معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

ترکی: فوج اور حکومت کے درمیان کشمکش

November 16, 2006 // 0 Comments

ایک اطلاع کے مطابق ترکی میں فوج اور حکومت کے درمیان کشمکش کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں‘ اس کی ایک مثال بری فوج کے سربراہ جنرل الکرباسبگ (Ilker Basbug) کی وہ دھمکی ہے جو انھوں نے ترکی ’’اعتدال پسند‘‘ حکومت کو دی ہے‘ اس حکومت کی ایک پہچان یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ خود کو اعتدال پسند تو ضرور ظاہر کرتی ہے مگر اس کا جھکائومذہب کی طرف ہے‘ یعنی یہاں جس طبقہ کی حکومت ہے وہ اپنی بنیاد اور مزاج کے اعتبار سے دین پسند ہے

پوپ کی اسلام و رحمت اللعالمین ﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی

November 1, 2006 // 0 Comments

رسواے زمانہ خبیث ترین بازنطینی حکمران مینوئل ٹو کے نبی کریمﷺ کے بارے میں گستاخانہ کلمات کو دہرا کر رحمت اللعالمینﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا۔ عالمِ اسلام کی طرف سے شدید احتجاج پر اظہارِ افسوس کا جو بیان جاری کیا ہے‘ اس میں اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے کہا گیا ہے کہ مسلمان ’’اس کے بیان کے صحیح معنی سمجھیں‘‘ یعنی پوپ اس قدر چالاک و مکار ہے کہ اپنے اظہارِ افسوس میں بھی مسلمانوں ہی کو جاہل قرار دے رہا ہے جو اس کے الفاظ کے معنی نہیں سمجھ پائے۔

شاویز صدربش کے خلاف کیوں؟

October 16, 2006 // 0 Comments

شاویز: میرا خیال ہے کہ الفاظ میں بہت وزن ہوتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ میں صدر بش پر حملہ نہیں کر رہا ہوں بلکہ میں محض ان کے حملے کا جواب دے رہا ہوں۔ بش دنیا پر حملہ کرتے رہے ہیں اور وہ بھی صرف الفاظ کے ساتھ نہیں بلکہ بموں سے حملہ کرتے رہے ہیں۔ جب میں یہ باتیں کرتا ہوں تو میرا خیال ہے کہ میں بہت سارے لوگوں کی طرف سے کرتا ہوں

جنرل سونتھی بون یاراتگلن

October 16, 2006 // 0 Comments

وہ ایسے آدمی نہیں ہیں جو سیاسی اقتدار کی ہوس میں مبتلا ہوں‘‘۔ بہت ہی نرم گفتار اور ٹھنڈے مزاج کے حامل ۵۹ سالہ جنرل سونتھی کردار کے حوالے سے اپنی ایک ساکھ رکھتے ہیں اور ایک ایسے باغی جنرل ہیں جو بہت کم کھلتے ہیں۔ لیکن ممکن ہے اقدام کرنے پر انہوں نے اپنے آپ کو مجبور پایا ہو۔ بعض دعووں کے مطابق Thaksin Shinawatra کے متوالے پیروکار مبینہ طور سے بنکاک میں کسی پُرتشدد واقعہ کی منصوبہ بندی کر رہے تھے

1 81 82 83 84 85 101