انیسویں صدی کے اردو اخبارات

’انیسویں صدی کے اردو اخبارات‘ کے مرتب ڈاکٹر شعائر اﷲ خاں وجیہی نے ڈیڑھ صدی پیشتر کے محفوظ رہ جانے والے اردو اخبارات کے بارے میں بیش قیمت معلومات فراہم کی ہیں۔ روزنامہ اخبارات کو ہمیشہ کم نگاہی سے دیکھا گیا ہے اور ان میں مندرج معلومات کو سطحی، غیرادبی اور وقتی مفاد سے وابستہ مانا گیا ہے حالانکہ اگر کسی دور کے تاریخی، تہذیبی، تمدنی، لسانی، ادبی، سیاسی، سماجی یا دوسری کسی قسم کی تاریخ مرتب کرنا ہو تو یہ روزنامہ اخبارات جنہیں اکثر ہر ماہ کباڑی کے حوالہ کر دیا جاتا ہے، بیش قیمت سرمایہ کی حیثیت سے مانے جائیں گے۔

اس میں کلام نہیں کہ روزنامہ اخبارات میں شائع ہونے والے مواد میں خبروں کا زیادہ حصہ ہوتا ہے جو زیادہ تر غیرمصدقہ بھی ہوتی ہیں۔ اگر کسی خبر کی کوئی ٹھوس یا تحریری بنیاد ہوتی بھی ہے تو وہ بھی نامہ نگار کے مزاج، پسند و ناپسند کی عکاس ہوتی ہے۔ آنکھ موند کر ان خبروں کی سچائی پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ پولیس اور عدالت کے زیرِ سماعت معاملات میں بھی کڑوی سچائیوں پر بہت کچھ پردہ پڑا رہتا ہے۔ اخبارات ان کی سماعت کی کارروائیاں قدرے درست چھاپتے ہیں، ہر چند کہ وہ کارروائیاں ضروری نہیں کہ حقائق سے میل ہی کھاتی ہوں۔

ویسے اخباروں میں صرف خبریں ہی نہیں شائع ہوتیں بلکہ ادبی سرگرمیاں، تخلیقات، سیاسی سماجی ہلچل، معاشی معاشرتی ترقی و تنزلی، علمِ تجارت، کھیل کود، فلمیں، اشتہارات اور نہ جانے کتنا کچھ ہوتا ہے جن میں سے کوئی بھی بے فائدہ نہیں ہوتا۔ کب کس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی ضرورت پڑ جائے، پہلے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کوئی بھی اخبار ہو، معلومات کا گنجینہ ہوتا ہے۔

متذکرہ بالا کتاب میں جن اخبارات کے اشاریے شائع ہوئے ہیں ان میں فارسی اخبار ’’آئینہ سکندری‘‘ کی پانچ فائلیں نیشنل آرکائیوز میں محفوظ بنائی گئی ہیں۔ وہ تو ۱۸۳۳، ۱۸۳۵، ۱۸۳۶، ۱۸۳۷ اور ۱۸۴۰ کی ہیں۔ بقیہ اخبارات روزنامہ، ہفتہ روزہ، دس روزہ، پندرہ روزہ انیسویں صدی کے نصف آخر پر مشتمل ہیں۔ کتاب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ ’’اودھ پنچ‘‘ کی بیسویں صدی کے عشرہ اول کی فائلیں بھی ذاکر حسین لائبریری میں محفوظ ہیں۔ اسی طرح ہفتہ روزہ ’’البشیر‘‘ اٹاوہ کی ۱۸۸۳ سے ۱۹۰۰ء تک کی فائلیں زبیری کے پاس ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

مرتب نے اس کتاب میں ۱۶؍اخبارات کے صفحہ اول کا عکس بھی شامل کیا ہے۔ ’’البشیر‘‘ اٹاوہ کے ۸ جنوری ۱۹۰۰ء کے سرِ ورق پر فہرست کے ساتھ اداریہ کا بھی کچھ حصہ ہے، ورنہ زیادہ تر اخبار نے اپنے اخبار کی شرحِ خریداری کی تفصیلات کو سرِورق پر نمایاں طور سے مشتہر کیا ہوا ہے جس کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اخبارات امیر و غریب، مسکین و متمول لوگوں کے لیے شرحِ خریداری الگ الگ طے کرتے رہے ہیں اور رقمِ چندہ بعد میعاد ادا کرنے والے سے کچھ فاضل وصول کی جاتی رہی ہے۔

ہفتہ روزہ ’’جان جہاں‘‘ کلکتہ فارسی اردو کا مشترکہ اخبار نکلتا رہا ہے جیسے آج کل کشمیر سے روزنامہ ’’الصفا نیوز‘‘ اردو انگریزی میں مشترکہ شائع ہو رہا ہے جس میں خبریں تقریباً ایک سی ہوتی ہیں۔ کتاب کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ الگ الگ مقامات سے ایک ہی نام کے دو اخبارات نکلتے رہے جیسے ’’نجم الاخبار‘‘ اٹاوہ سے نکلتا رہا اور میرٹھ سے بھی۔ عمادۃ الاخبار بریلی اور بھوپال سے شائع ہوتا رہا۔ آج کے دور میں یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے۔ اردو، ہندی، انگریزی کے صوبائی سطح کے اکثر اخبارات متعدد جگہوں سے شائع ہو رہے ہیں وہ اس لیے کہ اب تو پرنٹ میڈیا کا تعلق انٹرنیٹ سے استوار ہو چکا ہے۔ ڈیڑھ صدی پیشتر اس کا تصور بھی محال تھا۔

کتاب کے آخری باب میں مرتب نے اخبارات، شخصیات اور مقامات کا جو اشاریہ شامل کیا ہے وہ پورے مقالہ کا خلاصہ ہے۔ ضمیمہ بیس مزید اخبارات کے اشاریے ہیں۔ ظاہر ہے ابھی اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا جاسکتا۔ یوں بھی کوئی تحقیق حرفِ آخر نہیں ہوا کرتی۔ تحقیق میں جو اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں وہ حتمی ہونے کی وجہ سے لائقِ اعتماد ہوتے ہیں اور آگے کی منزل کا پتا دینے کے لیے میل کا پتھر بنتے ہیں۔

اشاریہ میں یہ کمی ضرور محسوس ہوئی کہ اخبارات کا گوشوارہ بنا کر مجموعہ نہیں دیا گیا جسے بغیر گنے یہ نہیں جانا جاسکتا کہ ’’اخبارِ عالم‘‘ کے کتنے پرچوں کی تفصیلات درجِ مقالہ کی گئی ہیں؟ اسی طرح ’’اودھ پنچ‘‘ کی نامکمل فائلوں میں کن تاریخوں کے پرچہ ہیں یا کن تاریخوں کے کل کتنے پرچے غائب ہیں، قاری نہیں جان سکتا۔ اخبارات کے آگے اس کا مقامِ فراہمی بھی درج ہے۔ یہ بڑی قیمتی معلومات ہے۔ قاری جہاں سہولت سمجھے، چلا جائے۔ اسے بھٹکنا نہیں پڑے گا۔ مرتب نے علی گڑھ، حیدرآباد، نئی دہلی، اٹاوہ، پٹنہ، بھوپال، رامپور، لاہور، چندی گڑھ کی سرکاری، غیرسرکاری، نجی لائبریریوں اور آرکائیوز سے استفادہ کر کے اشاریہ کو حتمی شکل دی ہے۔ رضا لائبریری رامپور نے اس کی اشاعت کر کے اردو دنیا پر ایک بڑا احسان کیا ہے۔ سرِورق جاذب نظر، جِلد مضبوط، پرنٹنگ صاف خوبصورت اور قیمت معقول ہے بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ مقالہ محققین کے لیے چراغِ راہ ہے۔

(بشکریہ: ’’اردو بک ریویو‘‘ نئی دہلی۔ شمارہ: نومبر دسمبر ۲۰۰۶ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*