Abd Add
 

ناروے کا پہلا سبق

ناروے میں ۲۳ جولائی کو جو کچھ ہوا اُس نے پورے یورپ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے ہر خرابی کے لیے اسلام اور مسلمانوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی ہے اب انہیں بھی کوئی ایسی ویسی بات کہنے سے قبل بہت کچھ سوچنا پڑے گا۔ کیا ناروے کا قتلِ عام یورپ کو تارکین وطن اور بالخصوص مسلمانوں کے حوالے سے رویہ تبدیل کرنے کی تحریک دے سکے گا، یہ سوال ابھی جواب سے بہت دور ہے۔

اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کے خلاف جو لوگ رات دن زہر اگلتے رہتے ہیں ان کے لیے ناروے کا سانحہ ایسا نہیں جسے آسانی سے نظر انداز کردیا جائے۔ مغربی میڈیا نے اب تک دہشت گردی کی ہر واردات کی پشت پر مسلمانوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور اسلامی تعلیمات میں ایسے نکات بھی ڈھونڈ نکالنے کی مساعی کی جاتی رہی ہیں جن کی بنیاد پر آسانی سے یہ دعوٰی کیا جاسکے کہ اسلام در اصل امن کا دین نہیں بلکہ دہشت گردی کی تعلیم و تحریک دیتا ہے۔

یورپ کے بیشتر رہنما سیاست کے سمندر میں آگے بڑھنے کے لیے کسی نہ کسی لہر کے منتظر رہتے ہیں اور جیسے ہی مطلب کی لہر دکھائی دیتی ہے، اُس پر سوار ہو جاتے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور فرانس کے صدر نکولس سرکوزی اس وقت مسلم دشمن رویے کی لہر پر سوار ہیں۔ ان دونوں نے یورپ میں انتہائی دائیں بازو کے عیسائیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کے خلاف بولنے اور اسلامی تعلیمات کے خلاف زہر افشانی کو اپنا بنیادی وطیرہ بنا رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں ناروے کے سابق وزیر اعظم تھارب جان جگلینڈ کا انتباہ تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ہے۔ جگلینڈ نے برطانوی اخبار ’’آبزرور‘‘ سے انٹرویو میں واضح انتباہ کیا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون اور دیگر یورپی قائدین کو تارکین وطن اور مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے بہت محتاط رہنا چاہیے اور بالخصوص ’’اسلامی دہشت گردی‘‘جیسی شر انگیز اصطلاح کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ جگلینڈ کا کہنا تھاکہ ڈیوڈ کیمرون اور دیگر نمایاں یورپی قائدین کی جانب سے خطرناک اور حساس اصطلاحات کے استعمال نے معاملات کو بگاڑا، انتہائی دائیں بازو کے عناصر کو شہہ دی اور اس کے نتیجے میں اوسلو میں بم دھماکے اور فائرنگ کے المناک واقعے کی راہ ہموار ہوئی جس نے آج ناروے سمیت پورے یورپ کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔

جگلینڈ کی بات پر سب کو متوجہ ہونا پڑے گا۔ وہ ناروے کے سابق وزیر اعظم ہی نہیں، امن کے نوبل انعام کا تعین کرنے والی کمیٹی کے چیئرمین اور کاؤنسل آف یورپ کے سیکریٹری جنرل بھی ہیں۔ اس اعتبار سے ان کی رائے کو محض ایک سابق وزیراعظم کی رائے قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ساتھ فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کے تصورات سے بھی الجھن محسوس ہو رہی ہے جنہوں نے واضح طور پر اسلام مخالف رویہ اپنایا ہوا ہے۔ تھارب جان جگلینڈ نے واضح کیا ہے کہ یورپی قائدین کی طرز فکر و عمل نے انتہائی دائیں بازو کے عناصر کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جانے کی تحریک دی ہے۔ یہ تجزیہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپ میں اسلام کو ہر معاملے میں مورد الزام ٹھہرانے کی روش عام ہے۔ جگلینڈ کی بات اس لیے مکمل طور درست اور منطقی ہے کہ امریکا اور یورپ میںجب بھی کوئی ایسی ویسی بات ہوتی ہے، مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانے میں ذرا بھی تاخیر اور تساہل سے کام نہیں لیا جاتا۔ یہ روش اب اس قدر پختہ ہوچکی ہے کہ مغربی دنیا کے عوام بھی جان چکے ہیں کہ خرابی کہاں ہے اور کون کسے بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

جگلینڈ نے ایک بنیادی مسئلے کی طرف یورپی قائدین کو متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا یہ انتباہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں قائدین کی متعصبانہ سوچ جنونی عیسائیوں کو مسلمانوں پر حملوں کے لیے اکسا رہی ہے۔ جگلینڈ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ دہشت گردی کو کسی ایک یا چند مذاہب سے جوڑنا کسی بھی اعتبار سے عملی سوچ نہیں اور اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ جیسی اصطلاحات کے استعمال ہی نے یورپ کے عیسائیوں میں انتہائی دائیں بازو کی سوچ کو ہوا دی ہے اور اب وہ مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس روش کو ترک کرنا ہی یورپ کے حق میں جائے گا۔ یورپ کو سوچنا ہوگا کہ خرابی کہا ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی نے اپنی توپ اس کے کاندھے پر رکھ دی ہو۔ امریکی قیادت نے دنیا بھر میں عسکری مہم جوئی کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے اور اس معاملے میں وہ یورپ سے بھرپور تعاون کی توقع رکھتی ہے۔ کبھی کبھی حالات کچھ اس طرح تبدیل کردیے جاتے ہیں کہ یورپ کے لیے امریکا کا ساتھ دینے کے سوا چارہ نہیں رہتا۔ یورپی قائدین کو اکیسویں صدی میں اپنے لیے نئی راہ کا تعین کرنا ہوگا۔ امریکا اپنی جنگیں یورپ کے کھاتے میں ڈالتا رہا ہے۔ اس روش پر مزید چلنا یورپ کے لیے ممکن نہیں۔ امریکا سے تعلق کا طوق جس قدر جلد گردن سے اتار کر پھینک دیا جائے، اسی قدر اچھا ہے۔

(بشکریہ: ’’سنڈے آبزرور‘‘ لندن۔ ۳۱ جولائی ۲۰۱۱ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*