معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

’’پاکستان کی حمایت کیوں؟‘‘ | پہلی قسط

November 16, 2013 // 0 Comments

تقسیم ہند سے قبل یکم محرم ۱۳۶۵ھ (دسمبر ۱۹۴۵ء) میں دارالعلوم دیوبند میں دونوں جیّد ہستیوں کے درمیان پاک وہند کے موضوع پر ایک تفصیلی مکالمہ ہوا جس میں مولانا حسین احمد مدنی ؒاور ان کے رفقا نے مولانا شبیر احمد عثمانیؒ سے ’’پاکستان کی حمایت کیوں‘‘ پر کئی سوالات کیے۔

ترک سلطان کا خواب

November 1, 2013 // 0 Comments

ترکی میں انفرا اسٹرکچر کے حوالے سے غیرمعمولی کارکردگی کا اظہار کیا جانے والا ہے۔ اس وقت بھی انفرااسٹرکچر بہت عمدہ ہے مگر اس کا معیار مزید بلند کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ اگلا مرحلہ آبنائے باسفورس میں سرنگ کی تعمیر ہے۔ ترکی کے ۳۱ ویں سلطان عبدالمجید اول نے ایک خواب دیکھا تھا۔ ۱۸۳۹ء سے ۱۸۶۱ء تک حکمرانی کرنے والے سلطان کا خواب یہ تھا کہ آبنائے باسفورس کے اندر ایک ایسی سرنگ تعمیر کی جائے جو ایشیا کو یورپ سے ملائے۔ ایک فرانسیسی ماہرِ تعمیرات اس سرنگ کا بنیادی خاکہ لے کر سامنے آیا مگر تب ایک طرف تو زری وسائل کی کمی تھی اور دوسری طرف مطلوبہ ٹیکنالوجی کا بھی فقدان تھا۔ سلطان عبدالمجید اول کا خواب اب شرمندۂ تعبیر ہوگیا [مزید پڑھیے]

سعودی خارجہ پالیسی جارحیت کی راہ پر

November 1, 2013 // 0 Comments

سفارت کاری کے میدان میں سعودی عرب سے کسی بھی نوع کی تیزی کی توقع نہیں رکھی جاتی مگر ۱۸؍اکتوبر کو سعودی حکومت نے سفارتی معاملات میں جس انداز کا flip-flop کیا، وہ بہت حد تک حیرت انگیز تھا۔ اس دن صبح اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دو سال کے لیے سعودی عرب کا غیر دائمی رکن کی حیثیت سے انتخاب ملک کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے۔ سلامتی کونسل میں پہلی بار غیر دائمی رکن کی حیثیت سے منتخب ہونا سعودی عرب کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل موقع تھا۔ اس پر سعودی جتنی بھی خوشی مناتے، کم تھی۔ مگر پھر چند ہی گھنٹوں کے اندر دارالحکومت ریاض سے پیغام آیا [مزید پڑھیے]

مصر، پرانی راہ پر پھر گامزن!

November 1, 2013 // 0 Comments

اس مرتبہ عید الاضحی کے موقع پر مصر میں بحیرۂ احمر کے کنارے ایک تفریحی مقام پر لوگوں کا موڈ خراب ہوگیا۔ ہوا یہ کہ ایک نمایاں مقام پر مصر کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع جنرل عبدالفتاح السیسی کے دو قدِ آدم پوسٹر لگائے گئے مگر جب فیس بک پر لوگوں نے الٹے سیدھے تبصرے کیے تب حکومت کو کچھ شرم محسوس ہوئی، اور راتوں رات دونوں پوسٹر ہٹا دیے گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جنرل عبدالفتاح السیسی کے بارے میں ناگواری اور بدگمانی کا تاثر ختم ہوتا جارہا ہے اور مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ سرکاری کنٹرول والے میڈیا نے اب تک ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ جنرل السیسی صدارتی انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جنوری ۲۰۱۱ء کے انقلاب کے نتیجے [مزید پڑھیے]

1 64 65 66 67 68 80