Abd Add
 

مودی کے لیے صرف امن کا آپشن!

بھارت میں عام انتخابات کی تیاری ہے۔ ایسے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اگر چاہیں تو صورتِ حال کو اپنے حق میں کرنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جنگی جنون کو ہوا دیں۔ پاکستان کے خلاف جاکر ووٹ بینک کو اپنے حق میں کرنے کی بھرپور کوشش کی جاسکتی ہے، مگر اس سے کہیں بڑھ کر اور بہتر آپشن یہ ہے کہ نریندر مودی امن کی بات کریں۔ پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی بات کرکے وہ پورے بھارت میں فضا اپنے حق میں کرسکتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت دونوں ہی جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ دونوں کے درمیان جنگ کا خطرہ ابھی ابھی ٹلا ہے۔ بھارت کو اس بحران سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو دیکھنا ہوگا کہ صورتِ حال کو کس طور قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔

پاکستان سے مخاصمت کو مزید ہوا دے کر نریندر مودی معاملات کو کسی حد تک اپنے حق میں کرسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ جنگی جنون کو ہوا دے کر وہ انتخابی معرکے میں اپنی مرضی کی فتح بھی پائیں مگر یہ سب کچھ بھارت کے حق میں نہیں جائے گا۔ حقیقی دور اندیش قیادت کو ملک و قوم کے مفادات ہر حال میں مقدم رکھنے چاہییں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کا موقف رہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی معاونت ہی نہیں تربیت بھی کر رہا ہے اور یہ کہ پاکستان کو اس کی حدود میں سزا دینا ضروری ہے۔ دو سال قبل کنٹرول لائن پر ایک ایسی ہی کوشش کی گئی، مگر یہ نہ بتایا جاسکا کہ نقصان کس قدر پہنچایا جاسکا ہے۔ تب بھی لوگ پوچھتے رہ گئے تھے کہ پاکستانی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد کیا رہی۔ نریندر مودی نے انتخابی مہم کے شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان کے خلاف فضا کی تیاری شروع کردی تھی۔ بنیادی موقف یہ تھا کہ پاکستان کو اس کی حدود میں گھس کر سزا دی جائے گی، سبق سکھایا جائے گا۔ ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ جنگی جنون کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو لتاڑا جاتا رہا ہے۔ جن لوگوں نے بالا کوٹ حملے کے حوالے سے سوال اٹھائے انہیں غدار قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ بی جے پی کا موقف یہ ہے کہ حکومت کے کسی بھی بیان یا موقف کے حوالے سے جو بھی سوال اٹھائے وہ پوری قوم کا غدار ہے۔

بھارتی قیادت نے بہت کچھ کرنا چاہا تھا۔ ۱۴؍فروری کو (مقبوضہ) جموں و کشمیر کے علاقے پلوامہ میں خودکش حملے کے نتیجے میں کم و بیش چالیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورے بھارت میں ہاہاکار مچ گئی اور لازم ہوگیا کہ پاکستان کو کسی نہ کسی طور سزا دی جائے۔ جوابی کارروائی کے طور پر بالا کوٹ میں حملہ کیا گیا۔ پانچ جیٹ طیاروں نے کارروائی کی اور اس کے بعد حکومت نے طرح طرح کے دعوے کیے۔ کارروائی کے فوراً بعد حکومت اور فوج دونوں نے کریڈٹ بٹورنے کی تیاری شروع کردی۔ مگر یہ تجربہ بری طرح ناکام رہا۔ ہوا یوں کہ اگلے ہی روز پاکستان نے بھارتی علاقے میں گھس کر فضائی کارروائی کی اور دو طیاروں کو مار گرانے کے ساتھ ساتھ ونگ کمانڈ ابھینندن کو گرفتار بھی کرلیا۔ پاکستان کی جوابی کارروائی نے بھارت میں جنگی جوش و جنون کو سمندر کے جھاگ کی طرح بٹھادیا۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ روایتی جنگ میں بھارت کی بالا دستی کا تصور خاک میں مل گیا۔ اب تک بھارت یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ ایک بڑی فوج اور بڑے پیمانے پر ساز و سامان کے ساتھ پاکستان کو آسانی سے دبوچ لے گا مگر اب اندازہ ہوتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔

یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ اگر بھارتی فورسز پاکستان کی حدود میں کارروائی کریں گی تو جوابی کارروائی میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔ اگر نریندر مودی نے ایسی ہی کسی اور عسکری مہم جوئی کا ارادہ کیا تو پاکستان کی طرف سے بھرپور جواب ملے گا۔ یہ سلسلہ اگر آگے بڑھا تو خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس دو پڑوسیوں کے درمیان معاملات مزید خرابی کی طرف جائیں گے اور حقیقی، فل اسکیل جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

اس وقت مسئلہ بھارت کی طاقت کا نہیں، کمزوری کا ہے۔ بھارت میں ایک طرف تو سیاسی بنیاد پر تقسیم پائی جاتی ہے اور دوسری طرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی بھی مطلوبہ معیار و حد کی نہیں۔ سیاسی مخالفین کو ملک دشمن قرار دینے کی روش انتہائی خطرناک ہے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ (مقبوضہ) جموں و کشمیر میں خرابی کا گراف بلند ہونے سے صرف کشمیر ہی کے نہیں بلکہ بھارت بھر کے مسلمان پر شک کی سُوئی ٹھہرتی ہے۔ مسلمانوں کو شک کی نظر سے دیکھنے کا نقصان یہ ہے کہ معاشرے میں تقسیم بڑھتی جارہی ہے۔ اس وقت جو صورتِ حال ابھر رہی ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ برآمد ہوسکتا ہے کہ آنے والی حکومت پارلیمنٹ میں بھرپور اکثریت کی حامل نہیں ہوگی۔ کمزور مرکزی حکومت فیصلے بھی کمزور ہی کرے گی اور اُن پر عملدرآمد کے حوالے سے درکار عزم اس میں نہیں ہوگا۔

نریندر مودی کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ کشمیری خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔ ان کی بہت سی شکایات جائز ہیں۔ بھارت نے (مقبوضہ) جموں و کشمیر میں فوج کو اس طور تعینات کیا ہے گویا کشمیریوں کو کچلنا اور دبوچنا مقصود ہو۔ اس حوالے سے پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ اگر کشمیر کا معاملہ درست نہ کیا گیا تو عالمی برادری میں بھارت کو مزید سُبکی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارتی قیادت کو (مقبوضہ) جموں و کشمیر کو گھیرنے کا عمل ترک کرنا چاہیے، فورسز کے ہاتھوں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی شکایات کا نوٹس لے کر کارروائی کرنی چاہیے۔ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور تمام کشمیری رہنماؤں کو بات چیت میں شریک کیا جائے۔

خیر، یہ سب کچھ ایسا آسان نہیں جیسا دکھائی دیتا ہے۔ اگر بھارت کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہے تو پالیسی بھی تبدیل کرنی ہوگی۔ پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف جانے کی روش ترک کرنے ہی سے معاملات درست ہوں گے، خطے میں کشیدگی کا گراف گرے گا۔ پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف جانے کی روش ہی سے تو پاکستانی فوج فائدہ اٹھاتی ہے۔ پاکستان کے معاملے میں بھارتی قیادت، میڈیا اور عوام کی انتہا پسندی ہی پاکستان میں عوام کو یہ باور کراتی ہے کہ ان کے رہنماؤں نے اب تک جو روش اختیار کی ہے وہ بالکل درست ہے۔ پاکستان کے حوالے سے بھارت کی انتہا پسندی ہی پاکستان میں اعتدال پسند افراد کو نمایاں ہونے سے روکتی ہے۔

پاکستان کو بھی معاملات پر نظرِثانی کرنی چاہیے۔ بھارت کو پہلے معرکے میں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ پاکستان نے اس بار بھرپور جوابی کارروائی کی ہے اور میدان مار لیا ہے مگر ہوسکتا ہے کہ اگلی بار اس کی کارروائی ایسی جاندار ثابت نہ ہو۔

نریندر مودی کے پاس ایک اچھا موقع ہے، اپنے لیے بھرپور نیک نامی کمانے کا۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی قیادت کو بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ مودی کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بات چیت کو ترجیح بنانا چاہیے تاکہ خطے میں کشیدگی ختم ہو اور امن کے ساتھ ترقی کی راہ ہموار ہو۔ خطہ مزید عدم استحکام برداشت نہیں کرسکتا۔ پاکستان اور بھارت اگر مل کر معاملات درست کریں تو خطے میں حقیقی ترقی کی راہ ہموار ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

بیس برس میں بھارت نے فی کس آمدنی کے معاملے میں پاکستان سے ۵۰ فیصد پیچھے رہ جانے کے مقام کو ترک کرکے ۳۰ فیصد آگے ہو جانے کا اعزاز پایا ہے۔ اگر پاکستان اپنی روش تبدیل کرنے پر آمادہ نہ ہو تو بھارتی قیادت اپنی روش تبدیل کرکے وسائل معاشی ترقی پر خرچ کرکے اپنی آبادی کو بلند تر معیارِ زندگی فراہم کرسکتا ہے۔ بھارت نے ڈھائی تین عشروں کے دوران خود کو غیر معمولی حد تک مضبوط کیا ہے۔ وہ معاشی اعتبار سے اپنے پڑوسی کو بھی بہت کچھ سکھا سکتا ہے۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“Modi should focus on keeping the peace between India & Pakistan”.(“flipboard.com”. March 11, 2019)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.