مولانا مطیع الرحمن نظامی شہید سے اہلِ خانہ کی آخری ملاقات

بنگلادیش کی پارلیمنٹ کے سابق رکن، سابق مرکزی وزیر زراعت، بندرگاہ اور صنعت، بنگلادیش جماعت اسلامی کے امیر، مولانا مطیع الر حمن نظامی کو شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ کی سیکولر حکومت نے ۱۰مئی ۲۰۱۶ء کو پھانسی دے دی۔ شہید کے گھر والوں سے الوداعی ملاقات کی تفصیل ملاحظہ کیجیے۔ یہ ملاقات ڈھاکا سینٹرل جیل میں ۱۰مئی کو آٹھ بجے شب کروائی گئی۔ یہ تحریر مولانا کے تیسرے بیٹے ڈاکٹر نعیم الرحمن کی ہے، جو خود اس ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات کے کچھ ہی دیر بعدمولانا کو پھانسی دے دی گئی۔ (ادارہ)


(۱۰ مئی ۲۰۱۶ء) مغرب سے چند لمحے پہلے مٹھو(مولانا کے ذاتی اسسٹنٹ) کو جیل انتظامیہ کی طرف سے کال موصول ہوئی اور پیغام دیا گیا کہ آکر نظامی صاحب سے ملاقات کر لیں۔ لیکن جیل انتظامیہ نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ یہ سزائے موت پر عملدرآمد سے پہلے آخری ملاقات ہے۔ ایک غیر یقینی کی کیفیت میں ہم تین گاڑیوں میں سینٹرل جیل کی طرف روانہ ہوئے۔

پولیس اور صحافیوں کے ہجوم سے گزرتے ہوئے خاندان کے چھبیس لوگ سخت تلاشی کے بعد جیل میں داخل ہوگئے۔ یہاں ہمیں جیل انتظامیہ کی طرف سے ایک خط ملا جس سے یہ واضح ہو گیا کہ والد سے یہ ہماری الواداعی ملاقات ہے۔ اس کے بعد ہمیں اس کال کوٹھری کی جانب لے جایا گیا جہاں والد صاحب کو رکھا گیا تھا۔ اس بیرک کا نام ’’راجانی گاندھا‘‘ اور والد صاحب کا کمرہ نمبر ’’آٹھ‘‘ تھا۔ اس کمرے کی چوڑائی اور لمبائی آٹھ فٹ تھی اور یہاں کوئی کھڑکی بھی نہ تھی۔ صرف ایک دروازہ تھا جو کہ چھوٹے سے آنگن میں کھلتا تھا۔

میرے والدسبز جائے نماز پرقبلہ کی جانب رُخ کیے دعا مانگ رہے تھے۔ دعا مانگتے ہوئے ان کی آواز بہت واضح اور حلاوت سے بھرپور تھی۔ آواز میں نہ تو بہت زیادہ دھیما پن تھا نہ ہی وہ بلند تھی۔ اپنی عادت کے مطابق جو کہ ہم بچپن سے دیکھتے آرہے ہیں، وہ دعا مانگتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے تھے۔ ان کے پہلو میں ایک چھوٹی سی بھوری بلی بیٹھی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بھی ان کے ساتھ دعا مانگ رہی ہو۔ اس دوران ان کا تین سالہ پوتا معاذ سیڑھی پر چڑھ کر ان کو مخاطب کر کے کہنے لگا ’’دادا! ہم آئے ہیں، دروازہ کھولیں‘‘۔ میرے والد تحمل سے دعا ختم کرتے ہوئے کھڑے ہوئے اور دروازے کے قریب آکر ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگے، ’’آپ سب لوگ آئے ہو! کیا یہ آخری (الوداعی) ملاقات ہے؟‘‘ میری بہن نے جذبات میں جواب دیا ’’اگر اللہ نے چاہا تو یہ ملاقات آخری نہیں ہو گی‘‘۔ یکدم ہی فضا غمگین سی ہو گئی۔ اتنے میں میرے والدسلاخوں کی دوسری جانب سے سب سے ہاتھ ملاتے ہوئے ہم سب کو دلاسا دینے لگے اور ہمیں صبر اور استقامت کی تاکید کرنے لگے۔ اس وقت وہ سفید کرتہ اور لنگی پہنے ہوئے تھے۔ کوٹھری میں ہوا دان نہ ہونے کی وجہ سے ان کے کپڑے پسینے سے بھیگے ہوئے تھے، لیکن چہرہ بہت پرسکون اور روشن تھا۔ ان کے چہرے پر غم اور بے چینی کے کوئی اثرات نہ تھے۔ ان کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ کچھ ہی دیر میں یہ جابر حکومت ان کو ناحق پھانسی دینے والی ہے۔

سلاخوں کے اندر ہونے کی وجہ سے ہر کوئی اُن کو دیکھ نہیں پا رہا تھا، ہماری درخواست پر جیل انتظامیہ نے دروازہ کھول دیا۔ میرے والد کوٹھری سے باہر نکل کر آنگن میں پڑی پلاسٹک کی سفید کرسی پر بیٹھ گئے۔ سب سے پہلے انہوں نے سب کی خیریت دریافت کی۔ پھر انہوں نے بتایا ’’جیل سپرنٹنڈنٹ نے اپیل مسترد ہونے کا فیصلہ پڑھ کر سنانے کے بعد مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ رحم کی اپیل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ جب میں نے کوئی جرم ہی نہیں کیا تو رحم کی اپیل کس بات کی، اور صدارتی رحم کی اپیل کا مطلب تو اقرارِ جرم ہے۔ زندگی اور موت کا مالک صرف اللہ ہے، میں کسی انسان سے زندگی کی بھیک مانگ کر اپنا ایمان خراب نہیں کرنا چاہتا‘‘۔

’’آج (مورخہ ۱۰مئی ۲۰۱۶) ڈی آئی جی جیل خانہ جات بھی میرے پاس آئے تھے اور کہا کہ صدارتی معافی کے لیے درخواست لکھ دیں، میں نے واضح طور پر لکھ دیا کہ میں کسی صورت صدارتی معافی کے لیے درخواست نہیں لکھوں گا‘‘۔

یہ ایک انتہائی جذباتی منظر تھا۔ میرے والد ہر ایک کو صبر اور ثابت قدمی کی نصیحت کر رہے تھے۔ ان کی آنکھ میں آنسو بالکل نہ تھے۔ وہ جذبات سے عاری تھے اور نہ غصے میں نظر آتے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ایک پُرسکون روح اپنے پروردگار سے ملنے کا بے تابی سے انتظار کر رہی ہو۔

تھوڑی دیر کے لیے ہم لوگ باہر آگئے، صرف ابو اور امی چند ضروری باتوں کے لیے وہاں رہ گئے۔ والدہ مسلسل ان کی ہمت بڑھا رہی تھیں اور ان کو اللہ کے ہاں شہید کے درجات کے بارے میں بتا رہی تھیں۔ والدہ نے کہا ’’ہم اللہ کے سامنے گواہی دیں گے کہ آپ ایک متقی اور پرہیزگار انسان تھے، آپ نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا‘‘۔ دوسری طرف والد صاحب ان کو مشورہ دے رہے تھے کہ’’میرے انتقال کے بعد تمہیں بچوں کے لیے ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کرنا ہوگا، اور دیکھنا، میں تمھیں ان کی شخصیت میں نظر آؤں گا‘‘۔

کچھ دیر بعد ہم دوبارہ کمرے میں واپس آگئے۔ میرے والد نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہا ’’تم سب بہن بھائی آپس میں اتحاد و اتفاق قائم رکھنا، اللہ اور اس کے رسولﷺ کے راستے پر چلنااور اپنی والدہ کا ہمیشہ خیال رکھنا۔ تم مجھے اپنی ماں میں پاؤ گے۔ اور اس بات کو یقینی بنانا کہ تمہاری ماں کو بھی میرا عکس تم لوگوں کی شخصیت میں نظر آئے۔ لوگوں کو میرے بارے میں ویسا ہی بتانا جیسا تم نے مجھے پایا ہے، اس بارے میں کبھی مبالغہ آرائی سے کام نہ لینا۔ میں اب ۷۵ برس کا ہوچکا ہوں، میرے بہت سے دوست اور ساتھیوں نے اتنی طویل عمر نہیں پائی۔ لیکن تم لوگوں نے اپنے باپ کے ساتھ طویل عرصہ گزارا ہے۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اللہ کو یہ منظور ہے کہ آج میری زندگی کا آخری دن ہو، تو آج ہی گھر پر بھی مجھے موت آجاتی۔ میرے بچو! اللہ کی رحمت کے بارے میں ہمیشہ پُرامید اور شکر گزار رہنا‘‘۔

ہم اپنے بچوں کو ان کے قریب لائے تاکہ وہ انہیں پیار کر سکیں اور ہم نے انہیں بتایا کہ آپ کے تین نواسے اور پوتوں کے نام آپ کی نسبت سے رکھے گئے ہیں، آپ دعا کریں کہ اللہ ان کو آپ جیسا بنائے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’’میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کو مجھ سے بھی بہتر، صحابہ کا پرتو بنائے‘‘۔

انہوں نے ہمیں اس سے متعلق ایک کہانی سنائی۔ ایک دفعہ کسی بڑے اسکالر نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ بیٹے نے جواب دیا ’’میں آپ جیسا بننا چاہتا ہوں‘‘ یہ سن کر وہ اسکالر رونے لگے۔ جب ان سے رونے کی وجہ دریافت کی گئی تو ان کا کہنا تھا ’’میں حضرت علی ؓ کی طرح بننا چاہتا تھا۔ لیکن لوگوں کے اندر اب یہ فرق آگیا ہے کہ وہ اب میری طرح کا بننا چاہتے ہیں۔ اندازہ کرو کہ کچھ عرصے کے بعد صورتحال کیا ہوگی‘‘۔

ہم نے ان سے کہا کہ ہم آپ کے لیے کچھ بھی نہ کر سکے، انہوں نے جواب دیا کہ’’تم لوگ صرف کوشش کر سکتے تھے، حتمی فیصلہ کرنے والی ذات تو اللہ کی ہے۔ میرے بہت سے دوست اور ساتھی جو کہ عمر میں مجھ سے چھوٹے تھے، وفات پاچکے۔ اللہ مجھے بھی بہت پہلے ہی اپنے پاس بلا سکتا تھا۔ لیکن اگر اللہ مجھے بغیر کسی جنگ میں حصہ لیے شہید کے رتبے سے نواز رہا ہے تو میرے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے‘‘۔

اس کے بعد انہوں نے گفتگوکا رُخ ایک نئے موضوع کی طرف موڑ دیا۔ انہوں نے کہا تحریکِ اسلامی کے کارکنان اور راہنماؤں کو میرا سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ وہ اللہ کے حضور میری شہادت کی قبولیت کی دعا کریں۔ میری والدہ نے کہا کہ ’’اللہ نے آپ کو اس دنیا میں بھی عزت دی اور ان شاء اللہ آخرت میں بھی سرخرو کرے گا‘‘۔ والد نے جواب دیا ’’میں چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والا ایک عام سا انسان تھا، یہ مجھ پر اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے مجھے اس قابل بنایا کہ آج دنیا بھر کے علما کرام اور اسکالر میرے لیے اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ شیخ حسینہ نے صرف میری وجہ سے OIC کے اجلاس میں شرکت نہیں کی، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ وہاں میری رہائی کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔ یہ سب اللہ کی رحمتیں ہیں مجھ پر‘‘۔

ہم نے اپنے والد سے اللہ کی عدالت میں اپنی سفارش کی درخواست کی تاکہ ہم جنت میں دوبارہ مل سکیں۔ انہوں نے کہا ’’نیک کام کرو، اللہ تمہیں جنت میں جگہ دے گا‘‘۔

اس کے بعد انہوں نے ہماری درخواست پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے، پھر ایک گھنٹے تک ہم سب نے مل کر دعا کی۔ انہوں نے اللہ کی حمد اور درودؐ سے دعا کا آغاز کیا، دعا کے لیے ہمیشہ سے ان کا یہی طریقہ رہا ہے۔ دعا مانگتے ہوئے انہوں نے کہا ’’اے اللہ! میں ایک گناہ گار انسان ہوں، میرے اچھے کاموں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ میرا خاتمہ ایمان پر فرما اور مجھے شہادت کی موت نصیب فرما۔ اے اللہ مجھے اورمیری اولاد کو نماز قائم کرنے کی توفیق عطا فرما، اور مجھے میرے والدین اور سب ایمان والوں کو آخرت میں کامیاب فرما۔ اللہ ہمیں پختہ ایمان اور صرف آپ پر بھروسہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں اپنی زبانوں کو ہر وقت ذکرِ الٰہی میں مصروف رکھنے کی توفیق دے۔ ہمیں خوفِ خدا رکھنے والے دل، مفید علم، حلال روزی، اسلام کی صحیح تفہیم عطا فرما۔ یااللہ موت سے پہلے توبہ کی توفیق دے، موت کے وقت آسانیاں پیدا فرما، ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا، اپنی رحمتوں سے ہم کو نواز دے اور ہمارے گناہوں سے درگزر فرما۔

یااللہ ہمیں حلال پر گزارا کرنے کی توفیق دے اور حرام سے ہمیشہ بچا کر رکھنا، ہمیں اپنی پوری زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنے کی توفیق دے، اور نافرمانی سے بچا۔ اللہ ہمیں صرف اور صرف اپنی (اللہ کی) ذات پر بھروسہ کرنے کی توفیق دے۔ ہمیں قرآن سے راہنمائی لینے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ تُو ہمارے گناہوں سے باخبرہے، یا اللہ ہم معافی کے طلبگار ہیں، ہمارے تمام گناہ معاف فرما، یا حنان، یا منان۔

یا اللہ اس ملک کو اپنے دین کی حاکمیت کے لیے چُن لے اور اسے پُرامن ملک بنا دے۔ یااللہ اس ملک کو اغوا، قتل و غارت گری، غنڈہ گردی اور سامراجیت سے بچالے‘‘۔ انہوں نے ملک کی ترقی کے لیے بھی دعا کی۔ دعا کے دوران میری بہن نے دیکھا کہ وہاں موجود اہلکاروں کی آنکھوں میں بھی آنسو رواں تھے۔

والد نے مومن سے پوچھاکہ پھانسی گھاٹ پر کس لباس میں جاؤں؟ مومن نے جواب دیا، بابا، کرتہ پاجامہ۔

ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں نے بے شمار لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے اور بہت سے لوگوں کو بیماری سے لڑتے ہوئے موت کے منہ میں جاتے دیکھا ہے۔ میں نے ایسے لوگوں کے چہروں پر موت کے سائے محسوس کیے ہیں اور ان کو چند لمحے مزید گزارنے کی خواہش کرتے دیکھا ہے۔ لیکن اپنے والد سے الوداعی ملاقات کرتے ہوئے میں نے موت سے بے خوف اور اللہ سے ملاقات کی تیاری کرتے ہوئے شخص کو سامنے پایا۔ میرے والد کے پاس یہ راستہ کھلا تھا کہ وہ صدارتی معافی کی درخواست دے کر موت کو کچھ عرصے کے لیے مزید ٹال دیتے۔ موت کا ایک وقت متعین ہے یہ تو سب جانتے ہیں، لیکن میں نے پہلی دفعہ حقیقت میں کسی کو عزم، حوصلے اور مسکراتے چہرے کے ساتھ موت کو خوش آمدید کہتے دیکھا۔

جو لوگ بھی میرے والد سے ملے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ میرے والد کتنے رحمدل اور نرم خو انسان تھے۔ وہ جس سے بھی ملتے اس سے اس کی اور اس کے قریبی لوگوں کی خیریت دریافت کرتے۔ وہ جب بھی کسی کو مشکل میں دیکھتے تو پریشان ہوجاتے اور بار بار اس شخص کے بارے میں پوچھتے۔ اس سے ان کی محبت اور شفقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہیں اپنی شخصیت کے بارے میں پتا تھا، اس لیے وہ جب بھی گھر والوں کے ساتھ بیٹھتے تو موت کے وقت پُر عزم رہنے کا اظہار کرتے۔ لیکن ان سے الوداعی ملاقات میں ان کا اطمینان، ان کی استقامت اور دنیاوی زندگی سے اکتاہٹ حیران کر دینے والی تھی۔

آخر میں انہوں نے پوچھا کہ ستھیا (ان کا گاؤں) میں نمازہ جنازہ میں کون کون شریک ہو گا؟ تو میں نے جواب دیا کہ میں اور مومن جائیں گے۔ تو انہوں نے متین لہجے میں ہمیں اپنی حفاظت کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ مٹھو کو ساتھ لے کر جانا۔ انہوں نے ماں کو رات کے وقت گاؤں جانے سے منع کر دیا۔ مومن اس وقت پینٹ شرٹ پہنے ہوئے تھے۔ انہوں نے مومن سے کہا کہ نمازہ جنازہ میں جاتے وقت کرتہ پاجامہ پہن لینا۔

میرے والد کی آخری نصیحت:

۱۔قرآن و حدیث کے احکامات پر عمل کرتے رہنا، اور اللہ اور اس کے رسولؐ کے راستے پر چلتے رہنا۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ ہمیشہ صبر سے کام لینا اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا۔ مجھے یاد نہیں کہ اس ملاقات میں انہوں نے نماز کے بارے میں کوئی بات کی، لیکن پچھلی تمام ملاقاتوں میں انہوں نے نماز کے حوالے سے خصوصی تاکید کی۔

۲۔ تم میری وصیت میری لکھی ہوئی کتابوں میں پاؤ گے، انہوں نے خاص طور پروہ کتابیں جو انہوں نے جیل میں لکھیں ’’نبیؐ قرآن و سنت کی روشنی میں‘‘، ’’آداب زندگی‘‘ اور ’’ایمان لانے والے کی زندگی قرآن کی روشنی میں‘‘ پڑھنے کی تاکید کی۔

آخر میں انہوں نے ہماری بڑی بہن محسنہ آپا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، مجھے تمہاری بہت فکر ہے، کیونکہ تم میری سب سے بڑی بیٹی ہو، اور تم نے ہی پہلی دفعہ مجھے ’’ابو‘‘ کہہ کر بلایا تھا۔ دیکھو تم ہمیشہ صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا۔ ماں سے کہا ’’میں چھ بچے چھوڑے جا رہا ہوں، تم ہمیشہ مجھے ان کی صورت میں اپنے سامنے پاؤ گی۔ اب تم جاؤ، میں تمہیں جاتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں‘‘۔

الوداع ہونے سے پہلے ہم سب نے والد سے ہاتھ ملایا۔ چھوٹی بلی بھی ہمارے ساتھ ہی باہر نکل آئی۔ اس کا چمکتا ہوا چہرہ ہر وقت میری آنکھوں میں رہتا ہے۔

جیل سے باہر آنے کے بعد ہم ستھیا (گاؤں) کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم اپنے زندہ والد کو ان کے جنازے میں شرکت کی تیاری کے لیے پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ اس وقت وہ مشہور حدیث میرے ذہن میں گھوم رہی تھی، ’’جب بھی تم پر کوئی مصیبت آئے تو مجھے (ﷺ) کھونے کے عظیم غم کو یاد کر لینا‘‘۔

جب یہ امت، نبیٔ اکرمؐ کی دنیا سے رخصتی کا دکھ برداشت کر سکتی ہے، تو وہ کسی بھی آزمائش اور مصیبت کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

ربنا افرغ علینا صبرا وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکافرین

(ترجمہ: حافظ محمد نوید نون)

1 Comment on مولانا مطیع الرحمن نظامی شہید سے اہلِ خانہ کی آخری ملاقات

  1. Perwez Abdullah // June 12, 2016 at 5:10 am // Reply

    Quite moving. Inna lillahe wa inna alaihe rajeoon.It is an example of the person who lives and dies for the sake of Islam. Lesson for those who prefer Dunya upon Deen.

Leave a comment

Your email address will not be published.


*