Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

غرب اردن۔۔۔ سلام فیاض کے بعد!

May 1, 2013 // 0 Comments

فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم سلام فیاض نے ۱۳؍اپریل کو استعفیٰ دے دیا۔ یہ استعفیٰ حماس اور فتح گروپ کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ سلام فیاض کے استعفے کو فلسطینی علاقوں میں امن کے قیام کے حوالے سے ایک اور دھچکا ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ سلام فیاض آئی ایم ایف کے افسر رہ چکے تھے۔ ایم بی اے کے ساتھ ساتھ انہوں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی بھی کر رکھی ہے۔ کسی زمانے میں وہ سینٹ لوئی فیڈرل ریزرو فنڈ سے وابستہ تھے۔ مغربی سفارت کاروں کو سلام فیاض سے رابطے میں آسانی تھی اور بات سمجھانے میں دیر نہیں لگتی تھی۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے ملٹری بینڈز کو ختم کرکے اردن سے تربیت یافتہ آٹھ بٹالینز تعینات کیں۔ [مزید پڑھیے]

افغانستان میں نیا بادشاہ گر

May 1, 2013 // 0 Comments

افغانستان میں بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک متوقع بادشاہ گر نے بہتوں کو قیاس آرائیوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ افغانستان میں کابل سے باہر کم ہی لوگ اتنے طاقتور ہیں جتنے بلخ کے گورنر ہیں۔ عطا محمد نور سے ملاقات کیجیے اور کچھ ہی دیر کی گفتگو میں آپ کو اچھی طرح اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی پوزیشن اگر اس قدر مستحکم ہے تو کیوں ہے۔ وہ اپنے مہمانوں کا ایک بڑے ہال میں سنہرے تخت پر استقبال کرتے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت مزار شریف پر ان کی مکمل گرفت ہے اور ازبکستان سے ملنے والی سرحد کے علاقے ہیراتن پر بھی ان کا خاصا تصرف ہے۔ عطا محمد نور استاد رہ چکے ہیں، اس لیے انہیں استاد عطا کہا [مزید پڑھیے]

سوڈان: نقد، امداد اور سفارت کاری

May 1, 2013 // 0 Comments

کیا سوڈانیوں، اور بالخصوصی دارفر کے رہنے والوں، کو ایک نیا امن معاہدہ مل سکے گا؟ ملک میں آزادی کے ماحول کو تقویت پہنچانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے سوڈان کے صدر عمر البشیر نے یکم اپریل کو اعلان کیا کہ تمام سیاسی قیدی رہا کر دیے جائیں گے۔ سات سرکردہ سیاسی کارکن فوری طور پر رہا کر بھی دیے گئے۔ عمر البشیر کی کابینہ کے ارکان نے قطر میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی جس میں دارفر کی ترقی اور استحکام کے لیے امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ دارفر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن اور قتل عام سے صدر عمر البشیر کے لیے مشکلات بڑھی ہیں۔ انٹر نیشنل کرمنل کورٹ نے ان پر فردِ جرم عائد کرتے ہوئے گرفتاری کے وارنٹ [مزید پڑھیے]

فلسطین کی آزادی اور حماس کا وژن

April 16, 2013 // 0 Comments

الزیتونہ سینٹر فار اسٹڈیز اینڈ کنسلٹیشنز نے حماس کے سیاسی بازو کے سربراہ خالد مشعل کے ایک مقالے پر مبنی دستاویز شائع کی ہے جس سے عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر کے تناظر میں حماس کے سیاسی فکر کی از سرِ نو تشکیل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بیروت میں ۲۸ اور ۲۹ نومبر ۲۰۱۲ء کو الزیتونہ سینٹر کے زیراہتمام عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر کے تناظر میں ’’اسلامی تحاریک اور فلسطینی کاز‘‘ کے زیر عنوان ایک کانفرنس ہوئی، جس میں خالد مشعل نے مقالہ پیش کیا۔ کانفرنس کے بعد خالد مشعل نے خود اس مقالے کی نئے سِرے سے تدوین کی اور اشاعت کے لیے الزیتونہ سینٹر کو بھیجا۔ اس مقالے کو حماس کے سیاسی فکر کے حوالے سے ایک [مزید پڑھیے]

مصر کا نیا دستور ۲۰۱۲ء|6

April 16, 2013 // 0 Comments

باب دوم: انتظامی مقتدرہ سیکشن 1: صدر دفعہ۱۳۲: صدر ریاست اور انتظامی مقتدرہ کا سربراہ ہو گا۔ وہ عوام کے مفادات کی نگہبانی، مادر وطن کی آزادی اور علاقائی خود مختاری کی حفاظت، اور اختیارات کے مابین علاحدگی کی پابندی کرے گا۔ وہ آئین میں دیے گئے طریقے کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دے گا۔ دفعہ۱۳۳: صدر جمہوریہ چار تقویمی (Calendar) برس کے لیے منتخب کیا جائے گا، جس کی مدت کا آغاز اس کے پیش رو کی مدت کے آخری دن سے ہو گا۔ صدر کو دوبارہ صرف ایک اور بار (یعنی زیادہ سے زیادہ دو بار) منتخب کیا جا سکے گا۔ صدارتی مدت ختم ہونے سے کم از کم ۹۰ روز قبل صدارتی انتخاب کا عمل شروع ہو جائے گا۔ مدت ختم [مزید پڑھیے]

فلسطینیوں میں مصالحت: کیا واقعی ایسا ہوسکتا ہے؟

April 16, 2013 // 0 Comments

جو لوگ فلسطینی دھڑوں کا اتحاد چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ گزری ہوئی باتوں کو بھول کر مستقبل پر نظر رکھی جائے، ان کے دل خوشی سے جھوم رہے ہیں۔ ۲؍اپریل کو حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ خالد مشعل نے دوسری بار تنظیم کا سربراہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ حماس (جو غزہ کی پٹی پر حکمران ہے) اور مغربی کنارے پر متصرف الفتح گروپ کے درمیان امن معاہدے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ جب خالد مشعل کے دوبارہ انتخاب کے حوالے سے پولنگ ہو رہی تھی تب اسرائیل کی سخت نگرانی میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہروں کا نظم و نسق چلانے والی فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم سلام فیاض کے پیٹ میں مروڑ اٹھا اور انہیں [مزید پڑھیے]

1 81 82 83 84 85 158