شمالی کوریا ، ایک اور دنیا ہے!

Democratic People's Republic of Korea - vector map

برطانیہ کے اٹھارہ سالہ طالب علم الیسانڈرو فورڈ نے چار مہینے کا ایک میقات (سیمسٹر) شمالی کوریا کے دارالحکومت میں مکمل کیا ہے۔ فورڈ نے میقات کے دوران کے تجربات سے ڈی ڈبلیو کو ایک انٹرویو میں آگاہ کیا۔

برطانوی طالب علم الیسانڈرو فورڈ کو گزشتہ برس کمیونسٹ ملک شمالی کوریا کی کِم اِل سُنگ یونیورسٹی میں داخلہ دیا گیا۔ یہ داخلہ بیرونی طالب علم کے طور پر تھا۔ کِم اِل سنگ یونیورسٹی شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں واقع ہے۔ الیسانڈرو فورڈ مغربی دنیا کا وہ پہلا طالب علم ہے، جسے شمالی کوریا کی کسی جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ فورڈ اب واپس برطانیہ پہنچ چکا ہے اور اُس نے جہاں اپنے شمالی کوریائی دوستوں کے بارے میں بتایا، وہیں یہ بھی بتایا کہ اُس کی ہمہ وقت نگرانی کی جاتی تھی۔

ڈوئچے ویلے کے ساتھ انٹرویو میں جب یہ پوچھا گیا کہ شمالی کوریا میں تعلیم حاصل کرنے کی کیا وجوہات تھیں حالانکہ مغربی دنیا کے طلبا عموماً امریکا، چین یا آسٹریلیا جاتے ہیں۔ الیسانڈرو فورڈ نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ ۲۰۱۱ء میں اپنے والد کے ساتھ ایک کاروباری دورے پر شمالی کوریا گیا تھا۔ فورڈ کے مطابق والد کے ساتھ شمالی کوریا جانا ایک ناخوشگوار تجربہ تھا۔

شمالی کوریا کے انتخاب کے حوالے سے فورڈ نے کہا کہ دو برس قبل وہ ایک میقات کسی غیر ملکی تعلیمی ادارے میں مکمل کرنے کی کوشش میں تھا، لیکن کوئی انتخاب نہیں ہو سکا اور ویسے بھی وہ کوئی منفرد اور دلیرانہ ماحول کا متمنی تھا۔ الیسانڈرو فورڈ نے بتایا کہ اُس کے والد کوئی فیصلہ نہ کرنے پر اُکتا گئے اور کہنے لگے کہ اگر وہ کوئی فیصلہ نہ کر سکا تو اُسے شمالی کوریا کی کسی یونیورسٹی میں داخل کروا دیا جائے گا۔

ڈوئچے ویلے کو برطانوی طالب علم نے بتایا کہ اُس نے شمالی کوریا جانے پر آمادگی تو ظاہر کر دی، لیکن شمالی کوریا کے حکام نے درخواست منظور کرنے پر کئی مہینے صرف کر دیے۔ بنیادی کوریائی زبان جاننے کی شرط پر داخلہ دینے کی حامی بھر لی گئی۔ فورڈ کے لیے شمالی کوریا اپنی ثقافت اور رہن سہن کے اعتبار سے برطانیہ سے انتہائی مختلف تھا اور اِسی طرح لوگوں کا طرزِ عمل اور سارا ماحول مختلف ضرور تھا، لیکن پھر وہ آہستہ آہستہ اُس کا حصہ بنتا چلا گیا۔ فورڈ کے مطابق تاش کے علاوہ وہ ساتھی طلبہ کے ساتھ فٹ بال اور باسکٹ بال کھیلنے کے ساتھ ساتھ شراب پیتا تھا اور فلمیں بھی دیکھتا رہا۔ فورڈ نے شمالی کوریا میں قیام کے دوران ثقافتی جھٹکے کو اہم قرار دیا، لیکن وہ ابتدائی دو ماہ برطانوی اور شمالی کوریائی ثقافتوں میں پُل قائم کرنے کی کوشش میں رہا۔

فورڈ کے مطابق شمالی کوریا میں خلوت ایک ایسا عمل تھا، جس کے بارے میں لوگ آگاہ نہیں تھے۔ لوگوں کی زندگیوں میں اجتماعی طور پر نہانا، کھانا پینا، کپڑے دھونا اور کھیلنا معمول کا حصہ ہے۔ فورڈ کے خیال میں وہ اِن حالات میں اپنی انفرادی حیثیت کو بھولنے لگا تھا۔ فورڈ نے بتایا کہ شمالی کوریائی ثقافت کا سیاسی رنگ بھی ہے اور اِس میں تمام طلبہ کو ہر روز صبح کے وقت کوریا کے عظیم لیڈر کے مجسمے کے آگے سر جھکانا لازم ہے۔ سیاسی ثقافت کا ایک رنگ فورڈ کے نزدیک ہر صبح لاؤڈ اسپیکر پر سوشلزم کے توصیفی گیت طلبہ ہاسٹل کے قریب نشر کیا جانا ہے۔

الیسانڈرو فورڈ کے مطابق اُسے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں تھی اور اپنے موبائل فون پر صرف غیر ممالک کال کر سکتا تھا، لیکن پیانگ یانگ میں آزادانہ گھومنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ پیانگ یانگ شہر کی زندگی اور معمولات کے حوالے سے فورڈ نے بتایا کہ وہ چھوٹے بچوں کو اسکول جاتے اور لوگوں کو معمول کے مطابق کام پر جاتے ہوئے دیکھا کرتا تھا۔ دارالحکومت سے باہر اُس نے محسوس کیا کہ زندگی مشکل اور لوگ شہری اشرافیہ کے مقابلے میں غریب دکھائی دیے۔ فورڈ کے مطابق اُس کی ہر وقت نگرانی کی جاتی تھی اور یہی بہت مشکل تھا۔ فورڈ نے اپنے ساتھی طلبہ کے حوالے سے بتایا کہ وہ علم حاصل کرنے کے شدید متمنی تھے اور وہ شمالی کوریا کے باہر کی دنیا کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی خواہش رکھتے تھے، لیکن وہاں سیاسی نظریات پر گفتگو نہیں کی جاتی تھی۔

(بحوالہ: “dw.com”۔ ۱۱؍اگست ۲۰۱۵ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*