Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

اومان بھی جاگ اٹھا ہے!

July 16, 2012 // 0 Comments

اومان کو دنیا کی سب سے چارمنگ پولیس اسٹیٹ کہا جاتا ہے۔ موجودہ سلطان قابوس بن سعید نے ۱۹۷۰ء کے عشرے میں اپنے والد کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور اب وہ مشرق وسطیٰ میں طویل ترین مدت تک راج کرنے والے حکمرانوں کی صف میں کھڑے ہیں۔ اور شاید وہ دنیا کے واحد مطلق العنان حکمران ہیں جنہوں نے اپنے کسی جانشین کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ گزشتہ برس اومان میں بھی لوگوں نے احتجاج کیا اور جمہوریت کے حق میں آواز بلند کی تو چند ایک اصلاحات نافذ کی گئیں مگر ان سے کچھ بھلا نہ ہوا۔ اب بھی بیشتر اختیارات سلطان قابوس کے ہاتھ میں ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ سلطان قابوس مزید اختیارات سے دستبردار ہوں۔ [مزید پڑھیے]

مصر کی ’’خاتونِ اوّل‘‘

July 16, 2012 // 0 Comments

بین الاقوامی سیاست کے موجودہ فیشن کے مطابق مصر کے نئے صدر محمد مرسی کی اہلیہ اُم احمد مصر کی فرسٹ لیڈی (خاتون اول) کہلائیں گی۔وہ ایک سیدھی سادھی باحجاب خاتون ہیں، بہت زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہیں، مغربی سیاست کے آداب و اطوار سے واقفیت کا تو سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔ وہ خاتونِ اول کہلانا بھی پسند نہیں کرتیں۔ اس لیے عالمی میڈیا بہت فکرمند ہے۔ پریشانی میڈیا کی یہ ہے کہ پروٹوکول کے مواقع پر اُم احمد کا طرزِ عمل کیا ہوگا۔ اپنے ملک میں وہ غیر ملکی سربراہان حکومت کا استقبال کس طرح کریں گی، مغربی روایت کے مطابق اُن سے مصافحہ کریں گی یا اپنے شوہر کے مصافحے کو کافی سمجھیں گی۔ ان کے ساتھ فوٹو سیشن میں شریک ہوں گی [مزید پڑھیے]

موغا دیشو: رونقیں لوٹ رہی ہیں!

July 1, 2012 // 0 Comments

صومالیہ کو خانہ جنگی نے تباہ کردیا ہے۔ ملک میں بظاہر کوئی طاقتور مرکزی حکومت نہیں جس کے باعث خرابیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ مغربی میڈیا نے اسلامی شدت پسندی کا ایسا راگ الاپا کہ مشکلات کم ہونے کے بجائے آپس میں ضرب ہوتی گئیں۔ مگر اب صومالیہ کے ساحل کے حوالے سے یہ امید افزا خبر آئی ہے کہ سب کچھ معمول کی طرف لوٹ رہا ہے۔ ایک طرف تو ساحلوں پر رونق بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف ملک میں خریداری کا رجحان بھی تقویت پارہا ہے۔ یہ بہت حیرت انگیز اور خوش کن امر ہے۔ صومایہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ابھی کل تک لوگ کسی نہ کسی طرح صبح سے شام کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ وہ اپنی دکانوں کو سجانے اور [مزید پڑھیے]

عدم رواداری کے لیے رواداری

July 1, 2012 // 0 Comments

انڈونیشیا میں مذہبی بنیاد پر تشدد کو فروغ مل رہا ہے۔ مئی کے دوران کئی مقامات پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پروٹیسٹنٹ عیسائیوں کی چند مذہبی رسوم کے دوران مسلمانوں نے گرجا گھروں پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں بھی حملے کیے گئے۔ دارالحکومت جکارتہ کے نواح میں بھی ایک چرچ پر حملہ کیا گیا۔ بہت سے عیسائیوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ شمالی سماٹرا میں بنیاد پرست مسلمانوںکی اکثریت والے صوبے آچے میں ۱۶؍گرجا گھر اجازت نامہ نہ ملنے کے باعث بند کردیے گئے ہیں۔ انڈونیشیا میں مذہب کے نام پر ڈرانے دھمکانے اور تشدد کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے مگر اس کے خلاف کوئی بھی اقدام نہیں کیا جارہا۔ ۲۶ [مزید پڑھیے]

1 94 95 96 97 98 158