Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

مصر، فوجی بغاوت کے بعد۔۔۔

July 1, 2013 // 0 Comments

فوج کی جانب سے منتخب مصری حکومت پر شب خون مارنے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور صدر مرسی کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اخوان کا مرکزی احتجاج قاہرہ کے رابعہ العدویہ (رابعہ بصری) کے میدان میں ہو رہا ہے اور مظاہرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ احتجاج کو روکنے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج لاٹھی چارج، آنسو گیس اور کہیں کہیں براہِ راست فائرنگ بھی کر رہی ہے۔ فوجی انقلاب کے بعد سے اب تک مظاہروں میں ۶۰ سے زائد افراد شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز ایک مظاہرے کے دوران مظاہرین نے شہداء کی لاشیں اٹھا کر مارچ کیا اور فوج [مزید پڑھیے]

ترکی میں جمہوریت کا ’’زوال‘‘

July 1, 2013 // 0 Comments

گیارھا جون کو جب استنبول میں پولیس مظاہرین سے سختی سے نمٹ رہی تھی، تب وزیراعظم رجب طیب اردوان نے جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کا رویہ سخت گیر اور غیر لچکدار ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر کوئی مشتعل مظاہرین سے نمٹنے کو سختی کہہ رہا ہے تو اسے مایوسی ہوگی یعنی وزیر اعظم کے رویے میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ استنبول کے تقسیم اسکوائر میں پولیس نے مظاہرین کو سختی سے کچلا۔ ترکی میں گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب ۳۱ مئی کو پولیس نے استنبول کے تقسیم اسکوائر کے سِرے پر واقع غازی پارک کے نزدیک مظاہرین کے خلاف سخت [مزید پڑھیے]

سوشل نیٹ ورکنگ نے اربوں ڈالر چُرالیے!

July 1, 2013 // 0 Comments

دنیا بھر میں سوشل نیٹ ورکنگ کو بُرائیوں اور خرابیوں کی جڑ مانا جارہا ہے۔ یہ لوگوں کو لائیو کمیونی کیشن سے دور کرتی ہے، انہیں انٹرنیٹ کا زیادہ اور خطرناک حد تک عادی بناتی ہے اور چند ایک شدید نوعیت کے نفسیاتی عوارض بھی پیدا کرتی ہے۔ یہ بات بھی پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ سے معیشت کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور ہر سال معیشتوں سے اربوں ڈالر نکل جاتے ہیں۔ روس میں آڈیٹنگ فرم ایف بی کے نے رائے عامہ کے مختلف جائزوں سے اندازہ لگایا ہے کہ روسیوں میں سوشل نیٹ ورکنگ پر انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ ایک محتاط ترین اندازے کے مطابق روس میں سوشل نیٹ ورکنگ پر خرچ کیا جانے والا انفرادی وقت ۲۵ [مزید پڑھیے]

حسن روحانی کی مختصر سوانح حیات

June 16, 2013 // 0 Comments

نومنتخب ایرانی صدر ۱۳ نومبر ۱۹۴۸ء کو ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پیدائشی شہر ’’سرخہ ‘‘صوبہ سمنان میں واقع ہے ۔ جناب حسن روحانی نے اپنی دینی تعلیم کا آغاز سمنان کے مدرسے سے ۱۹۶۰ء میں کیا۔ ایک سال بعد وہ مقدس شہر قم چلے گئے۔ ۱۹۶۹ء میں آپ نے تہران یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور تین سال بعد یہاں سے قانون میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ۔جناب روحانی نے گیلسگو کیلیڈونین یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ روحانی پہلوی حکومت کے خلاف ایک نوجوان کی حیثیت سے جدوجہد میں شامل رہے۔ ۱۹۷۹ء میں جلاوطنی کی زندگی ترک کرنے کے بعد جب امام خمینیؒ فرانس سے ایران واپس لوٹ آئے تواُس وقت روحانی یورپ [مزید پڑھیے]

’’جدید ترک جمہوریہ‘‘ ایک نئی بحث

June 16, 2013 // 0 Comments

خلافتِ عثمانیہ کے باقاعدہ خاتمے کو اب ۹۰ برس ہو چکے ہیں، اکتوبر کی ۲۹ تاریخ کو ہر سال اس ’’عظیم الشان‘‘ کارنامے کو یاد کیا جاتا ہے اور ’’جدید ترکی‘‘ کے معماروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس سفر کے سنگ ہائے میل کو بھی اس غرض سے لوگوں کے سامنے لایا جاتا ہے تاکہ ’’جدید‘‘ ترکی کے معماروں نے جو آئیڈیل ان کے سامنے رکھا تھا وہ ذہنوں سے کہیں اوجھل نہ ہو جائے۔ اس موقع پر اس ’جدید ترک جمہوریہ‘ کو لاحق خطرات سے بھی آگہی حاصل کی جاتی ہے۔ اس دوران ترکی بہت سے نشیب و فراز سے گزرا ہے۔ ۱۹۲۳ء میں اس کے لیے جو ماڈل تیار کیا گیا تھا، اس سلسلے میں سوالات بھی اٹھے۔ عام [مزید پڑھیے]

1 82 83 84 85 86 162