Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

مصر کا نیا دستور ۲۰۱۲ء|5

April 1, 2013 // 0 Comments

دفعہ۱۱۱: ہر کونسل اپنے ارکان کا استعفیٰ صرف تحریری صورت میں قبول کر ے گی۔ اگر کونسل نے کسی رکن کی رکنیت منسوخ کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہوں تو اس صورت میں رکن کا استعفیٰ قبول نہیں کیا جائے۔ دفعہ۱۱۲: کسی کونسل کے رکن کی رکنیت اسی صورت میں منسوخ کی جا سکے گی، جب وہ اعتماد یا حیثیت کھو چکا ہو، یا رکنیت کی مطلوبہ شرائط میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی ہوئی ہو، یا وہ رکنیت کے فرائض کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہو۔ رکنیت کی منسوخی کا فیصلہ متعلقہ کونسل کے ارکان کی دو تہائی اکثریت کی بنیاد پر ہو گا۔ دفعہ۱۱۳: اگر کسی رکن کی نشست مقررہ مدت کے خاتمے سے کم از کم چھ ماہ [مزید پڑھیے]

’’عالم عرب کو ہندوستان کے حالات سے باخبر رہنا چاہیے!‘‘

April 1, 2013 // 0 Comments

ماہ نومبر ۲۰۱۲ء میں جامعۃ الفلاح کے جشن طلائی کے موقع پر المجتمع کے مدیر ڈاکٹر شعبان عبدالرحمن بلریا گنج آئے تھے۔ اس دوران انہوں نے مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند سے انٹرویو کیا تھا، جو المجتمع کی ۹۔۱۵؍فروری ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں شائع ہوا۔ اس کا اردو ترجمہ جناب خالد سیف اللہ اثری نے کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی ہند کے ساتھ یہ بات چیت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس بات چیت سے ہندوستان کی مسلم اقلیت کے حالات و کوائف پر روشنی پڑتی ہے۔ یہ دنیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی اقلیت سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس کی تعداد عالم عرب کی مجموعی آبادی کے برابر یا اس سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود یہ ایک واقعہ [مزید پڑھیے]

قائد کی زندگی کا مقصد

April 1, 2013 // 0 Comments

آل انڈیا مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا: ’’مسلمانو! میں نے دنیا میں بہت کچھ دیکھا ہے۔ دولت، شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد و سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی، اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کردیا۔ میں آپ سے اس کی داد اور صلہ کا طلبگار نہیں ہوں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، میرا اپنا ایمان اور میرا اپنا ضمیر گواہی دے [مزید پڑھیے]

بنگلا دیش امریکا تعلقات، اتنے اچھے کبھی نہ تھے!

March 16, 2013 // 0 Comments

بنگلا دیش میں امریکی سفیر ڈین موزینا نے تیزی سے بگڑتے ہوئے حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکا میں تین ہفتے گزارنے کے بعد ڈھاکا کے امریکن سینٹر میں بنگلہ دیشی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈین موزینا نے کہا کہ جماعتِ اسلامی ایک تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے اور اِس کا شمار مؤثر پارلیمانی قوتوں میں ہوتا ہے۔ اِس پر پابندی عائد کرنا یا کوئی اور کارروائی کرنا، ہر اعتبار سے موزوں ترین اتھارٹیز کا کام ہے۔ ڈین موزینا کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں کچھ کہنا میرا منصب نہیں، مگر معاملات کو بہتر انداز سے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ امریکا میں تھے، تب لوگوں نے ان سے بنگلہ دیش [مزید پڑھیے]

ایئرمارشل حافظ الاسد سے ڈاکٹر بشارالاسد تک

March 16, 2013 // 0 Comments

حافظ الاسد نے ۱۹۴۶ء میں (مسیحی رہنما مائیکل ایفلاک کی قائم کردہ) بعث پارٹی میں بطور طالبعلم لیڈر، شمولیت اختیار کی۔ ۵۵۔۱۹۵۰ء: میڈیکل کی تعلیم مہنگی ہونے کے سبب، حافظ الاسد نے حُمص ملٹری اکیڈمی میں داخلہ لیا اور فضائیہ کے پائلٹ کی تعلیم مکمل کی۔ ۶۱۔۱۹۵۸ء: جب مصر، شام اور یمن نے یونائیٹڈ عرب ریپبلک (UAR) کی شکل میں باہم اِدغام کیا تو شام کے بعض بعثی افسروں نے، جو مصر میں جِلاوطنی کی کیفیت سے دوچار تھے، ایک ’’ملٹری کمیٹی‘‘ بنائی جس میں حافظ الاسد بھی شامل تھے۔ اس عمل کا مقصد بالآخر شام میں حکومت پر قبضہ کرنا تھا۔ ۸ مارچ ۱۹۶۳ء: اسی ’’ملٹری کمیٹی‘‘ نے ۷ مارچ ۱۹۶۳ء کو شام کی حکومت سے بغاوت کرکے اقتدار پر قبضہ کا منصوبہ بنایا، [مزید پڑھیے]

ترکی اور یورپی یونین۔ برف پگھل رہی ہے؟

March 16, 2013 // 0 Comments

یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے ترکی نے بہت پاپڑ بیلے ہیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ یورپی یونین کسی ایسے ملک کو قبول کرنے کے لیے بظاہر تیار نہیں جو مسلم اکثریت کا حامل بھی ہے اور بہت حد تک اسلامی مزاج بھی رکھتا ہے۔ بہت سے ترک اب یورپی یونین کی رکنیت کے حوالے سے مایوس ہوچکے ہیں، مگر مبصرین کہتے ہیں کہ ہمت اور امید ہارنے کی ضرورت نہیں۔ اب بھی کسی نہ کسی طرح پیش رفت ہو رہی ہے۔ تقریباً تیس ماہ تک یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کا معاملہ سرد خانے میں پڑے رہنے کے بعد اب ایک بار پھر کچھ گرمی حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ برف پگھل رہی ہے۔ نکولس سرکوزی کی صدارت میں [مزید پڑھیے]

رومن کیتھولک چرچ پاپائے اعظم (Pope) کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

March 16, 2013 // 0 Comments

دنیا بھر میں نصف سے زائد مسیحی آبادی، رومن کیتھولک چرچ سے وابستہ ہے۔ ان کا مرکز اٹلی کے شہر روم میں واقع ’’ویٹی کن سٹی‘‘ (Vatican City) ہے، جسے ۱۱فروری ۱۹۲۹ء کو اٹلی کے آمر مطلق بینیٹو مسولینی نے الگ ریاست کا درجہ دے دیا تھا۔ ویٹی کن کا کُل رقبہ ۱۱۰؍ایکڑ اور آبادی آٹھ سو سے کچھ زیادہ ہے۔ اس کی سرکاری زبان اطالوی اور مذہبی زبان لاطینی ہے۔ ویٹی کن سٹی اور Holy See دو الگ الگ حیثیتیں رکھنے والے وجود ہیں۔ ویٹی کن سٹی آزاد ریاست ہے اور Holy See ریاست نہیں، مذہبی ادارہ ہے جو ویٹی کن سٹی میں ہی موجود ہے۔ ’’ویٹی کن سٹی‘‘ گویا شہر ہی نہیں، ایک ریاست بھی ہے اور دنیا بھر کی اکثریتی مسیحی آبادی [مزید پڑھیے]

4|مصر کا نیا دستور ۲۰۱۲ء

March 16, 2013 // 0 Comments

حصہ سوم: سرکاری مقتدرہ باب اول: قانون سازی کی مقتدرہ سیکشن ۱: عمومی شقیں دفعہ۸۲: قانون سازی کی مقتدرہ ایوان نمائندگان اور شوریٰ کونسل پر مشتمل ہو گی۔ ہر ایک ادارہ آئین میں طے شدہ متعلقہ اختیارات استعمال کرے گا۔ دفعہ۸۳: کوئی شخص ایوان نمائندگان اور شوریٰ کونسل کی بیک وقت رکنیت نہیں رکھ سکے گا۔ نااہلیت کی دیگر صورتیں قانون واضح کرے گا۔ دفعہ۸۴: ماسوائے استثنائی صورتوں کے جن کی وضاحت قانون کرے گا، ایوان نمائندگان اور شوریٰ کونسل کے ارکان مکمل طور پر اپنے اداروں سے مخلص رہیں گے، کوئی بھی ملازمت یا عہدہ ان کی واپسی تک قانونی شقوں کے مطابق دستیاب رکھا جائے گا۔ دفعہ۸۵: قانون ساز ادارے کا رکن غیر مشروط طور پر بحیثیت مجموعی پوری آبادی کا نمائندہ ہے۔ [مزید پڑھیے]

1 82 83 84 85 86 158