نَوم چَومسکی کی پیش گوئی

لسانیات کے ماہر، مورخ اور سیاسی تجزیہ کار نوم چومسکی امریکی انتظامیہ کی بیشتر پالیسیوں کے سخت ناقد رہے ہیں۔ ماحول سے متعلق موجودہ انتظامیہ کی پالیسی میں تبدیلی کی تجویز اور اس کے لیے فنڈ کی کٹوتی پر نوم چومسکی جہاں اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں وہیں یہ پیش گوئی بھی کرتے ہیں کہ یہ بہت جلد ایک اور مالیاتی بحران کی راہ ہموار کرنے والی ہے۔ نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا اسٹیبلشمنٹ مخالف دکھائی دینا ایک مذاق تھا کیونکہ اُن کی طرف سے اپنی انتظامیہ میں کیے گئے ہر تقرر میں اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات کی جھلک نمایاں ہے۔ شاید اسی وجہ سے تھوڑی دیر کے لیے اسٹاک مارکیٹ سنبھلتی ہوئی محسوس ہوئی لیکن خدشہ ہے کہ یہ پیش رفت عارضی ثابت ہوگی۔

جب ایک رپورٹر نے نوم چومسکی سے دریافت کیا کہ اسٹیبلشمنٹ مخالف ہونے کا کیا مطلب ہے تو اُنہوں نے کہا کہ اس کابینہ میں ارب پتی افراد شامل ہیں اور ان میں سے بیشتر کا تعلق مالیاتی اداروں اور فوج سے ہے۔ آپ ایک نظر اسٹاک مارکیٹ پر ڈالیں تو آپ کو احساس ہونے لگے گا کہ اسٹیبلشمنٹ مخالف کسے کہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے سیکرٹری خزانہ کے منصب پر اسٹیو میچن کو مقرر کیا ہے۔ چومسکی کا کہنا ہے کہ جب سے ٹرمپ صدر منتخب ہوئے ہیں متعدد کاروباری اداروں میں اسٹاکس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ سرمایہ کار ان کی ریگولیشنز ختم کرنے کی پالیسی پر خوش ہیں کہ اس سے ان کے منافع کی شرح بڑھے گی۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت حال ایک اور کریش کی جانب بڑھ رہی ہے مگر وہ کسی اور کا مسئلہ ہے۔ ٹیکس ادا کرنے والے اس صورت ِحال پر نظر رکھیں گے۔ وہ ۲۰۰۸ء کے معاشی بحران کو ابھی بھولے نہیں ہیں۔

بارک اوباما کے آٹھ سالہ دورِ حکومت کے بعد ماہرین ٹرمپ کے دور میں معاشی ہنگامہ خیزی کی توقع کر رہے تھے۔ کہا جارہا تھا کہ ایک بزنس مین کے وائٹ ہاؤس میں موجودہونے سے فرق پڑے گا۔ اہم بات یہ تھی کہ ٹرمپ نے سفید فام محنت کش امریکیوں کو مخاطب کرکے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے اور امریکی انڈسٹری کو دوبارہ فعال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انتخابات سے پہلے مارکیٹ میں منفی رجحان دیکھنے میں آیا۔متوقع منفی ردعمل کی وجہ غیر یقینی کا عنصر تھا کیوں کہ مارکیٹس میں ہلیری کلنٹن کی فتح کو یقینی سمجھا جارہا تھا۔ ٹرمپ کے غیر محتاط بیانات کی وجہ سے لگتا تھا کہ سنجیدہ مزاج کے امریکی ہلیری کی حمایت کریں گے۔ کچھ عرصے بعد مارکیٹس بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ یہ غیر یقینی صورت ِحال کا ردعمل تھا۔ مسلم ممالک پر پابندی اور مخصوص کمپنیوں کے خلاف ان کے ٹوئیٹس سے پھیلنے والی پریشانی کے باوجود امریکی اسٹاک مارکیٹ ۸ نومبر کو ہونے والے انتخابات کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور اس کے بلند ہونے کا سفر جاری ہے۔ فارماسیوٹیکل کمپنیاں، بینک اور اسی طرح کے دیگر ادارے اسٹاکس ٹیکس اصلاحات اور ریگولیشن کے عمل کو نرم کرنے کے وعدے پر بہتر ی کی طرف گامزن ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت Dodd-Frank Act پر نظر ثانی کی جائے گی۔ اس ایکٹ پر سابق صدر بارک اوباما نے دستخط کیے تھے۔ اس کا مقصد مالیاتی بحران کے بعد بینک صارفین کو تحفظ دینا تھا۔ اس کے ذریعے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو خطرناک سرمایہ کاری سے روک دیا گیا تھا تاہم ٹرمپ کے خیال میں اب رسک لینے کا وقت آگیا ہے، اس لیے اس کی ضرورت نہیں۔ اُنہوں نے Fiduciary Rule کو بھی منسوخ کردیا ہے کیونکہ اگر یہ قانون بن جاتا تو یہ مالیاتی مشیروں کو مجبور کرتا کہ وہ اپنے کلائنٹس کے مالی مفادات کو مقدم رکھیں۔ ظاہر ہے کہ ٹرمپ دور میں اس کلائنٹ دوستی کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر ایک بزنس مین اپنے کلائنٹ سے ایک مناسب حد تک ہی نرمی برت سکتا ہے۔

امریکی کمپنیوں کا bellwether index، S&P 500 Index میں ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے دس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ بینکنگ سیکٹر میں مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ The iShares US Financials میں ۱۷؍فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ شواہد اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کافی ہیں کہ مارکیٹ استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے چنانچہ مسٹر ٹرمپ بہت فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مارکیٹس کی بلندی اُن کی انتظامیہ کی کامیابی پر دلالت کرتی ہے۔ وہ بیورو آف لیبر کی اس رپورٹ سے بھی بہت خوش ہوئے تھے کہ فروری میں دو لاکھ پینتیس ہزار نئی ملازمتوں کے مواقع میسر آئے حالانکہ اوباما دور میں اتنی ملازمتوں کے سامنے آنے پر ٹرمپ طنزیہ لہجے میں اِسے monkey business قرار دیا کرتے تھے!

ایک مسئلہ البتہ اپنی جگہ پر موجود ہے کہ مارکیٹس اتنی گراوٹ کا شکار ہوچکی ہیں کہ اگر مسٹر ٹرمپ وعدے کے مطابق تمام اصلاحات نافذ کردیں تو بھی بہتر منافع اور ریٹرن ناممکن ہوگا۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ مسٹر ٹرمپ خود مزید دولت سمیٹنے میں کامیاب ہو جائیں اور اسی طرح دیگر دولت مند افراد (اس وقت ملک میں ۵۰ لاکھ ملینر ہیں ) انتہائی دولت مند بن جائیں، لیکن کیا اس سے معیشت سنبھل جائے گی؟ کیا معاشی کامیابی کی یہی علامت ہے کہ معاشرے کا ایک دھڑا دولت اکٹھی کرنے میں کامیاب ہو جائے؟

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“Chomsky predicts Trump Adminstration will cause another financial crisis”. (“Independent”. March 15, 2017)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*