Abd Add
 

شہریت کا قانون اور تقسیم ہوتے خاندان

A woman in New Delhi protests against the Citizenship Amendment Act [Adnan Abidi/Reuters]

بھارت میں ’’شہریت ترمیمی‘‘ بل کے خلاف احتجاج میں نوجوان اور خاص طور پر لڑکیاں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں میں اب تک پولیس تشدد سے متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ بیس سالہ طالبہ پری یا بھی اِن مظاہروں میں حصہ لیتی ہیں لیکن انھیں پولیس تشدد سے زیادہ اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ان کے والد کو ان کی سرگرمیوں کا علم نہ ہوجائے اور وہ ان کی تعلیم بند نہ کروادیں۔ پری یا اپنے والد کے بارے میں بتاتی ہیں کہ’’وہ مسلمانوں سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار مسلمانوں کو سمجھتے ہیں۔ میں نے کئی بار ان سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہر بار وہ مجھے کالج سے نکالنے اور میری شادی کردینے کی دھمکی دے کر بات ختم کردیتے ہیں‘‘۔ پری یا کے والد انھیں واٹس ایپ پر فیک ویڈیو اور تصاویر بھیجتے رہتے ہیں لیکن جب وہ انھیں ان ویڈیو اور تصاویر کی تصدیق کے لیے ویب سائٹس کے لنک بھیجتی ہیں توانھیں اُن ہی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے انھوں نے اپنے سیاسی نظریات کو اپنے والدین سے چھپایا ہوا ہے۔ پری یا اپنے سیاسی نظریات کا اظہار ٹویٹر پر کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے والدین کو ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کاعلم نہیں ہے۔

پری یا اس صورت حال سے اکیلی دوچار نہیں ہیں۔ ان کی کہانی بھارت بھر میں کھانے کی میزوں، تقریبات اور سوشل میڈیا پر ہونے والے مباحث کی عکاس ہے۔ شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کرنے والی طالبات کو ان کے والدین کی جانب سے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو غلط معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔

انشُل تیواری ایک خبری ویب سائٹ کے مدیر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی اس جنگ سے ذاتی تعلقات اور رشتوں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ دنیا بھر میں موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور ہانگ کانگ میں جاری احتجاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے۔دنیا بھر کے نوجوانوں کے برعکس بھارتی نوجوانوں کو ایک ایسے ثقافتی پس منظرمیں جہاں والدین کے اختیارات پر زور دیا جاتا ہے،اظہار رائے کے ذرائع تلاش کرنا ہوتے ہیں۔اکثر اوقات بھارتی والدین خود کو اس بات کا اہل سمجھتے ہیں کہ وہی یہ فیصلہ کریں کہ ان کے بچے کیسے زندگی گزاریں، کس سے محبت کریں حتیٰ کہ وہ کس بارے میں سوچیں۔

سویتا بگاریا بھی بمبئی میں مقیم ایک ویڈیو ایڈیٹر ہیں۔پری یا کی طرح وہ بھی شہریت بل کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیتی ہیں۔ان کے نزدیک یہ قانون انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان خیالات نے ان کے خاندان اور ان کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کردیا ہے۔ ان کے مطابق اُن کے خاندان کے افراد سخت مُتعصّب ہیں، جو نہ ہی مسلمانوں کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں اور نہ انھیں کام پر رکھنا چاہتے ہیں۔

سویتا کہتی ہیں کہ ٹویٹر پر اپنے جیسے دیگر افراد سے ملنے سے پہلے وہ یہ سمجھتی تھیں کہ اس صورت حال سے وہ اکیلی ہی دوچار ہیں۔وہ اِن افراد کو اپنا متبادل خاندان کہتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جن مشکلات کا اِنھیں سامنا ہے وہ بھارت کے مسلمانوں کو درپیش مشکلات کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت ضروری ہوجاتی ہے۔

احتجاجی مظاہروں کے آغاز سے ہی سویتا ٹویٹر کے ذریعے پمفلٹ تقسیم کر رہی ہیں،انھوں نے ایک ویڈیو بھی بنائی ہے، جس میں انھوں نے لوگوں سے احتجاج میں شرکت کی درخواست کی ہے اور اس میں کامیاب بھی ہوئیں،تاہم اپنے خاندان کے حوالے سے انھیں کوئی امید نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میں نے برسوں کوشش کی، لیکن ان کے خیالات تبدیل نہیں ہوئے‘‘۔

(ترجمہ: محمد عمید فاروقی)

“My father hates Muslims’: India’s new law divides families”. (“aljazeera.com”. Dec.25, 2019)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.