معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

اخبار تحقیق کا دو لسانی نشریہ جاری کر دیا گیا

January 16, 2014 // 0 Comments

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے تحقیقی ادارہ، ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی کا دو لسانی نشریہ ’’اخبار تحقیق‘‘ ذرائع ابلاغ کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ نشریہ دو سال کے انقطاع کے بعد ۲۰۱۳ء کے خصوصی شمارہ کی حیثیت سے جاری کیا گیا ہے۔ اس شمارے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ پہلی بار اردو کے علاوہ عربی میں بھی شائع کیا گیا ہے۔

معروف اسکالر ڈاکٹر معین الدین عقیل کے لیے جاپان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز

January 16, 2014 // 0 Comments

شہنشاہ جاپان Akihito نے عالمی سطح کی ۴۰ ممتاز شخصیات کو ان کی علمی اور تہذیبی خدمات کی ستائش میں جاپان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز “Order of the Rising Sun” دیا ہے۔ ان شخصیات میں پاکستان کے نامور محقق اور جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے سابق صدر پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل بھی شامل ہیں، جنہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

نریندر مودی : اکثریت نہیں، ’’اقلیت‘‘ کا آدمی

January 1, 2014 // 0 Comments

بھارت کی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کا شمار ملک کے متنازع ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ گجرات میں فروری اور مارچ ۲۰۰۲ء کے مسلم کش فسادات کے حوالے سے ان کے کردار پر اب تک بحث ہو رہی ہے۔ انہیں ’’گجرات کا قصائی‘‘ بھی قرار دیا گیا۔ اب وہ وزیر اعظم کے منصب کے لیے مضبوط امیدوار کی حیثیت سے خود کو سامنے لا رہے ہیں

ترقی پذیر دنیا سے دس کھرب ڈالر ، کالے دھن کا انخلا

January 1, 2014 // 0 Comments

ترقی پذیر ملکوں کو مزید پسماندہ کرنے کی چالیں بیرونی دنیا خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک تو چلتے ہی رہتے ہیں، ان ترقی پذیر ملکوں کو اندرونی دیمکیں بھی لگی ہوئی ہیں جو ان کا بچا کھچا چاٹتی رہتی ہیں۔ فراڈ، بدعنوانی اور مشکوک کاروباری سودوں کے ذریعے ان ملکوں سے تقریباً دس کھرب ڈالر مزید نکلوا لیے گئے

1 63 64 65 66 67 82