Abd Add
 

خبریں شمارہ 16 جنوری 2018

بنگلادیش جماعت اسلامی کے سابق ممبر پارلیمنٹ سمیت ۶ افراد کو موت کی سزا

بنگلادیش کی ایک خصوصی عدالت نے ۱۹۷۱ء کی جنگ میں کیے گئے جرائم کی پاداش میں ۶؍افراد کو سزائے موت سنادی ہے۔ سزا یافتہ افراد میں جماعت اسلامی کے سابق ممبر پارلیمنٹ مولانا عبدالعزیز سمیت روح الامین، عبداللطیف، نجم الہدیٰ، عبدالرحیم اور ابومسلم شامل ہیں، جن میںپانچ افراد کی عمریں ۱۹۷۱ء میں ۱۸ سال سے کم بتائی جاتی ہیں۔ جرائم کی تفصیلات میں لوٹ مار، اغوا اور قتل شامل ہیں۔ سزا پانے والوں میں ۵ افراد مفرور قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ عبداللطیف جیل میں ہے۔

عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ سزا یافتہ افراد کے خلاف الزامات ثابت ہو چکے ہیں اور ملزمان کے خلاف موت کی سزا پر پھانسی کی شکل میں عمل درآمد کیا جائے گا۔

بنگلادیش کی جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر پروفیسر مجیب الرحمن نے عدالتی فیصلے پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مقدمے کو حکومتی سازش قرار دیا ہے۔

یہ بات پیش نظر رہے کہ ۱۹۷۱ء میں مولانا عبدالعزیز کی عمر ۱۹ سال، روح الامین کی عمر ۱۵ سال، ابومسلم کی عمر ۱۳ سال، عبداللطیف کی عمر ۱۵ سال، نجم الہدیٰ کی عمر ۱۴ سال اور عبد الرحیم کی عمر ۱۶سال تھی۔ تاہم ۵؍ افراد کے ۱۸ سال سے کم عمر ہونے کی وجہ سے عدالتی فیصلے کو جانبدارانہ قرار دیا جاسکتاہے۔


مکتی باہنی کی یادگار: پارک کا افتتاح

ہندوستان کی بنگلا دیش سے متصل ریاست تری پورہ کے وزیرِاعلیٰ نے ۱۹۷۱ کی جنگ میں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں اور بنگلا دیشی جنگجوئوں کے یادگار ایک پارک کا افتتاح کیا ہے۔ ۲۰ ہیکٹر پر پھیلے اس پارک میں ۷ چھوٹی پہاڑیاں اور ایک جھیل موجود ہے۔ اس پارک کا سنگِ بنیاد بنگلادیشی وزیر خارجہ دیپو مونی نے نومبر ۲۰۱۰ میں رکھا تھا۔پارک کے افتتاح کے موقع پر وزیرِاعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ پارک تری پورہ اور بنگلادیش کی دوستی کی علامت ہے۔

تری پورہ کے وزیر بادل چودھری کا کہنا تھا کہ وہ بنگلادیش کے ساتھ معاشی تعاون کو مزید مستحکم کرناچاہتے ہیں اور چٹاگانگ کی بندرگاہ کے استعمال کے بھی خواہاں ہیں۔

پارک میں ایک مخصوص جگہ پر شیخ مجیب الرحمن اور اندرا گاندھی کے مجسمے نصب کیے گئے ہیں، یہ جگہ ماضی میںمکتی باہنی کے جنگجوئوں کا اڈہ رہی ہے، جہاں سے وہ ضلع کومِلہ کے علاقوں میں پاکستانی فوج کے خلاف کارروائیاں کرتے تھے۔

پارک میں ایک عجائب گھر بھی زیرِتعمیر ہے، جہاں بنگلادیش کی جنگ سے متعلق ہتھیار اور تصاویر کی نمائش کی جائے گی۔ سابق ڈپٹی اسپیکر اور حکمران جماعت کے راہنما سبل ردرا کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران وہ مکتی باہنی میں شامل ہوئے اور مختصر تربیت کے بعد کومِلہ سیکٹر میں پاکستانی فوج کے خلاف لڑے۔ اس پارک کا نام ’’بنگلادیشـ -بھارت دوستی پارک‘‘ رکھا گیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ یہ پارک دونوں ملکوں کے سیّاحوںکی توجہ کا مرکز بنے گا۔


سقوط بنگلادیش: بنگلادیش کی حکومت کا۲۵ مارچ کو ’یوم قتل عام‘ کے طور پر تسلیم کرنے پر اصرار

اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی فوج کی جانب سے ۱۹۷۱ء میں بنگلادیش کے باشندوں کے قتل عام کے حوالے سے ۲۵ مارچ کو ’یوم قتل عام‘ کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ یہ مطالبہ سقوطِ بنگلادیش کے موضوع پر ایک سیمینار میں کیا گیا۔ مزید یہ کہا گیا کہ بنگلادیش کے افراد کا یہ قتل عام جان بوجھ کر اور منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔ اسرائیل پالیسی فورم کے امریکی نژاد تھامس ڈائن نے کہا ہے کہ جس روز یہ قتل عام ہوا اس وقت میں دہلی میں تعینات تھا اور میری بنیادی جبلت نے مجھے بتایا کہ یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔ ڈائن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے صدر رچرڈ نکسن اور اس کے مشیر ہنری کیسنجر کے خلاف مقدمہ چلایا جائے کیوں ان دونوں نے اس قتل عام کی حمایت کی تھی۔ جنتا کمار رے نے دعویٰ کیا ہے امریکا نے ڈیڑھ بلین ڈالر کی خطیر رقم پاکستان کو دی کہ وہ قتل عام کرے۔

بنگلادیشی صحافی، فلم ساز اور انسانی حقوق کے علم بردار شہریار کبیر نے کہا ہے کہ بنگلادیش کی حکومت نے اقوام متحدہ کو یقین دلانے کے لیے تما م ضروری اقدمات اٹھائے ہیں کہ ۲۵ مارچ کو ’یوم قتل عام‘ کے طور پر منظور کرے۔ بھارتی بریگیڈیئر آر پی سنگھ نے کہا ہے کہ جنگ آج بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک پاکستان کے ۱۹۴ فوجی اور ان کے حامیان کو سزا نہیں دی جائے گی۔


مجیب الرحمن کی ۷ مارچ کی تقریر :

سرکاری ملازمین اور تعلیمی اداروں کو دھمکی
بنگلادیش نیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالم گیر نے الزام لگایا ہے کہ بنگلادیش کی حکومت نے اپنے ملازمین کومجیب الرحمن کی ۷ مارچ کی تقریر کو سرکاری سطح پرجبراً منانے پر زور دیا ہے۔ دوسری صور ت میں ان کی تنخواہیں کم کردی جائیں گی۔ مزید یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو بھی دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اساتذہ اور طالب علموں نے اس میں حصہ نہیں لیا تو ان کے تعلیمی اداروں کو ملنے والے مالی وسائل میں کمی کردی جائے گی۔ بنگلادیش میں مجیب الرحمن کی اس تقر یر کو اقوام متحدہ نے تسلیم کرلیا ہے، جس کے سلسلے میں وہاں تقریبات منائی جاری ہیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published.


*