شمارہ 16 فروری 2017

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی
جلد نمبر:10، شمارہ نمبر:4

ترکی: سلطنت عثمانیہ کے بعد کی بڑی تبدیلی

February 16, 2017 // 0 Comments

ترکی میں انتخابات کے محکمے نے ۱۶؍اپریل کو ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس ریفرنڈم میں ترک عوام ملک میں پارلیمانی نظام ختم کر کے صدارتی نظام نافذ کرنے سے متعلق فیصلہ دیں گے۔ ایردوان صدارتی نظام کے خواہش مند ہیں۔ خلافت عثمانیہ کا دور ختم ہونے کے بعد وجود میں آنے والی جدید ترک ریاست کے سیاسی نظام میں سب سے بڑی تبدیلی کے لیے یہ ریفرنڈم کرایا جا رہا ہے۔ اس ریفرنڈم میں ترک عوام ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کے حق اور مخالفت میں ووٹ ڈالیں گے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان ملک میں موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام ختم کر کے صدارتی جمہوری نظام قائم کرنے کی خواہش کا برملا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ایردوان کا یہاں تک کہنا ہے [مزید پڑھیے]

’’بکھرتا ہوا ورلڈ آرڈر‘‘، میونخ سیکورٹی رپورٹ

February 16, 2017 // 0 Comments

میونخ سیکورٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوامی پسندانہ سوچ میں اضافے سے عالمی نظام کو خطرات لاحق ہیں، جب کہ اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مجموعی عالمی منظر نامے سے امریکا غائب ہو رہا ہے۔ میونخ سکیورٹی کانفرنس کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی معاملات سے امریکی غیرحاضری کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کا فائدہ دوسرے عناصر اٹھا سکتے ہیں۔ کانفرنس کے چیئرمین وولفگانگ اِشِنگر کی جانب سے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ عالمی سطح پر صورتحال انتہائی غیرمستحکم ہے۔ یہ رپورٹ، ’’سچ کے بعد، مغرب کے بعد اور نظام کے بعد‘‘ کے نام سے جاری کی گئی ہے، [مزید پڑھیے]

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان | 4

February 16, 2017 // 0 Comments

سیاسی ونگ سے جامع گفتگو طالبان کے سیاسی ونگ سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے خیالات اور نظریات جاننے کے لیے ۱۹ شخصیات سے انٹرویو کیے گئے۔ ان میں سے ایک شخصیت کا چونکہ طالبان سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا اس لیے اس کے خیالات اس رپورٹ میں شامل نہیں کیے گئے۔ اسی طور جن دو دو شخصیات نے دوسروں کے خیالات کی محض تصدیق کی اور اپنے خیالات کے اظہار سے اجتناب برتا ان کی باتیں بھی اس رپورٹ کا حصہ نہیں بنائی گئیں۔ زیر نظر رپورٹ میں جن ۱۶ شخصیات سے کیے جانے والے انٹرویوز کے مندرجات پیش کیے جارہے ہیں ان کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی ہے، تاہم انگریزی کے دو حروف پر مبنی نام ہر ایک کو [مزید پڑھیے]