جعلی ریفرنڈم پر اخوان المسلمون کا موقف

مصر میں اقتدار پر قابض فوج نے اپنے معاملات کو جائز قرار دلانے کے لیے جو ریفرنڈم کرایا ہے، اس کے طریقِ کار اور نتائج پر دنیا نے انگلیاں اٹھائی ہیں۔ کئی صوبوں میں ووٹوں کی گنتی کی گئی تو ڈالے جانے والے ووٹوں کی تعداد صوبے کی آبادی سے بھی زیادہ نکلی! عالمی برادری اور غیر جانب دار مبصرین نے ریفرنڈم کو آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اقتدار پر قابض فوجی ٹولے نے ریفرنڈم عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے کرایا تھا، مگر عوام کی رائے کو تو پہلے ہی مسخ کردیا گیا تھا۔ مختلف طریقوں سے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ عوام نے عام انتخابات کے ذریعے جو رائے دی تھی، اسے مسترد کرکے ان کے خیالات پر اثر انداز ہونے کی یہ کوشش مصر کے قومی خزانے کو ۷؍ارب (مصری) پاؤنڈ (ایک ارب امریکی ڈالر) کا نقصان پہنچاگئی۔ شفاف اور غیر جانب دار نوعیت کا ریفرنڈم کرایا ہی نہیں جاسکتا تھا کیونکہ ایسی صورت میں عوام منتخب حکومت کے حق میں ووٹ دیتے۔ اقتدار پر قابض فوجی ٹولہ مجبور تھا کہ جعلی اور بے بنیاد ریفرنڈم کرائے تاکہ اپنے غدارانہ اقدامات کو قانونی حیثیت دلائی جاسکے۔ یہ تو طے ہے کہ ریفرنڈم کے نتائج مصری فوج کے اقتدار کو کسی بھی صورت جائز حیثیت نہیں دلا سکیں گے۔

ایک طرف تو فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ۶ء۳۸ فیصد مصری ووٹ ڈالنے کے اہل تھے مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ نوجوانوں نے ریفرنڈم میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں لی اور ان کی اکثریت نے ریفرنڈم کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ ووٹ دینے کے اہل مصری باشندوں میں ۶۰ فیصد سے زائد نوجوان ہیں۔ اسلام نواز جماعتوں اور دیگر تنظیموں نے بھی ریفرنڈم کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ اس سے ریفرنڈم کی قانونی اور جائز حیثیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اقتدار پر قابض فوجی ٹولے کا دعویٰ ہے کہ ریفرنڈم میں ٹرن آؤٹ ۶ء۳۸ فیصد سے زائد رہا ہے۔ اس بات پر اس لیے یقین نہیں کیا جاسکتا کہ ریفرنڈم کے لیے پولنگ انتہائی دہشت اور قتل و غارت کے ماحول میں ہوئی۔ ایسے ماحول میں اس قدر ٹرن آؤٹ کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ ملک میں جس طور کریک ڈاؤن جاری رکھا گیا ہے اور قتل و غارت کے ساتھ ساتھ گرفتاریاں بھی کی جاتی رہی ہیں اُن کے پیش نظر یہ ممکن ہی نہیں کہ لوگ اِتنی بڑی تعداد میں ووٹ تعداد ڈالنے کے لیے گھروں سے باہر آئیں۔ تصاویر اور وڈیو کلپس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولنگ اسٹیشن ویران پڑے تھے۔ ۲۰۱۲ء کے ریفرنڈم کے موقع پر کسی بھی جماعت نے بائیکاٹ کی کال نہیں دی تھی اور تقریباً تمام ہی جماعتوں اور گروپوں نے ریفرنڈم میں حصہ بھی لیا تھا مگر اس کے باوجود ٹرن آؤٹ محض ۹ء۳۲ فیصد رہا تھا۔ اس بار ہر طرف سے بائیکاٹ کی صدائیں ابھری تھیں۔ اخوان المسلمون ہی نہیں، بہت سی دوسری جماعتوں نے بھی ریفرنڈم کا باضابطہ بائیکاٹ کیا تھا مگر اس کے باوجود فوجی حکمرانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرن آؤٹ ۶ء۳۸ فیصد سے زائد رہا ہے۔

۲۰۱۲ء کے ریفرنڈم کو ملکی اور غیر ملکی مبصرین نے مجموعی طور پر آزادانہ، منصفانہ اور شفاف قرار دیا تھا۔ اس بار مصر میں اور مصر سے باہر بیشتر مبصرین اور سیاسی تجزیہ کاروں نے ریفرنڈم کو دھاندلی سے بھرا ہوا قرار دیا ہے۔

’’عرب آبزرویٹری آف رائٹس اینڈ فریڈم‘‘ نے کہا ہے کہ ریفرنڈم میں ٹرن آؤٹ کسی بھی طور ۳ء۱۱ فیصد سے زائد نہیں تھا۔ ’’ایجپشن سینٹر فار میڈیا اسٹڈیز اینڈ پبلک اوپینین‘‘ نے تو صرف ۸ فیصد ٹرن آؤٹ کی تصدیق کی ہے۔

امریکی تھنک ٹینک ’’کارنیگی انڈومنٹ‘‘ کا کہنا ہے کہ یہ تو ریفرنڈم تھا ہی نہیں۔ برطانوی اخبار ’’گارجین‘‘ نے لکھا ہے کہ اس ریفرنڈم میں تمام معاملات پر حکومت کا بھرپور کنٹرول تھا اور جن لوگوں نے ووٹ ڈالنے سے انکار کیا، یا بائیکاٹ کی اپیل کی، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ’’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘‘ کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم سے پہلے کے حالات ایسے تھے کہ شفاف اور غیر جانبدارانہ پولنگ کے بارے میں تو سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ بہت سی دوسری مقامی اور غیر ملکی این جی اوز کا بھی یہی خیال ہے کہ ریفرنڈم پر ریاستی کنٹرول بہت زیادہ تھا جس کے باعث شفاف پولنگ ممکن ہی نہ ہوسکی۔

اقتدار پر قابض فوجی ٹولے اور اس کے حاشیہ برداروں نے ریفرنڈم کے نتائج کو بہت بڑھا چڑھاکر بیان کیا۔ حکومت کی حامی اور جنرل عبدالفتاح السیسی کو صدر کی حیثیت سے دیکھنے کی خواہش مند ’’کمال جمالک‘‘ تحریک کے ایک لیڈر نے حال ہی میں استعفیٰ دے دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے سابق ساتھیوں نے ریفرنڈم کے خلاف ۵۵ لاکھ دستخط جمع کیے، جبکہ وہ خود صرف ساڑھے آٹھ ہزار دستخط جمع کر پایا۔ فوج کے حامی ایک اخبار نے لکھا کہ جاپان میں چار ہزار مصریوں نے آئین کے حق میں ووٹ دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد ۴۲۳ ہے، جبکہ صرف ۳۴ ووٹ کاسٹ کیے گئے۔

ریفرنڈم کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے سربراہ جسٹس نبیل صالب نے بھرپور جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امتحانات نہ چل رہے ہوتے تو نوجوان بڑی تعداد میں ریفرنڈم میں ووٹ ڈالتے۔ جسٹس نبیل اور ان کے ساتھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ مصر کے نوجوان امتحانات میں نہیں بلکہ فوجی حکومت کے خلاف مظاہروں میں مصروف تھے۔ یہی سبب ہے کہ ریفرنڈم سے وہ الگ تھلگ ہی رہے۔ حق میں تو کیا دینا تھا، انہوں نے تو مخالفت میں بھی ووٹ دینا گوارا نہ کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ریفرنڈم کے لیے فضا بنانے کی دھن میں مصر کی فوج نے نوجوانوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ ریفرنڈم کے خلاف مظاہرے کرنے والے نوجوانوں کو فوج کی طرف سے گولیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے سینوں میں گولیاں ماری گئیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے زہریلی گیس بھی چھوڑی گئی۔ مصر کے نوجوان اب بھی مظاہرے کر رہے ہیں۔ وہ اپنا احتجاج اُس وقت تک جاری رکھیں گے، جب تک انہیں اپنی مرضی کی حکومت بنانے اور اس حکومت کو بہتر انداز سے چلانے کا حق نہیں مل جاتا۔

مصر کے عظیم عوام کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار پر قابض فوجی ٹولے نے اُن کی آواز دبانے اور اُن کی رائے کو کچلنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ اے اہل مصر! حکمراں ٹولے نے تمہارے پیاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور قتل بھی کیا۔ یہ سب کچھ تمہیں اعصابی طور پر شکست سے دوچار کرنے کے لیے ہے۔ آپ کو پرامن احتجاج سے روکنے کے لیے انہوں نے نیا قانون نافذ کیا۔ حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کرنے والوں کے لیے موت کی سزا کا اعلان کیا گیا۔ مظاہروں میں حصہ لینے والوں کو پانچ سال قید کی سزا کی ’’نوید‘‘ سنائی گئی۔ مگر سلام ہے آپ کے حوصلے پر کہ یہ اقدامات بھی آپ کے جوش و خروش کو دبوچنے میں ناکام رہے۔ آپ اب بھی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ آپ نے بے بنیاد اور غیر موثر آئین کو مسترد کردیا ہے۔ یہ بہت اہم ہے۔ استحکام اگر حاصل ہوسکتا ہے تو صرف آزادی، انصاف اور وقار کے ذریعے۔ بے شک اللہ ہر شے پر، ہر معاملے پر قادر ہے مگر بیشتر لوگ اس بات کو سمجھتے ہی نہیں۔

(“Muslim Brotherhood Statement on fraudulent results of sham referendum”… “ikhwanweb.com”. Jan. 20, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*