Abd Add
 

فرانس: اسلام دشمنی واشگاف

French President Emmanuel Macron delivers a speech to present his strategy to fight 'radicalisation' on October 2, 2020 in Les Mureaux outside Paris [Ludovic Marin/AFP]

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے دی میوروکس، پیرس کے مقام پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس کی سیکولر اقدار کو ’’اسلامی بنیاد پرستی‘‘ سے محفوظ رکھنا ناگزیر ہوگیا ہے، پوری دنیا کے مذاہب کو مسلمان شدت پسندوں سے سخت خطرہ درپیش ہے۔ فرانسیسی صدر نے زور دیتے ہوئے کہاکہ اب اسلامی بنیاد پرستوں سے کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ فرانس کے تعلیمی اداروں اور عوامی مراکز سے مذہب کو باہر کردیا جائے گا۔

میکرون کا کہنا تھاکہ صرف فرانس ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی مشکلات کا ذمہ دار اسلام ہے۔ میکرون نے اعلان کیا کہ اس حوالے سے حکومت دسمبر میں ایک قرارداد پیش کرے گی، جس سے ۱۹۰۵ء سے موجود سیکولر ریاست کے قانون کو مزید تقویت ملے گی۔

فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ ہمیں تیزی سے پھیلتی بنیاد پرستی کی اس عفریت سے نمٹنا ہوگا تاکہ ہم مل جل کر ساتھ رہ سکیں۔ سیکولر ازم ہی فرانس کی اساس ہے، لیکن تمام مسلمانوں کو اس عمل کا ذمہ دار قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ قانون تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنی مرضی اور پسند کے مطابق عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن مذہبی وابستگی کو تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر ظاہر کرنے پر پابندی ہوگی۔ فرانس میں حجاب پر پہلے ہی پابندی ہے۔

میکرون کے اس بیان سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا۔ فرانس سے تعلق رکھنے والے مسلمان رہنما یاسر لواتی نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ فرانس میں مسلمانوں پر ظلم و جبر پہلے ایک دھمکی اور تخویف کا باعث تھا لیکن اب اس کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا ہے۔ اپنی ایک گھنٹے پر محیط تقریر میں میکرون نے مسلمانوں کے جائز حقوق کو پامال کرتے ہوئے اسلام مخالف گروہوں کی حوصلہ افزائی کی۔

فرانسیسی ادیب رم سارۃ العون نے لکھا کہ ’’میکرون نے اسلام کو دنیا بھر کی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس پر میں کیا تبصرہ کروں، میکرون کا یہ بیان اتنا مضحکہ خیز ہے کہ اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں‘‘۔

ناروے میں مقیم مصنف ایاد البغدادی نے صرف یہ لکھا ’’میکرون تمہیں شرم آنی چاہیے‘‘۔

میکرون نے اپنی تقریر میں اس ارادے کا بھی اظہار کیا کہ فرانس میں اسلام کو بیرونی مداخلت،اثر و رسوخ سے آزاد کروایا جائے گا۔ مسجد کو دی جانے والی مالی تعاون پر مزید گہری نظر رکھی جائے گی۔ مذہبی بنیادوں پر قائم تعلیمی اداروں اور تنظیموں کی سخت جانچ پڑتال کی جائے گی۔ فرانس یورپ کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے ساتھ اپنے ربط و تعلق کا از سر نو جائزہ لے گا۔

گزشتہ مہینے میکرون کی جماعت سے وابستہ ایک پارلیمنٹیرین نے انکوائری کمیٹی سے صرف اس وجہ سے واک آؤٹ کیا کہ اس میں اسٹوڈنٹ یونین کی ایک مسلمان رہنما نے باحجاب شرکت کی۔ ان عزائم کا اظہار فرانسیسی صحافی کے تبصرے سے بھی ہوتا ہے، جو اس نے مسلمان نوجوان کی پوسٹ پر کیا ’’سانحہ نائن الیون کے ذمہ دار‘‘۔

میکرون کا خطاب اس موقع پر سامنے آیا ہے، جب ایک ہفتے قبل ہی ایک نوجوان نے چھری سے چارلی ایبڈو کے دفتر کے سامنے دو افراد پر حملہ کیا تھا۔ فرانسیسی حکومت نے اس واقعے کو مسلم دہشت گردی قرار دیا۔

یاد رہے ۲۰۱۵ء میں چارلی ایبڈو سے وابستہ ایک رکن کو مسلح شخص نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے شائع ہونے پر قتل کردیا تھا۔

(ترجمہ: محمودالحق صدیقی)

“Macron says Islam ‘in crisis’, prompting backlash from Muslims”. (“aljazeera.com”. Oct. 2, 2020)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.