نریندر مودی : اکثریت نہیں، ’’اقلیت‘‘ کا آدمی

بھارت کی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کا شمار ملک کے متنازع ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ گجرات میں فروری اور مارچ ۲۰۰۲ء کے مسلم کش فسادات کے حوالے سے ان کے کردار پر اب تک بحث ہو رہی ہے۔ انہیں ’’گجرات کا قصائی‘‘ بھی قرار دیا گیا۔ اب وہ وزیر اعظم کے منصب کے لیے مضبوط امیدوار کی حیثیت سے خود کو سامنے لا رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی اس کے لیے عملی طور پر تیار ہے۔ نریندر مودی کا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ انہوں نے گجرات کے مسلمانوں کو انتہا پسند ہندوؤں سے بچانے کے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ اور پلس پوائنٹ یہ ہے کہ ان کے دور میں دس برسوں کے دوران گجرات نے بے مثال ترقی کی ہے۔ انہوں نے گجرات کے مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے پر توجہ دی ہے تاکہ اپنے کردار پر لگے داغ کو کسی حد تک مٹاسکیں۔ ان کے حامیوں اور مخالفین کی کمی نہیں۔ کیا وہ بھارت کے وزیراعظم بن سکیں گے؟ یہ سوال ہر سیاسی مبصر کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔


بھارتیہ جنتا پارٹی نے ۸ دسمبر ۲۰۱۳ء کو مدھیہ پردیش اور راجستھان کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کی۔ ان دونوں ریاستوں کی مجموعی آبادی ۱۰؍کروڑ سے زائد ہے۔ بی جے پی نے چھتیس گڑھ کے ریاستی اسمبلی انتخابات میں بھی معمولی برتری سے کامیابی حاصل کی۔ دہلی کی اسمبلی کے انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں میں بھی بی جے پی کا حصہ سب سے زیادہ رہا۔

بھارت کے بیشتر علاقوں، بالخصوص شمالی بھارت کے شہروں اور قصبوں میں رہنے والے متوسط طبقے کے لوگ کانگریس کی قیادت سے نالاں ہیں۔ ایک طرف مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اور دوسری طرف بے روزگاری کا گراف ہے کہ نیچے آنے کا نام نہیں لے رہا۔ معاشی ترقی کی شرح پانچ فیصد سے بھی کم ہے، جس کے باعث ملک کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ وزیراعظم من موہن سنگھ غیر مؤثر ہوچکے ہیں۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے صاحبزادے راہول گاندھی میں ایسی کوئی بات نہیں جو لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرسکے۔ سیاسی میدان میں وہ خاصے اجنبی سے لگتے ہیں۔ سیاسی جلسوں میں وہ لوگوں کو بھرپور جوش و خروش دلانے میں ناکام رہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں میں (جن پر کانگریس پابندی لگوانا چاہتی ہے) یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی قومی شخصیت اور وزیراعظم کے منصب کے متوقع امیدوار کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ان کی مقبولیت کا گراف دن بہ دن بلند تر ہوتا جارہا ہے۔ اخباری تجزیوں اور ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں بھی کھل کر کہا جانے لگا ہے کہ مودی وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

جس ملک میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے مرکز میں حکومت بناتے رہے ہیں، اُن کے نریندر مودی انتہا پسند پس منظر کے ساتھ خاصے اجنبی ہیں۔ مودی کا تعلق ایک معمولی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد شمالی گجرات کے ایک ریلوے اسٹیشن پر چائے کا اسٹال چلایا کرتے تھے۔ ذات کے لحاظ سے بھی مودی بلند درجہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے رضاکار کی حیثیت سے خود کو رجسٹر کرایا۔ نریندر مودی نے ملک کو ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کا عزم رکھنے والی آر ایس ایس میں اپنی پوزیشن بہت محنت سے مستحکم کی۔ کاز کے لیے انہوں نے شادی جیسے اہم معاملے کو پس پشت ڈالا اور تعلیم بھی ادھوری چھوڑ دی۔ نچلی ذات کے ہونے کے باوجود وہ آر ایس ایس میں بلند منصب پر پہنچے۔ ۲۰۰۱ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے انہیں گجرات کا چارج سونپ دیا جہاں وہ بھرپور انتخابی کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔

کسی ریاست کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کام کرنا عام طور پر وزارت عظمٰی کی طرف لے جانے کا راستہ نہیں ہوا کرتا مگر مودی نے تین طریقوں سے اپنی حیثیت مستحکم کی ہے۔ انہوں نے گجرات کو غیر معمولی ترقی سے ہمکنار کیا ہے۔ کاروباری شخصیات کو انہوں نے ایسا ماحول فراہم کیا ہے جس میں وہ زیادہ دل جمعی سے کام کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے متمول مسلمانوں کی ہمدردیاں اور حمایت بھی حاصل کی ہے۔ نریندر مودی نے مقبولیت کا گراف بلند کرنے کے لیے کئی طریقے اختیار کیے ہیں۔ انہوں نے ایک پی آر فرم کی خدمات بھی حاصل کی ہیں، جس نے ان کا امیج بہتر بنانے اور انہیں عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ مودی نے خود کو عوامی آدمی ثابت کرنے کی کوششوں سے بھی دریغ نہیں کیا۔ انہوں نے خود کو قومی سطح پر قوم پرست کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ مودی نے خود کو اس حد تک قابل قبول بنایا ہے کہ وہ سول سرونٹس کو جو بھی ہدایت کرتے ہیں، وہ اس پر بخوشی عمل کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی اور اپنی ریاست کی مارکیٹنگ عمدگی سے کی ہے۔ وہ ہر دو سال بعد گجرات میں سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے ’’وائبرنٹ گجرات‘‘ (Vibrant Gujraat) کانفرنس منعقد کرتے ہیں۔ یہ ایونٹ ان کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافے کی راہ ہموار کرتا آیا ہے۔

۲۰۰۹ء کے عام انتخابات میں نریندر مودی نے قومی سطح پر غیر معمولی حد تک فعال ہوکر انتخابی مہم چلائی تھی۔ وہ لوگوں کو بڑی تعداد میں ریلیوں اور جلسوں میں لانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ انتخابی میدان میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تھی۔ تب انہوں نے اپنے لیے نئے راستوں کا انتخاب کیا۔ انہوں نے روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی خود کو منوانے کی بھرپور کوشش کی۔ اب ٹوئٹر پر ان کے تیس لاکھ چاہنے والے ہیں۔ اس معاملے میں کوئی بھی دوسرا بھارتی سیاست دان ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ آر ایس ایس سے بھی ان کے بہتر تعلقات رہے ہیں۔ گزشتہ موسم گرما میں نریندر مودی نے ۸۶ سالہ لعل کرشن چند ایڈوانی کی جگہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی۔ نریندر مودی نے مدھیہ پردیش کے اعتدال پسند وزیراعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کو وزیراعظم کے منصب کے لیے آگے بڑھانے کی بھی بھرپور کوشش کی مگر آر ایس ایس اور بی جے پی کے کچھ بڑے ایسا نہیں چاہتے تھے۔

۲۰۰۲ء کا سایہ

نریندر مودی کے سیاسی دامن پر سب سے بڑا دھبہ ۲۷فروری ۲۰۰۲ء کے مسلم کش فسادات ہیں۔ حالات و واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ گجرات میں جو کچھ ہوا، وہ دراصل ہونے دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی امریکی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بتایا کہ گجرات میں پولیس نے مسلمانوں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا اور بعض مقامات پر تو صاف محسوس کیا جاسکتا تھا کہ فسادیوں کو پولیس کی بھرپور حمایت اور مدد حاصل تھی۔ احمد آباد میں کانگریس سے تعلق رکھنے والے سابق رکن پارلیمان احسان جعفری سمیت ۶۹؍افراد کو پالڈی کے علاقے میں واقع گلبرگ سوسائٹی میں قتل کردیا گیا۔ احمد آباد کے ایک سرے پر واقع نروڈا پاٹیا کے علاقے میں بھی ۹۶ مسلمانوں کو انتہائی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ دوسری طرف سُورت جیسے شہروں میں کوئی بھی نہیں مارا گیا کیونکہ وہاں پولیس نے بر وقت کارروائی کرتے ہوئے خرابی کو پھیلنے سے روکا تھا۔ یہ فسادات گودھرا میں ہندو انتہا پسندوں کی ٹرین میں آتشزدگی کے بعد رونما ہوئے تھے۔ انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو سبق سکھانے کے لیے ہڑتال کی کال دی۔ اگر نریندر مودی چاہتے تو کرفیو لگاکر ہڑتال کو ناکام بناسکتے تھے۔ مگر انہوں نے کوئی بھی اقدام کرنے سے گریز کیا جس کے نتیجے میں خرابی بڑھتی گئی اور ہڑتال کی کال نے مسلم کش فسادات کی شکل اختیار کرلی۔

گجرات کے مسلم کش فسادات نے نریندر مودی کے امیج کو خطرناک حد تک گندا کردیا۔ کہا جاسکتا ہے کہ گجرات میں گودھرا کے واقعے کے بعد جو مسلم کش فسادات ہوئے، ان کا سایہ اب تک نریندر مودی کا پیچھا کر رہا ہے۔ ایک ہزار سے زائد مسلمان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ۱۸ ہزار مکانات تباہ ہوئے اور تقریباً دو لاکھ مسلمان بے گھر ہوئے۔ بھارت کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے گجرات کی حکومت کو ان فسادات کے حوالے سے مکمل ناکام قرار دیا۔ سیاسی دامن پر لگا ہوا یہی دھبّہ ۲۰۰۵ء میں نریندر مودی کے لیے امریکی ویزا کی راہ میں دیوار بن گیا۔ امریکی حکومت کا استدلال یہ تھا کہ گجرات میں مسلم کش فسادات کے دوران سرکاری اداروں نے جو کردار ادا کیا، اس کے ذمہ دار مودی تھے۔ ان پر پولیس کو کسی بھی موثر کارروائی سے روکنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ بی جے پی کے لیڈر بھی نریندر مودی کو برطرف کرنا چاہتے تھے۔

ناقدین کہتے ہیں کہ گجرات حکومت نے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ کمزور کیس بنائے گئے۔ شواہد مٹا دیے گئے۔ اہم اجلاسوں کی تفصیلات عدالت کو فراہم کرنے سے واضح طور پر گریز کیا گیا۔ جب ریاستی عدالتوں کی کارکردگی مشکوک ٹھہری تو سپریم کورٹ نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لیا۔ مختلف سطح کی عدالتیں اب تک ۱۹۸؍افراد کو سزائیں سناچکی ہیں۔ نروڈا پاٹیا کے مقام پر قتل عام کے حوالے سے گزشتہ اگست میں ۳۲؍افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ریاستی قانون ساز اسمبلی کے مقامی رکن مایا کونانی کو عدالت نے مقامی ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے اور پستول استعمال کرنے کے جرم میں ۲۸ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

نریندر مودی اب تک یہ کہتے آئے ہیں کہ گجرات میں جو کچھ ہوا، وہ ان کی شہ پر یا ان کی ہدایت پر نہیں ہوا تھا۔ اب تک ان کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں کیا جاسکا ہے۔ احسان جعفری کی بیوہ اور چند دیگر افراد نے ان کے خلاف جو کیس دائر کیا تھا، اس کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ایک تفتیشی ٹیم نے گزشتہ برس کارروائی کی اور نریندر مودی کو ۳۰؍الزامات سے بری کردیا۔ ان کے خلاف ایک معمولی نوعیت کا مقدمہ اب تک چلایا جارہا ہے۔ پولیس انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے والے سنجیو بھٹ نے الزام عائد کیا تھا کہ مودی نے پولیس سے کہا تھا کہ وہ مشتعل ہندوؤں کے ٹولوں سے تصادم سے گریز کرے۔ سپریم کورٹ کی تفتیشی ٹیم نے دیگر پولیس افسران کے بیانات کی روشنی میں معاملات کا جائزہ لینے کے بعد سنجیو بھٹ کے بیان کو مسترد کردیا۔ سنجیو بھٹ اب بھی کہتا ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ سچ تھا۔

انصاف کی فراہمی کے عمل نے نریندر مودی کو کلین چٹ دے دی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کسی بھی اعتبار سے نا اہل نہیں تھے۔ گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ اور اب اپوزیشن لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا کہتے ہیں کہ نریندر مودی گجرات میں مسلم کش فسادات روکنے کے حوالے سے فیصلہ کن نوعیت کا کردار ادا کرسکتے تھے۔ وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ تمام اختیارات ان کے ہاتھ میں تھے۔ وہ جو بھی حکم دیتے اس کی تعمیل ہوتی۔ اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ کچھ کہتے اور اس پر عمل کرنے سے گریز کیا جاتا۔ تمام ریاستی ادارے ان کے اشارے کے منتظر تھے۔

نریندر مودی نے مسلم کُش فسادات کے حوالے سے جو کچھ نہیں کیا، وہی پریشانی کا باعث نہیں ہے بلکہ جو کچھ وہ کرتے آئے ہیں، اس نے بھی ذہنوں میں شکوک پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے مایا کوڈنانی کو صوبائی کابینہ کا رکن بنایا اور ۲۰۰۹ء میں گرفتاری تک اسے ساتھ ساتھ رکھا۔ ساتھ ہی انہوں نے سپریم کورٹ اور دیگر اہم اداروں کی طرف سے انہیں جدید دور کے نیرو سے مشابہ قرار دیے جانے کی بھی پروا نہیں کی۔ (نیرو رومن شہنشاہ تھا اور کہا جاتا ہے کہ جب روم جل رہا تھا تب نیرو بانسری بجا رہا تھا!) گجرات میں ۱۲ سال پہلے جو کچھ ہوا، اس پر نریندر مودی کو شاید ہی افسوس ہو۔ احمد آباد کے ایک مسلم نوجوان کا کہنا ہے کہ اصل دکھ اس بات کا ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ نریندر مودی نے فسادات میں گھناؤنا کردار ادا کیا اور سبھی انہیں برداشت بھی کر رہے ہیں۔

۱۹۸۴ء میں اس وقت کی بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے قتل عام کو روکنے سے راجیو گاندھی کے گریز کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہا جاتا رہا ہے۔ اس وقت دلی سمیت ملک بھر میں آٹھ ہزار سے زائد سکھ مارے گئے تھے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کانگریس کبھی کسی بھی اقلیت کے معاملے میں مخاصمانہ جذبات کی حامل نہیں رہی۔ دوسری طرف نریندر مودی نے جس آر ایس ایس میں سیاسی تربیت پائی اس کا مسلمانوں کے معاملے میں رویہ خاصا مخاصمانہ اور جارحانہ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آر ایس ایس کی مقبولیت میں مسلم دشمنی نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بھارت کے اٹھارہ کروڑ مسلمانوں کے ووٹوں کے بغیر بھی انتخابات میں بھرپور کامیابی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ۲۰۰۹ء کے عام انتخابات میں بی جے پی نے مسلمانوں کے صرف ۷ء۳ فیصد ووٹ حاصل کیے۔

مودی کا ایک بڑا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ کسی بھی اعتبار سے مفاہمت اور مصالحت کا ماڈل نہیں ہیں۔ گجرات میں ریاستی اسمبلی کے پچھلے انتخابات میں مودی نے ایک بھی مسلم امیدوار کھڑا نہیں کیا، جبکہ دیگر ریاستوں میں بی جے پی ایسا کرتی رہی ہے۔ انہوں نے فتح کے جشن میں اتر پردیش کے دو ایسے سیاست دانوں کو بھی مدعو کیا، جن پر مسلم کش جذبات بھڑکانے اور تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ مگر خیر، اتنا ضرور ہے کہ اب مودی زیادہ بھڑکیلے لہجے میں بات یا تقریر نہیں کرتے۔ مسلمانوں اور دیگر مخالفین کے بارے میں بولتے وقت وہ جذبات کو قابو میں رکھتے ہیں۔ وہ اب غریب ہندوؤں اور مسلمانوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اگر لڑنا ہی چاہتے ہیں تو غربت کے خلاف لڑیں۔ وہ کل تک خود کو ہندو نیشنلسٹ کہا کرتے تھے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ لیڈر کو سیکولر ہونا چاہیے اور یہ کہ معاشی ترقی سے مذہبی بنیاد پرستی کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ غربت کے خاتمے اور ترقی کو یقینی بنانے کی بات کرکے نریندر مودی نے اپنے امیج کو بہتر بنایا ہے۔ ان کے دور میں گجرات کی خام قومی پیداوار تین گنا ہوچکی ہے۔ گجرات کی آبادی بھارت کی مجموعی آبادی کا پانچ فیصد ہے، مگر وہ ملک کی ۱۶ فیصد مینوفیکچرنگ کر رہا ہے اور برآمدات میں اس کا حصہ ایک چوتھائی ہے۔ گجرات میں شرح نمو کم و بیش دس فیصد رہی ہے جو ملک کی شرح نمو سے خاصی زیادہ اور چین کی شرح نمو کے برابر ہے۔

دو عشرے پہلے کی بات ہے کہ گجرات کے ۴۳ فیصد مسلمان افلاس زدہ تھے۔ آج بھارت کے مسلمانوں میں افلاس کی شرح ۲۵ فیصد ہے جبکہ گجرات میں صرف ۱۱ فیصد مسلمان افلاس زدہ ہیں۔

فرانسیسی ماہر کرسٹوف جیفریلوٹ کا کہنا ہے کہ گجرات میں مسلمان دس فیصد ہیں اور دیگر گجراتیوں یعنی ہندوؤں کے مقابلے میں ان کی معاشی حالت بہتر نہیں۔ مگر خیر، گجرات میں بہت سے معاملات دیگر ریاستوں کے مقابلے میں خاصے کمزور ہیں۔ مثلاً کیرالا کے مقابلے میں گجرات میں نوزائیدہ بچوں میں شرح اموات تین گنا ہے۔ ماہر معاشیات جگدیش بھگوتی کہتے ہیں کہ گجرات میں خرابیوں پر تیزی سے قابو پالیا جائے گا اور اس ریاست کو حقیقی ترقی سے ہمکنار کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

ایک عشرے سے بھی زائد مدت کے دوران گجرات میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی تو یہ آئی ہے کہ اب وہاں فسادات پر قابو پایا جاچکا ہے۔ دو عشروں پہلے تک وہاں ہر سال کچھ نہ ہوتا رہتا تھا اور کرفیو نافذ کیا جاتا رہتا تھا۔ اب ایسا کچھ نہیں ہے۔ کاروباری سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ لوگ زیادہ توجہ کام کرنے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ گجرات کے مسلمان مذہب کی طرف زیادہ مائل ہوئے ہیں۔ وہ مدارس کو زکوٰۃ بھی دیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ مسلمان حج کرنے کو بھی ترجیح دے رہے ہیں۔

جو کچھ ہوچکا ہے اس پر بات کرنے کے بجائے نریندر مودی اُس پر بات کرنا چاہتے ہیں جو ہو رہا ہے۔ وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ریاست میں توانائی کا بحران حل کیا جاچکا ہے، بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری آرہی ہے اور بیورو کریسی کو بہت حد تک کرپشن سے پاک کیا جاچکا ہے۔

نریندر مودی نے توانائی کا مسئلہ حل کرکے ریاست کو ترقی کی دوڑ میں کھڑا کردیا ہے۔ بیرونی سرمایہ کار گجرات میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ جو کچھ وہ لگائیں گے، اس سے کہیں زیادہ کمائیں گے۔ چھ برسوں کے دوران پانچ برس گجرات کو سب سے زیادہ سرمایہ کاری ملی ہے۔ گڈ گورننس کا مسئلہ قابل تعریف حد تک حل کیا جاچکا ہے۔ عالمی بینک نے ایک رپورٹ میں احمد آباد کو بھارت کے دیگر بارہ بڑے شہروں کے مقابلے میں کاروبار کے لیے موزوں قرار دیا ہے تاہم چار دوسرے شہر اَب بھی احمد آباد سے بہتر ہیں۔

نریندر مودی کو اب بھی جن چند الزامات کا سامنا ہے، ان میں ایک اختیارات کے ناجائز استعمال کا ہے۔ ان کے ایک معتمد امیت شاہ کا نام اس حوالے سے بار بار لیا جاتا رہا ہے۔ ۲۰۱۰ء میں امیت شاہ کو مستعفی ہونا پڑا۔ ناقدین اور مخالفین کہتے ہیں کہ نریندر مودی ریاستی قوت کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے جو کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔

وزیراعظم کی حیثیت سے انہیں کمتر اختیارات ملیں گے اور ان کے اختیارات پر پابندی عائد کرنے والے عوامل بھی زیادہ ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد کس طور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ اگر معاشی معاملات کی بات کی جائے تو نریندر مودی ملک کو آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر انہیں ملک کی مجموعی ترقی کے لیے سیاست اور معاشرت کے میدان میں بھی بہت کچھ کر دکھانا ہوگا۔ ملک کے اعلیٰ ترین انتظامی منصب پر فائز ہونے کے لیے انہیں بہت کچھ کرنا ہے۔ ماضی کے کئی داغ انہیں دھونا پڑیں گے۔ یہ سب کچھ کسی بھی اعتبار سے آسان نہیں۔

(“A man of some of the people”… “The Economist”. Dec. 14, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*