Abd Add
 

مولانا مطیع الرحمن نظامی کا انٹرویو

’’جب وہ ناظمِ اعلیٰ تھے‘‘ سے ماخوذ

مولانا مطیع الرحمن نظامی، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے مشرقی پاکستان سے پہلے اور آخری ناظمِ اعلیٰ تھے۔ آپ اکتوبر ۱۹۷۱ء میں اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہوئے۔ ذیل میں پیش کیا جانے والا انٹرویو پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد، جناب سلیم منصور خالد نے لیا۔ جس کے کچھ اجزاء قارئین کے استفادے کے لیے پیش کیے جارہے ہیں۔


سوال: آپ بھولی بسری یادوں کے جزیرے مشرقی پاکستان کے بارے میں کچھ بتائیے۔

جواب: ۵۵۱۲۶ مربع میل پر مشتمل سابق مشرقی پاکستان (بنگلادیش) کے جنوب میں خلیج بنگال اور باقی تینوں طرف بھارتی سرحدیں ہیں۔ آبادی کا بیس فیصد حصہ ہندوؤں پر مشتمل ہے، دیگر مذاہب کے پیروکار چند فیصد ہیں۔ باقی تمام آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں جاگیرداری یا زمینداری سسٹم رائج نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے رقبوں میں کاشتکاری، ماہی گیری اور مزدوری یہاں کے عام لوگوں کا بڑا ذریعہ معاش ہے۔ ۸۵ فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے، لوگ سیدھے سادے مسلمان ہیں۔ سنّی، شیعہ یا بریلوی، دیوبندی کا کوئی جھگڑا نہیں اور قادیانیوں کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔

تحریک پاکستان میں یہاں کے مسلمانوں نے برعظیم پاک و ہند کے تمام مسلمانوں سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ نے سب سے زیادہ ووٹ اسی حصہ سے لیے۔ خان لیاقت علی خان اور مولانا شبیر احمد عثمانیؒ جیسی شخصیات کو انہی لوگوں نے منتخب کیا، جس طرح یہاں کے عوام نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا، اسی طرح یہاں کے پرجوش طلبہ نے بھی عوام سے بڑھ کر مسلم لیگ کی کامیابی کے لیے جدوجہد کی۔

سوال: ابھی آپ نے کہا ہے کہ بنگالی طلبہ نے پرجوش انداز سے تحریک پاکستان میں حصہ لیا تو پھر ان مثبت جذبات کے منفی راہ پر بہہ نکلنے کا سبب کیا تھا؟

جواب: ان قابل قدر جذبات کے غلط راہ پر چل نکلنے میں پہلا اہم محرک زبان کا مسئلہ ثابت ہوا۔ قائداعظمؒ نے مارچ ۱۹۴۸ء میں ڈھاکا میں اعلان کیا کہ پاکستان کی واحد سرکاری زبان اردو ہوگی اور اس پر وہیں ہنگامہ ہوگیا۔ بعد میں شرپسندوں نے طلبہ کو شدت سے محسوس کروایا کہ اگر اردو سرکاری زبان بن گئی تو وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ اس احساس نے طلبہ کو غلط راہ پر ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

دوسرا یہ کہ اس جذباتی اور ہیجان انگیز فضا سے وطن دشمن طاقتوں نے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی، کمیونسٹوں، تحریک پاکستان کے مخالفوں، ہندوؤں اور انگریز کے ایجنٹوں نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے اس نوجوان قوت کو کنٹرول میں لینا شروع کیا۔

تیسرا یہ کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے بنگال مسلم لیگ میں سہروردی اور خواجہ ناظم الدین کے درمیان قیادت کا جھگڑا طلبہ کو گمراہ کرنے میں ایک اہم محرک ثابت ہوا۔ حسین شہید سہروردی طلبہ میں مقبول تھے اور طلبہ عوام پر اثرانداز تھے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ مشرقی پاکستان میں شیر بنگال اے کے فضل الحق، حسین شہید سہروردی اور اشتراکی رہنما مولانا عبدالحمید خان بھاشانی مشہور و معروف شخصیات ہونے کی وجہ سے پاکستان کے ابتدائی دور میں ہی حزب اختلاف کا رول ادا کرنے کی پوزیشن میں آگئے اور انہوں نے حزب اختلاف کو عوام میں مقبول بنانے کے لیے زبان کے مسئلہ کو ہوا دی۔ زبان کے مسئلہ پر طلبہ پہلے ہی بہت زیادہ جذباتی تھے، اس لیے وہ بڑی حد تک ان رہنماؤں کے کنٹرول میں آگئے اور طلبہ ان کے گرد جمع ہو گئے۔

سوال: ملتان کے سالانہ اجتماع (اکتوبر ۱۹۷۱ء) کے موقع پر آپ کا متحدہ پاکستان کا آخری دورہ تھا، اس کی کچھ یادیں آپ کے ذہن میں ہوں گی۔

جواب: نظامتِ اعلیٰ سے فارغ ہونے کے بعد کی جو رات تھی (۴؍اکتوبر ۱۹۷۱ء) یہ حقیقت ہے کہ آج تک میری زندگی کی سب سے زیادہ اطمینان بخش رات تھی۔ مجھے زندگی میں اس سے زیادہ پُرسکون نیند نہیں آئی تھی۔ اطمینان تھا کہ ہم رخصت ہورہے ہیں تو باصلاحیت افراد کو ذمہ داری دے کر رخصت ہو رہے ہیں۔ یہ دَور ہمارا نہایت پریشانی کا دَور تھا۔ مشرقی پاکستان کو ہم بہت خراب حالات میں چھوڑ کر مغربی پاکستان آئے ہوئے تھے۔

سوال: گویا ذہن اور دل وہیں تھے؟

جواب: ہاں، ملتان سے کراچی آئے تو منور حسن صاحب مجھے روک رہے تھے کہ تم یہیں رک جاؤ۔ اب جاکے کیا کرو گے۔ یہیں رہ جاؤ۔ لیکن جواباً کہا، کہ حالات زیادہ خراب ہوتے جارہے ہیں اور کھلی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ ہمارا وہاں سے باہر رہنا ممکن نہیں ہے، اس لیے ہم جلد ازجلد یہاں آنے کے لیے بے چین تھے۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ ملک کی حفاظت کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں، لیکن واقعات قابو سے باہر ہیں۔ اس وقت اپنے وہ ساتھی نگاہوں میں گھوم رہے تھے جو میدان میں بالکل موت سے پنجہ لڑا رہے تھے، اس لیے ہم جلدی واپس پہنچنے کے لیے بے چین تھے۔

سوال: اس موقع پر آپ لاہور گئے تو مولانا مودودیؒ سے ملاقات ہوئی تھی، اس میں کیا بات چیت ہوئی؟

جواب: اس وقت پاکستان کی حفاظت کے لیے ہم جن لوگوں کا ساتھ دے رہے تھے، ان کی بہت سی حرکات سے ہم خوش نہیں تھے۔ یہ واقعات ہم مولانا کو بتا رہے تھے کہ یہ لوگ اِس طرح کے ظلم کرتے ہیں اور نازیبا اور غیر اخلاقی حرکتیں بھی کرتے ہیں۔ اِن کے اخلاق جتنے فحش تھے ان حالات میں ان کو روک بھی نہیں سکتے اور ساتھ بھی نہیں دے سکتے۔ ہم کیا کرسکتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنی پریشانیوں کا اظہار مولانا سے کررہے تھے اور مولانا بھی اسی طرح اپنا اضطراب ظاہر کر رہے تھے کہ ’’بھئی یہ تو ایسا واقعہ ہے کہ وہاں ہماری فوجی انتظامیہ کے لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، اگر اس کا ہم یہاں اظہار کریں تو ملک ٹوٹ سکتا ہے اور اگر ان کو اندھا دھند سپورٹ کیا جائے تو دین ایمان نہیں رہتا، ایسے میں جہاں تک ہوسکے ان کی خرابی کو خراب سمجھتے ہوئے اپنی حد تک انہیں روکنے کی کوشش کی جائے۔ صبر سے کام لیا جائے‘‘۔ مولانا کی بس یہی تلقین تھی اور مولانا سے جو ذاتی طور پر ملاقات ہوئی تھی اس میں اپنے مستقبل کے لیے، مولانا سے مشورہ کیا تھا کہ میں اپنے مستقبل کے لیے کس فیلڈ میں جاسکتا ہوں۔ مشرقی پاکستان کے احباب کی رائے یہ تھی اور خود میری بھی رائے تھی، کہ کچھ وقت میں ریسرچ اکیڈمی میں کام کروں، بلکہ میں اکیڈمی سے منسلک بھی ہوگیا تھا۔ لیکن مولانا نے یہ پسند نہیں کیا، بلکہ تنبیہ کی تھی کہ اتنے سال عملی تجربات میں گزار کر ریسرچ اکیڈمی میں بیٹھنے کا آپ کو کس نے مشورہ دیا ہے۔ بس میرے لیے یہ اشارہ کافی تھا کہ مولانا کو میرے لیے فیلڈ میں رہنا پسند تھا اس لیے میں نے بھی تحریکی زندگی میں فیلڈ کو پسند کیا۔

سوال: مولانا سے آپ کی جو ملاقات عبدالمالکؒ کی شہادت کے فوراً بعد ہوئی تھی، اس میں عبدالمالک کی شہادت کے حوالے سے آپ کی کیا گفتگو ہوئی تھی؟

جواب: ایک تو مولانا نے فرمایا تھا کہ اس طرح کے واقعات اور بھی پیش آسکتے ہیں، اس لیے مولانا نے شفقتِ پدری کے ساتھ مشورہ دیا کہ ایسی صورتحال ہو تو اپنے احباب سے مشورہ کرلینا چاہیے۔ باقی تسلّی دی، ہمت افزائی کی۔ میں اس وقت ایم اے کا امتحان دینے والا تھا، مولانا کے سامنے جذباتی ہو کر کہا تھا کہ ہمارا ایک ساتھی تو اپنی زندگی خدا کی راہ میں قربان کرگیا، اب اس کاغذ کے ٹکڑے کے لیے امتحان دے کر کیا کروں۔ ہماری زندگی اپنے ہاتھ میں نہیں اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے فیصلہ کرلیا ہے اور عبدالمالک بھائی کی شہادت سے جو فضا پیدا ہوئی ہے اس میں تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے ہمیں جتنی بھی قربانی دینی اور کوشش کرنا پڑے گی دانستہ کوتاہی نہ ہوگی۔ یہ ایک طرح کا وعدہ تھا جو مولانا کے سامنے کیا تھا۔ مولانا نے ان جذبات کو سراہا تھا۔ دعا کی تھی،روکا نہیں تھا کہ جذباتی مت بنو۔

سوال: سقوطِ ڈھاکا کے بعد آخری ملاقات میں مولانا سے کیا بات چیت ہوئی؟

جواب: جب میں آخری دفعہ مولانا سے ملا تو ان سے یہاں (بنگلادیش) کے بارے میں مشورہ مانگا۔ مولانا نے مشورہ دینے کے بجائے مجھے یہ تجویز دی کہ بالکل خالی الذہن ہو کر وہاں جاؤ، جو لوگ میدان میں ہیں، ان سے مل کر کام کرو۔ یعنی اگر باہر سے کوئی آئیڈیا لے کر گئے اور پھر اس پر بضد ہوئے تو خدانخواستہ اس کے نتیجہ میں انتشار پیدا ہوسکتا ہے۔ مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ وہاں جو لوگ باقاعدہ میدان میں اس وقت سرگرم ہیں اور ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں، وہاں پہنچ کر ان سے مشورہ کرکے وہاں کے حالات کے پیشِ نظر جو کام مناسب ہو انہی کی ہدایت پر وہ کرو۔

سوال: آپ نے جمعیت میں کیا کھویا، کیا پایا؟

جواب: کھونے کا تو سوال ہی نہیں۔ بلکہ جمعیت نے ہمیں بہت کچھ دیا اور سکھایا۔ بس یوں سمجھیے کہ ہم نے اپنے ہی کو پایا ہے اور حاصل کیا ہے۔ اس لیے کہ جب ہم زندگی کا اپنے بچپن کے دوستوں سے تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو ان میں اور اپنے میں، یہ فرق دکھائی دیتا ہے کہ بیشتر کاروبار میں ہیں یا دوسرے کاروبارِ حیات میں جم گئے ہوں گے۔ یا جو یونیورسٹی میں تھے کچھ تعلیم میں آگے نکل گئے ہوں گے لیکن دین کا جو صحیح تصور اور فہم جمعیت نے ہمیں دیا اور صرف تصور کی حد تک ہی نہیں بلکہ اس کام کے لیے جو مواقع جمعیت نے فراہم کیے وہ دنیا بھر کی نعمتوں سے بڑھ کر ہیں۔ میں بعض دفعہ سوچتا ہوں کہ اگر جمعیت نہ ہوتی یا ہم اس سے محروم رہتے تو معلوم نہیں کہاں دھکے کھا رہے ہوتے۔ ہمارے ہم جماعت بڑے واعظ ہیں یا بڑے عالمِ دین ہیں لیکن دین کی صحیح خدمت سے محروم ہیں۔ کچھ تو کاروبار میں جم گئے یا بعض معاشرے میں اونچے مناصب تک جاپہنچے، لیکن ان کی زندگی کچھ نہیں۔ ہم نے اس راہ میں جو کام کیا ہے اور جس ہمت اور لگن سے قدم بڑھایا ہے اس کو دیکھ کر وہ لوگ ہمیں بے وقوف اور سودائی سمجھتے ہیں۔ اپنے میدان کے حوالے سے ان کی رائے درست ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہم نے تحریکِ اسلامی کی خدمت کے ساتھ اپنے ملک اور اپنے ملک کی عزت و وقار کے لیے کام کیا ہے اور اس کام پر اللہ کی بارگاہ میں شکرگزار ہیں کہ اس کی عطا کردہ صلاحیتوں کو اس کے دین کی راہ میں استعمال کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے، یہ بہت بڑا انعام ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ سید مودودیؒ کو کروٹ کروٹ جنت میں آرام عطا فرمائے کہ انہوں نے اس مادّی دَور میں بھٹکتی ہوئی مسلم امت کو زندگی کا راستہ اور مقصد کی لگن دی۔

Leave a comment

Your email address will not be published.


*