Abd Add
 

شمارہ 16 مارچ 2018

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی
جلد نمبر:11، شمارہ نمبر:6

عالمی طاقتوں کے مابین تصادم

March 16, 2018 // 0 Comments

گزشتہ ۷۰ سالوں میں بین الریاستی جنگوں میں غیر معمولی کمی آنے کے باوجود خارجہ پالیسی کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب دنیا ایک ایسی دہائی میں داخل ہو رہی ہے جہاں یہ جنگیں ممکنات میں شامل ہوں گی۔ علاقائی جنگوں کی وجہ تو چند بدمعاش ریاستیں ہو سکتی ہیں، جیسا کہ ایران اور شمالی کوریا، لیکن عالمی طاقتوں کے درمیان جنگوں کے امکانات ابھی بھی کم ہی ہیں۔ چین، روس اور امریکا کے درمیان مقابلے کی فضا نہ صرف عالمی امن کے لیے خطرے کی علامت ہے بلکہ اس کی عسکری سمت بھی ہے۔ اس رپورٹ میں کوریائی جزیرے پر جنگ کے خطرے (جس کی شدت آج کل زیادہ ہے) پر غور کرنے کے بجائے ان نکات پر غور کیا گیا ہے، [مزید پڑھیے]

افغانستان میں بدلتی امریکی حکمت عملی

March 16, 2018 // 0 Comments

نوٹ: نئے سال کے آغاز کے موقع پر Enhancing Security and Stability in Afghanistan کے عنوان سے ایک رپورٹ امریکی وزارت دفاع کی جانب سے کانگریس کو پیش کی گئی ہے ۔یہ رپورٹ ۱۱۵صفحات مشتمل ہے۔اس کی ایگزیکٹو سمری اور رپورٹ میں دیے گئے کچھ اعداد و شمار پیش کیے جارہے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پاک افغان مسائل پر نئی امریکی حکمت عملی کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کرائی جائے۔
[مزید پڑھیے]

ترکی، سوڈان اور قطر کے بڑھتے تعلقات

March 16, 2018 // 0 Comments

حالات اور واقعات یہ بتا رہے ہیں کہ سوڈان اپنا نقطہ نظر تبدیل کرتے ہوئے ترکی اور قطر کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوجائے گا، مستقبل میں سیاسی ہم آہنگی کے لیے اس اتحاد میں ایران کی شمولیت بھی ممکن ہے۔ عربوں کے استحکام کے لیے دوحہ سوڈان کے ساتھ اتحاد کی کوششیں کررہا ہے، اس کی کوششوں سے ہی ترکی، قطر اور سوڈان ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں اور اس سے تہران کو بھی ایک مثبت پیغام ملاہے۔ اسی مقصد کے تحت رجب طیب ایردوان نے۲۴ سے ۲۷ دسمبر ۱۵۰ تاجروں کے ایک وفد کے ہمراہ سوڈان، چاڈ اور تیونس کا دورہ کیا۔ اس دورے کے مقاصد میں تجارتی اور اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ عربوں کا ایک نیا اتحاد اور عرب دنیا [مزید پڑھیے]

تحریک رام مندر: ایک خطرناک چال

March 16, 2018 // 1 Comment

میرے لیے زندگی سے زیادہ موت بہتر ہے، اگر میں ایک ایسی سچائی کا اظہار نہ کروں جسے میں اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ میں نے پرماتما یا خدا کو سچائی کی روشنی میں دیکھا ہے۔ سچائی چھپانا ظلم ہے اور بزدلوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ رام جنم بھومی کی تحریک خالص سیاسی چال ہے جو خود غرضانہ اور مفاد پرستی پر مبنی ہے، محض انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے عوام کو بے وقوف اور بدھو بنانے کے لیے اسے مذہب کا جامہ پہنایا گیا ہے۔ مجھے اس بات پر سخت حیرت ہوتی ہے کہ کوئی یہ کہے کہ اس جگہ یا اس جگہ ہزاروں سال پہلے بھگوان رام کا جنم ہوا تھا۔ رام للّا کو قانونی یا غیر قانونی طور [مزید پڑھیے]