Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

ماریشس: مسلمان اقلیت کی صورتحال

November 1, 2005 // 0 Comments

جزیرہ ماریشس بحر ہند میں مڈغاسکر کے مشرق میں ۷۵۵ کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً دو ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ سب سے پہلے یہاں عرب آئے لیکن طوفان کی کثرت کے باعث وہ اسے اپنا مکسن نہ بناسکے اور ان کی آمد کا مقصد یہاں آباد ہونا بھی نہ تھا وہ تو صرف تجارت کی غرض سے آئے تھے۔ عربوں کے بعد ۱۵۱۰ء میں واسکوڈی گاما کے عہد میں یہاں پرتگالیوں نے قدم رکھا اور اسے ’’ڈرسکاین‘‘ کا نام دیا ۔ پھر پرتگالی بھی یہاں نہ ٹھہر سکے۔ پھر۱۵۸۹ء (۱۰۶۰ ہجری) میں ولندیزی یہاں آئے۔ انہی لوگوں نے اپنے ایک بڑے کے نام پرا س کا نام ماریشس رکھا۔۱۷۱۰ میں ولندیزی بھی اسے چھوڑ کر چلے گئے اور پھر [مزید پڑھیے]

ساحل دور ہے اور خطرہ قریب

November 1, 2005 // 0 Comments

’’راوی صادق البیان کہتا ہے کہ ایک بار چند طلباء تفریح کے لئے ایک کشتی پر سوار ہوئے طبیعت موج پر تھی‘ وقت سہانا تھا‘ ہوا نشآط انگیز اور کیف آور تھی ‘ اور کلام کچھ نہ تھا‘ یہ نو عمر طلباء خاموش کیسے بیٹھ سکتے تھے‘ جاہل ملاح دلچسپی کا اچھا ذریعہ اور فقرہ بازی مذاق و تفریح طبع کے لئے بے حد موزوں تھا‘ چنانچہ ایک تیز وطرار صاحبزادے نے اس سے مخاطب ہوکر کہا‘ چچا میاں! آپ نے کون سے علوم پڑھے ہیں؟‘‘ ملاح نے جواب دیا ’’میاں میں نے کچھ پڑھا لکھا نہیں۔‘‘ صاحبزادے نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا ’’ارے آپ نے سائنس نہیں پڑھی‘‘ ملاح نے کہا ’’میں نے تو اس کا نام بھی نہیں سنا۔‘‘ دوسرے صاحبزادہ بولے [مزید پڑھیے]

ECO کا وِژَن ۲۰۱۵ء

October 16, 2005 // 0 Comments

اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کا ۱۵ واں اجلاس یکم اکتوبر کو قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقد ہوا اجلاس کے اختتام پرECO VISION2015 نامی قرارداد منظور ہوئی جس کا اقتباس درج ذیل ہے۔ اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نمائندگان تنظیم کے ان اہداف و مقاصد کے حصول کے لئے اپنی عزم کو دہراتے ہیں جن کا تعین ۱۹۹۶ء اِزمیر معاہدے میں ہوا تھا۔ یہ معاہدہ اس ضرورت کے احساس کے تحت وجود میں آیا تھا کہ ہمیں پائیدار اقتصادی و سماجی ترقی کو فروغ دینا ہے‘ اپنے عوام کے معیار زندگی کو اوپر اٹھانا ہے او ر مختلف شعبوں میں علاقائی تعاون کے امکانات کو بروئے کار لاتے ہوئے خطے کے ممالک کے عوام کو باہم قریب کرناہے۔ہم اپنے طور [مزید پڑھیے]

1 143 144 145 146 147 160