NATO کا افغانستان سے انخلا چند حقائق

افغانستان سے امریکا اور ناٹو کے نکلنے کے اعلان شدہ وقت (دسمبر ۲۰۱۴ء) کے آنے میں اب صرف ۲۲ ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ جبکہ لاکھوں ٹن سامان انہی ۲۲ مہینوں میں نکال کر لے جانا ہے۔ اس سامان سے متعلق چند دلچسپ حقائق درج ذیل ہیں:

۔ اتحادی افواج کے پاس موجود ابلاغی آلات (Communications Equipments) حساس سمجھے جاتے ہیں، یہ لازماً امریکا واپس لے جائے جائیں گے۔

۔ استعمال شدہ بیٹریوں کو ری سائیکل کیا جائے گا یا ضائع کر دیا جائے گا۔

۔ لکڑی کا بیشتر سامان افغانیوں کوایندھن کے لیے دے دیا جائے گا۔

۔ دھات سے بنے پرزے، چھری کانٹے اور عام استعمال کی دیگر دھاتی اشیا میں سے کچھ امریکا لے جائی جائیں گی، کچھ ری سائیکل ہوں گی اور کچھ ضائع کر دی جائیں گی۔

۔ افغانستان سے اشیا کی امریکا واپسی کے راستے اور متوقع اخراجات کا تخمینہ درج ذیل ہے:

(i) سب سے کم خرچ، پاکستان کے زمینی راستہ سے سامان کی منتقلی پر آتا ہے۔ مگر اس میں خدشات و خطرات بہت زیادہ ہیں۔

(ii) ناردرن ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک (NDN)، یعنی زمینی راستے سے اُزبکستان، پھر روس سے گزار کر، لٹویا نامی چھوٹے سے ملک کی بندرگاہ رِیگا تک سامان بھیجنے پر خرچ، پاکستان کے راستے آنے والے خرچ کا تین گنا آتا ہے۔

(iii) فضائی راستے سے سامان منتقل کرنے کا خرچ کم و بیش NDN جتنا ہی آئے گا۔

۔ پورے افغانستان میں ۲۰ فٹ لمبائی کے نوے ہزار، بھرے ہوئے کنٹینرز واپسی کے منتظر ہیں۔ جبکہ پچاس ہزار گاڑیاں الگ ہیں۔

(بشکریہ: ’’ٹائم‘‘ میگزین، شمارہ: ۱۸ مارچ ۲۰۱۳ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*