانی کی درخواست کو کس بنیاد پر مسترد کیا گیا ہے۔ درخواست رد کیے جانے کے فوراً بعد حکومت نے میرے والد کو رات دس بج کر ایک منٹ پر پھانسی دینے کے فیصلے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد انہیں پھانسی دے دی گئی۔

نریندر مودی کے ’’رام اور لکھن‘‘

December 16, 2014 // 0 Comments

نریندر مودی نے وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے لیے خاصا صدارتی انداز اختیار کیا ہے۔ کوئی کتنا ہی طاقتور ہو، تنہا تو حکومت نہیں چلا سکتا۔ نریندر مودی کو بھی دو افراد پر مکمل بھروسا ہے۔ ایک تو امیت شاہ ہے جس نے نریندر مودی کے لیے انتخابی کامیابی یقینی بنائی ہے۔ وہ انتخابی مہم کا انچارج تھا اور اس پر بڑے پیمانے کی دھاندلیوں کے الزامات ہیں۔ دوسرے ارون جیٹلی ہیں جو امیت شاہ کی کوششوں کے نتیجے میں قائم ہونے والی اتھارتی سے پالیسیاں بناتے ہیں۔ ان دونوں کی مدد اور مشاورت کے بغیر نریندر مودی ایک قدم نہیں بڑھاتے۔