Abd Add
 

ملائیشیا… سی آئی اے کا اگلا شکار!

پوری دنیا تقریباً عالمی معاشی سونامی کی زَد میں ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق معاشی بحران کے نتائج اتنے دوررس مرتب ہوں گے کہ آئندہ چند دہائیوں تک دیوالیہ ہونے والے بینک اور بڑی بڑی دیوہیکل کمپنیاں اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوسکتیں۔ اس معاشی بحران نے نہ صرف لوگوں کو بے گھر کیا بلکہ بے روزگار بھی کر دیا ہے اور امریکا جیسے ترقی یافتہ اور معاشی طور پر مستحکم ملک کی بنیادیں تک ہلا کر رکھ دی ہیں۔ وہاں پر ’’فلیٹ سٹی‘‘ کے نام سے شہر تک آباد ہو چکے ہیں۔ یورپ میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے اور تاحال بے روزگاری کا سلسلہ جاری ہے۔ اس معاشی سونامی نے مسلم ممالک تک کو نہیں چھوڑا، حالانکہ یہ بحران امریکا میں آیا اور اس کا اثر ساری دنیا میں دیکھا گیا۔ اس کی وجہ امریکی معاشی نظام کا پوری دنیا پر مسلط ہونا تھا۔

تیل کا کاروبار ہو یا اشیا کی درآمد و برآمد ہو، ساری کی ساری تجارت امریکی معاشی اصولوں اور ڈالروں میں ہوتی ہے۔ دنیا میں اس وقت معاشی بحران سے نکلنا اور اس کا حل تلاش کرنا سب سے اہم امر بن چکا ہے، ساری دنیا ’’نیوورلڈ آرڈر‘‘ کی زَد میں آچکی ہے جس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑ رہا ہے، دنیا میں چند ایک ممالک ایسے ہیں جن کی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں اپنی ہیں جن کی وجہ سے ان ممالک پر بحران کا گہرا اثر نہیں پڑا تھا۔ جن میں چین سرفہرست ہے جب کہ اسلامی دنیا میں ملائیشیا کا نام سرفہرست ہے۔ موجودہ حالات میں ملائیشیا کا شمار ایشین ٹائیگرز میں ہو رہا ہے۔ ملائیشیا ان چند مسلم ممالک میں سے ایک ہے جن کے پاس کوئی بڑے معدنی و قدرتی ذخائر موجود نہیں، لیکن اس کے باوجود اس نے گزشتہ چند برسوں میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ اقتصادی ماہرین ملائیشیا کو ایشیا میں یورپی ترقی یافتہ ملک قرار دیتے ہیں اس حیرت انگیز ترقی کے بانی مہاتیر محمد کو کہا جاتا ہے، وہ ملائیشیا کے سابق وزیراعظم ہیں ان کے دورِ اقتدار میں ملائیشیا نے بیرونی دنیا پر انحصار ختم کیا اور اپنے زورِ بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے ترقی کی منازل طے کیں، جنہوں نے ۲۰ ویں صدی کی آخری تین دہائیوں میں معیشت کو بنیاد بنا کر ملائیشیا کی پالیسی ترتیب دی جس پر چل کر صرف ۲۰ سالوں میں ملائیشیا ایک مستحکم معیشت میں تبدیل ہو گیا۔

۲۰۰۳ء میں مہاتیر محمد نے ملک کے پارلیمان سے بطور وزیراعظم آخری مرتبہ خطاب کیا۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد ۲۲ برس تک ملائیشیا کے منصب اعلیٰ پر فائز رہے۔ گو آج ملائیشیا کی باگ ڈور مہاتیر محمد کے ہاتھ میں نہیں ہے، لیکن انہوں نے ایسے اصول وضع کیے جن پر آج بھی ملائیشیا گامزن ہے۔ ملائیشیا کی ترقی استعماری طاقتوں بالخصوص اسرائیل، برطانیہ اور امریکا کو ہضم نہیں ہو رہی، ایک تو وہ اسلامی ملک ہے اور دوسرا اس کی معیشت کا انحصار امریکا پر نہیں ہے۔ لہٰذا امریکا بہادر نے سی آئی اے کی مدد سے ملائیشیا کو ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکا کی غیر معمولی دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا اگلا شکار ملائیشیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملائیشیا ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ لیکن ملائیشیا ایک پرامن، خوشحال اور اسلامی نظریات رکھنے والا ملک بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سی آئی اے نے امریکی این جی اوز کی مدد سے ملائیشیا کی سول سوسائٹی کی تنظیموں کو یرغمال بنا لیا ہے جو حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہی ہیں، ان تنظیموں میں ’’برشا۲‘‘ Berish 2.0 سرفہرست ہے جس کو مظاہرے کرنے کے لیے امریکی این جی اوز (National Endowent for (END) Democracy) مالی امداد فراہم کر رہی ہے جب کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ (NED) کے پس پردہ سی آئی اے ہے۔ ملائیشیا کی تنظیم برشا (Berish-2.00) نے اس بات کا اعتراف کھلے عام کیا ہے کہ تحریک کے لیے اس کو ڈالر (National Democratic Institute) (NDI) سے ملتے ہیں جو کہ سی آئی اے کے تحت کام کر رہی ہے۔

سی آئی اے کی ایماء پر ہی ملائیشیا کے متنازعہ اپوزیشن راہنما انور ابراہیم اور سول سوسائٹی نے ۹ جولائی ۲۰۱۱ء کو ایک احتجاجی مظاہرے کا انعقاد بھی کیا تھا۔ واضح رہے کہ انور ابراہیم ہم جنس پرستی کے الزام میں جیل کاٹ رہے ہیں جب کہ ان کے سی آئی اے کے ساتھ مراسم ہونے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

امریکا کے مشہور جریدے ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ملائیشیا کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سی آئی اے ملائیشیا کی اپوزیشن اور سول سوسائٹیز کو فنڈز فراہم کر رہی ہے۔ امریکا ملائیشیا کی عوام کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے جب کہ دوسری جانب حکومت نے مظاہرے روکنے کے لیے فوج کی مدد طلب کرلی ہے۔ سی آئی اے اور موساد تو یہی چاہتے ہیں کہ فوج اور عوام آمنے سامنے آئیں اور ملک کو بدامنی کی جانب دھکیل دیا جائے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ لیبیا میں جو باغی معمر قذافی کے خلاف لڑ رہے ہیں ان کو عسکری اور مالی معاونت مغرب اور امریکا فراہم کر رہے ہیں بالکل اسی طرح امریکا ملائیشیا میں بھی نوجوانوں کو بغاوت پراکسا رہا ہے۔

ملائیشیا ایک مسلم ریاست ہے اور یہ دوسری مسلم ریاستوں سے یکسر مختلف ہے کیونکہ پورے عالم اسلام میں مغرب اور امریکا کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے لیکن ملائیشیا واحد اسلامی ریاست ہے جس میں امریکا اور یورپ کا اثر و رسوخ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ملائیشیا ایک خوبصورت ملک ہے، وہاں پر اچھے تعلیمی ادارے، جدید آلات سے آراستہ اسپتال اور سب سے بڑھ کر اس کا معیار زندگی ہمسایہ ریاستوں سے غیر معمولی حد تک اچھا ہے۔

اس معاشی بحران کے دور میں بھی ملائیشیا کی اقتصادی ترقی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے ملائیشیا کی اقتصادی شرح ۷ فیصد سے بھی بڑھ گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ موساد اور سی آئی اے نے ملائیشیا کو ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔

۱۰ فروری ۲۰۱۱ء کو ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں ہزاروں نوجوانوں نے عالم عرب اور شمالی افریقا میں بغاوت کرنے والے نوجوانوں کے حق میں مظاہرہ کیا اور امریکی سفارتخانے کی جانب مارچ کیا۔
ملائیشیا کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ۲۰۰۷ء میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کو آپس میں لڑانے کی بھی سازش کی گئی جو کہ بڑی دانشمندی سے حکومت نے ناکام بنا دی تھی۔ ۲۰۰۷ء میں سی آئی اے نے حکومت سے یہ قانون پاس کروانے کی کوشش کی کہ غیرمسلم کو لفظ اللہ اپنی زبان سے ادا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، اس پر پابندی ہونی چاہیے۔ ۲۰۰۹ء میں ملائیشیا کی اعلیٰ عدالت نے یہ ریمارکس دیے تھے کہ عیسائیوں کو بھی لفظ اللہ ادا کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ایک مسلمان کو ہے کیونکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی عیسائی لفظ اللہ استعمال کر سکتے ہیں اور شرعی نقطہ سے بھی عیسائی اپنے منہ سے خدا کے لیے اللہ نکال سکتے ہیں، اس مذہبی فرقہ واریت کو حکومت وقت نے بغیر وقت ضائع کیے ختم کر دیا تھا۔

اس ناکامی کے بعد سی آئی اے نے عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے کروائے اور چار گرجا گھروں میں بم دھماکے بھی کروائے اور اس کا الزام انتہا پسند مسلمانوں پر لگا دیا گیا تاکہ عیسائی اور مسلمان آپس میں دست و گریباں ہو جائیں۔ ملائیشیا نے ہر پلیٹ فارم پر امریکا، اسرائیل اور برطانیہ کی جنگی حکمت عملیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکا اور اسرائیل کو ملائیشیا کی موجودہ حکومت جو کہ مہاتیر محمد کی پالیسیوں پر گامزن ہے کسی طور پر بھی پسند نہیں ہے۔

اسرائیل اور امریکی ایجنسیوں کی ملائیشیا میں غیر معمولی مداخلت اور موجودگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ملائیشیا کی پولیس اور سیکورٹی ادارے اپنے اندرونی نظام کو کمپیوٹرائز کر رہے ہیں اور یہ سسٹم ملائیشیا میں جو کمپنی متعارف کروا رہی ہے یا حکومت نے جس کمپنی سے معاہدہ کیا ہے اس کا نام ایشیا سوفٹ ہے۔ ایشیا سوفٹ سنگاپور کی کمپنی ہے اور اس کمپنی کے مالک اور ڈائریکٹر اسحاق ڈیوڈنکار اور ایڈوسیکچڑ ہیں۔ سنگاپور کی اس کمپنی کی شراکت دار اسرائیل کی معروف کمپنی ٹاپ امیج سسٹم ہے۔ اسحاق ڈیوڈنکار کو اسرائیل کی جانب سے اسرائیل ڈیفنس ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔

۹ ستمبر ۲۰۰۵ء میں ملائیشیا کے سابق وزیراعظم اور بابائے ترقی ڈاکٹر مہاتیر محمد نے انسانی حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں ایک کانفرنس میں برملا کہا تھا کہ برطانیہ اور امریکا دہشت گرد ریاستیں ہیں ان کی یہ بات اس وقت بھی ٹھیک تھی اور آج بھی سچ ثابت ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے برطانیہ اور امریکا کو عراق پر حملے کرنے اور ہزاروں بے گناہوں کے خون کا قاتل قرار دیا تھا اور آج حقیقت یہ ہے کہ تجزیہ نگار اور دانشور حضرات عراق پر حملے کی وجہ کو سفید جھوٹ قرار دے رہے ہیں اور اس جھوٹ میں برطانیہ امریکا کے ساتھ برابر کا شریک تھا، یہی وجہ ہے کہ آج سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر پر عراق وار کے حوالے سے مقدمات کیے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر مہاتیرمحمد کے یہ جرأت مندانہ الفاظ ملائیشیا کی مضبوطی اور خوشحالی کو ظاہر کرتے ہیں اگر ملائیشیا بھی امریکا اور برطانیہ کے ٹکڑوں پر پلتا تو پھر مہاتیر محمد تنقید کرنے کی بجائے ان کے قصیدے پڑھتے۔ اکتوبر ۲۰۰۳ء میں مہاتیر محمد نے اسلامی سربراہی کانفرنس او آئی سی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پوری دنیا میں برائی کی ماں اسرائیل اور یہودی ہیں جو ایک ملک کو دوسرے ملک سے لڑاتے ہیں اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر یہودی ۵ء۱ ارب مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکتے۔ مہاتیر محمد کے اس بیان کے بعد صہیونی مافیا اور پالیسی سازوں میں کھلبلی مچ گئی اور مہاتیر محمد کو یہودیوں کے مفادات کے لیے خطرہ قرار دیا جانے لگا۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’المنصف‘‘ حیدرآباد دکن۔ ۷؍اگست ۲۰۱۱ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*