Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

مصر کا نیا دستور ۲۰۱۲ء|8

May 16, 2013 // 0 Comments

سیکشن ۶: عدالتی افسران دفعہ۱۸۱: قانون ایک آزاد پیشہ ہے اور نظامِ عدل کی بنیاد ہے۔ وکلا اپنے پیشے کی مصروفیت میں خود مختار ہوں گے، انہیں اس سلسلے میں حفاظتی ضمانت حاصل ہو گی، جو انہیں تحفظ دے گی تاکہ وہ قانون کے مطابق بنائے گئے ضوابط کے تحت اپنے کام جاری رکھ سکیں۔ دفعہ۱۸۲: جائداد کے تشہیری محکمے، فارنزک (Forensic) ماہرین اور عدالتی ماہرین کو اپنے کاموں میں تکنیکی خود مختاری حاصل ہو گی۔ باب چہارم: مقامی انتظامیہ سیکشن ۱:ـ ریاست کی مقامی انتظامیہ کے لحاظ سے تقسیم دفعہ۱۸۳: ریاست کو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں عدالتی و قانونی حیثیت حاصل ہو گی، ان میں گورنریٹ، صوبے، شہر، اضلاع اور دیہات شامل ہوں گے۔ ایک انتظامی علاقہ ایک سے زائد [مزید پڑھیے]

مصر اور ایران کی ’’مقدس سیاست‘‘

May 16, 2013 // 0 Comments

مصر کے صدر محمد مرسی نے گزشتہ ماہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد سے ہاتھ کیا ملایا، اب انہیں ہر طرف سے مخالفت اور تنقید کا سامنا ہے۔ حد یہ ہے کہ ان کے اپنے (حکمراں حلقے کے) لوگ بھی انہیں شک کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ نائب صدر، وزیر انصاف اور چند سینئر بیورو کریٹس سمیت بہت سے لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ ۲۳؍اپریل کو مصری صدر کے ایک سینئر لیگل ایڈوائزر فواد جداللہ نے شدید غصے کی حالت میں استعفیٰ دے دیا اور ایک خط عوام کے نام لکھا جس میں صدر محمد مرسی کے بارے میں کہا کہ وہ بصیرت نہیں رکھتے، مصری نوجوانوں کے ولولے کو بروئے کار لاکر انقلاب کے اہداف حاصل کرنا نہیں جانتے اور یہ [مزید پڑھیے]

امن، ہم آہنگی اور تیل

May 1, 2013 // 0 Comments

عراقی کُرد لاکھ دعوے کرتے پھریں کہ وہ الگ نہیں ہونا چاہتے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مکمل آزادی کی راہ پر گامزن ہیں۔ انجیل کے علما کہتے ہیں کہ انجیل کے مختلف نسخوں میں جنت کا جو باغ مذکور ہے، وہ جنوبی عراق میں اُس مقام پر تھا، جہاں دریائے دجلہ اور فرات ملتے ہیں۔ مگر جب عراقی رُوئے ارض پر کسی جنت کو تلاش کرتے ہیں تو شمالی عراق میں کرد علاقے کی طرف دیکھتے ہیں۔ بات کچھ ایسی ناقابلِ فہم بھی نہیں۔ گزشتہ ماہ موسم بہار کی آمد کے جشن یعنی نوروز کے موقع پر ہزاروں عراقیوں نے شمالی عراق کا رخ کیا، جہاں باغات پھولوں سے بھرے پڑے ہیں اور پہاڑوں پر برف کے پگھلنے سے پانی بہتا چلا آرہا [مزید پڑھیے]

اسلام پسندوں کا اقتدار، مغرب اور عرب حلقے

May 1, 2013 // 0 Comments

عرب ممالک میں استبداد، کرپشن اور نظام حکومت کے سقوط کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ عجیب و غریب اور مشکوک و مشتبہ ہے۔ دو برس قبل ’’عرب بَہار‘‘ نے تیونس سے لے کر مصر، لیبیا، یمن اور شام کو اپنی لپیٹ میں لیا، ان میں سے بیشتر ممالک نے جمہوری راستے کے واضح شعارات (پارلیمانی و صدارتی انتخابات سے لے کر دستوری ترمیمات کے استصواب تک) کو اپنایا، لیکن اس کا اثر نہ سیاسی استحکام پر دکھائی دیا، نہ اقتصادی خوشحالی پر۔ اگر ہم شام کو چھوڑ دیں جہاں پُرامن عوامی انقلاب گھمسان کی جنگ میں بدل چکا ہے، تو باقی ممالک تیونس سے لے کر مصر، لیبیا اور یمن تک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے؟ [مزید پڑھیے]

مصر کا نیا دستور ۲۰۱۲ء|7

May 1, 2013 // 0 Comments

دفعہ ۱۶۱: کابینہ کا کوئی رکن اپنے دائرہ کار میں آنے والے کسی مسئلے سے متعلق ایوان نمائندگان، شوریٰ کونسل، یا ان کی کمیٹیوں کے سامنے کوئی بیان دے سکتا ہے۔ کونسل یا کمیٹی ایسے بیان پر بحث کر سکتی ہے اور اس پر اپنا موقف دے سکتی ہے۔ دفعہ ۱۶۲: وزیر اعظم قوانین کے نفاذ کی غرض سے ضروری ضوابط جاری کر سکے گا لیکن شرط یہ ہو گی کہ ان ضوابط کے نفاذ سے کوئی خلل، ترمیم یا استثنیٰ واقع نہ ہو، اور (وزیراعظم کو) ان کے اجرا کا اختیار کسی کو سونپ دینے کا حق ہو گا، ماسوائے اس کے کہ قانون ہی میں یہ امر درج ہو کہ اس کے نفاذ کے لیے ضروری ضوابط کون جاری کر سکتا ہے۔ دفعہ [مزید پڑھیے]

غرب اردن۔۔۔ سلام فیاض کے بعد!

May 1, 2013 // 0 Comments

فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم سلام فیاض نے ۱۳؍اپریل کو استعفیٰ دے دیا۔ یہ استعفیٰ حماس اور فتح گروپ کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ سلام فیاض کے استعفے کو فلسطینی علاقوں میں امن کے قیام کے حوالے سے ایک اور دھچکا ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ سلام فیاض آئی ایم ایف کے افسر رہ چکے تھے۔ ایم بی اے کے ساتھ ساتھ انہوں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی بھی کر رکھی ہے۔ کسی زمانے میں وہ سینٹ لوئی فیڈرل ریزرو فنڈ سے وابستہ تھے۔ مغربی سفارت کاروں کو سلام فیاض سے رابطے میں آسانی تھی اور بات سمجھانے میں دیر نہیں لگتی تھی۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے ملٹری بینڈز کو ختم کرکے اردن سے تربیت یافتہ آٹھ بٹالینز تعینات کیں۔ [مزید پڑھیے]

افغانستان میں نیا بادشاہ گر

May 1, 2013 // 0 Comments

افغانستان میں بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک متوقع بادشاہ گر نے بہتوں کو قیاس آرائیوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ افغانستان میں کابل سے باہر کم ہی لوگ اتنے طاقتور ہیں جتنے بلخ کے گورنر ہیں۔ عطا محمد نور سے ملاقات کیجیے اور کچھ ہی دیر کی گفتگو میں آپ کو اچھی طرح اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی پوزیشن اگر اس قدر مستحکم ہے تو کیوں ہے۔ وہ اپنے مہمانوں کا ایک بڑے ہال میں سنہرے تخت پر استقبال کرتے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت مزار شریف پر ان کی مکمل گرفت ہے اور ازبکستان سے ملنے والی سرحد کے علاقے ہیراتن پر بھی ان کا خاصا تصرف ہے۔ عطا محمد نور استاد رہ چکے ہیں، اس لیے انہیں استاد عطا کہا [مزید پڑھیے]

سوڈان: نقد، امداد اور سفارت کاری

May 1, 2013 // 0 Comments

کیا سوڈانیوں، اور بالخصوصی دارفر کے رہنے والوں، کو ایک نیا امن معاہدہ مل سکے گا؟ ملک میں آزادی کے ماحول کو تقویت پہنچانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے سوڈان کے صدر عمر البشیر نے یکم اپریل کو اعلان کیا کہ تمام سیاسی قیدی رہا کر دیے جائیں گے۔ سات سرکردہ سیاسی کارکن فوری طور پر رہا کر بھی دیے گئے۔ عمر البشیر کی کابینہ کے ارکان نے قطر میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی جس میں دارفر کی ترقی اور استحکام کے لیے امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ دارفر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن اور قتل عام سے صدر عمر البشیر کے لیے مشکلات بڑھی ہیں۔ انٹر نیشنل کرمنل کورٹ نے ان پر فردِ جرم عائد کرتے ہوئے گرفتاری کے وارنٹ [مزید پڑھیے]

1 80 81 82 83 84 158