معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

سلامتی کی تنہا روش۔۔۔ پاکستان ہے اور بس۔۔۔

August 1, 2017 // 0 Comments

الائیڈ نیوز پیپرز کے مشہور نامہ نگار بیورلی نکولز نے ۱۹۴۴ء میں اپنے قیام ہندوستان کے تاثرات Verdict on India کے عنوان سے پیش کیے تھے، اس میں قائداعظم سے ایک تاریخی انٹرویو ہے، جس میں پاکستان کا کیس اس کے بہترین ایڈوکیٹ نے پیش کیا ہے، کتاب کے متعلقہ حصہ کا ترجمہ پیش جارہا ہے۔ ادارہ[مزید پڑھیے]

سعودی عرب: نئے تبادلے و تقرریاں

July 16, 2017 // 0 Comments

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کی طرف سے بدھ کو جاری کردہ فرمان کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان کو نیا ولی عہد نامزد کیا گیاہے۔جبکہ شہزادہ محمد بن نائف کو ان کے تمام عہدوں سے ہٹادیا گیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی (SPA) نے تصدیق کی ہے کہ’’ سعودی بیعت کونسل‘‘ کے ۳۴ میں سے ۳۱ اراکین نے محمد بن سلمان کو ولی عہد منتخب کرلیا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے فرائض بھی سر انجام دیں گے۔ اسی حکم نامے کے مطابق شاہ سلمان نے شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف کو نیا وزیر داخلہ مقرر کیا ہے۔ ڈاکٹر نصیر الداؤد کو ان کو عہدے سے فارغ کر کے وزارت داخلہ میں under secretary تعینات کیا گیا ہے۔ [مزید پڑھیے]

امریکا بھارت اشتراکِ عمل

July 16, 2017 // 0 Comments

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ۲۶ جون ۲۰۱۷ء کو ایوان صدر (وائٹ ہاؤس) میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی میزبانی کی۔ اس دورے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔ آئیے، امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات اور اشتراکِ عمل پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔[مزید پڑھیے]

غزہ۔ بیس لاکھ مسلمانوں کی جیل

July 16, 2017 // 0 Comments

یہ ایک چھوٹا سا فلسطینی علاقہ ہے جو کہ ۱۹۶۷ء میں عرب اسرائیلی جنگ کے بعد مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے ساتھ اسرائیل کے قبضے میں آیا تھا۔ بحیرہ روم کے ساحل پر موجود یہ علاقہ رقبے کے لحاظ سے تقریباً امریکی شہر ڈیٹرؤاٹ (Detroit) کے برابر ہے جس کا رقبہ لگ بھگ ۳۶۰ مربع کلومیٹر ہے۔ اس علاقے کا جنوب مغربی حصہ مصر کے ساتھ جبکہ شمالی اور مشرقی حصہ اسرائیل کے ساتھ ملتا ہے۔ ۱۹۴۸میں اسرائیل کے وجود سے پہلے غزہ ایک پر امن فلسطین کا حصہ تھا۔ مگر اسی سال عرب اسرائیل جنگ کے دوران مصر نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ جوکہ ۱۹۶۷تک قائم رہا۔ جبکہ اسرائیل نے بقایا فلسطین پر عربوں سے جنگ کے بعد اپنا تسلط [مزید پڑھیے]

بھارت میں ابتدائی تعلیم

July 16, 2017 // 0 Comments

بھارت میں ابتدائی تعلیم کا معیار ہر دور میں غیر تسلی بخش رہا ہے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی اس حوالے سے اس قدر مایوس تھے کہ جب کبھی ان کے سامنے ابتدائی تعلیم کا ڈھانچا اور معیار بہتر بنانے کی بات کی گئی وہ انتہائی مایوسی کے عالم میں یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ کم از کم سو سال میں تو بھارت اس قابل نہیں ہو پائے گا کہ ابتدائی تعلیم کا وہ معیار یقینی بنائے جو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ۱۹۳۱ء میں جب گاندھی کے سامنے بھارت کی ابتدائی تعلیم کا معیار بلند کرنے کے لیے مختلف تجاویز رکھی گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے لیے اس حوالے سے اپنی تمام زنجیریں توڑنا انتہائی دشوار ہے۔ اس [مزید پڑھیے]

1 3 4 5 6 7 82