Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

تہذیب کی عریانیت

November 1, 2004 // 0 Comments

ایک ایسے زمانے میں جہاں بازاروں سے لے کر دفتروں‘ کلبوں اور تفریح گاہوں میں اور تماشا گاہوں سے لے کر کھیل کے میدان تک میں عورت کے نسوانی حسن کی نمائش کو روشن خیالی اور ترقی کی علامت قرار دیا جاتا ہو‘ اور ایک ایسے معاشرہ میں جہاں مرد تو سر سے پائوں تک لباس میں ڈھکا رہتا ہو مزید کوٹ اور ٹائی استعمال کرتا ہو اور عورت کے لیے تقریباً غیرشائستہ لباس کو اس کی زینت سمجھا جاتا ہو کسی عورت کو یہ مشورہ دینا کہ اس کا بہترین مقام اس کا گھر ہے یقینا دقیانوسی‘ رجعت پسندی اور پچھڑے پن کی بات سمجھی جائے گی اور عجب نہیں کہ اسے مسلمانوں کے فرسودہ اخلاق کی بازیافت کہہ کر مسترد کر دیا جائے۔ [مزید پڑھیے]

ہم چین سے خودمختاری کے طالب ہیں‘ نہ کہ علیحدگی کے!

November 1, 2004 // 0 Comments

جب چین نے ۱۹۵۰ء میں تبت میں جارحیت کی تو اس نے اس الگ تھلگ جاگیردارانہ ریاست میں جدیدیت کو متعارف کرانے کا وعدہ کیا لیکن اس کے بجائے اس نے وہاں مذہب و ثقافت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے تبتی حکومت کو بشمول اس کے اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی رہنما کے جلاوطن ہونا پڑا۔ ۲ سال کی عمر میں تبتی بدھوں کے اعلیٰ مذہبی رہنما کی حیثیت سے ۱۴ویں دلائی لامہ کا تقرر ہوا اور چار سال کی عمر میں پھر ان کی تاج پوشی بھی ہو گئی۔ ۱۹۵۹ء میں دلائی لامہ کو بھارت فرار ہونا پڑا جس کے بعد وہ تبت کبھی نہیں لوٹے۔ ۴۵ سالوں تک ایک قوم کو بغیر سرزمین کے محفوظ رکھنے کی کوشش [مزید پڑھیے]

فلسطین‘ عراق اور افغانستان کا دشمن ایک ہی ہے!

November 1, 2004 // 0 Comments

اس وقت ساری دنیا کمزوری و بے بسی اور بزدلی و بے حمیتی کے طعنے خاموشی سے سنتے ہوئے الزامات کے کٹہرے میں سرجھکائے کھڑی ہے۔ اس کے تمام حواس کے احساسات جامد ہو گئے ہیں۔ گویا اس کی کیفیت یہ ہے کہ نہ میں سن سکتا ہوں‘ نہ دیکھ سکتا ہوں اور نہ بول سکتا ہوں۔ لاپتا ہو جانے اور اغوا کر لیے جانے والے بے بس انسانوں کی چیخیں بلند ہوتی ہیں‘ تشدد سے دوچار مجبوروں کی سسکیاں آسمانوں تک پہنچتی ہیں‘ مگر انہیں اپنی ہی صداے بازگشت کے سوا کہیں سے کوئی جواب نہیں ملتا۔ بدترین خاموشی اور مایوس کن نظروں نے زبانوں کو گنگ کر رکھا ہے۔ فلسطین کے شہر غزہ میں یہودیوں کے راکٹ گرجتے اور عراق و افغانستان میں [مزید پڑھیے]

پاکستان میں کوئی غیرملکی جنگجو موجود نہیں!

October 16, 2004 // 0 Comments

جب انٹیلی جینس ایجنسیز نے ایک دہشت گردانہ سازش کے انکشاف کا دعوی کیا جس کا مقصد اسلام آباد اور اس کی اطراف میں واقع متعدد حکومتی تنصیبات کو تباہ کرنا تھا تو پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے کوہاٹ سے رکن قومی اسمبلی جاوید احمد پراچہ کا نام اس موقع پر اہم کردار کے طور پر سامنے آیا۔ پراچہ کوہاٹ میں اسی وقت سے گرفتار ہیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ ۲۰۰۱ء میں جب امریکا نے تورا بورا پہاڑی کا محاصرہ کیا تو وہاں سے فرار ہو کر سرحد آنے والے متعدد عرب و دیگر جنگجوئوں کا پراچہ نے دفاع کیا تھا۔ پراچہ نے ۱۹۷۷ء میں سیاست میں قدم رکھا تھا۔ ان کی سیاسی زندگی کا بیشتر دورانیہ غیرنمایاں رہا ہے۔ ان کے غیرمعروف [مزید پڑھیے]

اسلام سے متعلق امریکیوں کی سوچ میں استحکام

October 16, 2004 // 0 Comments

امریکا کی عراق میں جنگ اور اندرونِ خانہ دہشت گردی کے مسلسل خطرے کے باوجود گذشتہ سال سے موازنہ کی صورت میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام کے تئیں عوام کے رویے میں استحکام آیا ہے۔ ایک سرسری جائزے کے مطابق دس امریکیوں میں چار امریکی (%۳۹) کا کہنا ہے کہ وہ اسلام کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ ۳۷ فیصد امریکیوں کی اسلام کے بارے میں رائے اچھی نہیں ہے۔ اسلام کے بارے میں عوامی رائے تبدیل نہیں ہوئی ہے جیسا کہ ۲۰۰۳ء کے جائزے میں ۴۰ فیصد لوگوں کی رائے اسلام کے حق میں اچھی اور پسندیدہ تھی۔ امریکیوں کا کثیر طبقہ (%۴۶) اس خیال کا حامل ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کے مقابلے میں زیادہ تشدد کی جانب مائل [مزید پڑھیے]

امریکا کے صدارتی انتخاب اور مسلمان

October 16, 2004 // 0 Comments

امریکا ۵۱ ریاستوں کا ایک اتحاد ہے۔ اس اتحاد کی اکائیاں اپنی آبادی رقبے اور سیاسی و معاشی اثر و رسوخ کے لحاظ سے انتہائی غیرمتناسب ہیں‘ مگر ایک قومی جذبے نے ان سب کو متحد کر رکھا ہے۔ امریکی ریاستوں کی آبادی کے لحاظ سے ان کے الیکٹورل ووٹ شمار ہوتے ہیں۔ کل ووٹ ۵۳۸ ہوتے ہیں۔ جیتنے کے لیے ۲۷۰ یا زائد ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ پچھلے انتخاب میں بش کے پورے ۲۷۰ الیکٹورل ووٹ تھے۔ کم از کم کسی ریاست کے تین ووٹ ہیں‘ جس میں الاسکا‘ نارتھ ڈکوٹا اور سائوتھ ڈکوٹا اور کئی دیگر چھوٹی ریاستیں شامل ہیں‘ زیادہ ووٹوں والی ریاستیں ترتیب وار یہ ہیں۔ کیلیفورنیا ۵۵‘ ٹیکساس ۳۴‘ نیویارک ۳۱ اور فلوریڈ ۲۷۱ پچھلے انتخاب میں پاپولر ووٹ الگور [مزید پڑھیے]

امریکا اور اسرائیل حالات کو بد سے بدتر بنا رہے ہیں!

October 16, 2004 // 0 Comments

توقع کے عین مطابق ہر گزرے دن کے ساتھ عالمی اسٹیج پر ہونے والے ڈرامائی واقعات کی رفتار تیز ہوتی جارہی ہے اور لگتا ہے کہ امریکا کے صدارتی انتخابات سے قبل اگلے تین ہفتوں میں اس پردۂ زنگاری سے بہت کچھ نمودار ہونے والا ہے۔ ہو سکتا ہے اسامہ بن لادن پکڑ لیے جائیں تاکہ بش کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا ملے یا اسرائیل ایران پر حملہ کر دے لیکن اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس سے تو بش کے لیے حالات بد سے بدتر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک طرف امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی تازہ رپورٹ نے جارج بش اور ان کے حواریوں کو پوری دنیا کے سامنے ان کے اصل مکروہ حیثیت کو برہنہ کر [مزید پڑھیے]

انتہائی درست وقت بتانے والی ننھی ایٹمی گھڑی

October 16, 2004 // 0 Comments

امریکا محکمہ تجارت کے قومی ادارہ براے معیارات و ٹیکنالوجی (NIST) میں سائنسدان ایک نئے نمونے کی ایٹمی گھڑی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جسے محفوظ لاسلکی مواصلات اور زیادہ درست جہاز رانی کے مقاصد کے لیے چھوٹے اور بیٹری سے چلنے والی آلات میں درست وقت کا حساب رکھنے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ یہ بات NIST کی ایک پریس ریلیز میں بتائی گئی ہے۔ چِپ کے حجم کی اس گھڑی کے متعلق مزید معلومات کے لیے ویب سائٹ http://www.boulder.nist.gov/timefreq/ofm/smallclock/ ملاحطہ کیجیے۔ پریس ریلیز کا متن درج ذیل ہے: اس ایٹمی گھڑی کا قلب کسی بھی ایٹمی گھڑی سے تقریباً ۱۰۰ گنا کم بتایا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ تجارت کے قومی ادارہ براے معیارات و ٹیکنالوجی میں سائنسدانوں نے اس ایٹمی گھڑی کا [مزید پڑھیے]

اہرامِ مصر: انسانی تاریخ کا سات ہزار سالہ معمّہ

October 16, 2004 // 0 Comments

اہرام دنیاے قدیم کی اعلیٰ سائنسی ترقی کے ٹھوس اور جیتے جاگتے ثبوت ہیں۔ اہرام کا عملِ پیمائش گویا پتھروں کی زبان میں الہام بیانی ہے۔ اہرام کی ساخت و تعمیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کام میں کسی اور ہی دنیا کی مخلوق کا تعاون حاصل رہا ہے۔ اہرام کے سربستہ رازوں کا انکشاف جدید سائنس کا شیرازہ بکھیر سکتا ہے۔ یہ ہیں وہ چند در چند نظریات جو اہرامِ مصر کے معانی‘ اصلیت اور تاریخ کے بارے میں پیش کیے جاتے ہیں۔ ان عظیم مقبروں کی اہمیت پچھلے ایک ہزار برسوں سے دنیا بھر کے سائنسدانوں‘ علما‘ صوفیا اور عام لوگوں کے درمیان موضوعِ بحث رہی ہے۔ ان کے مباحثے کا زیادہ تر محور و مرکز مصر کا سب سے بڑا اہرام [مزید پڑھیے]

1 159 160 161 162