میانمار : مسلمانوں پر تعلیم کے دروازے بند

صرف دو سال قبل روہنگیا مسلمان، جو میانمار (برما) میں اقلیت ہیں، بودھ اکثریت کے شانہ بشانہ مغربی میانمار کی ریاست راکھائین (اراکان) کے دارالحکومت کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ۲۰۱۲ء میں یہ صورتحال اُس وقت اچانک تبدیل ہو گئی جب ستوی شہر میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے اور حکام نے روہنگیا مسلمانوں کے یونیورسٹی آنے پر پابندی عائد کردی۔ یہ نسل پرستانہ اقدام قیامِ امن کے نام پر کیا گیا۔ اس وقت مسلم اقلیتی گروپ کے ارکان ستوی یونیورسٹی میں قدم بھی نہیں رکھ سکتے کیونکہ یونیورسٹی کے مین گیٹ کے قریب تعینات مسلح پولیس کے اہلکار ایسا کرنے کی صورت میں ان سے سختی سے نمٹنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ۲۰۱۲ء کے فسادات میں، جو ملک کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گئے تھے، ۲۸۰ سے زائد افراد موت کی وادی میں دھکیل دیے گئے اور شہر میں آباد متعدد روہنگیا مسلمانوں کو بودھوں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر عارضی کیمپوں میں پناہ لینی پڑی، مگر حالات پُرسکون ہونے کے بعد انہیں اپنے گھروں کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سرکاری ستوی یونیورسٹی، راکھائین ریاست کی واحد یونیورسٹی ہے۔ یہ روہنگیا مسلمانوں کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ علاقہ وہاں رہائش پذیر ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کے لیے ایک کھلی جیل بن کر رہ گیا ہے۔ روہنگیا یونیورسٹی کو مسلمانوں کے لیے ممنوعہ علاقہ خود حکومت نے قرار دیا ہے۔ سرکاری حکام تشدد کی روک تھام کے لیے اس پالیسی کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دونوں مذاہب کے افراد کے ایک جگہ موجود ہونے کی صورت میں فسادات پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہے۔ کھن مونگ مائنٹ کو، جو ایک روہنگیا اور سابق طالب علم ہے، خار دار تاروں کی ایک باڑ کے اندر رہنا پڑ رہا ہے۔ وہ علم نباتات کے تیسرے سال میں تھا کہ فسادات شروع ہوگئے اور بودھ شرپسندوں نے اس کے محلے پر حملہ کرکے مکانات کو جلا کر خاکستر کر دیا۔

بے گھر افراد کے ایک کیمپ میں پناہ لینے کے بعد اسے اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ وہ اب اپنے گھر واپس نہیں جاسکتا اور اسے یونیورسٹی کے اپنے آخری سال کے دوران کلاس میں بیٹھنے کی اجازت بھی نہیں ملے گی۔ وہ فارماسسٹ بننا چاہتا تھا۔ اس نے ’’الجزیرہ‘‘ کو بتایا کہ اب اس کی تمام آرزوئیں اور امنگیں ختم ہو چکی ہیں اور وہ ہر چیز سے محروم ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس بودھ مت کا ایک پیروکار گھین نے من، جو قانون کی ڈگری کے حصول کے لیے تعلیم حاصل کر رہا ہے، باقاعدگی کے ساتھ بِلا کھٹکے یونیورسٹی آجارہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ تشدد کے بعد دو مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک ہی کلاس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ مستقبل میں ہم ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھ سکیں گے‘‘۔ عین نے تھین سین ۲۰۱۶ء میں قانون کی ڈگری حاصل کرے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ قانونی نظام کی اصلاح میں حکومت راکھائین کی مدد کرے گا جسے کئی دہائیوں تک مسلط رہنے والی فوجی آمریت کے دوران، جو ۲۰۱۱ء میں ختم ہوئی، نظرانداز کیا جاتا رہا۔ مغربی رہنمائوں نے تھین سین کی نئی برائے نام سویلین حکومت کو سراہا ہے، جو ملک میں بقول ان کے اصلاحات لارہی ہے جن میں سیاسی قیدیوں کی رہائی اور پریس سنسر شپ میں نرمی شامل ہیں۔

لیکن ایک ایسے وقت جب ۲۰۱۱ء سے میانمار کے زیادہ تر علاقے آزاد تر ہوتے جارہے ہیں، روہنگیا مسلمانوں کے مصائب میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس اقلیت کے ساتھ ملک میں بڑے پیمانے پر تحقیر آمیز سلوک کیا جارہا ہے اور انہیں ہمسایہ ملک بنگلہ دیش سے آنے والے تارکین وطن قرار دے کر انہیں ملکی شہریت دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔ حقوقِ انسانی کے علمبردار گروپوں کو یقین ہے کہ میانمار کے حکام روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ مہم کے ایک حصے کے طور پر روہنگیا مسلمانوں کو تعلیم کے حصول سے روک رہے ہیں اور ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کررہے ہیں۔

تھائی لینڈ میں قائم روہنگیا کے حامی ایک گروپ ’’اراکان پروجیکٹ‘‘ کی کرس لیوا نے کہا کہ یہ پابندیوں کا ’’نسل کشی پیکیج‘‘ اور جبر ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ انہیں میانمار چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق ۲۰۱۲ء کے وسط سے ۸۶ ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان پرہجوم اور خستہ حال کشتیوں کے ذریعے میانمار سے فرار ہو چکے ہیں، اس اُمید پر کہ کوئی ملک انہیں قبول کر سکے۔ ہر سال سیکڑوں روہنگیا مسلمان پُرخطر سفر کے دوران جاں بحق ہو جاتے ہیں۔

میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مبصر یانگ ہی لی نے گزشتہ ماہ ستوی کے ارد گرد موجود کیمپوں کا معائنہ کیا اور ایک بیان میں کہا کہ نقل و حرکت پر پابندیاں بنیادی حقوق پر شدت کے ساتھ اثر انداز ہو رہی ہیں، جن میں گزر بسر کے ذرائع، خوراک، پانی اور صفائی، صحت اور تعلیمی خدمات تک رسائی شامل ہیں۔ پورے میانمار میں اسکول اور یونیورسٹیاں پہلے ہی غفلت اور سرمائے کی کمی کے باعث خستہ حالی کا شکار ہیں اور اس کے ساتھ بڑھتی ہوئی غربت و افلاس کے باعث روہنگیا مسلمان میانمار کی وہ واحد اقلیت بن جاتے ہیں جن کے لیے حصولِ تعلیم پہلے ہی ایک مشکل کام تھا۔ لیکن اب میانمار کے حکام نے حصولِ تعلیم کو ان کے لیے شجر ممنوعہ بنا دیا ہے۔

راکھائین میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک میں شدت پیدا ہوتی جارہی ہے، اسکولوں کے اساتذہ، جن میں بودھوں کی اکثریت ہے، مسلمانوں کے علاقے کے اسکولوں میں جانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں پر ریاست بھر میں عائد سفری پابندیوں نے ان کے بچوں کے لیے حصولِ تعلیم کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ وہ اپنے گاؤں میں پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد دیگر قصبوں اور شہروں میں واقع مڈل اور ہائی اسکولوں میں نہیں جاسکتے۔ ستوی یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی عائد ہونے سے قبل ہی روہنگیا مسلمانوں پر بعض مخصوص مضامین میں ڈگری کے حصول پر پابندی عائد ہے۔

۲۰۱۲ء سے ستوی اور دوسرے مقامات پر روہنگیا مسلمانوں کو دیگر عوام سے علیحدہ رکھنے کی پابندی عائد ہونے کے باعث اسکول جانے والے روہنگیا بچوں کا تعلیم حاصل کرنے کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ تھیٹ کے پائن نامی گاؤں کا اسکول ہی وہ واحد سرکاری اسکول ہے جہاں ستوی کے آس پاس بسنے والے روہنگیا مسلمانوں کو داخلہ لینے کی اجازت ہے۔ اس اسکول میں مقررہ تعداد سے کہیں زیادہ بچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ انگریزی کے ایک استاد زازا نے بتایا کہ اسکول میں ۲۰۱۲ء کے ہنگاموں سے قبل سات سو طلبہ زیر تعلیم تھے۔ ان فسادات کے بعد شہر کے بہت سے روہنگیا مسلمان بچے وہاں کے اسکولوں میں اپنی تعلیم کو خیرباد کہنے اور اس اسکول میں داخلہ لینے پر مجبور ہو گئے جس کے نتیجے میں اب اسکول میں ۲۰۰۰ سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کسی بھی کلاس میں بچوں کی تعداد ۹۰ سے کم نہیں۔ بہت سے کمروں میں ڈیسکیں نہیں ہیں اور بچے لکڑی کی پست بنچوں اور فرش پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ مڈل اور ہائی اسکولوں کی عمروں کے تقریباً دو تہائی بچے کتابوں تک سے محروم ہیں۔ اسکول میں صرف بلیک بورڈ اور اساتذہ کے اپنے تیار کردہ چارٹ، جو دیواروں پر چسپاں ہیں، دستیاب ہیں۔ اب مون سون کا موسم آگیا ہے اور ایک چہار دیواری میں موجود اسکول کی تین چھوٹی عمارتوں کی خستہ حال چھتوں سے بارش کا پانی ٹپکتا رہتا ہے۔ یہ اسکول دو شفٹوں میں کام کر رہا ہے۔ زازا نے کہا ’’میرا خیال ہے کہ ان بچوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے‘‘۔ زازا کو تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ اس نے مزید کہا ’’یہ زیادہ سے زیادہ میٹرک کر سکتے ہیں، لیکن یونیورسٹی میں داخلہ نہیں حاصل کرسکیں گے‘‘۔

ان حالات کے باوجود اس اسکول کے بچے زیادہ تر روہنگیا بچوں کے مقابلے میں خوش قسمت ہیں کیونکہ اراکان پروجیکٹ کا کہنا ہے کہ پانچ سے سترہ سال کی عمر کے ۶۰ فیصد سے زائد روہنگیا مسلمان بچے غربت اور اسکولوں کی عمارتوں کے فقدان کے باعث کبھی اسکول نہیں جاسکتے۔ دس سالہ کمال حسین سارا دن ایک ہتھوڑے سے چٹانیں توڑنے اور مٹی کے تودے ہٹانے میں مصروف رہتا ہے۔ وہ ایک سڑک کی مرمت میں اپنے باپ جمال کی مدد کرتا ہے۔ یہ سڑک ایک غیر مستعمل ریلوے ٹریک پر سے گزرتی ہے۔ وہ لوگ جو اس سڑک کو استعمال کرتے ہیں اسے ہر روز تقریباً دو ڈالر کے مساوی رقم دیتے ہیں۔

جمال نے بتایا کہ اس کے پاس اس وقت کوئی باقاعدہ روزگار نہیں ہے لہٰذا اسے اس کام کے لیے اپنے بیٹے کی مدد کی ضرورت ہے۔ ایک روہنگیا مسلمان انوار نینگ نے، جوستوی یونیورسٹی کا ایک سابق طالب علم ہے، کہا کہ اس کے چھوٹے بھائی اور بہنیں تھیٹ کے پن اسکول کے پرہجوم ہونے کے باعث آئے دن چھٹی کرتے رہتے ہیں۔ اگر وہ جلدی اسکول نہیں پہنچتے تو وہاں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور انہیں واپس گھر آنا پڑتا ہے۔ ایسا ہفتے میں ایک نہ ایک دن ہوتا ہی ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ جب فسادات شروع ہوئے تو وہ کیمسٹری کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ ’’میں نے ان فسادات کے وقت سے اپنی کسی راکھائین ہم جماعت کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے اس سال گریجویشن کرلیا ہوگا۔ اگر اس ملک میں مساوات اور حقوق کی پاسداری ہوتی تو میں بھی گریجویشن کرچکا ہوتا۔

ستوی یونیورسٹی کے روہنگیا اور راکھائین طلبہ کا کہنا تھا کہ دونوں مذاہب کے پیروکار پرامن طور پر ایک ساتھ تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی ان کے آپس میں جھگڑے بھی ہو جاتے تھے جو بالعموم اس امتیازی سلوک کی طویل تاریخ کے آئینہ دار ہوتے تھے جس کا راکھائین میں روہنگیا مسلمانوں کو سامنا رہا ہے۔ ’’برما ٹو ڈے‘‘ کے مطابق ۲۰۰۴ء میں طلبہ کے ایک گروپ کے درمیان خونریز تصادم ہوا تھا۔ ایک روہنگیا مسلمان محمد غاقد نے، جو یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہ چکا ہے، بتایا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعہ کے بعد راکھائین میں مسلمانوں کے ساتھ رویہ جارحانہ ہو گیا تھا۔

(ترجمہ: لئیق احمد)
(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی۔ ۱۶؍اگست ۲۰۱۴ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*