مراکش: بلدیاتی انتخابات میں حکمراں جماعت کامیاب

مراکش میں سیاسی استحکام کی وہ سطح نہیں رہی، جو ہوا کرتی تھی اور جس کے ذریعے بہتر انداز سے آگے بڑھنا ممکن تھا۔ بلدیاتی انتخابات کو حکمراں جماعت کی مقبولیت کے لیے ایک بڑی آزمائش کے روپ میں دیکھا جارہا تھا۔ بادشاہت ختم کرنے اور جمہوری اصلاحات نافذ کرنے کے لیے چلائی جانے والی ملک گیر تحریک کے نتیجے میں موجودہ حکومت کو قائم ہونے کا موقع ملا تھا۔ پی جے ڈی سے عوام کو کسی بھی دوسرے معاملے سے زیادہ اس بات کی توقع رہی ہے کہ وہ ملک کو زیادہ سے زیادہ جمہوریت کی طرف لے جانے میں اپنا کردار عمدگی سے ادا کرے گی۔ بلدیاتی انتخابات کو عوام نے جمہوریت کی طرف لے جانے والے ایک اہم راستے کے طور پر دیکھا اور جوش و خروش سے اس میں حصہ لیا۔ انہیں اندازہ تھا کہ انتخابات ہی وہ طریقہ ہے جس پر عمل کرکے جمہوریت کو مزید مستحکم کیا جاسکتا ہے اور ملک کو جمہوریت کی راہ پر آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

مراکش کے بلدیاتی انتخابات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مقامی کونسلوں کی ۳۰ ہزار اور علاقائی کونسلوں کی ۷۰۰ نشستوں کے لیے ۳۰ جماعتوں کے ایک لاکھ ۴۰ ہزار سے زائد امیدوار میدان میں اترے۔ اتنی بڑی تعداد میں امیدواروں کا انتخابات میں حصہ لینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے اور لوگ جمہوری اداروں کے ذریعے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں فعال ہوچکی ہیں اور جمہوری کلچر کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔ اس حوالے سے ان کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ لوگوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلائیں۔ کسی بھی ریاست میں جمہوری کلچر اُسی وقت پروان چڑھ سکتا ہے، جب جماعتیں موجود ہوں اور اپنی بات مؤثر ڈھنگ سے کہہ رہی ہوں۔ متعلقہ وزارت کا کہنا ہے کہ پولنگ کا تناسب ۵۳ فیصد سے زائد رہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ بھی ووٹ کے ذریعے اپنی رائے دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ مراکش جیسی نوزائیدہ جمہوریت میں ۵۳ فیصد ووٹ ڈالنے کی شرح حوصلہ افزا اور خوش آئند ہے۔ یہ گویا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ لوگ جمہوریت کو اپنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔

پی جے ڈی نے علاقائی کونسلوں کی ۲۵ فیصد سے زائد نشستیں حاصل کیں جو کسی بھی دوسری جماعت کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔ مقامی کونسلوں کے انتخابات میں پی جے ڈی کی کارکردگی زیادہ اچھی نہیں رہی۔ ان میں سے بیشتر نشستیں دیہی علاقوں میں تھیں۔

حکمراں پی جے ڈی نے کاسا بلانکا، طنجہ، رباط، فیض، اغادیر اور دیگر بڑے شہروں میں بیشتر نشستیں حاصل کیں۔ شہری نشستوں کی حد تک پی جے ڈی کی کامیابی کم و بیش ۱۶؍فیصد رہی۔ ۲۰۰۹ء کے بلدیاتی انتخابات کے مقابلے میں اس کی کامیابی تین گنا رہی۔ اس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ شہری علاقوں میں حکمراں جماعت کی مقبولیت میں غیر معمولی رفتار سے اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر حکمراں جماعت اور جمہوریت دونوں کے لیے یہ ایک اچھی علامت ہے کہ لوگوں کو کارکردگی پسند آئی ہے۔ مراکش جمہوری کلچر کو تیزی سے اپنا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بادشاہت سے جمہوریت کی طرف سفر اب تک خاصا سبک رفتار اور بہتر رہا ہے۔ معاملات خون خرابے کی طرف نہیں گئے۔

اپوزیشن کی سب سے بڑے جماعت پی اے ایم نے مقامی کونسلوں کی ۶۶۵۵ (تقریباً ۲۱ فیصد) نشستیں حاصل کیں۔ اس میدان میں پی جے ڈی کی کامیابی ۱۷؍فیصد رہی۔ رجعت پسند استقلال (انڈیپنڈنس) پارٹی نے ۵۱۰۶ (تقریباً ۱۷؍فیصد) نشستیں حاصل کیں۔

پی اے ایم ۲۰۰۸ء میں تشکیل دی گئی تھی اور آئندہ برس اس نے بلدیاتی الیکشن میں حصہ لے کر اپنی حیثیت بھی منوائی تھی۔ مگر ۲۰۱۱ء کے عام انتخابات میں اس کی کارکردگی زیادہ اچھی نہیں رہی۔ عرب دنیا میں بیداری کی لہر دوڑ چکی تھی اور بہت کچھ بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا تھا۔ ایسے میں لازم تھا کہ انتخابی کامیابی کے لیے تیاری کی جاتی، منشور میں جامع نکات شامل کیے جاتے اور لوگوں کو یقین دلایا جاتا کہ خطے میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کی کوکھ سے بہتری کی امید برآمد کرنے میں جمہوریت بھرپور کردار ادا کرے گی۔ پی اے ایم نے کسی واضح تیاری کے بغیر عام انتخابات کے میدان میں قدم رکھ دیا جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اس کی بلدیاتی انتخابات والی کارکردگی بھی گہنا گئی۔ پی جے ڈی نے آسانی سے حکومت بنالی۔

کرپشن کے خلاف مہم

پی جے ڈی کے قیام کا بنیادی مقصد اسلامی اقدار کو فروغ دینا تھا تاکہ معاشرہ زیادہ سے زیادہ اسلامی ہو۔ مگر حالیہ انتخابات کے دوران اس نے اسلامی اقدار کے فروغ کا مقصد عارضی طور پر پس پشت ڈال کر زیادہ تر توجہ کرپشن کے خاتمے پر دی ہے۔ مراکش میں بھی کرپشن ایک بڑا مسئلہ ہے، جس پر فوری توجہ دینے اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کرپشن سے جڑا ہوا دوسرا بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے۔ پی جے ڈی نے چند ایک ایسے اقدامات بھی کیے ہیں، جن سے اس کی مقبولیت خطرے میں پڑسکتی تھی مگر اب تک نتائج برے نہیں نکلے۔ ایک طرف تو سرکاری اخراجات کم کیے گئے ہیں تاکہ عوام کی جیب پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ دوسری طرف توانائی کے شعبے کو دی جانے والی مراعات میں کمی کردی گئی ہے تاکہ بجٹ کا خسارہ قابو میں رکھا جاسکے۔

معروف سیاسی تجزیہ کار ماتی منجب کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں پی جے ڈی کی حالیہ کامیابی اس امر کا بیّن ثبوت ہے کہ کرپشن کے خلاف اس کا موقف عوام نے سنا ہے اور تسلیم بھی کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ عوام میں یہ احساس بھی بڑھا ہے کہ پی جے ڈی ایک ایسے ملک میں جمہوریت کی اعلیٰ اقدار کو فروغ دینا چاہتی ہے، جہاں اب بھی بادشاہت گئی گزری حالت میں نہیں۔ پی جے ڈی کو انسدادِ بدعنوانی قوت کے طور پر دیکھا جارہا ہے، جو اب تک موجودہ نظامِ حکومت اور اس کی ہم نوا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“Moroccan ruling party holds key cities in local polls”. (“aljazeera.com”. Sept. 5, 2015)


مراکش کے بلدیاتی انتخابات ۲۰۱۵ء

۳ سال قبل عالم عرب میں تبدیلی کی لہر کے دوران مراکش کے شاہ محمد الششم نے ’’قبل از وقت‘‘ اقدام کرتے ہوئے اکثر اختیارات منتخب حکومت کو منتقل کر دینے کے بعد ملک میں آزادانہ انتخابات کروا دیے تھے۔ ان انتخابات میں اسلامی تحریک ’’جسٹس پارٹی‘‘ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور مخلوط حکومت کی سربراہی کرتے ہوئے عنانِ اقتدار سنبھالا۔

۴ ستمبر کو مراکش میں ہوئے بلدیاتی انتخابات کے حتمی نتائج آچکے ہیں۔ جسٹس پارٹی نے گزشتہ سے بہت بہتر نتائج حاصل کیے۔ بلدیاتی نظام کے مطابق یہ انتخابات دو سطحوں پر ہوئے۔ ملک کو عمومی بلدیات اور ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ جسٹس پارٹی نے ڈویژنوں میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جب کہ بلدیاتی اداروں میں اپوزیشن پارٹی ’’حزب الاصالہ والمعاصرہ‘‘ (پی اے ایم) نے ۲۱ فیصد نشستیں حاصل کرکے پہلی جب کہ ’’جسٹس پارٹی‘‘ نے ۱۷ فیصد ووٹ حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔

گزشتہ بلدیاتی انتخابات منعقدہ ۲۰۰۹ء میں جسٹس پارٹی نے چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی۔ اس دفعہ جسٹس پارٹی نے نہ صرف تین گنا زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں (گزشتہ انتخابات میں ۱۵۰۰ جبکہ حالیہ میں ۵۰۲۱ سیٹیں) بلکہ کاسابلانکا، رباط، فاس اور اغادیر سمیت اکثر بڑے شہروں اور اضلاع کی حکومتیں بھی جیت لی ہیں۔

یاد رہے کہ ۲۰۱۱ء میں عرب ممالک میں انقلاب کی لہر سے قبل ملک میں بادشاہ کی مرضی کے بغیر کوئی جماعت نہیں جیت سکتی تھی۔ بادشاہ ہی ملک کے لیے وزیراعظم کا انتخاب کرتا تھا، جبکہ نئے دستور کے مطابق بادشاہ پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کو وزیراعظم بنانے کا پابند ہے۔ نئے دستور کے مطابق ملکی تعمیر و ترقی اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے نیا بلدیاتی نظام متعارف کرایا گیا۔

مراکش میں اسلامی تحریک دو الگ تنظیموں کے ذریعے کام کر رہی ہے۔ دعوتی، تربیتی اور دینی سرگرمیوں کے لیے ’’تحریک توحید و اصلاح‘‘ اور سیاسی جدوجہد کے لیے ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی‘‘ کے نام سے۔

سمیع الحق شیرپائو

Leave a comment

Your email address will not be published.


*