Abd Add
 

معارف فیچر

۱۔ معارف فیچر ہر ماہ کی یکم اور سولہ تاریخوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے (ہمیں) دستیاب ایسی معلومات کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے‘ جو اسلام سے دلچسپی اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والوں کے غور و فکر کے لیے اہم یا مفید ہوسکتی ہیں۔

۲۔ پیش کیا جانے والا لوازمہ بالعموم بلاتبصرہ شائع کیا جاتا ہے۔ کسی مضمون‘ نقطہء نظر‘ خیال یا معلومات کے انتخاب کی وجہ اس سے ہمارا اتفاق نہیں‘ اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی مضمون یا معلومات کی مدلل تردید یا اس سے اختلاف پر مبنی لوازمہ کو بھی جگہ دی جاسکتی ہے۔

۳۔ فیچر کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات کے حصول یا ان کے ذرائع تک رسائی میں آپ کی مدد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

۴۔ ہمارے فراہم کردہ لوازمے کے مزید‘ لیکن غیرتجارتی ابلاغ کی عام اجازت ہے۔

۵۔ معارف فیچر کی کوئی قیمت مقرر نہیں۔ تاہم عطیات کی ضرورت بھی رہتی ہے اور عطیات قبول بھی کیے جاتے ہیں۔

جنوبی افریقہ میں اسلام کا فروغ

June 1, 2005 // 0 Comments

جنوبی افریقہ کے کالے باشندے افریقی مہاجر آبادیوں کے مذہب اسلام سے متاثر ہو کر بڑی تعداد میں مسلمان ہو رہے ہیں اور اس عیسائی اکثریت والے ملک میں لوگ اپنی مذہبی وابستگی کو آہستہ آہستہ تبدیل کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ نظر آئے گا‘ اگر آپ مردم شماری کے اعداد و شمار کو دیکھیں گے۔ ڈاکٹر شامل جیپی جو یونیورسٹی آف کیپ ٹائون میں ماہرِ تاریخ اسلامی ہیں‘ کا کہنا ہے کہ ’’اسلام بہت تیزی سے فروغ پارہا ہے بالخصوص کالوں کی آبادی میں‘‘۔ وسطی اور مغربی ایشیا سے آنے والے مہاجرین جنہیں اپنے ملک میں غربت کا سامنا تھا‘ اس براعظم کے اقتصادی پاور ہائوس سے استفادہ کے ساتھ ہی ایک نئے افریقی اسلام کا تعارف بھی کرایا [مزید پڑھیے]

کراچی: آلودگی‘ مہنگائی اور منشیات کی زد میں!

June 1, 2005 // 0 Comments

ماحولیات ماحولیاتی آلودگی ویسے تو اب ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے جس سے دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح ہمارا ملک بھی متاثر ہو رہا ہے۔ ملک کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی و تجارتی مرکز ہونے کے باعث کراچی کا ماحولیاتی آلودگی سے متاثر ہونا ایک یقینی امر ہے جس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ اس شہر کو صحت و صفائی کا قابلِ اعتماد نظام اب تک میسر نہیں آسکا ہے۔ گاڑیوں کا دھواں‘ ٹریفک کا شور‘ نکاسیٔ آب کے نظام کی خرابی کے باعث اکثر علاقوں میں گٹروں کا آئے دن ابلنا اور گلیوں اور سڑکوں میں جمع شدہ پانی نہ صرف پورے پورے علاقوں کے ماحول کو تعفن زدہ بنائے رکھتا ہے بلکہ اس سے مکھیوں اور مچھروں [مزید پڑھیے]

عالمی جنگ کا خاتمہ مگر۔۔۔

May 16, 2005 // 0 Comments

دوسری عالمی جنگ میں نازیوں پر حلیفوں کی فتح کی ۶۰ویں سالگرہ اس اعتبار سے اہم رہی کہ آج پھر دنیا قتل و غارتگری اور انصاف سے محروم کمزور آبادیوں پر ظلم و ستم کے دور سے گزر رہی ہے۔ ویتنام کی جنگ ہو یا ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم کی تباہ کاریوں کا لامتناہی سلسلہ بھیانک خواب کی طرح نئی دنیا کا مسلسل پیچھا کر رہا ہے۔ جنگیں تو ختم ہو جاتی ہیں‘ انسانی ہاتھوں سے انسانوں کی تباہ کاریاں بھیانک یاد بن جاتی ہیں۔ کوئی بھی انصاف پسند اور ہمدرد انسان یہ نہیں چاہے گا کہ یہ یادیں‘ ماضی سے نکل کر حال و مستقبل تک برقرار رہیں۔ گذشتہ نصف صدی میں بہت کچھ بدل گیا۔ انسان نے ترقی کی وہ منزلیں [مزید پڑھیے]

الجزیرہ ٹی وی سے متعلق کچھ حقائق

May 16, 2005 // 0 Comments

الجزیرہ ٹی وی کے حوالے سے بعض سٹیلائٹ ٹی وی اور انٹر نیٹ ذرائع نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے۔ ان کے مطابق ان رپورٹوں میں الجزیرہ نیٹ ورک کے علاقائی و بین الاقوامی نیٹ ورک قطری حکومت کی ملکیت ہے۔ یہ پہلے بی بی سی عربی نشریات کی ملکیت تھا اور سعودی عربیہ اس کے اخراجات برداشت کرتا تھا۔ جب الجزیرہ نے ایک سعودی منحرف کا انٹرویو نشر کیا تو سعودی عرب نے اس پر اعتراض کیا لیکن بی بی سی نے اس طرح کے پروگرام کو روکنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا سعودی حکومت اس بات پر راضی ہو گئی کہ اس ٹی وی نیٹ ورک کو فروخت کر دیا جائے اور قطری شہزادہ (ولی عہد) نے اسے ۱۵ کروڑ ڈالر کے [مزید پڑھیے]

مسلمانوں کو عالمگیر تباہی سے دوچار کرنے کی سازش

May 16, 2005 // 0 Comments

امینہ ودود پر تنقید سن کر اور ۱۸ مارچ کو کمپنی کی طرف سے کیے گئے اقدام پر بعض مسلمانوں کا تبصرہ ہے کہ ’’بلاوجہ اس گمراہ کن عورت کے اقدامات پر اتنی توجہ کیوں دی جارہی ہے۔ یہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں کہ جس پر اتنی توجہ دی جائے۔ اس طرح تو اسے مزید مشہور کرنا ہے اور بھی بہت سارے گراں قدر مسائل ہیں جن پر توجہ دینی چاہیے اور جو حقیقتاً فوری توجہ کے مستحق بھی ہیں‘‘۔ بہرحال یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا کہ یہ لوگ تصور کیے بیٹھے ہیں۔ ان اقدامات کے نتائج جو بزعم خویش ترقی پسند مسلمانوں کی طرف سے کیے جارہے ہیں‘ سے زیادہ سنگین ہیں۔ امینہ ودود کے واقعہ پر خاموشی اختیار کرنے کا مطالبہ مسلمانوں [مزید پڑھیے]

کیا ’’تَھر‘‘ میں تعلیم کی ڈوبتی کشتی کو کنارہ ملے گا؟

May 16, 2005 // 0 Comments

تھر‘ سندھ کا انتہائی پسماندہ علاقہ ہے جو اپنے معدنی ذخائر کے حوالے سے پورے ملک سمیت دنیا میں مشہور ہے۔ اس علاقے کی تعلیمی صورتحال سوچنے کے لائق ہے۔ تھرپارکر ضلع کے تعلیمی اداروں کے گذشتہ دس سال ۱۹۹۴ء سے ۲۰۰۴ء تک کی خواندگی شرح کی رپورٹ کے مطابق سال ۹۵۔۱۹۹۴ء کے مدمقابل گذشتہ سال ۲۰۰۴ء میں ضلع کا واحد کالج مٹھی میں ۵۷ فیصد طلبا کے داخلوں میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔ جبکہ اسی طرح دس سال کے مدمقابل سال ۴۔۲۰۰۳ء میں ضلع کے پورے ہائی اسکولوں میں طلبا کے داخلوں میں ۹ فیصد کمی ہوئی ہے۔ اسی طرح اس سے پہلے والے تین سالوں میں ۱۹۹۹ء کے دوران کالج کے طلبا کے داخلوں میں ۷۴ فیصد‘ ۲۰۰۰ء میں ۷۳ فیصد‘ ۲۰۰۱ء میں [مزید پڑھیے]

1 94 95 96 97 98 101