Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

مرسی کی صدارت کا ایک سال

July 16, 2013 // 0 Comments

الجزیرہ کے معروف میڈیا پرسن احمد منصور لکھتے ہیں: صدر مرسی نے طویل آمریت سے نومولود ’’جمہوری مصر‘‘ میں اپنی یک سالہ تاریخی جدوجہد میں کامیاب پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی ماہرین اور اپنوں و غیروں کو ششدر کر دیا۔ انہی کامیابیوں نے یہودی و عیسائی سامراج کی راتوں کی نیندیں اڑا دیں۔ ذیل میں ہم صدر مرسی کی کامیاب پالیسیوں کی چند جھلکیاں پیش کر رہے ہیں: ٭ مرسی نے ’’روٹی و نان‘‘ کے ایشو میں مصر کو امریکا کی غلامی سے نکالا اور ۷۰ فیصد خود کفالت حاصل کی۔ ٭ مرسی نے ایک اور پروجیکٹ کی سرمایہ کاری شروع کی، جو بحری جہازوں کی مرمت کے حوالے سے تھا تاکہ دس سال کے اندر اندر مصر کی آمدنی میں ۳؍ارب سے ۱۰۰؍ارب ڈالر [مزید پڑھیے]

ایک نئے تیونس کا تصور

July 16, 2013 // 0 Comments

سینٹر فار دی اسٹڈی آف اسلام اینڈ ڈیموکریسی سے تیونس کے راہنما راشد غنوشی کا خطاب ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جس میں اُنہوں نے تیونس میں رونما ہوتی ہوئی سیاسی تبدیلیوں اور چیلنجوں کا ذکر کیا ہے۔ میں سینٹر فار دی اسٹڈی آف اسلام اینڈ ڈیموکریسی کا شکر گزار ہوں، جس نے مجھے امریکا کے نامور اسکالروں اور پالیسی سازوں کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک سے آنے والے مندوبین سے مخاطب ہونے کا موقع فراہم کیا۔ تیونس میں جمہوریت کا متعارف ہونا صرف تیونس کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ تیونس اس خطے کا پہلا جمہوری اسلامی ملک ہے۔ ہم تیونس میں اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں اور ہمیں اندازہ ہے کہ جمہوریت [مزید پڑھیے]

مصر، فوجی بغاوت کے بعد۔۔۔

July 1, 2013 // 0 Comments

فوج کی جانب سے منتخب مصری حکومت پر شب خون مارنے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور صدر مرسی کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اخوان کا مرکزی احتجاج قاہرہ کے رابعہ العدویہ (رابعہ بصری) کے میدان میں ہو رہا ہے اور مظاہرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ احتجاج کو روکنے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج لاٹھی چارج، آنسو گیس اور کہیں کہیں براہِ راست فائرنگ بھی کر رہی ہے۔ فوجی انقلاب کے بعد سے اب تک مظاہروں میں ۶۰ سے زائد افراد شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز ایک مظاہرے کے دوران مظاہرین نے شہداء کی لاشیں اٹھا کر مارچ کیا اور فوج [مزید پڑھیے]

ترکی میں جمہوریت کا ’’زوال‘‘

July 1, 2013 // 0 Comments

گیارھا جون کو جب استنبول میں پولیس مظاہرین سے سختی سے نمٹ رہی تھی، تب وزیراعظم رجب طیب اردوان نے جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کا رویہ سخت گیر اور غیر لچکدار ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر کوئی مشتعل مظاہرین سے نمٹنے کو سختی کہہ رہا ہے تو اسے مایوسی ہوگی یعنی وزیر اعظم کے رویے میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ استنبول کے تقسیم اسکوائر میں پولیس نے مظاہرین کو سختی سے کچلا۔ ترکی میں گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب ۳۱ مئی کو پولیس نے استنبول کے تقسیم اسکوائر کے سِرے پر واقع غازی پارک کے نزدیک مظاہرین کے خلاف سخت [مزید پڑھیے]

1 81 82 83 84 85 161