Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

گستاخانہ امریکی فلم، عالم اسلام اور احتجاج

October 16, 2012 // 0 Comments

امریکا کی ایک گستاخانہ فلم پر اسلامی معاشروں میں جو ردعمل دکھائی دیا ہے، اس سے بہت سے مسلمان پریشان دکھائی دیے ہیں۔ بہتوں کی نظر میں احتجاج حد سے گزر گیا اور اس سے صرف مسائل پیدا ہوئے۔ یہی حال مبلغین اور واعظین کی تقاریر کا تھا۔ ۱۴؍ ستمبر کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مشہور زمانہ تحریر اسکوائر میں ظہر کی نماز کے بعد ایک خطیب کھڑا ہوا اور اس نے مجمع کو مخاطب کرکے بولنا شروع کیا۔ انتہائی پرجوش انداز سے خطاب کرتے ہوئے اُس نے مسلمان بھائیوں کو صلیبی جنگجوؤں سے مقابلے کے لیے ہر قسم کے ہتھیاروں کے ساتھ تیار رہنے کو کہا۔ اس تقریر کے کچھ ہی دیر بعد بڑی تعداد میں نوجوانوں نے امریکی سفارت خانے کی سلامتی [مزید پڑھیے]

النہضہ ’’عفریت‘‘ کو پال رہی ہے؟

October 16, 2012 // 0 Comments

تیونس میں اسلام پسندوں کی حکومت سلفیوں سے بہتر تعلقات کے معاملے میں خاصی شاکی اور محتاط ہے۔ گستاخانہ فلم کے خلاف ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جب لیبیا کے شہر بن غازی میں مظاہرین نے امریکی سفیر کرس اسٹیونز کو مار ڈالا اُس کے صرف تین دن بعد تیونس میں بھی بنیاد پرست اور انتہاپسند مسلمانوں نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا۔ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار افراد مارے گئے۔ اس واقعے نے تیونس میں دو غیر اسلام پسند جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے والی النہضہ پارٹی کو اسپاٹ لائٹ میں لا کھڑا کیا۔ النہضہ پارٹی پر یہ الزام تواتر سے لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ بنیاد پرست سلفیوں سے نمٹنے کے معاملے [مزید پڑھیے]

شام کے بحران سے اسرائیل فائدہ اٹھائے گا!

October 1, 2012 // 0 Comments

لبنان کے دروز لیڈر ولید جنبلاط (Walid Jumblatt) کا شمار ان با اثر سیاست دانوں میں ہوتا ہے جن کے بیانات بحث کا موضوع بنتے ہیں۔ انہوں نے ۱۹۸۰ء کے عشرے میں لبنانی سیاست میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ولید جنبلاط نے خبردار کیا ہے کہ شام کی صورت حال لبنان پر اچھی خاصی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ انہوں نے لبنان کے علاقے ٹریپولی کے واقعات کو بھی شام کی صورت حال کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ پروگریسیو سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ ولید جنبلاط کا کہنا ہے کہ شام کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال خطے میں بہت سی تبدیلیوں کی نقیب ثابت ہوسکتی ہے۔ شام کی تقسیم کا امکان تو خیر نہیں ہے مگر اِس بحران کے بطن سے کئی خرابیاں نکل [مزید پڑھیے]

لیبیا اور اُس کے ’’انتہا پسند‘‘

October 1, 2012 // 0 Comments

لیبیا میں صورت حال اب تک معمول پر نہیں آسکی ہے۔ نیا حکومتی ڈھانچا قائم کیا جارہا ہے مگر سب سے بڑا مسئلہ معیشت کی بہتری سے زیادہ یہ ہے کہ عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں پر کس طرح قابو پایا جائے۔ لیبیا کا دارالحکومت ٹریپولی بھی، دوسرے بڑے شہر بن غازی کی طرح خاصا جوشیلا اور غیر متوقع ہے۔ کسی کو کچھ اندازہ نہیں کہ کب کیا ہو جائے۔ بن غازی میں ۱۱؍ ستمبر کو گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف احتجاج کے دوران امریکی سفیر اور تین دیگر امریکیوں کو امریکی قونصلیٹ میں قتل کردیا گیا تھا۔ اس واقعے کے ایک دن بعد وزیراعظم کے منصب پر منتخب ہونے والے مصطفی ابوشغور (Mustafa Abushagur) نے اب تک کابینہ تشکیل نہیں دی ہے اور یہی [مزید پڑھیے]

مصر کو نظرانداز کر کے خطے میں حقیقی امن و استحکام ممکن نہیں!

October 1, 2012 // 0 Comments

کسی بھی مملکت کے سربراہ سے انٹرویو آسان نہیں ہوتا اور خاص طور پر ایسے سربراہِ مملکت سے جسے منصب سنبھالے ہوئے زیادہ مدت نہ گزری ہو۔ مصر کے صدر محمد مرسی کا معاملہ تھوڑا سا مختلف تھا۔ وہ انگریزی اچھی جانتے اور بولتے ہیں۔ کسی سوال کو سمجھنا ان کے لیے مشکل نہ تھا۔ بعض مواقع پر ان کے ترجمان نے جواب دیے جیسا کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں عام بات ہے۔ تھوڑا سا انتظار کرنا پڑا مگر خیر، صدر مرسی نے ہمیں ۹۰ منٹ دیے جو کھل کر گفتگو کے لیے اچھا خاصا وقت تھا۔ پہلا سرکاری مترجم خاصا محتاط تھا اور بہت سے معاملات میں ہچکچاہٹ کے ساتھ بات کرتا تھا۔ بعد میں صدر نے ایک اور مترجم بلایا جو [مزید پڑھیے]

1 94 95 96 97 98 162